Sunday, 6 March 2016

Insani Zindagi Par Ghunaho Ke Asrat

انسانی زندگی پر گناہوں کے اثرات

مبلغ اسلام مفتی محمد مجاہد حسین حبیبیؔ 



آج انسانی زندگی دنیا کی رنگینوں میں بری طرح گم ہو کر رہ گئی ہے، دنیاوی رنگینیوں اور برائیوں نے بری طرح سے سماجی رشتوں اور تہذیبوں کو پا مال کر رکھا ہے ، آپ دیکھیں گے کہ ہر شخص اپنی اپنی جگہ حیران وپریشان نظر آرہا ہے اور ان پریشانیوں سے خلاصی کے لیے راہیں تلاش کررہاہے لیکن یہ بھی ایک بڑ االمیہ ہے کہ انسان اس بے کیفی اور بے رونقی والی زندگی سے نکلنے اور اسے اطمینان وسکون سے گزارنے کے لیے جس قدر جتن کررہا ہے معاملہ مزید الجھتا جارہا ہے ، آخر کیوں ہماری تدبیریں رائیگاں جارہی ہیں ؟ 

   آخر کیوں ہمیں راہیں نہیں مل رہی ہیں؟ آخر کیوں زندگی سے سکون وبرکت عنقا ہوتی جارہی ہے؟



کبھی آپ نے ٹھنڈے دل ودماغ سے ان مسائل کے بارے میں غور خوض کیا ہے ؟کیا کبھی آپ نے بے اطمینانی 

اور بے رونقی کی زندگی سے نکل کر ابدی راحت وسکون والی زندگی حاصل کرنے کے بارے میں سوچا ہے؟ نہیں تو پھر آیئے ذرا غور کریں! ابلیس کے ابتدائی حالات پر غور کریں وہ کتنا بڑا عابد ، زاہد ، اور عالم تھا وہ کس قدر آرام و اطمینان اور شان و شوکت والی زندگی گزاررہا تھا کہ اللہ نے اسے معلم الملکوت بنادیا تھا ، فرشتے باادب اس کے حضور حاضر ہوا کرتے تھے اور ابلیس بڑی شان سے انہیں پڑھایا کرتا تھا، قرآن وحدیث گواہ ہے لیکن پھر وہ وقت بھی آیا جب اللہ نے اس سے سارے اعزازات چھین کراسے جنت سے نکال دیا اور ہمیشہ کے لیے اس کی گردن میں لعنت کی طوق ڈال کر شیطین کا سردار بنادیا، ایسا کیوں ہوا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب تک وہ اللہ کا فرماں بردارتھا عزت وعظمت والے منصب پر فائز رہا لیکن جب اس نے اللہ 

کے حکم سے سرتابی کی اور نافرمانی کے جرم میں مبتلا ہوا تو اللہ نے اسے ہمیشہ کے لیے مردود بنادیا ۔ 


دیکھیں قوم عاد کو قرآن کہتا ہے کہ اللہ نے اس روے زمین پر اس قوم سے زیادہ طاقت و قوت والی قوم پیدا نہ کی یہ پہاڑوں کو تراش کر اس میں باآسانی گھر بنالیتے(۱) اللہ نے انہیں ہر طرح کی خوش حالی اور فارغ البالی عطا فرمائی تھی، جب تک سرکشی ان کا شیوہ نہ بنا وہ شان وشوکت سے رہے(۲) لیکن جب حکم عدولی ان کا وطیرہ بن گیا اور بغاوت پر آمادہ ہوئے تو اللہ نے انہیں تیز وتند طوفان کے ذریعہ ہلاک کیا اور وہ یوں ہوگئے جیسے سخت آندھی طوفان درختوں کو جڑوں سے اکھاڑدیتی ہے اس طرح قوم عاد کو بھی اللہ نے ہلاک کردیا۔(۳)

دیکھئے قوم ثمود کو اللہ نے قرآن مجید میں ان کی بربادی اور ہلاکت کا بھی تذکرہ فرمایا ہے ۔(۴) قوم لوط کی تباہی اور ہلاکت کا بھی تذکرہ ملتا ہے ۔(۵) آخر یہ کیوں ہلاک کیے گئے جب کہ یہ اپنے زمانے کی متمدن قومیں تھیں اور ہر طرح کی خوش حالی اور فارغ البالی والی زندگی بسر کررہی تھیں، تو قرآن بتاتا ہے کہ ان میں سرکشی اور نافرمانی کا رنگ غالب آگیا تھا ، یہ ایسے گناہوں میں مبتلا ہوگئے تھے جن میں ان سے پہلے کوئی دوسری قوم مبتلا نہ ہوئی (۶)بے حیائی وبرائی میں یہ حد سے آگے نکل گئے مرد مرد وں سے اور عورت عورتوں سے اپنی شہوت پوری کرنے لگے ۔ (۷)جب اللہ کی ناراضگی ان پر بڑھی تو ان پر پتھروں کی بارش ہوئی اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹا دیا گیا۔ (۸)

قوم بنی اسرائیل جس کاتذکرہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے باربار فرمایا ہے ، جو حضرت ابراہیم ، حضرت اسحاق اور حضرت یعقوب اور ان کی اولاد در اولادیں ہیں کئی بار ان پر عذاب وعتاب نازل ہوا ہے، کبھی نافرمانوں پر پتھروں کی بارش ہوئی ،کبھی انہیں اللہ نے مسخ فرما کر بندروں اور خنزیروں میں بدل دیا اورکبھی انہیں زمین میں دھنسا دیا ، آخر کیوں ؟ تو اس کا جواب یہی ہے کہ اگر چہ وہ انبیا کی اولادیں ہیں لیکن ان کے اعمال وافعال اللہ کو راضی کرنے والے نہ تھے بلکہ اس کے قہر وغضب کو دعوت دینے والے تھے اس لیے اللہ نے انہیں عذاب سے دوچار فرمایا۔ 
خیر یہ تو پچھلی امت کی داستانیں ہیں جو ہماری نصیحت اور عبرت پذیری کے لیے ہیں لیکن برا ہو ہماری ذہنیت کا کہ جن عادتوں اور برائیوں نے پچھلی امتوں کو تہ وبالا کرکے رکھ دیا جن افعال نے انہیں صفحۂ ہستی سے مٹا دیا ، افسوس صد افسوس !آج ان ساری برائیوں کو ہم مسلمانوں نے اپنا رکھا ہے یہ محض رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی برکت ہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سارے جہاں کے لیے رحمت بناکر بھیجا ہے ، یہ صحیح ہے کہ اس نے ہمیں عمومی عذاب سے ہلاک نہیں فرمایا اور آسمانوں سے آگ یا پتھر کی بارش نہ فرنمائی اور نہ گناہ گاروں کو زمین میں دھنسا یا اور نہ ان کی صورتیں مسخ فرمائیں لیکن یہ بھی اپنی جگہ طے ہے کہ گناہوں کی کثرت کے سبب آج امت مسلمہ متعددروحانی امراض میں مبتلا ہے ، جس کا مختصر اشاریہ ہم ذیل کے سطروں میں درج کررہے ہیں:

گناہ کے سبب علم سے محرومی:علم نور ہے اس لیے علم اور فیضان علم انہی لوگوں کو عطا کیاجاتا ہے جو نیک ہوں پرہیز گار ہوں اور اللہ کی عبادت وبندگی کرنے والے ہوں ، اورجو گناہوں کی آلودگی کے سبب اپنے سینوں کو ویران کر بیٹھے ہیں وہ علم سے محروم رہتے ہیں کیوں کہ علم انبیا کی میراث ہے۔ 

گناہ کے سبب برکت سے محرومی: جب آدمی گناہوں کا عادی ہوجاتا ہے تواللہ تعالیٰ اس سے اپنی برکت روک لیتا ہے پھر اس کی پوری زندگی بے برکتی اور بے رونقی کا شکار ہو کر رہ جاتی ہے۔ 

اس بے برکتی کی توجیہ علما نے اس طور پر کی ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کی زندگی کے د ورانیہ کو کم فرمادیتا ہے اوربعض نے کہا کہ زندگی کی تمام چیزوں سے برکت اٹھالی جاتی ہے ۔ 

گناہوں سے دل چسپی :جو شخص گناہوں کا عادی ہوجاتا ہے تو اسے ایک دو گناہ کرکے سکون نہیں ملتا بلکہ پے در پے وہ گناہ کرتا چلا جاتا ہے یعنی ایک گناہ اسے دوسرے گناہ کے لیے آمادہ کرتا ہے اور دوسرا گناہ اسے تیسرے گناہ کی طرف کھینچ لیتا ہے،گویا وہ مکمل گناہوں میں مبتلا ہوکر رہ جاتا ہے ۔ 

گناہ کو ہلکا سمجھنا :جو گناہوں کا عادی ہوجاتا ہے اس کی نگاہ میں گناہ کی نحوست ہلکی ہوجاتی ہے اور وہ بے خوف وخطر گناہوں میں بڑھتا ہی جاتا ہے۔ 

نیکی اور دین کے کاموں سے وحشت : جو گناہوں کا عادی اور رسیا ہوجاتا ہے اسے نیکی کی باتوں اور دین کے کاموں سے وحشت ہوجاتی ہے ،گناہ کے بڑے بڑے کام انجام دینا اس کے لیے سہل اور آسان ہوتا ہے لیکن ہلکی پھلکی آسان سی نیکی انجام دینا اس کے لیے ایسا ہوجاتا ہے جیسے سر پر ہمالہ پہاڑ اٹھانا۔ 

گناہ کے سبب دل پر مہر: جب بندہ گناہوں میں بری طرح الجھ جاتا ہے اور مسلسل اللہ کی نافرمانی اور حکم کی خلاف رزی کرتا رہتا ہے تو گناہوں کی نحوست کے سبب ایسے بندے کے دل پر مہر لگ جاتا ہے پھر نیکی کو قبول کرنے کی صلاحیت اور برائی کو برائی سمجھنے کی صلاحیت اس سے سلب کرلی جاتی ہے۔ 
گناہوں کے سبب اللہ کی ناراضگی :جب آدمی گناہ پر گناہ کیے جاتا ہے اور اس کی عادت گناہوں کے مطابق ڈھل جاتی ہے تو اللہ ایسے بندوں سے سخت ناراض ہوتا ہے اور وہ صبح وشام، رات ودن اللہ کی ناراضگی میں گزارتا ہے ۔ 

رسول اللہ کی لعنت:جب آدمی گناہ کرتا ہے مثلاً رشوت لیتا یا شراب پیتا یا زنا کرتا ، یا سود کھاتا یا جھوٹ بولتا یا جسم گدھواتا، یا مرد ہو کر عورتوں جیسی شباہت اختیار کرتا ہے ، یا عورت مرد کی شباہت اختیار کرتی ہے ، یا عورت سر پر دوسری عوتوں کا بال لگاتی ہے ، یا اس قسم کا کوئی دوسرا کام مرد یا عورت کرتے ہیں تو اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لعنت ہوتی ہے ۔ 

گناہوں کے سبب عزت سے دوری:جب آدمی گناہوں کا رسیا اور عادی ہوجاتا ہے تو اس آدمی کو نیک ، پرہیز گار ، عابد ، زاہد ، متقی ، پارسا ، اللہ کا نیک بندہ یا فرماں برادر اور صالحیت کی بنا پر نہیں پہچانا جاتا ہے بلکہ اس کے گناہوں کے حساب سے جھوٹا ، مکار ، دغا باز ، شرابی ، بدکار ، غاصب ، ظالم ، فاسق وفاجر اور ان جیسے دوسرے القابات سے نوازا جاتا ہے ، جو اس کے لیے شرم اور ذلت کا سبب ہوتی ہے۔ 

گناہوں کے سبب آخری وقت کلمہ سے محرومی : جب آدمی ساری زندگی گناہوں میں لت پت ہو کر اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی خلاف ورزیوں میں گزارتا ہے تو گناہوں کی نحوست اور وبال کے سبب آخری وقت کلمہ جیسے عظیم نعمت اور دولت سے محروم رہ جاتا ہے۔ اللہ کی پناہ !

خدا را آنکھیں کھولیے اور اس فانی زندگی کے چند لمحات کو رنگین اور پرتعیش بنانے کے لیے گناہوں کو اختیار کرکے اپنے رحمن ورحیم رب کو ناراض نہ کریں اور رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی رحمت سے خود کو دور کریں ۔ دیکھیے قرآن کریم میں اللہ نے دو ٹوک فیصلہ فرمادیا :’’ان الابرار لفی نعیم وان الفجا لفی جحیم‘‘ بے شک نیک لوگ جنت جائیں گے اور گناہ گار تو وہ جہنم میں جھونکے جائیں گے ۔ اب یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم نیکیوں کو اختیا ر کرکے جنت کے اہل بنیں ورنہ گناہوں کی نحوست تو ہمیں جہنم پہنچاکر ہی رہیں گی۔ وما توفیقی الا باللہ العلی العظیم۔

(۱) (پارہ: ۳۰، سورہ:الفجر، آیت:۶تا۸) ،(۲) (پارہ :۱۹،سورہ :الشعراء آیت:۱۲۸تا ۱۳۱) (۳) (پارہ:۱۹، سورہ :الشعراء، آیت :۱۳۶تا۱۳۹) (۴) (پارہ:۳۰، سورہ:الفجر، آیت:۹تا۱۴)(۵) (پارہ:۸، سورہ: الاعراف، آیت:۸۰تا ۸۴) (پارہ:۱۲، سورہ:ھود، آیت۷۸تا ۸۲)(۶) (پارہ:۸، سورہ: الاعراف، آیت:۸۰)(۷) (پارہ :۸، سورہ :اعراف ، آیت :۸۱)(۸) (پارہ:۲۰، سورہ:عنکبوت، آیت:
۳۴)

N.B. : This Artical is published in  Akhbar e Mashriq & Aabshar the leading Urdu Dailies of Kolkata http://aabshaardaily.com/index.php 
http://akhbaremashriq.com/kolkata_epaper/page_6.html

No comments:

Post a Comment