شیخ المشائخ شمس مارہرہ حضرت آل احمد اچھے میاں قدس سرہٗ
از: مفتی محمد مجاہد حسین حبیب

ولادت: آپ کی ولادت باسعادت ۸۲/رمضان المبارک ۰۶۱۱ھ کو مارہرہ میں ہوئی۔ نام نامی ”آل احمد اور عرفیت اچھے میاں“ رکھاگیا۔ اور شمس مارہرہ کے لقب سے
آپ کو یادکیاجاتاہے۔
آپ کو یادکیاجاتاہے۔
والد گرامی: آپ کے والد ماجد امام العارفین سید الکاملین حضور سیدنا حمزہ بن حضور سید آل محمد مارہروی علیہ الرحمہ ہیں۔
تعلیم و تربیت اور بیعت و خلافت: آپ نے علوم ظاہری وباطنی کی تحصیل والد بزر گوار سے کی ویسے آپ کی روحانی تعلیم و تربیت براہ راست حضور محبوب سبحانی امام ربانی غوث اعظم دستگیر حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے فرمائی اس لئے بجا طورپر کہاجاسکتا ہے کہ آپ کے روحانی مربی واستاذ خود حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ نے بیعت والد گرامی حضور سیدنا حمزہ مارہروی کے دست حق پرست پر کی۔
سجادہ نشینی: والد گرامی حضور امام العارفین سیدالکاملین حضرت سیدحمزہ مارہروی علیہ الرحمہ کا ۸۹۱۱ھ میں وصال ہوا۔ان کے وصال کے بعد آپ خاندانی دستور کے مطابق سجادہ نشیں خانقاہ برکاتیہ مقرر ہوئے اور اپنے وصال تک کامل ۷۳/برسوں تک سند سجادگی کو رونق وزینت بخشی۔ اسی دوران ہزاروں لاکھوں افراد نے اکتساب فیض کیا اور ہزاروں گناہگاروں نے آپ کے دست حق پرست پر تائب ہوکر اپنے قلب وجگر کو نور ایمان سے منور کیا۔
شمس مارہرہ بارگاہ غوثیت میں: حضور شمس مارہرہ کو حضور سیدنا غوث اعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے خاص رشتہ اور تعلق تھا۔ حضور قطب عالم غوث اعظم سید الکونین رضی اللہ عنہ بھی اپنے عاشق صادق پر خصوصی کرم فرمایا کرتے تھے۔ آپ کے برادر زادہ حضرت سید شاہ غلام محی الدین صاحب اپنے ملفوظات میں تحریر کرتے ہیں کہ جب میں چھوٹا بچہ تھا ایک مرتبہ کھیلتے کودتے اچکتے حجرہ سجادگی تک پہنچ گیا۔ اس وقت اندر جانے کی کسی کو اجازت نہ تھی۔ خادم خاص اسی غرض سے دروازے پر بیٹھے تھے کہ کوئی اندر نہ جائے لیکن میں کھیلتے کودتے حجرے میں داخل ہوگیا خادم نے ہر چند منع کیا لیکن میں نہ مانا۔ چپکے سے کمرے میں داخل ہوگیا۔ دیکھا کہ حضرت اچھے میاں شمس مارہرہ دوبزرگوں سے بیٹھے کچھ باتیں کررہے ہیں۔ میں حضرت کی پیٹھ سے لپٹ گیا اور پیٹھ پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ حضرت نے مجھے دیکھا اور ناراضگی ظاہرکی میں نے کہا نہیں میں پیٹھ پر چڑھوں گا۔ یہ سن کر شمس مارہرہ مسکرادیئے۔ دونوں بزرگ بھی ہنسنے لگے۔ دونوں بزرگوں نے میرے سرپر ہاتھ پھیرا اور پیار کیا۔ پھر وہ دونوں حضرات اٹھے حضرت شمس مارہرہ بھی کھڑے ہوگئے تینوں بزرگ کوٹھری میں داخل ہوگئے کچھ دیر کے بعد حضرت شمس مارہرہ تنہا باہر تشریف لائے وہ دونوں بزرگ غائب تھے میں نے پوچھا۔ آپاجی! وہ دونوں کوٹھری میں سے کدھر کو چلے گئے وہ کون تھے؟ حضور شمس مارہرہ نے فرمایا ایک تو حضرت غوث اعظم قدس سرہ العزیز تھے اور دوسرے سیدشاہ جلال صاحب مارہروی قدس سرہ العزیز تھے یہ حضرات کبھی کبھی کرم فرمائی اور فقیر نوازی فرماکر تشریف لے آتے ہیں اب وہ تشریف لے گئے ہیں۔
حضرت شمس مارہرہ رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی میں ایسے متعدد واقعات ملتے ہیں کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے کئی لوگوں کی خواب میں تشریف لاکر حضور سیدنا آل احمد اچھے میاں علیہ الرحمہ سے اخذ فیض کا اشارہ فرمایا یا بیعت ہونے کا حکم دیا بلکہ خود بغداد شریف سے اپنے ایک فرزند کو تکمیل باطنی کے لئے بھیج کر یہ اشارہ دیا کہ شمس مارہرہ حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے نائب مطلق ہیں۔ مولوی اکرم اللہ محشر بدایونی کے بارے میں صاحب ہدایت المخلوق نے لکھا ہے کہ خواب میں حضور غوث اعظم نے ان کا ہاتھ حضور شمس مارہرہ کے ہاتھ میں دے دیا اس کے بعد وہ مارہرہ شریف حاضر ہوکر داخلہ سلسلہ ہوئے۔
مرجع خلائق: اپنے زمانے کے اکابر علما ومشائخ کے درمیان آپ کو جو مقام حاصل تھا۔ اس نے آپ کو مرجع خلائق بنادیا تھا۔ بڑے بڑے اولیائے کاملین علم ظاہر و باطن اوران کے لاینحل مسائل میں آپ ہی کی طرف توجہ فرماتے تھے۔
صاحب آثار احمدی نے لکھا ہے کہ ایک صاحب نے بغداد مقدس کے نقیب الاشراف صاحب سجادہ نشیں بغداد شریف سے عرض کیا کہ مجھے مسئلہ وحدۃ الوجود کے سلسلے میں کچھ اشکالات ہیں انہیں حل فرمادیں۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت ہمارے گھر کی دولت ہندوستان میں تقسیم ہورہی ہے تم وہی چلے جاؤ۔ تشفی ہوجائے گی۔ حسب ارشاد وہ صاحب ہندستان آئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا آفتاب و مہتاب اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ ایک جہاں کو منور کئے ہوئے تھا۔ یہ صاحب حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے ہندوستان آنے کا مدعا بیان فرمایا حضرت نے ہر چند مسئلے کو سمجھانے کی کوشش فرمائی۔ مسئلہ ان کے سمجھ میں نہ آیا۔ حضرت شاہ صاحب نے سمجھ لیا کہ یہ مسئلہ قال سے نہیں بلکہ کسی صاحب حال سے حل ہوگاتو آپ نے فرمایا کہ اگر تم اس کا حل چاہتے ہوتو مارہرہ چلے جاؤ وہاں ہمارے ایک بھائی اچھے میاں ہیں وہ تمہاری تسکین فرمادیں گے۔ چنانچہ وہ مارہرہ شریف حاضر ہوئے جب آپ وہاں پہنچے تو حضرت شمس مارہرہ درگاہ شریف سے خانقاہ کی طرف جارہے تھے۔ راستے میں انہوں نے قدم بوسی کی اور آنے کا مدعا بیان کیا۔ حضرت نے قریب ہی ایک پھوس کی چھپر تھی اس میں سے چند تنکے توڑے اور فرمایا جناب آپ کے اشکالات ایسے ہی ہیں جیسے یہ تنکے۔ پھر آپ نے ان پر ایسی نگاہ ڈالی کہ مسئلہ کی حقیقت فوراً ہی منکشف ہوگئی۔
حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جیسے عظیم محدث اور علم شریعت و طریقت کے جامع بزرگ کا مسئلے کے حل کے لئے لوگوں کو آپ کے پاس بھیجنا بتارہاہے کہ اکابر زمانہ کی نگاہ میں آپ کی قدر و منزلت کیا تھی۔
تصنیف وتالیف: اس قدر علمی جامعیت اور فضل و کمال کے باوجود حضرت شمس مارہرہ علیہ الرحمہ کی خاطر خواہ توجہ تصنیف و تالیف کی طرف نہیں ہوسکی۔ پھر بھی جو کتابیں معرض وجود میں آئیں ان کے نام حسب ذیل ہیں (۱) آئین احمدی (۲)بیاض عمل و معمول دوازدہ ماہی (۳)آداب السالکین (۴)مثنوی تصوف (۵)دیوان شعر فارسی (۶)وصیت نامہ۔ (اہل سنت کی آواز: بابت ۹۰۰۲ء)
یونہی حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی کے ایک مرید کسی وجہ سے گرفتار ہوگئے اور ان کی جائیداد بھی ضبط کرلی گئی۔ بہت پریشان تھے۔ اسی پریشانی کے عالم میں مرشد گرامی کی طرف لو لگائی رات آپ نے حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی علیہ الرحمہ کو خواب میں دیکھا انہوں نے نواب صاحب کاہاتھ ایک بزرگ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے فرمایا کہ میں تمہیں انہیں سونپتا ہوں جو مشکل درپیش ہو ان سے رجوع کرنا۔ نواب صاحب نے پوچھا حضرت یہ کون بزرگ ہیں اور کہاں تشریف رکھتے ہیں؟ فرمایا یہ سید آل احمد قادری ہیں اورمارہرہ میں تشریف رکھتے ہیں۔ خواب سے بیدار ہوئے تو اپنے قاصد کو حضرت کی بارگاہ میں روانہ کیا۔ حضرت نے نواب صاحب کی رہائی کے لئے دعا فرمائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ ہی عرصے میں رہائی نصیب ہوگئی۔
مخدوم زاد ے کی مارہرہ آمد: کالپی شریف مارہرہ شریف کا پیرخانہ ہے حضور صاحب البرکات قدس سرہ کو حضرت سیدنا شاہ فضل اللہ کالپی علیہ الرحمہ نے اجازت و خلافت عطا فرمائی اگرچہ آپ اپنے قدیم آبائی سلسلہ میں بیعت و اجازت رکھتے تھے مگر آپ نے وہی فیضان قادریت کا عام فرمایا جو کالپی شریف سے آپ کو عطا ہوا تھا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ مگر حضور شمس مارہرہ علیہ الرحمہ کی شان یہ ہے کہ حضور سید شاہ فضل اللہ کالپی علیہ الرحمہ کے نبیرہ حضرت خیرات علی قدس سرہ آپ سے بیعت و اجازت کا شرف رکھتے ہیں۔ (اہل سنت کی آواز: بابت ۹۰۰۲ء ص: ۲۰۵)
کثرت مریدین: حضور شمس مارہرہ علیہ الرحمہ نے ۷۳/ سال تک مسند برکاتیہ حمزویہ کورونق بخشی ان ۷۳/ سالوں میں آپ نے ہزاروں لوگوں کو فیضیاب فرمایا اور ان کی ظاہری و باطنی تکمیل فرمائی۔ لاکھوں بندگان خد کو آپ کے ذریعہ فیضان غوث اعظم سے حصہ ملا ہے۔ حضرت تاج العلما علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں۔
آپ مظہر جناب غوثیت مآب تھے آپ کے خلفاء چہار دانگ عالم تھے۔ آپ کے مریدوں کی صحیح تعداد نہیں بتائی جاسکتی البتہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ دولاکھ کے قریب تعداد پہنچتی ہے۔ (اہل سنت کی آواز بابت ۹۰۰۲ء ص: ۶۱۵)
خلفائے کرام: آپ کے خلفا کی ایک لمبی فہرست ہے جن میں سے چند کے نام یہاں تحریر کئے جارہے ہیں۔
(۱) حضرت سیدشاہ آل برکات ستھرے میاں علیہ الرحمہ
(۲) حضرت سید شاہ آل حسین سچے میاں علیہ الرحمہ
(۳) خاتم الاکابر سیدنا شاہ آل رسول احمدی علیہ الرحمہ
(۴) سید العابدین سید شاہ اولاد رسول علیہ الرحمہ
(۵) شمس العرفا حضرت سید غلام محی الدین امیر عالم علیہ الرحمہ
(۶) حضرت شاہ عین الحق عبدالمجید عثمانی بدایونی علیہ الرحمہ
(۷) حضرت مولانا شاہ عبدالحمید عثمانی بدایونی علیہ الرحمہ
(۸) حضرت پیر بغدادی صاحبزادہ حضور غوثیت مآب رضی اللہ عنہ
(۹) حضرت سید شاہ خیرات علی صاحب نبیرہ وسجادہ نشیں فضل اللہ کالپی علیہ الرحمہ
اولاد امجاد: آپ کو ایک صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہوئی تھیں جو قضائے الٰہی سے عہد طفولیت ہی میں فوت ہوگئے۔
مریدوں کے لئے وصیت: حضور شمس مارہرہ کی وصیت وغیرہ میں سے چند ضروری چیزیں یہ ہیں:
کان اللہ ولم یکن معہ شیی (از اول اللہ تعالیٰ موجود تھا اور اس کے ساتھ کوئی وجودنہ تھا۔ میرے دینی و یقینی بھائیوں سات پشتوں سے یہ خاندان برکاتیہ حمزویہ فیض مآب غوث الثقلین قطب الکونین کا نمک پروردہ چلا آرہا ہے۔ لہٰذا مریدوں کو چاہئے کہ حضور غوث پاک کی غلامی کوہاتھ سے جانے نہ دیں کہ دارین کی سلامتی اسی میں ہے۔ مذہب حنفی پر قائم رہیں اور علماء و فقراء اور مساکین کی تعظیم و خدمت کی پوری کوشش کریں۔ جو کچھ خشک و تر میسر ہوپورے وقار اور تواضع کے ساتھ ان کی خدمت میں پیش کردیں، اگر وہ قبول کریں تو ان کے حسن اخلاق کے روسے بہترہے۔ (اہل سنت کی آواز: بابت ۹۰۰۲ء)
وصال: آپ کا وصال ۷۱/ربیع الاوّل ۵۲۲۱ء جمعرات کے دن چاشت کے وقت ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وصال کے وقت آپ کی عمر شریف ۵۷ سال تھی۔ درگاہ برکاتیہ مارہرہ شریف کے گنبد میں حضور صاحب البرکات کے پہلو میں آپ کا مزار اقدس مرجع خلائق ہے۔
۶۱/فروری اتوار کے دن آپ کا دوسوسالہ عرس مبارک مارہرہ شریف میں منعقد ہورہاہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حضور شمس مارہرہ کے فیوض و برکات سے ہم تمام وابستگان سلسلہ کو مالا مال فرمائے۔ (آمین ثم آمین)
شمس و قمر سے بڑھ کر ہے شان آل احمد
قربان آل احمد قربان آل احمد
ہے نور مصطفائی چہرہ سے ان کے ظاہر
ہے نور حق وہ روئے رخشان احمد
روئے زمین سے لے کر بالائے آسمان تک
مثل قمر ہے روشن ہر بان آل احمد
بے شک ہوئے ہیں حاصل دربار احمدی سے
وہ مرتبے کہ تھے جو شایان احمد
از: تاج الفحول شاہ عبدالقادر عثمانی قادری بدایونی علیہ الرحمہ
Visit Us : http://www.tableeghseerat.com/
Like Us : https://www.facebook.com/TableeghSeerat
Subscribe Us : https://www.youtube.com/user/Tableegh...
Join Us : https://www.facebook.com/groups/Table...
No comments:
Post a Comment