Tuesday, 29 March 2016

Imam Ahmed Raza Ke Afkar o Nazaryat


امام احمدرضا کے افکار ونظریات


از:مبلغ اسلام مفتی محمدمجاہد حسین حبیبی


جس طرح خزاں کے بعد موسم بہار آتاہے۔پت جھڑ کے ذریعہ اجڑے باغات پھر سے لہلہااٹھتے ہیں اورہرطرف ہریالی وشادابی نظرآنے لگتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح جب جب گلستان دین واسلام پہ گھٹاٹوپ تاریکی چھاتی ہے۔ بدعات وخرافات کادور دورہ ہوتاہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی اصلاح کے لئے اوردین ومذہب کو نئی تازگی وتوانائی بخشنے کے لئے ایسی شخصیت کو پیدافرماتاہے جو دین کو تروتازہ کرکے نئی زندگی بخشتاہے۔حدیث پاک میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہرسو سال کے آخر میں کسی ایسے بندے کو پیدافرمائے گا جو دین کو تازگی بخشے گا۔ (مشکوٰۃ شریف)


نبوت ورسالت کے خاتم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے بعد اب کوئی نبی آنے والانہیں اس لئے اللہ رب العزت نے تبلیغ دین متین اوربندوں کے رشدوہدایت کی ذمہ داری علمائے ربانین اور مجددین اسلام کو سپردفرمائی ہے۔ چنانچہ ابتدائے اسلام سے لے کر اب تک ہر صدی میں ایسی شخصیتیں منصہ شہود پر جلوہ افروز ہوتی رہی ہیں جنہوں نے خارجی و داخلی ریشہ دوانیوں اورسازشوں سے مذہب وملت کو پاک وصاف فرمایا ہے۔ اسی سلسلۃ الذہب کی ایک عظیم شخصیت مجدد دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخاں فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی ہے۔ آپ۷۵سے زائد علوم وفنون پرکامل دسترس رکھتے تھے۔ اپنے عصر کے عظیم محدث، مفسر، فقیہہ، مناظر،شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک بے مثال قلمکار بھی تھے۔ تقریباً بارہ سو کتابیں آپ کے رشحات قلم سے منصہ شہود پرآئیں، جنہوں نے لاکھوں کروڑوں افراد کو گمراہی کی گھٹاٹوپ تاریکیوں سے نکال کرشاہراہ نورو ایمان پرلاکھڑاکیاہے۔ اب آئیے اسی مرد خدا کی رحمت ونور سے معمورافکاروآراء کامطالعہ کریں اوراپنے ایمان ویقین کودوبالاکریں۔ چنانچہ چند سوالات کے تحت ان کے جوابات پیش کئے جارہے ہیں۔

افضل الانبیاء کون؟ دیگر انبیاء پرحضور کی فضیلت کاذکرکرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں ۔ حضور پرنور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کاافضل المرسلین وسید الاولین والاخرین ہوناقطعی ایمانی، یقینی ،اذعانی، اجماعی،ایقانی مسئلہ ہے جس میں خلاف نہیں کرے گا۔مگربددین بندۂ شاطین والعیاذ باللہ رب العالمین (تجلی الیقین بان نبینا سیدالمرسلین:امام احمدرضا ص ۱۰)

عقید�ۂشفاعت: کسی نے دریافت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شفیع ہوناکسی حدیث سے ثابت ہے؟ جواباًآپ فرماتے ہیں’سبحان اللہ‘ ایسے سوال سن کر کتنا تعجب آتاہے کہ مسلمان مدعیان سنیت اورایسے واضح عقائد میں تشکیک کی آفت یہ بھی قرب قیامت کی ایک علامت ہے۔
احادیث شفاعت بھی ایسی چیزہیں جو کسی طرح چھپ سکیں۔بیسوں صحابہ صدہاتابعین ہزارہا محدثین ان کے راوی،حدیث کی ہر گونہ کتابیں صحاح، سنن، مسانید،معاجم، جوامع، مصنفات ان سے مالامال۔ دوسطر کے بعد تحریر فرماتے ہیں۔ فقیر غفرلہٗ تعالیٰ نے رسالہ سمع وطاعۃلاحدیث الشفاعۃ میں بہت کثرت سے ان احادیث کی جمع و تلخیص کی ہے۔ پھرایک سطر کے بعد لکھتے ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی مقام محمود کیاچیز ہے؟ فرمایا ھوالشفاعۃ وہ شفاعت ہے۔(اسماع الاربعین فی شفاعۃ سیدالمحبوبین: ص ۲،۳)


علم غیب رسول: عقیدۂ علم غیب رسول پر کئی کتابیں آپ نے تحریر فرمائیں۔ مثلاًالدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبۃ، خالص الاعتقاد، انباء المصطفےٰ بحال سرواخفی وغیرہ اوردرجنوں فتاویٰ اس سلسلے میں آپ نے رقم کئے جو فتاویٰ رضویہ میں موجود ہیں۔یہاں انباء المصطفےٰ کے حوالے سے علم غیب کے سلسلے میں اعلیٰ حضرت کی تحریر کاکچھ حصہ پیش کیاجارہاہے فرماتے ہیں، بیشک حضرت عزت عظمۃ نے اپنے حبیب اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمامی اولین وآخرین کاعلم عطافرمایا ۔ شرق تاغرب، عرش تافرش سب انہیں دکھایا۔ ملکوت السموات والارض کامشاہد بنایا۔ روز اول سے روز آخر تک سب کاماکان (یعنی جوکچھ ہوچکاہے)وما یکون(جو کچھ ہونے والا ہے)انہیں بتایا۔ اشیاء مذکورہ میں سے کوئی ذرہ حضور کے علم سے باہر نہ رہا۔ علم عظیم حبیب علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم ان سب کو محیط ہوا نہ صرف اجمالا بلکہ ہر صغیر وکبیر ہررطب (تر) ویابس (خشک) جو پتاگرتاہے ، زمین کی اندھیروں میں جودانہ کہیں پڑا ہے۔ سب کو جداجدا تفصیلاً جان لیا۔ (انبیاء المصطفےٰ بحال سرو اخفی :ص۷)
حضور دافع بلا ہیں: کسی نے دریافت کیا کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دافع البلا کہنا جائز ہے یانہیں۔اس سوال کے جواب میں آپ نے مستقل ایک کتاب بنام الامن والعلی لناعتی المصطفےٰ بدافع البلا تحریر فرمائی۔ کتاب کے فصل اول میں تحریر فرماتے ہیں ۔وماکان اللہ لیعذ بھم وانت فیھم، ترجمہ: اللہ ان کافروں پرعذاب نہ فرمائے گا جب تک اے محبوب تو ان میں تشریف فرماہے۔سبحن اللہ حضور دافع البلا صلی اللہ علیہ وسلم کفار پر سے بھی دفع بلا ہیں۔ پھر مسلمانوں پرتو خاص رؤف ورحیم ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔ (الامن والعلی، از:امام احمد رضا ص ۶۲)


حضور کی محبت سب پرمقدم :اس ضمن میں آپ فرماتے ہیں۔ ایمان کے حقیقی وواقعی ہونے کو دوباتیں ضرور ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو تمام جہاں پر تقدیم‘‘ (تمہید ایمان، از : امام احمدرضا :ص ۶)

یارسول اللہ کہنااورانبیاء سے مدد طلب کرنا: اس سلسلے میں کسی نے دریافت کیا تو آپ نے جواب تحریر فرمایا، جائز ہے جب کہ انہیں بندۂ خدا اوراس کی بارگاہ میں وسیلہ جانے اورانہیں باذن الٰہی والمدبرات امرسے مانے اور اعتقاد کرے کہ بے حکم خداذرہ نہیں ہل سکتا اوراللہ عزوجل کے دئیے بغیر کوئی ایک حصہ (دانہ)نہیں دے سکتا۔ دوسطر کے بعد تحریر فرماتے ہیں۔
جامع ترمذی شریف وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ خودحضور سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نابینا کو یہ دعا تلقین فرمائی کہ نماز کے بعد یوں کہیں:
یامحمد انی اتوجد بک الی رب فی حاجتی ھذہ لیقضی لی۔ ترجمہ: یارسول اللہ ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اپنی حاجت میں منہ کرتاہوں تاکہ میری یہ حاجت پوری ہو۔اور بعض روایات میں ہے۔ لتقضی یارسول اللہ ، ترجمہ: تاکہ حضور میری حاجت پور ی فرمادیں۔ان نابینا نے بعدنمازیہ دعا کی، فوراً آنکھیں کھل گئیں۔ طبرانی وغیرہ کی حدیث میں ہے عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں حضر ت عثمان بن حنیف صحابی رضی اللہ عنہ نے یہ دعا ایک صحابی یاتابعی کوبتائی۔انہوں نے بعد نماز یوں ہی نداکی کہ یارسول اللہ! میں حضور کے وسیلے سے اسی حاجت میں اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرتاہوں۔ ان کی بھی حاجت پوری ہوئی۔پھرعلماء ہمیشہ اسے قضائے حاجت کے لئے لکھتے آئے۔ پھر دوسطر کے بعد تحریر فرماتے ہیں ۔ فقیر نے اس بارے میں مختصر رسالہ انوارالانتباہ فی حل ندا یارسول اللہ لکھا وہاں دیکھے کہ زمانہ رسالت 
سے ہرقرب وزمانہ کے ائمہ وعلماء وصلحا میں وقت مصیبت محبوبان خدا کو پکارنا کیساشائع وذائع رہا ہے۔ (احکام شریعت ، حصہ اول ، ص ۱۶،۱۷)


معراج جسمانی: تحریر فرماتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم پاک کے ساتھ بیداری میں شب اسراآسمانوں تک ترقی فرمائی۔ پھرسدرۃ المتھیٰ پھر مقام مستوی پھر رفرف اوردیدار(الٰہی) تک۔ پھر چند صفحات کے بعد تحریر فرماتے ہیں ، صحیح احادیثیں دلالت کرتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم شب اسرا جنت میں تشریف لے گئے اورعرش تک پہنچنے یاعالم کے کنارے تک کہ آگے لامکان ہے اوریہ سب بیداری میں مع جسم تھا۔
(حواشی و تعلیقات برتکمیل الایمان: از امام احمدرضا: ص ۲۳۹)


سجد�ۂ تعظئیمی: امام احمدرضا سجد�ۂ تعظیمی کے سخت خلاف تھے۔ چنانچہ تحریر فرماتے ہیں۔ مسلمان! اے مسلمان!اے شریعت مصطفوی کے تابع فرمان! جان اوریقین جان کہ سجدہ حضرت عزت عز جلالہ کے سوا کسی کے لئے نہیں۔اس کے غیر کوسجدہ عبادت تو یقیناًاجماعاً شرک مہین وکفر مبین (کھلاکفر) اورسجدۂ تحیت (تعظیم کاسجدہ) حرام اورگناہ کبیرہ بالیقین۔ اس کے کفر ہونے میں اختلاف علمائے دین ، ایک جماعت فقہا سے تکفیر منقول اور عندا لتحقیق( صورتا کفر) پرمحمول ۔ صحابہ کرام نے حضور کوسجد�ۂ تحیت کی اجازت چاہی اس پرارشاد ہواکہ کیاتمہیں کفر کاحکم دیں۔معلوم ہوا کہ سجدۂ تحیت ایسی قبیح چیز ہے جسے کفر سے تعبیر فرمایا ۔ جب خودحضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سجدہ تحیت کایہ حکم ہے پھر اوروں کاذکر۔
(الزبدۃ الزکیہ لتحریم سجود التحیہ، از: امام احمدرضا ۔ص ۵)
دعوت میت: فوت شدہ آدمی کے ایصال ثواب کے لئے ہے سوم چہارم یاچالیسوں کے موقع پر خویش واقارب اوردیگراحباب کی جوعام دعوت ہوتی ہے اس پر نکیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ مردہ کاکھاناصرف فقراء کے لئے۔ عام دعوت کے طور پر جوکرتے ہیں وہ منع ہے۔ غنی (مالدار) نہ کھائے۔(احکام شریعت، حصہ دوم: ص ۶) اسی موضوع کے تحت ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ، سوم دہم،چہلم وغیرہ کاکھانا مساکین کودیاجائے۔ برادری کو جمع کرکے کھلانامنع ہے۔ 
(فتاویٰ رضویہ جلد ۔۶ ص:۲۲۳)
عورتوں کامزارات پرجانا: عورتوں کے مزارات اولیاء اورعام قبرستانوں میں جانے کے سلسلے میں آپ سے سوال ہواتو آپ نے یہ جواب تحریر فرمایا۔ عورتوں کے مزارات اولیاء مقابر عوام دونوں پرجانے کی ممانعت ہے۔ (احکام شریعت ، حصہ دوم،ص: ۱۸)
اس سوال کے جواب میں ایک اورجگہ میں آپ نے یوں جواب تحریر فرمایا ہے کہ’’غنیہ میں ہے یہ نہ پوچھو کہ عورتوں کامزارات پرجانا جائز ہے یانہیں بلکہ یہ پوچھو کہ اس عورت پر کس قدر لعنت ہوتی ہے۔ اللہ کی طرف سے اورکس قدر صاحب قبر کی جانب سے جس وقت وہ گھرسے ارادہ کرتی ہے لعنت شروع ہوجاتی ہے اور جب تک واپس آتی ہے ملائکہ لعنت کرتے رہتے ہیں۔ سوائے روضہ انور کے کسی مزار پرجانے کی اجازت نہیں، وہاں کی حاضری البتہ سنت جلیلہ عظیمہ قریب بواجبات ہے۔ (الملفوظ، مرتبہ، حضور مفتی اعظم ہند ، حصہ دوم: ص: ۱۰۶)


قبر کاطواف: فرماتے ہیں:بلاشبہ غیرکعبہ معظمہ کاطواف تعظیمی ناجائز ہے اور غیرخداکو سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے اوربوس�ۂ قبر میں علماء کواختلاف ہے۔ احوط منع ہے۔ (یعنی زیادہ احتیاط یہی ہے کہ قبر کوبوسہ نہ دیاجائے)۔(احکام شریعت ،حصہ ، سوم، ص:۲۳۴)
قبور اولیاء پر چادر چڑھانا : بزرگان دین کی قبروں پر چادر چڑھانے کے بارے میں دریافت کیاگیاتو فرمایا عوام کی نگاہ میں مزارات اولیاء کی وقعت پیداکرنا مقصود ہوتو جائز ہے اس سے ممانعت نہ چاہئے۔
پھرفرماتے ہیں : البتہ باجے ناجائز ہیں اورجب چادر موجود اورہنوز پرانی اورخراب نہ ہوئی ہو کہ بدلنے کی حاجت ہوتوبیکار چادر چڑھانا فضول ہے۔ بلکہ جودام(روپئے پیسے) اس میں صرف کریں ولی اللہ کی روح مبارک کوایصال ثواب کے لئے محتاج کودیں۔ (احکام شریعت ۔ حصہ اول: ص ۶۷)


قبرپر لوبان اگربتی اورچراغ جلانا: اس سوال کا آپ نے یہ جواب تحریر فرمایا کہ عود، لوبان وغیرہ کوئی چیز نفس قبر پر رکھ کرجلانے سے احتراز(پرہیزکرنا) چاہئے۔ اگرچہ کسی برتن میں ہو(فال بد کی وجہ سے کہ قبر کے اوپر دھواں اٹھنا اچھا نہیں ) اورقریب قبر سلگانا اگروہاں نہ کچھ لوگ بیٹھے ہوں نہ کوئی تال�ئ قرآن (یعنی قرآن پڑھنے والا)یاذکر(اللہ کاذکر کرنے )والا ہو بلکہ صرف قبر کے لئے جلا کرچلاآئے تو ظاہر منع ہے کہ اسراف واضاعت مال سے (یعنی یہ محض فضول خرچی ہے کہ جس میت کوکوئی فائدہ نہیں ) (فتاویٰ رضویہ جلد ۶ صفحہ ۱۶۱)

ایصال ثواب: کسی نے آپ سے فاتحہ اورایصال ثواب کے بارے میں دریافت کیاتو آپ نے اس کا جواب یہ تحریر فرمایا۔ فاتحہ ایصال ثواب کانام ہے جو کچھ قرآن مجید درود شریف سے ہوسکے پڑھ کر نذرکرے۔ (احکام شریعت ،حصہ سوم ، ص:۲۴۴)
خلفائے اربعہ کے مراتب: کسی نے دریافت کیاکہ خلفائے ثلثہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے آیا حضرت علی افضل تھے یاکم۔ اس سوال کے جواب میں آپ تحریر فرماتے ہیں ۔ سب سے افضل صدیق اکبر پھر فاروق اعظم پھرعثمان غنی پھر مولی علی(ہیں) صلی اللہ علیہ وسلم سیدھم ومولاھم والہ وعلیہم وبارک وسلم
(غایۃ التحقیق فی امامۃ العلی والصدیق، از : امام احمد رضا:ص۔۹)
ان افکار وآرا کے علاوہ حیاۃ النبی، میلاد النبی، تصور شیخ ،اعراس بزرگان دین اوردیگر معمولات میںآپ کے افکار ونظریات وہی ہیں جو آپ سے قبل حضرت شیخ عبدالعزیز محدث دہلوی، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلی،حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی، امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی اور علامہ جلال الدین سیوی علیہ الرحمہ کے رہے ہیں۔


No comments:

Post a Comment