غوث اعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی
از:مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی
سر بھلا کیا کوئی جانے کہ ہے کیسا تیرا
اولیا ملتے ہیں آنکھیں وہ ہے تلوا تیرا

امام الاولیا ، حضور سیدنا محبوب سبحانی ،امام ربانی شیخ محی الدین غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا اسم گرامی عبد القادر کنیت ابو محمد اور لقب محی الدین، غوث اعظم اور محبوب سبحانی ہے۔(سیرالاقطاب ،ص:۱۵۸)
ولادت باسعادت:آپ کی پیدائش یکم رمضان المبارک ۴۷۰؍ہجری جمعہ کے دن قصبہ جیل میں ہوئی ،جسے جیلان اور گیلان بھی کہتے ہیں،اسی مناسبت سے آپ کو جیلانی کہا جاتا ہے۔
سلسلہء نسب: والد گرامی کی طرف سے آپ کا سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے حضور سیدنا غوث اعظم عبد القادر جیلانی بن سید موسیٰ ابو صالح موسیٰ جنگی دوست بن سید ابو عبد اللہ بن سید یحیٰ زاہد بن سید محمد رومی بن سید داؤد بن سید موسیٰ جون بن سید عبد اللہ ثانی بن سید حسن مثنی بن امیر المؤ منین امام حسن مجتبیٰ بن امیر المؤ منین سیدنا علی کرم اللہ وجھہ الکریم ۔(سفینۃ الالیا،ص: ۶۰) اور والد ہ کی طرف سے سلسلہ نسب کچھ اس طرح ہے:سیدہ ام الخیر فاطمہ بنت سید عبد اللہ صومعی زاہد بن سید ابو جمال بن سید محمد بن سید ابو العطاء عبد اللہ بن سید کمال الدین بن عیسیٰ بن سید علاء الدین الجوادبن امام علی رضا بن امام موسیٰ کاظم بن امام جعفر صادق بن امام محمد باقر بن امام زین العابدین بن سید الشہداء امام حسین بن امیر المؤ منین علی کرم اللہ وجھہ الکریم ۔(سیرت غوث اعظم ،ص:۱۷)
اس طرح حضور سید ناغوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نجیب الطر فین سید ہیں ،والد کی طرف سے آپ حسنی اور والدہ محترمہ کی طرف سے حسینی سید ہیں۔
آثار ولایت: لڑ کپن کے دنوں میں جب کہ بچے اپنے ہم عمر بچوں کے ساتھ کھیل کود کیا کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان چیزوں سے محفوظ رکھا تھا ،چنانچہ آپ خود فرماتے ہیں :عمر کے ابتدائی دنوں میں جب کبھی میں لڑکوں کے ساتھ کھیلنا چاہتا تو غیب سے آواز آتی تھی کہ لہو ولعب سے باز رہو ۔جسے سن کر میں کھیل کود سے رک جاتا تھا،اور اپنے گرد وپیش پر نظر ڈالتا تو کوئی آواز دینے والا نظر نہ آتا تھا جس کی وجہ سے مجھ پر خوف طاری ہو جاتا اور میں گھر آجاتا اور اپنی والدہ کی آغوش محبت میں چھپ جاتا ،اب بھی وہی آواز میں تنہائیوں میں سناکرتا ہوں ،اگر مجھے کبھی نیند آتی ہے تو وہ آواز میرے کانوں میں آکر مجھے فوراً آگاہ کر دیتی کہ تمہیں اس لیے نہیں پیدا کیا گیا کہ تم سویا کرو ۔(اخبار الاخبار ،ص: ۱۹)لوگو ں نے ایک مرتبہ آپ سے دریافت کیا آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ آپ ولی ہیں؟ آپ نے فرمایا :میں دس برس کی عمر میں مکتب کو جایاکرتا تھا راستے میں نظر آتا کہ میرے ارد گرد فرشتے آجارہے ہیں ،جب مکتب پہنچتا فرشتے بچوں سے کہتے اللہ کے ولی کے لیے جگہ دو،اسی درمیان مجھے ایک آدمی نظر آیا جسے میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ،اس نے فرشتے سے دریافت کیا یہ لڑکا کون ہے ؟ جس کی تم اتنی تعظیم کرتے ہو ؟ فرشتوں نے جواب دیا یہ ایک ولی کا مل ہے جو عظیم الشان رتبہ کا مالک ہوگا ۔( اخبار الاخبار ،ص: ۴۳ )
ابتدا ئی تعلیم:آپ نے ابھی ہوش بھی نہ سنبھالا تھا کہ والد ماجد حضرت ابو صالح موسیٰ جنگی دوست وصال فرماگئے ،والد کی رحلت کے بعد آپ کی پر ورش کی ذمہ داری ناناجان حضرت سید عبد اللہ صومعی علیہ الرحمہ نے اپنے ذمہ لے لی ۔
ابتدائی اور ضروری تعلیم آپ نے جیلان ہی میں رہ کر حاصل فرمائی پھر جب آپ کی عمر شریف ۱۸ سال کی ہوئی تو اعلیٰ تعلیم کے لیے بغداد جانے کا ارادہ فرمایا،والدہ سے اجازت چاہی تو انہوں نے باوجود بڑھاپاکے آپ کو تحصیل علم کے لیے بغداد جانے کی اجازت مرحمت فرمائی،والد صاحب نے جو کچھ وراثت میں چھوڑا تھا اس میں سے آدھا یعنی چالیس دینار والدہ نے آپ کو دیئے اور انہیں محفوظ کر نے کے لیے پیر ہن کے بغل کے نیچے سل دئیے ،دعائیں دیں اور رخصت کیا بوقت رخصت فرمایا’’ عبد القادر میں تجھے نصیحت کرتی ہوں کی ہمیشہ سچ بولناہر گز جھوٹ نہ بولنا‘‘ ،والدہ سے رخصت ہوکر آپ بغداد کی طرف جانے والے قافلے میں شامل ہوگئے اور قافلہ بغداد کی طرف چل پڑا ،جب قافلہ ہمدان کے قریب پہنچا تو اچانک بہت سے ڈاکو حملہ آور ہوئے اور پورے قافلے کو لوٹ لیا ، آپ کے بھی پاس کئی لٹیرے آئے اور دریافت کیا کہ تمہارے پاس کچھ ہے تو آپ نے انہیں بتادیا کہ آپ کے پاس چالیس دینار ہیں لیکن انہیں آپ کی بات پر بھروسہ نہ ہوا اور وہ آپ کو چھوڑ کر آگے چلے گئے ،جب پورے قافلے کو لوٹ کر ڈاکو فارغ ہوگئے تو سردار نے پوچھا کوئی باقی تونہیں بچا ؟اس پر ایک ڈاکو نے کہا ایک جوان کہہ رہا تھا کہ اس کے پاس چالیس دینار ہیں لیکن مجھے اس کی بات پر اعتبار نہ ہوا اس لیے میں نے اسے چھوڑ دیا۔ اس کی تصدیق اس کے دوسرے ساتھیوں نے بھی کی اور کہا کہ ہم سے بھی اس جوان نے یہی کہاتھا، سر دا ر نے کہا اُس جوان کو پکڑلاؤ،اس پہ ڈا کو آپ کے پاس آئے اور آپ کو لے کر اپنے سردار کے پاس حاضر ہوئے ، ڈا کوؤں کے سردار نے آپ سے وہی سوال کیا کہ تمھارے پاس کیا ہے؟ آپ نے فرما یا میرے پاس چا لیس دینار ہیں اور میں پہلے بھی تمہارے کا رندوں کو بتا چکا ہوں ۔ سردار نے پو چھا کہاں ہیں؟ آپ نے یہ بھی بتا دیا کہ وہ پیرہن میں بغل کے نیچے سلے ہوئے ہیں ،ڈا کوؤں کے سردار نے پیرہن چاک کیا اور اس سے ۴۰ ؍دینار بر آمد ہو ئے تو اس نے آپ سے دریافت کیا،یہ دینار تو ہم سے چھپے ہو ئے پو شیدہ تھے تم چا ہتے تو انہیں ہم سے چھپا لیتے ،تم نے سچ سچ کیوں بتا دیا؟کیا تمھیں معلوم نہیں کہ ہم ڈاکو ہیں ؟ آپ نے فر ما یا میں یہ جانتا ہوں ، لیکن میں نے ایسا اس لیے کیا کہ مجھے میری وا لدہ نے رخصت کرتے وقت نصیحت کی تھی کہ حالات کچھ بھی ہوں تم ہمیشہ سچ بولنا ہر گز جھوٹ نہ بولنا۔ بھلا میں ان حقیر سکوّں کے لیے اپنی ماں سے کیے ہوئے وعدے کو کیسے ٹھکرا دیتا اس لیے میں نے بالکل سچ سچ بتا دیا ، بظاہر یہ معمولی سی بات تھی ،لیکن ڈاکوؤں کے سردار پر اس کا بڑا اثر ہوا اور وہ رونے لگا کہ ایسے وقت میں بھی تم ماں سے کیے ہوئے وعدے کو نبھا رہے ہو اور ہم اللہ کے گنا ہگار بندے ہیں جو اس فانی اور حقیر دنیا کے لیے ظلم و جبر ،لوٹ کھسوٹ اور ڈاکہ جیسے عظیم گناہوں میں مبتلا ہیں یہ کہہ کر وہ رونے لگا،جب ڈھارس بندھی تو اس نے آپ کے دست مبارک میں ہاتھ رکھ کر اپنے تمام گناہوں سے توبہ کر لی ،جب ڈاکوؤں نے اپنے سردار کو توبہ کرتے ہوئے دیکھا تو ان لوگوں نے کہا رہزنی میں تو ہمارا سردار تھا ،اب توبہ میں بھی تو ہمارا سردار رہے گا ،یہ کہہ کر تمام ڈاکوؤں نے توبہ کی اور قافلے کا سارا سامان واپس کر دیا۔ ( ما خوذ، از۔نفحات الانس ،ص:۷۵۶)
بغداد تشریف آوری :آپ ۴۸۸ھ میں بغداد پہنچے اور تحصیل علم کی طرف متوجہ ہوئے ۴۹۶ھ میں آپ جملہ علوم عقلیہ ونقلیہ سے فارغ ہوئے ،آپ نے علم حدیث ،علم تفسیر،علم قرأت ،علم فقہ ،علم کلام،وعلم لغت ، علم ادب ،علم نحو، علم مناظرہ ،علم عروض ،علم الانساب ،علم تاریخ ،علم فراست وقیافہ ،وغیرہ میں کمال حاصل فرمایا اور ان میں اتنی مہارت وشہرت حاصل کی کہ تمام علمائے وقت پر سبقت اور فوقیت لے گئے ۔
بیعت وخلافت: آپ نے بغداد کے عظیم روحانی بزرگ حضرت شیخ ابوسعید مبارک مخزومی علیہ الرحمہ سے شرف بیعت حاصل کیا اور خرقہ خلافت سے سرفراز کئے گئے ،آپ کے دست حق پر ست پر لاکھوں گناہگاروں نے سابقہ گناہوں سے توبہ کی اور مستقبل میں گناہوں سے دور رہ کر صالح معاشرہ کی تشکیل کا عہد کیا۔ ہزاروں لاکھوں یہودو نصاریٰ نے بھی اپنے باطل عقائد ونظریات سے تائب ہوکر آپ کے دست حق پرست پر سچے دل سے اسلام قبول کیا، بیعت وارشاد کی تاریخ میں آپ سے قبل کسی مرشدکی طرف اتنی بڑی تعداد میں لوگ متوجہ نہیں ہوئے اور نہ ہی کسی مرشد طریقت نے لاکھوں انسانوں کی تہذیب اخلاق اور تربیتِ نفس کا اتنا ہمہ گیر کام انجام دیا۔
تجدید واحیا ے دین: آپ کا لقب محی الدین ہے ،خود بیان فرماتے ہیں ’’ایک بار جمعہ کے دن بغداد میں ایک نحیف الجثہ اور زردوبیمار شخص میرے سامنے سے گزرا ،اس نے مجھے سلام کیا ،جب میں نے سلام کا جواب دیا تواس نے کہا میرے پاس آؤ میں اس کے قریب گیا تو اس نے کہا مجھے اپنے سینے سے لگاؤ ۔اسے سینہ سے لگانا تھا کہ اچانک اس کا جسم تروتازہ،توانا اوراس کا چہرہ خوش رنگ وبارونق ہوگیا ،یہ دیکھ کر میں ڈرگیا ،اس نے کہا مجھے پہچانتے ہو؟ میں نے کہا ،نہیں ۔اس نے کہا میں تمہارے جدامجد کا دین ہوں ،ضعیف ہوگیا تھا ،جیسا کہ تم نے ابھی دیکھا ،اللہ تعالیٰ نے تمہارے ذریعہ مجھے تروتازہ کیا ،اور دوبارہ زندگی بخشی ہے ۔(سیر الاقطاب،ص:۱۵۷)
حضور سیدنا غوث اعظم نے جب گر دوپیش کے حالات کا مشاہدہ کیا تو ان کاحساس دل لوگوں کی اصلاح حال اوردین حق کی روحانی واخلاقی قدروں کے احیاء کے لیے تڑپ اٹھا ، آپ نے پوری ہمت وطاقت اوراخلاص کے ساتھ وعظ وارشاد ،دعوت الی اللہ ،اصلاح نفوس اور تربیت اخلاق کی طرف کامل ثبات واستقلال کے ساتھ توجہ دی،حضرت غوث پاک کی زندگی کا اہم کارنامہ احیائے دین ہے ۔ایک ملفوظ میں فرماتے ہیں۔حضرت محمد ﷺ کے دین کی دیواریں پے درپے گررہی ہیں ،اوراس کی بنیاد بکھر رہی ہے ،اے باشندگان زمین! آؤ جو گررہا ہے اسے مضبوط کردیں اورجوڈھہ گیا ہے اس کو درست کردیں ،یہ چیز کسی ایک سے پوری نہیں ہوتی سب کومل کرکام کرنا چاہیے،اے سورج ،اے چاند، اے دن تم سب آؤ ۔(ملفوظات ،ص: ۴۹۸)
اس مختصر سے ارشاد میں احیائے دین کے لیے کتنی تڑپ ،کتناسوزاورکتنادردچھپاہوا ہے،اس کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں،ایک دوسرے موقعہ پرارشاد فرمایا: صاحبو!اسلام رورہاہے ان فاسقوں ،گمراہوں اور مکاروں اور ایسی باتوں کا دعویٰ کرنے والوں کے ظلم سے جوان میں موجود نہیں ہیں اپنے سرکو تھامے ہوئے فریاد کررہے ہیں ۔(ملفوظات ،ص:۵۰۷)
حضرت غوث اعظم نے بغداد کے ان تمام طبقات کو جن میں گمراہی و نفاق، بدکرداری وبد اخلاقی پیدا ہوچکی تھی اپنے مواعظ میں خطاب فرمایا ،ایک تقریر کا اقتباس یہ ہے ۔ ’’اے باشندگان بغداد! تمہارے اندرنفاق بڑھ گیا ہے اور اخلاص کم ہوگیا ہے،اقوال بڑھ گئے ہیں اور اعمال کم ہوگئے ہیں ،تمہیں جاننا چاہیے کہ قول بلاعمل کسی کام کا نہیں بلکہ تمھارے خلاف حجت ہے،اور قول بلاعمل ایسا خزانہ ہے جو خرچ نہیں کیا جاتا وہ محض دعوی ہے دلیل اور گواہ نہیں رکھتا ،وہ ایک ڈھانچہ ہے ،جس میں روح نہیں ،کیونکہ روح تو اخلاص وتو حید اور کتاب و سنت پر عمل کرنے سے آتی ہے جو تمہارے اکثر اعمال سے نکل چکی ہے ،غفلت سے بازآؤ ، اور خدا کی طرف پلٹو ،اس کے حکم کی تعمیل کرو ،اوراس کے ممنوعات سے بچو۔(فیوض یزدانی۔ ص:۱۲۰)
حضرت کی تقریر بغداد کے لوگوں کے لیے ہی خاص نہ تھی بلکہ یہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے،اے کاش ! مسلمان آپ کی تعلیمات کو اپنا لیں اور ان کے مطابق زندگی بسر کریں تو کیا خوب ہو۔
عبادت وریاضت: مجاہدہ وریاضت آپ کے فطرت میں داخل تھا ،شب بیداری آپ کی عادت تھی ،نفس کشی آپ کا شیوہ تھا ،ہمیشہ روزہ رکھتے ،راتوں کو جاگ کر عبادت کرنا تو آپ کا معمول تھا،ہر رات دوسورکعت کے قریب نفل نماز پڑھا کرتے،ہر رکعت میں سورہ رحمن یا سورہ مزمل تلاوت کرتے ،سورہ اخلاص ایک ایک رکعت میں سوبار سے کم نہ پڑھتے ۔ بعض اوقات کئی کئی دن تک مسلسل روزہ رکھتے،ہمیشہ باوضو رہتے ،حدث صادر ہونے پر فوراً وضو کر لیتے ،آخری عمر میں بھی یہ حالت تھی کہ ساری ساری رات قرآن مجید کی تلاوت میں لگے رہتے ۔ اور بعض اوقات طویل مدت تک سربسجودرہتے ، باقی وقت مشاہدہ اور یاد الہٰی میں گزارتے ،ذکر الہی میں اس قدر مستغرق رہتے کہ نیند کا مطلق احساس نہ ہوتا، نماز صبح کے بعد طالب علموں خادموں ،صوفیوں کو شریعت کی تعلیم دیتے، اور مختلف دینی وعلمی کتابیں پڑھاتے ،گویارات میں اللہ کے حضور بندگی بجالاتے ،اوردن میں احیائے دین اور اصلاح خلق میں مصروف رہتے ،زندگی کے آخری لمحات تک ان فرائض سے ایک لمحہ کے لیے بھی غافل نہ ہوئے ۔ (آمین ثم آمین یا رب العالمین)
Visit Us : http://www.tableeghseerat.com/
Like Us : https://www.facebook.com/TableeghSeerat
Subscribe
Us : https://www.youtube.com/user/Tableegh...
Join Us : https://www.facebook.com/groups/Table...
No comments:
Post a Comment