Tuesday, 29 March 2016

Imam Ahmed Raza Ke Afkar o Nazaryat


امام احمدرضا کے افکار ونظریات


از:مبلغ اسلام مفتی محمدمجاہد حسین حبیبی


جس طرح خزاں کے بعد موسم بہار آتاہے۔پت جھڑ کے ذریعہ اجڑے باغات پھر سے لہلہااٹھتے ہیں اورہرطرف ہریالی وشادابی نظرآنے لگتی ہے۔ ٹھیک اسی طرح جب جب گلستان دین واسلام پہ گھٹاٹوپ تاریکی چھاتی ہے۔ بدعات وخرافات کادور دورہ ہوتاہے تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی اصلاح کے لئے اوردین ومذہب کو نئی تازگی وتوانائی بخشنے کے لئے ایسی شخصیت کو پیدافرماتاہے جو دین کو تروتازہ کرکے نئی زندگی بخشتاہے۔حدیث پاک میں ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بے شک اللہ تعالیٰ اس امت کے لئے ہرسو سال کے آخر میں کسی ایسے بندے کو پیدافرمائے گا جو دین کو تازگی بخشے گا۔ (مشکوٰۃ شریف)


نبوت ورسالت کے خاتم حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کے بعد اب کوئی نبی آنے والانہیں اس لئے اللہ رب العزت نے تبلیغ دین متین اوربندوں کے رشدوہدایت کی ذمہ داری علمائے ربانین اور مجددین اسلام کو سپردفرمائی ہے۔ چنانچہ ابتدائے اسلام سے لے کر اب تک ہر صدی میں ایسی شخصیتیں منصہ شہود پر جلوہ افروز ہوتی رہی ہیں جنہوں نے خارجی و داخلی ریشہ دوانیوں اورسازشوں سے مذہب وملت کو پاک وصاف فرمایا ہے۔ اسی سلسلۃ الذہب کی ایک عظیم شخصیت مجدد دین وملت اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخاں فاضل بریلوی رضی اللہ عنہ کی ہے۔ آپ۷۵سے زائد علوم وفنون پرکامل دسترس رکھتے تھے۔ اپنے عصر کے عظیم محدث، مفسر، فقیہہ، مناظر،شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ایک بے مثال قلمکار بھی تھے۔ تقریباً بارہ سو کتابیں آپ کے رشحات قلم سے منصہ شہود پرآئیں، جنہوں نے لاکھوں کروڑوں افراد کو گمراہی کی گھٹاٹوپ تاریکیوں سے نکال کرشاہراہ نورو ایمان پرلاکھڑاکیاہے۔ اب آئیے اسی مرد خدا کی رحمت ونور سے معمورافکاروآراء کامطالعہ کریں اوراپنے ایمان ویقین کودوبالاکریں۔ چنانچہ چند سوالات کے تحت ان کے جوابات پیش کئے جارہے ہیں۔

افضل الانبیاء کون؟ دیگر انبیاء پرحضور کی فضیلت کاذکرکرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں ۔ حضور پرنور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کاافضل المرسلین وسید الاولین والاخرین ہوناقطعی ایمانی، یقینی ،اذعانی، اجماعی،ایقانی مسئلہ ہے جس میں خلاف نہیں کرے گا۔مگربددین بندۂ شاطین والعیاذ باللہ رب العالمین (تجلی الیقین بان نبینا سیدالمرسلین:امام احمدرضا ص ۱۰)

عقید�ۂشفاعت: کسی نے دریافت کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا شفیع ہوناکسی حدیث سے ثابت ہے؟ جواباًآپ فرماتے ہیں’سبحان اللہ‘ ایسے سوال سن کر کتنا تعجب آتاہے کہ مسلمان مدعیان سنیت اورایسے واضح عقائد میں تشکیک کی آفت یہ بھی قرب قیامت کی ایک علامت ہے۔
احادیث شفاعت بھی ایسی چیزہیں جو کسی طرح چھپ سکیں۔بیسوں صحابہ صدہاتابعین ہزارہا محدثین ان کے راوی،حدیث کی ہر گونہ کتابیں صحاح، سنن، مسانید،معاجم، جوامع، مصنفات ان سے مالامال۔ دوسطر کے بعد تحریر فرماتے ہیں۔ فقیر غفرلہٗ تعالیٰ نے رسالہ سمع وطاعۃلاحدیث الشفاعۃ میں بہت کثرت سے ان احادیث کی جمع و تلخیص کی ہے۔ پھرایک سطر کے بعد لکھتے ہیں۔ صحیح بخاری شریف میں ہے کہ حضور شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی مقام محمود کیاچیز ہے؟ فرمایا ھوالشفاعۃ وہ شفاعت ہے۔(اسماع الاربعین فی شفاعۃ سیدالمحبوبین: ص ۲،۳)


علم غیب رسول: عقیدۂ علم غیب رسول پر کئی کتابیں آپ نے تحریر فرمائیں۔ مثلاًالدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبۃ، خالص الاعتقاد، انباء المصطفےٰ بحال سرواخفی وغیرہ اوردرجنوں فتاویٰ اس سلسلے میں آپ نے رقم کئے جو فتاویٰ رضویہ میں موجود ہیں۔یہاں انباء المصطفےٰ کے حوالے سے علم غیب کے سلسلے میں اعلیٰ حضرت کی تحریر کاکچھ حصہ پیش کیاجارہاہے فرماتے ہیں، بیشک حضرت عزت عظمۃ نے اپنے حبیب اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو تمامی اولین وآخرین کاعلم عطافرمایا ۔ شرق تاغرب، عرش تافرش سب انہیں دکھایا۔ ملکوت السموات والارض کامشاہد بنایا۔ روز اول سے روز آخر تک سب کاماکان (یعنی جوکچھ ہوچکاہے)وما یکون(جو کچھ ہونے والا ہے)انہیں بتایا۔ اشیاء مذکورہ میں سے کوئی ذرہ حضور کے علم سے باہر نہ رہا۔ علم عظیم حبیب علیہ افضل الصلوٰۃ والتسلیم ان سب کو محیط ہوا نہ صرف اجمالا بلکہ ہر صغیر وکبیر ہررطب (تر) ویابس (خشک) جو پتاگرتاہے ، زمین کی اندھیروں میں جودانہ کہیں پڑا ہے۔ سب کو جداجدا تفصیلاً جان لیا۔ (انبیاء المصطفےٰ بحال سرو اخفی :ص۷)
حضور دافع بلا ہیں: کسی نے دریافت کیا کہ حضوراقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو دافع البلا کہنا جائز ہے یانہیں۔اس سوال کے جواب میں آپ نے مستقل ایک کتاب بنام الامن والعلی لناعتی المصطفےٰ بدافع البلا تحریر فرمائی۔ کتاب کے فصل اول میں تحریر فرماتے ہیں ۔وماکان اللہ لیعذ بھم وانت فیھم، ترجمہ: اللہ ان کافروں پرعذاب نہ فرمائے گا جب تک اے محبوب تو ان میں تشریف فرماہے۔سبحن اللہ حضور دافع البلا صلی اللہ علیہ وسلم کفار پر سے بھی دفع بلا ہیں۔ پھر مسلمانوں پرتو خاص رؤف ورحیم ہیں صلی اللہ علیہ وسلم۔ (الامن والعلی، از:امام احمد رضا ص ۶۲)


حضور کی محبت سب پرمقدم :اس ضمن میں آپ فرماتے ہیں۔ ایمان کے حقیقی وواقعی ہونے کو دوباتیں ضرور ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم اورمحمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو تمام جہاں پر تقدیم‘‘ (تمہید ایمان، از : امام احمدرضا :ص ۶)

یارسول اللہ کہنااورانبیاء سے مدد طلب کرنا: اس سلسلے میں کسی نے دریافت کیا تو آپ نے جواب تحریر فرمایا، جائز ہے جب کہ انہیں بندۂ خدا اوراس کی بارگاہ میں وسیلہ جانے اورانہیں باذن الٰہی والمدبرات امرسے مانے اور اعتقاد کرے کہ بے حکم خداذرہ نہیں ہل سکتا اوراللہ عزوجل کے دئیے بغیر کوئی ایک حصہ (دانہ)نہیں دے سکتا۔ دوسطر کے بعد تحریر فرماتے ہیں۔
جامع ترمذی شریف وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ خودحضور سیدعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نابینا کو یہ دعا تلقین فرمائی کہ نماز کے بعد یوں کہیں:
یامحمد انی اتوجد بک الی رب فی حاجتی ھذہ لیقضی لی۔ ترجمہ: یارسول اللہ ! میں حضور کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف اپنی حاجت میں منہ کرتاہوں تاکہ میری یہ حاجت پوری ہو۔اور بعض روایات میں ہے۔ لتقضی یارسول اللہ ، ترجمہ: تاکہ حضور میری حاجت پور ی فرمادیں۔ان نابینا نے بعدنمازیہ دعا کی، فوراً آنکھیں کھل گئیں۔ طبرانی وغیرہ کی حدیث میں ہے عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی خلافت میں حضر ت عثمان بن حنیف صحابی رضی اللہ عنہ نے یہ دعا ایک صحابی یاتابعی کوبتائی۔انہوں نے بعد نماز یوں ہی نداکی کہ یارسول اللہ! میں حضور کے وسیلے سے اسی حاجت میں اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرتاہوں۔ ان کی بھی حاجت پوری ہوئی۔پھرعلماء ہمیشہ اسے قضائے حاجت کے لئے لکھتے آئے۔ پھر دوسطر کے بعد تحریر فرماتے ہیں ۔ فقیر نے اس بارے میں مختصر رسالہ انوارالانتباہ فی حل ندا یارسول اللہ لکھا وہاں دیکھے کہ زمانہ رسالت 
سے ہرقرب وزمانہ کے ائمہ وعلماء وصلحا میں وقت مصیبت محبوبان خدا کو پکارنا کیساشائع وذائع رہا ہے۔ (احکام شریعت ، حصہ اول ، ص ۱۶،۱۷)


معراج جسمانی: تحریر فرماتے ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے جسم پاک کے ساتھ بیداری میں شب اسراآسمانوں تک ترقی فرمائی۔ پھرسدرۃ المتھیٰ پھر مقام مستوی پھر رفرف اوردیدار(الٰہی) تک۔ پھر چند صفحات کے بعد تحریر فرماتے ہیں ، صحیح احادیثیں دلالت کرتی ہیں کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم شب اسرا جنت میں تشریف لے گئے اورعرش تک پہنچنے یاعالم کے کنارے تک کہ آگے لامکان ہے اوریہ سب بیداری میں مع جسم تھا۔
(حواشی و تعلیقات برتکمیل الایمان: از امام احمدرضا: ص ۲۳۹)


سجد�ۂ تعظئیمی: امام احمدرضا سجد�ۂ تعظیمی کے سخت خلاف تھے۔ چنانچہ تحریر فرماتے ہیں۔ مسلمان! اے مسلمان!اے شریعت مصطفوی کے تابع فرمان! جان اوریقین جان کہ سجدہ حضرت عزت عز جلالہ کے سوا کسی کے لئے نہیں۔اس کے غیر کوسجدہ عبادت تو یقیناًاجماعاً شرک مہین وکفر مبین (کھلاکفر) اورسجدۂ تحیت (تعظیم کاسجدہ) حرام اورگناہ کبیرہ بالیقین۔ اس کے کفر ہونے میں اختلاف علمائے دین ، ایک جماعت فقہا سے تکفیر منقول اور عندا لتحقیق( صورتا کفر) پرمحمول ۔ صحابہ کرام نے حضور کوسجد�ۂ تحیت کی اجازت چاہی اس پرارشاد ہواکہ کیاتمہیں کفر کاحکم دیں۔معلوم ہوا کہ سجدۂ تحیت ایسی قبیح چیز ہے جسے کفر سے تعبیر فرمایا ۔ جب خودحضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے سجدہ تحیت کایہ حکم ہے پھر اوروں کاذکر۔
(الزبدۃ الزکیہ لتحریم سجود التحیہ، از: امام احمدرضا ۔ص ۵)
دعوت میت: فوت شدہ آدمی کے ایصال ثواب کے لئے ہے سوم چہارم یاچالیسوں کے موقع پر خویش واقارب اوردیگراحباب کی جوعام دعوت ہوتی ہے اس پر نکیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں ۔ مردہ کاکھاناصرف فقراء کے لئے۔ عام دعوت کے طور پر جوکرتے ہیں وہ منع ہے۔ غنی (مالدار) نہ کھائے۔(احکام شریعت، حصہ دوم: ص ۶) اسی موضوع کے تحت ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں کہ، سوم دہم،چہلم وغیرہ کاکھانا مساکین کودیاجائے۔ برادری کو جمع کرکے کھلانامنع ہے۔ 
(فتاویٰ رضویہ جلد ۔۶ ص:۲۲۳)
عورتوں کامزارات پرجانا: عورتوں کے مزارات اولیاء اورعام قبرستانوں میں جانے کے سلسلے میں آپ سے سوال ہواتو آپ نے یہ جواب تحریر فرمایا۔ عورتوں کے مزارات اولیاء مقابر عوام دونوں پرجانے کی ممانعت ہے۔ (احکام شریعت ، حصہ دوم،ص: ۱۸)
اس سوال کے جواب میں ایک اورجگہ میں آپ نے یوں جواب تحریر فرمایا ہے کہ’’غنیہ میں ہے یہ نہ پوچھو کہ عورتوں کامزارات پرجانا جائز ہے یانہیں بلکہ یہ پوچھو کہ اس عورت پر کس قدر لعنت ہوتی ہے۔ اللہ کی طرف سے اورکس قدر صاحب قبر کی جانب سے جس وقت وہ گھرسے ارادہ کرتی ہے لعنت شروع ہوجاتی ہے اور جب تک واپس آتی ہے ملائکہ لعنت کرتے رہتے ہیں۔ سوائے روضہ انور کے کسی مزار پرجانے کی اجازت نہیں، وہاں کی حاضری البتہ سنت جلیلہ عظیمہ قریب بواجبات ہے۔ (الملفوظ، مرتبہ، حضور مفتی اعظم ہند ، حصہ دوم: ص: ۱۰۶)


قبر کاطواف: فرماتے ہیں:بلاشبہ غیرکعبہ معظمہ کاطواف تعظیمی ناجائز ہے اور غیرخداکو سجدہ ہماری شریعت میں حرام ہے اوربوس�ۂ قبر میں علماء کواختلاف ہے۔ احوط منع ہے۔ (یعنی زیادہ احتیاط یہی ہے کہ قبر کوبوسہ نہ دیاجائے)۔(احکام شریعت ،حصہ ، سوم، ص:۲۳۴)
قبور اولیاء پر چادر چڑھانا : بزرگان دین کی قبروں پر چادر چڑھانے کے بارے میں دریافت کیاگیاتو فرمایا عوام کی نگاہ میں مزارات اولیاء کی وقعت پیداکرنا مقصود ہوتو جائز ہے اس سے ممانعت نہ چاہئے۔
پھرفرماتے ہیں : البتہ باجے ناجائز ہیں اورجب چادر موجود اورہنوز پرانی اورخراب نہ ہوئی ہو کہ بدلنے کی حاجت ہوتوبیکار چادر چڑھانا فضول ہے۔ بلکہ جودام(روپئے پیسے) اس میں صرف کریں ولی اللہ کی روح مبارک کوایصال ثواب کے لئے محتاج کودیں۔ (احکام شریعت ۔ حصہ اول: ص ۶۷)


قبرپر لوبان اگربتی اورچراغ جلانا: اس سوال کا آپ نے یہ جواب تحریر فرمایا کہ عود، لوبان وغیرہ کوئی چیز نفس قبر پر رکھ کرجلانے سے احتراز(پرہیزکرنا) چاہئے۔ اگرچہ کسی برتن میں ہو(فال بد کی وجہ سے کہ قبر کے اوپر دھواں اٹھنا اچھا نہیں ) اورقریب قبر سلگانا اگروہاں نہ کچھ لوگ بیٹھے ہوں نہ کوئی تال�ئ قرآن (یعنی قرآن پڑھنے والا)یاذکر(اللہ کاذکر کرنے )والا ہو بلکہ صرف قبر کے لئے جلا کرچلاآئے تو ظاہر منع ہے کہ اسراف واضاعت مال سے (یعنی یہ محض فضول خرچی ہے کہ جس میت کوکوئی فائدہ نہیں ) (فتاویٰ رضویہ جلد ۶ صفحہ ۱۶۱)

ایصال ثواب: کسی نے آپ سے فاتحہ اورایصال ثواب کے بارے میں دریافت کیاتو آپ نے اس کا جواب یہ تحریر فرمایا۔ فاتحہ ایصال ثواب کانام ہے جو کچھ قرآن مجید درود شریف سے ہوسکے پڑھ کر نذرکرے۔ (احکام شریعت ،حصہ سوم ، ص:۲۴۴)
خلفائے اربعہ کے مراتب: کسی نے دریافت کیاکہ خلفائے ثلثہ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین سے آیا حضرت علی افضل تھے یاکم۔ اس سوال کے جواب میں آپ تحریر فرماتے ہیں ۔ سب سے افضل صدیق اکبر پھر فاروق اعظم پھرعثمان غنی پھر مولی علی(ہیں) صلی اللہ علیہ وسلم سیدھم ومولاھم والہ وعلیہم وبارک وسلم
(غایۃ التحقیق فی امامۃ العلی والصدیق، از : امام احمد رضا:ص۔۹)
ان افکار وآرا کے علاوہ حیاۃ النبی، میلاد النبی، تصور شیخ ،اعراس بزرگان دین اوردیگر معمولات میںآپ کے افکار ونظریات وہی ہیں جو آپ سے قبل حضرت شیخ عبدالعزیز محدث دہلوی، حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلی،حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی، امام ربانی مجدد الف ثانی شیخ احمد فاروقی اور علامہ جلال الدین سیوی علیہ الرحمہ کے رہے ہیں۔


Thursday, 24 March 2016

Shaikh ul Mashaik Hazrat Tegh Ali Shah

آسمانِ ولایت کا درخشاں ستارہ شیخ المشائخ حضرت تیغ علی رحمۃ اللہ علیہ

 از: مبلغ اسلام مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی 

یہ رتبہ ئبلند ملا جس کو مل گیا

ولادت اوروطن:شیخ المشائخ حضرت مولانا شا ہ محمد تیغ علی شاہ قادری فریدی مجیبی علیہ الرحمہ کی ولادت باسعادت صوبہ بہار کے ضلع مظفر پور، گوریارہ میں ۰۰۳۱ /ہجری میں ہوئی۔

 تعلیم وتربیت: اپنے آبائی وطن گوریارہ سے متصل ہرپور مچیا میں آپ نے ابتدائی تعلیم مولانا سبحان علی سے حاصل فرمائی جو عربی فارسی میں کافی مہارت رکھتے تھے،بعد از آں چچا جان کے بلاوے پر کلکتہ تشریف لائے اور مدرسہ عالیہ میں داخلہ لیا،فارسی کی متداول کتابیں ختم کرنے کے بعد آپ نے عربی درجات میں داخلہ لیا،ابھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ آپ کے سر سے والد کاسایہ اٹھ گیا،اس لیے تعلیمی سلسلہ موقوف کرنا پڑا، چچا اکبر علی نے اپنے آبائی پیشہ کا شتکاری کے کام کی نگرانی کے لیے آپ کو وطن بھیج دیا جہاں آپ کاشتکاری اور کھیتی باڑی کی دیکھ بھال کرتے رہے، کتب بینی اور مطالعہ کا شوق بہت زیادہ تھا اور یہ سلسلہ اخیر عمر تک جاری رہا، معلومات کی اتنی وسعت تھی کہ ہرموضوع پر سیر حاصل گفتگو فرماتے تھے اور سننے والا متأثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔

بیعت وارادت:حضرت ایام کم سنی ہی سے اذکارو وظائف کے بہت پابندتھے بلا ناغہ اور ادووظائف پڑھا کرتے اور ذکر سے محظوظ ہوتے تھے لیکن شدت کے ساتھ شیخ طریقت کی تلاش تھی تاکہ ان کے دامن سے وابستہ ہوکر روحانی پیاس بجھا سکیں،جب آپ ملازمت کے سلسلے میں کلکتہ میں قیام پزید ہوئے انہی دنوں شیخ طریقت حضرت مولانا شاہ محمد سمیع احمد صاحب مونگیری رحمۃ اللہ علیہ کلکتہ تشریف لائے،حضرت تیغ علی کو جب یہ اطلاع ملی کہ اپنے زمانے کے مشہور بزرگ کلکتہ تشریف لائے ہوئے ہیں تو آپ بغرض زیارت ان کی خدمت میں حاضر ہوئے۔جب آپ کی نظر شیخ طریقت پرپڑی تو دل وجان سے ان پر فدا ہوگئے اور ان کے دست حق پرست میں بیعت ہوکر سلسلہ میں داخل ہوگئے، شیخ نے حکم فرمایا کہ روزانہ بعد نماز مغرب حلقہ میں شامل ہونے کے لیے آیا کرو،چنانچہ آپ روز شیخ کی بارگاہ میں حاضر ی دیتے رہے،شیخ طریقت کی عمر شریف (۰۷)سے متجاوز ہوچکی تھی اخیر عمر میں حضرت تیغ علی شاہ علیہ الرحمہ نے بیعت کی سعادت حاصل کی تھی اس لیے زیادہ دنوں تک شیخ کی خدمت کا موقع نہ مل سکا، کلکتہ سے اپنے وطن مونگیر لوٹتے وقت شیخ طریقت نے ارشاد فرمایا کہ یہ آخر ی ملاقات ہے اب آئندہ ہم نہیں مل سکیں گے یہ کہہ کر حضرت اشکبار ہوگئے، حضرت تیغ علی بھی روپڑے اس پر آپ نے دست شفقت ان کے سر پر پھیرا اور فرمایا گھبراؤ نہیں اطمینان رکھو،پھر اپنے خلیفہ عارف با اللہ حضرت مولاعلی شاہ کی طرف اشارہ کرتے ہو ئے فرمایا اب ان کے پاس آتے جاتے رہنا، تمہاری تکمیل انہیں کے ذریعہ ہوگی،پھر شیخ اپنے وطن مونگیرتشریف لے گئے چند دنوں کے بعد اطلاع ملی کے حضرت کا وصال ہوگیا،شیخ کے حکم کے مطابق آپ برابر حضرت مولا علی شاہ کی خدمت میں حاضری دیتے رہے، جب ریاضت ومجاہدہ اور تربیت کے مراحل سے حضرت مولاعلی شاہ نے آپ کو گزار لیا تو ۰۲/ جمادی الآخر ۱۴۳۱ /ہجری خان پور ضلع مونگیرمیں اپنے پیر مرشد حضرت سمیع احمد علیہ الرحمہ کے عرس کے موقع پر مجمع عام میں آپ کے سر پہ دستار خلافت باندھا، پھر ۹۴۳۱ /ہجری میں پھلواری شریف خانقاہ مجیبیہ کے گدی نشیں حضرت مولانا شاہ محمد محی الدین قادری مجیبی علیہ الرحمہ نے آپ کوسلسلہ مجددیہ آبادانیہ فریدیہ کی اجازت سے سرفراز فرمایا۔

مریدوں کی تعلیم و طریقت:حضرت کا حلقہ ارادت اتنا وسیع تھا کہ وابستگان سلسلہ کا صحیح اندازہ مشکل ہے۔ آپ کا حلقہ ارادت صرف ہندوستان ہی تک محدود نہیں بلکہ پاکستان اور عرب میں بھی آپ کے مریدوں کی خاطر خواہ تعداد موجود ہے ۷۶۳۱ /ھ میں حج وزیارت حرمین شریفین کے سلسلے میں آ پ کا حجاز مقدس جانا ہوا اس موقع پر مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ میں کتنے ہی اشخاص نے آپ کے دست حق پرست پر بیعت کی اور آپ کے فیوض روحانی سے استفادہ کیا۔ مسلمانوں کا ہر طبقہ آپ کے دامن فیض سے وابستہ تھا، ہندو پاک میں عوام کے علاوہ علما،قرا، حفاظ اور حکومت کے بڑے بڑے عہدے دار آپ کے حلقہ ارادت میں داخل تھے،ہندوستان میں خصوصیت کے ساتھ بہار، بنگال اور یوپی میں بے شمار لوگ داخل سلسلہ ہوے اور سینکڑوں اشخاص نے آپ کے زیر تربیت منازل سلوک طے کیے اور باطن کی تکمیل کی۔

دور دراز کے طالبین کی تربیت روحانی اور اصلاح باطن کا کام اپنے خلفا کے ذریعہ خطوط اور مکاتیب سے انجام دیتے اور نزدیک والے جو آپ کی خدمت میں بآسانی پہنچ سکتے تھے، ان کی دیکھ بھال روزانہ حلقہ میں طلب فرمایا کرتے،غرض کہ ارشاد وہدایت کی پوری مدت میں آپ خدمت دین اور تعلیم طریقت میں مصروف رہے، آپ کی دینی خدمات کو بغور دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ صدی کے مسلمانوں کے لیے آپ کی ذات بڑی رحمت اور نعمت تھی، اگر یہ کہا جاے کہ اس دور پرآشوب میں آپ نے دین وملت اور تصوف و طریقت کی لاج رکھ لی تو بجا اور درست ہے اب ایسے لوگ کہاں نظر آتے ہیں۔

 وعظ و نصیحت:حضرت نے دین کی خدمت اور خلق کی رہنمائی کے سلسلے میں جو وعظ فرمائے وہ بھلائے نہیں جاسکتے، رشد وہدایت کی مسند پر متمکن ہونے کے بعد آپ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پر عامل رہے اور آپ کے مواعظ حسنہ سے عوام وخواص سبھی مستفید ہوتے رہے جب کبھی تقریر کرنا ہوتا تو باادب دوزانو بیٹھ جاتے اور پہلے تین یا پانچ دفعہ نہایت خشوع وخضوع کے ساتھ درود شریف پڑھتے اور حاضرین سے بھی پڑھواتے، اس کے بعد بیان جاری فرماتے جس موضوع پر وعظ فرماتے اس کے کسی گوشے کو تشنہ نہیں چھوڑتے، انداز بیان ایسا دلکش، اور دلائل اتنے قوی اور تقریر ایسی عام فہم ہوتی کہ ہر خاص وعام کی سمجھ میں بہ آسانی آجاتی اور مخالف وموافق سب کو سر تسلیم خم کرنا پڑتا، آپ کے کلام میں وہ تاثیر ہوتی کہ جب آپ آیات وعید کے معنی بیان فرماتے تو سامعین لرزہ براندام ہوجاتے ان پر گریہ وزاری طاری ہوجاتی۔ 

اور جب آیات رحمت کے معانی ومطالب بیان فرماتے تو فرط انبساط سے سامعین کے دل کی کلی کھل جاتی بادہئ ذوق وشوق سے مست وبے خود ہوجاتے۔ سب سے بڑی کرامت آپ کے بیان ہدایت نشان میں یہ تھی کہ بغیر مناظرہ ومباحثہ صرف آپ کے مواعظ حسنہ کو سن کر ہزاروں گمراہ اور بد عقیدہ لوگوں نے عقائد باطلہ سے توبہ کرلی، جو اس وقت تک بحمدہ ٖ تعالیٰ سچے اور پکے، صحیح العقیدہ مسلمان اور بعض ان میں کے صاحب سلسلہ بھی ہیں۔

تبلیغ دین:مظفر پور اور اطراف کے دیہی علاقوں میں جو مسلمان تھے ان میں ہندوانہ رسم ورواج مثلاً چھٹ،دیوالی، ہولی اور بہت ساری خرابیاں رواج پاچکی تھی، لوگوں میں اسلام سے دوری بہت زیادہ بڑھی ہوئی تھی، ان کی اصلاح کے لیے آپ نے تبلیغی دورے کیے انہیں اسلام کے بارے میں بتایا اور ہندوانہ رسم ورواج سے مسلمانوں کو روکنے کے لیے بڑی جانفشانی اور تندہی سے تبلیغ فرمائی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بہت بڑی تعداد میں بندگان خدانے آپ کے دست حق پرست پر گناہوں سے سچی توبہ کی اور دینی و مذہبی زندگی اختیار کر لی۔

معمولات شب وروز: آپ مغرب کی نماز جماعت سے پڑھنے کے بعد کھانا تناول فرماتے تھے پھر دس بجے رات تک حلقہ ہوتا اس کے بعد فاتحہ پر مجلس ختم ہوتی،پھر ۲۱ /بجے رات تک نصیحت تعلیم وتربیت اور کتب بینی کا کام جاری رہتا،اس کے بعد آرام فرماتے  پھرتقریباً ڈھائی بجے بیدار ہوتے اور نماز تہجد کے بعد اذکار واشغال میں مشغول ہوجاتے یہاں تک کے فجر کی نماز کا وقت ہوجاتا،پھر جماعت سے نماز ادافرماتے،نماز سے فارغ ہوکر مریدین ومتوسلین کو اذکا ر اور سلوک وتصوف کی تعلیم دیتے پھر شجرہ خوانی اور فاتحہ خوانی پر مجلس ختم ہوتی،اس کے بعد اشراق اور چاشت سے فارغ ہوکر مسجد سے باہر تشریف لاتے اور حویلی جاکر والدہ کی زیارت فرماتے،۱۱ /بجے دن کے قریب قرآن کریم کی تلاوت فرماتے ۲۱ /بجے سے آرام فرماتے پھر ایک بجے اٹھ کر غسل فرماتے اور جماعت سے نماز ادا فرماتے پھر حاضرین کے ساتھ کھانا تناول فرماتے،کھانا کھانے کے بعد قیلولہ فرماتے،پھر عصر کی نماز پڑھ کر حزب البحر پڑھتے اورگھنٹہ بھرکھلی فضا میں چہل قدمی فرماتے۔

عقیدہ ئ اہل سنت وجماعت کی پابندی:خدا کا شکر ہے کہ میں عقیدۃً وعملاً حنفی اور مشرباً قادری ہوں، میرا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ امکان کذب سے منزہ ومقدس ہے، نہ جھوٹ اس کی صفت نہ وہ بول سکتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضور مکرم نور مجسم محمد رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٖ وسلم، کو علم غیب عطا فرمایا، میں نداے یا رسول اللہ، یاغوث کا قائل ہوں میں ان حضرات کو دربار الٰہی میں اپنا وسیلہ جانتا ہوں، ان کی شفاعت کا قائل ہوں،میں ان حضرات سے دونوں زندگیوں میں استمدادو توسل کو جائز مانتا ہوں، میں میلاد شریف اور قیام وسلام کا قائل ہوں،میں فاتحہ گیارہویں اور عرس وغیرہ کو جائز جانتا ہوں،میں عملاً مطلقاً ائمہ مجتہدین میں سے کسی ایک کی تقلید کو ضروری سمجھتا ہوں اور ان میں حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تقلید کو دوسروں کی تقلید سے افضل سمجھتا ہوں۔( انوار قادری،ص:۵۴)

وصال :  ۸۷۳۱ /ہجری ربیع الاول شریف کے ابتدائی دنوں میں آپ کی طبیعت سخت خراب ہوئی یہاں تک کہ ۰۳ /ربیع الاول کی صبح حالت نہایت ہی سنگین ہوگئی، آواز بند ہوگئی لیکن ذکرپاس انفاس جاری رہا،بعد نماز مغرب جونہی گیارہویں کا چاند نظر آیا آپ نے داعی اجل کو لبیک کہا اور ہمیشہ کے لیے اپنے ہزاروں عقیدت مندوں کوروتا بلکتا چھوڑ کر رب کی جوار رحمت میں جابسے۔انا للہ وانا الیہ راجعون دوسرے دن ظہر کی نماز کے بعد غسل دیاگیا۔ عصر کی نماز کے بعدتقریباً ۵ /بجے نماز جنازہ پڑھی گئی جس میں دوردراز کے ہزاروں افراد نے شرکت کی اور اپنے عظیم محسن کو الوداع کہا،پھر سرکانہی شریف خانقاہ میں آپ کی تدفین عمل میں آئی۔

ملک کے گوشے میں آج بھی آپ کے فیض یافتگان کثیر تعداد میں پائے جاتے ہیں جو ہرسال ربیع الاخر کی پہلی تاریخ مظفر پور سرکار سرکانہی کے روضہ مبارکہ میں حاضر ہوکر اکتساب فیض ونور کرتے ہیں،اللہ تعالیٰ ہم گناہ گاروں پر حضرت کے فیوض و برکات کو جاری رکھے۔آمین ثم آمین 

ان کا سایہ ایک تجلی ان کا نقش پا چراغ 
وہ جدھر گئے ادھر ہی روشنی ہوتی گئی

Saturday, 12 March 2016

Shaikh ul Mashaik Shams e Marehra Hazrat Ale Ahmed Ache Miyan

شیخ المشائخ شمس مارہرہ حضرت آل احمد اچھے میاں قدس سرہٗ 

از: مفتی محمد مجاہد حسین حبیب


ولادت: آپ کی ولادت باسعادت ۸۲/رمضان المبارک ۰۶۱۱ھ کو مارہرہ میں ہوئی۔ نام نامی ”آل احمد اور عرفیت اچھے میاں“ رکھاگیا۔ اور شمس مارہرہ کے لقب سے 
آپ کو یادکیاجاتاہے۔


والد گرامی: آپ کے والد ماجد امام العارفین سید الکاملین حضور سیدنا حمزہ بن حضور سید آل محمد مارہروی علیہ الرحمہ ہیں۔ 

تعلیم و تربیت اور بیعت و خلافت: آپ نے علوم ظاہری وباطنی کی تحصیل والد بزر گوار سے کی ویسے آپ کی روحانی تعلیم و تربیت براہ راست حضور محبوب سبحانی امام ربانی غوث اعظم دستگیر حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ نے فرمائی اس لئے بجا طورپر کہاجاسکتا ہے کہ آپ کے روحانی مربی واستاذ خود حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ نے بیعت والد گرامی حضور سیدنا حمزہ مارہروی کے دست حق پرست پر کی۔ 

سجادہ نشینی: والد گرامی حضور امام العارفین سیدالکاملین حضرت سیدحمزہ مارہروی علیہ الرحمہ کا ۸۹۱۱ھ میں وصال ہوا۔ان کے وصال کے بعد آپ خاندانی دستور کے مطابق سجادہ نشیں خانقاہ برکاتیہ مقرر ہوئے اور اپنے وصال تک کامل ۷۳/برسوں تک سند سجادگی کو رونق وزینت بخشی۔ اسی دوران ہزاروں لاکھوں افراد نے اکتساب فیض کیا اور ہزاروں گناہگاروں نے آپ کے دست حق پرست پر تائب ہوکر اپنے قلب وجگر کو نور ایمان سے منور کیا۔ 

شمس مارہرہ بارگاہ غوثیت میں: حضور شمس مارہرہ کو حضور سیدنا غوث اعظم حضرت شیخ محی الدین عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ سے خاص رشتہ اور تعلق تھا۔ حضور قطب عالم غوث اعظم سید الکونین رضی اللہ عنہ بھی اپنے عاشق صادق پر خصوصی کرم فرمایا کرتے تھے۔ آپ کے برادر زادہ حضرت سید شاہ غلام محی الدین صاحب اپنے ملفوظات میں تحریر کرتے ہیں کہ جب میں چھوٹا بچہ تھا ایک مرتبہ کھیلتے کودتے اچکتے حجرہ سجادگی تک پہنچ گیا۔ اس وقت اندر جانے کی کسی کو اجازت نہ تھی۔ خادم خاص اسی غرض سے دروازے پر بیٹھے تھے کہ کوئی اندر نہ جائے لیکن میں کھیلتے کودتے حجرے میں داخل ہوگیا خادم نے ہر چند منع کیا لیکن میں نہ مانا۔ چپکے سے کمرے میں داخل ہوگیا۔ دیکھا کہ حضرت اچھے میاں شمس مارہرہ دوبزرگوں سے بیٹھے کچھ باتیں کررہے ہیں۔ میں حضرت کی پیٹھ سے لپٹ گیا اور پیٹھ پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ حضرت نے مجھے دیکھا اور ناراضگی ظاہرکی میں نے کہا نہیں میں پیٹھ پر چڑھوں گا۔ یہ سن کر شمس مارہرہ مسکرادیئے۔ دونوں بزرگ بھی ہنسنے لگے۔ دونوں بزرگوں نے میرے سرپر ہاتھ پھیرا اور پیار کیا۔ پھر وہ دونوں حضرات اٹھے حضرت شمس مارہرہ بھی کھڑے ہوگئے تینوں بزرگ کوٹھری میں داخل ہوگئے کچھ دیر کے بعد حضرت شمس مارہرہ تنہا باہر تشریف لائے وہ دونوں بزرگ غائب تھے میں نے پوچھا۔ آپاجی! وہ دونوں کوٹھری میں سے کدھر کو چلے گئے وہ کون تھے؟ حضور شمس مارہرہ نے فرمایا ایک تو حضرت غوث اعظم قدس سرہ العزیز تھے اور دوسرے سیدشاہ جلال صاحب مارہروی قدس سرہ العزیز تھے یہ حضرات کبھی کبھی کرم فرمائی اور فقیر نوازی فرماکر تشریف لے آتے ہیں اب وہ تشریف لے گئے ہیں۔ 

حضرت شمس مارہرہ رضی اللہ عنہ کے حالات زندگی میں ایسے متعدد واقعات ملتے ہیں کہ حضور سیدنا غوث اعظم رضی اللہ عنہ نے کئی لوگوں کی خواب میں تشریف لاکر حضور سیدنا آل احمد اچھے میاں علیہ الرحمہ سے اخذ فیض کا اشارہ فرمایا یا بیعت ہونے کا حکم دیا بلکہ خود بغداد شریف سے اپنے ایک فرزند کو تکمیل باطنی کے لئے بھیج کر یہ اشارہ دیا کہ شمس مارہرہ حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہ کے نائب مطلق ہیں۔ مولوی اکرم اللہ محشر بدایونی کے بارے میں صاحب ہدایت المخلوق نے لکھا ہے کہ خواب میں حضور غوث اعظم نے ان کا ہاتھ حضور شمس مارہرہ کے ہاتھ میں دے دیا اس کے بعد وہ مارہرہ شریف حاضر ہوکر داخلہ سلسلہ ہوئے۔ 

مرجع خلائق: اپنے زمانے کے اکابر علما ومشائخ کے درمیان آپ کو جو مقام حاصل تھا۔ اس نے آپ کو مرجع خلائق بنادیا تھا۔ بڑے بڑے اولیائے کاملین علم ظاہر و باطن اوران کے لاینحل مسائل میں آپ ہی کی طرف توجہ فرماتے تھے۔ 

صاحب آثار احمدی نے لکھا ہے کہ ایک صاحب نے بغداد مقدس کے نقیب الاشراف صاحب سجادہ نشیں بغداد شریف سے عرض کیا کہ مجھے مسئلہ وحدۃ الوجود کے سلسلے میں کچھ اشکالات ہیں انہیں حل فرمادیں۔آپ نے ارشاد فرمایا کہ اس وقت ہمارے گھر کی دولت ہندوستان میں تقسیم ہورہی ہے تم وہی چلے جاؤ۔ تشفی ہوجائے گی۔ حسب ارشاد وہ صاحب ہندستان آئے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی علیہ الرحمہ کا آفتاب و مہتاب اپنی تمام تر توانائیوں کے ساتھ ایک جہاں کو منور کئے ہوئے تھا۔ یہ صاحب حضرت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے ہندوستان آنے کا مدعا بیان فرمایا حضرت نے ہر چند مسئلے کو سمجھانے کی کوشش فرمائی۔ مسئلہ ان کے سمجھ میں نہ آیا۔ حضرت شاہ صاحب نے سمجھ لیا کہ یہ مسئلہ قال سے نہیں بلکہ کسی صاحب حال سے حل ہوگاتو آپ نے فرمایا کہ اگر تم اس کا حل چاہتے ہوتو مارہرہ چلے جاؤ وہاں ہمارے ایک بھائی اچھے میاں ہیں وہ تمہاری تسکین فرمادیں گے۔ چنانچہ وہ مارہرہ شریف حاضر ہوئے جب آپ وہاں پہنچے تو حضرت شمس مارہرہ درگاہ شریف سے خانقاہ کی طرف جارہے تھے۔ راستے میں انہوں نے قدم بوسی کی اور آنے کا مدعا بیان کیا۔ حضرت نے قریب ہی ایک پھوس کی چھپر تھی اس میں سے چند تنکے توڑے اور فرمایا جناب آپ کے اشکالات ایسے ہی ہیں جیسے یہ تنکے۔ پھر آپ نے ان پر ایسی نگاہ ڈالی کہ مسئلہ کی حقیقت فوراً ہی منکشف ہوگئی۔ 

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی جیسے عظیم محدث اور علم شریعت و طریقت کے جامع بزرگ کا مسئلے کے حل کے لئے لوگوں کو آپ کے پاس بھیجنا بتارہاہے کہ اکابر زمانہ کی نگاہ میں آپ کی قدر و منزلت کیا تھی۔

تصنیف وتالیف: اس قدر علمی جامعیت اور فضل و کمال کے باوجود حضرت شمس مارہرہ علیہ الرحمہ کی خاطر خواہ توجہ تصنیف و تالیف کی طرف نہیں ہوسکی۔ پھر بھی جو کتابیں معرض وجود میں آئیں ان کے نام حسب ذیل ہیں (۱) آئین احمدی (۲)بیاض عمل و معمول دوازدہ ماہی (۳)آداب السالکین (۴)مثنوی تصوف (۵)دیوان شعر فارسی (۶)وصیت نامہ۔ (اہل سنت کی آواز: بابت ۹۰۰۲ء)  

یونہی حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی کے ایک مرید کسی وجہ سے گرفتار ہوگئے اور ان کی جائیداد بھی ضبط کرلی گئی۔ بہت پریشان تھے۔ اسی پریشانی کے عالم میں مرشد گرامی کی طرف لو لگائی رات آپ نے حضرت خواجہ فخر الدین دہلوی علیہ الرحمہ کو خواب میں دیکھا انہوں نے نواب صاحب کاہاتھ ایک بزرگ کے ہاتھ میں دیتے ہوئے فرمایا کہ میں تمہیں انہیں سونپتا ہوں جو مشکل درپیش ہو ان سے رجوع کرنا۔ نواب صاحب نے پوچھا حضرت یہ کون بزرگ ہیں اور کہاں تشریف رکھتے ہیں؟ فرمایا یہ سید آل احمد قادری ہیں اورمارہرہ میں تشریف رکھتے ہیں۔ خواب سے بیدار ہوئے تو اپنے قاصد کو حضرت کی بارگاہ میں روانہ کیا۔ حضرت نے نواب صاحب کی رہائی کے لئے دعا فرمائی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ ہی عرصے میں رہائی نصیب ہوگئی۔ 

مخدوم زاد ے کی مارہرہ آمد: کالپی شریف مارہرہ شریف کا پیرخانہ ہے حضور صاحب البرکات قدس سرہ کو حضرت سیدنا شاہ فضل اللہ کالپی علیہ الرحمہ نے اجازت و خلافت عطا فرمائی اگرچہ آپ اپنے قدیم آبائی سلسلہ میں بیعت و اجازت رکھتے تھے مگر آپ نے وہی فیضان قادریت کا عام فرمایا جو کالپی شریف سے آپ کو عطا ہوا تھا اور آج بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ مگر حضور شمس مارہرہ علیہ الرحمہ کی شان یہ ہے کہ حضور سید شاہ فضل اللہ کالپی علیہ الرحمہ کے نبیرہ حضرت خیرات علی قدس سرہ آپ سے بیعت و اجازت کا شرف رکھتے ہیں۔ (اہل سنت کی آواز: بابت ۹۰۰۲ء ص: ۲۰۵) 

کثرت مریدین: حضور شمس مارہرہ علیہ الرحمہ نے ۷۳/ سال تک مسند برکاتیہ حمزویہ کورونق بخشی ان ۷۳/ سالوں میں آپ نے ہزاروں لوگوں کو فیضیاب فرمایا اور ان کی ظاہری و باطنی تکمیل فرمائی۔ لاکھوں بندگان خد کو آپ کے ذریعہ فیضان غوث اعظم سے حصہ ملا ہے۔ حضرت تاج العلما علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں۔ 
آپ مظہر جناب غوثیت مآب تھے آپ کے خلفاء چہار دانگ عالم تھے۔ آپ کے مریدوں کی صحیح تعداد نہیں بتائی جاسکتی البتہ اندازہ کیا جاتا ہے کہ دولاکھ کے قریب تعداد پہنچتی ہے۔ (اہل سنت کی آواز بابت ۹۰۰۲ء ص: ۶۱۵) 

خلفائے کرام: آپ کے خلفا کی ایک لمبی فہرست ہے جن میں سے چند کے نام یہاں تحریر کئے جارہے ہیں۔
(۱) حضرت سیدشاہ آل برکات ستھرے میاں علیہ الرحمہ
(۲) حضرت سید شاہ آل حسین سچے میاں علیہ الرحمہ 
(۳) خاتم الاکابر سیدنا شاہ آل رسول احمدی علیہ الرحمہ 
(۴) سید العابدین سید شاہ اولاد رسول علیہ الرحمہ 
(۵) شمس العرفا حضرت سید غلام محی الدین امیر عالم علیہ الرحمہ 
(۶) حضرت شاہ عین الحق عبدالمجید عثمانی بدایونی علیہ الرحمہ 
(۷) حضرت مولانا شاہ عبدالحمید عثمانی بدایونی علیہ الرحمہ 
(۸) حضرت پیر بغدادی صاحبزادہ حضور غوثیت مآب رضی اللہ عنہ 
(۹) حضرت سید شاہ خیرات علی صاحب نبیرہ وسجادہ نشیں فضل اللہ کالپی علیہ الرحمہ 

اولاد امجاد: آپ کو ایک صاحبزادے اور ایک صاحبزادی ہوئی تھیں جو قضائے الٰہی سے عہد طفولیت ہی میں فوت ہوگئے۔ 
مریدوں کے لئے وصیت: حضور شمس مارہرہ کی وصیت وغیرہ میں سے چند ضروری چیزیں یہ ہیں: 
 کان اللہ ولم یکن معہ شیی (از اول اللہ تعالیٰ موجود تھا اور اس کے ساتھ کوئی وجودنہ تھا۔ میرے دینی و یقینی بھائیوں سات پشتوں سے یہ خاندان برکاتیہ حمزویہ فیض مآب غوث الثقلین قطب الکونین کا نمک پروردہ چلا آرہا ہے۔ لہٰذا مریدوں کو چاہئے کہ حضور غوث پاک کی غلامی کوہاتھ سے جانے نہ دیں کہ دارین کی سلامتی اسی میں ہے۔ مذہب حنفی پر قائم رہیں اور علماء و فقراء اور مساکین کی تعظیم و خدمت کی پوری کوشش کریں۔ جو کچھ خشک و تر میسر ہوپورے وقار اور تواضع کے ساتھ ان کی خدمت میں پیش کردیں، اگر وہ قبول کریں تو ان کے حسن اخلاق کے روسے بہترہے۔  (اہل سنت کی آواز: بابت ۹۰۰۲ء) 

وصال: آپ کا وصال ۷۱/ربیع الاوّل ۵۲۲۱ء جمعرات کے دن چاشت کے وقت ہوا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ وصال کے وقت آپ کی عمر شریف ۵۷ سال تھی۔ درگاہ برکاتیہ مارہرہ شریف کے گنبد میں حضور صاحب البرکات کے پہلو میں آپ کا مزار اقدس مرجع خلائق ہے۔ 
۶۱/فروری اتوار کے دن آپ کا دوسوسالہ عرس مبارک مارہرہ شریف میں منعقد ہورہاہے۔ اللہ تبارک وتعالیٰ حضور شمس مارہرہ کے فیوض و برکات سے ہم تمام وابستگان سلسلہ کو مالا مال فرمائے۔ (آمین ثم آمین)

شمس و قمر سے بڑھ کر ہے شان آل احمد 
قربان آل احمد قربان آل احمد 
ہے نور مصطفائی چہرہ سے ان کے ظاہر 
ہے نور حق وہ روئے رخشان احمد 
روئے زمین سے لے کر بالائے آسمان تک 
مثل قمر ہے روشن ہر بان آل احمد 
بے شک ہوئے ہیں حاصل دربار احمدی سے 
وہ مرتبے کہ تھے جو شایان احمد 

از: تاج الفحول شاہ عبدالقادر عثمانی قادری بدایونی علیہ الرحمہ



Wednesday, 9 March 2016

Asr Hazir Main Elim e deen Ki Ahmiyat

عصر حاضر میں علم دین کی اہمیت

از: مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی

انسانی تاریخ نے کسی اورمذہب کواسلام کی طرح علم کواہمیت دیتے نہیں دیکھا ۔ علم کی دعوت، اس کاشوق ، اس کی قدر ومنزلت ، اہل علم کی عزت افزائی ، علم کے آداب ، اس کے اثرات ونتائج واضح کرنے، نیزعلم کی نا قدری اوراہل علم کی مخالفت سے روکنے میں اسلام نے جو بھرپورا ورمکمل ہدایات پیش کی ہیں۔اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ جو مذاہب عالم کا مطالعہ کرے گا وہ اس سلسلے میں اسلام کی عظمت کا قائل ہوجائے گا۔علم کانام سامنے آتے ہی ایسا محسوس ہوتاہے۔ جیسے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بجلی چمک اٹھی ہو یہ علم ہی ہے جوانسان کواس کے مقصدزندگی سے آگاہ کرتاہے۔ ہرنیک وبد اورمفید و مضر کی پہچان کراتاہے اوراسے حیوانوں کی سطح سے بلند کرکے انسانیت کی سطح تک پہنچاتا ہے۔ اسی علم سے افراد اورقومیں آگے بڑھتی ہیں۔ کیاعلم کی اہمیت کااس سے بڑھ کر کوئی اورثبوت چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی جو سب سے پہلی آیت اپنے رسول پرنازل فرمائی وہ یہ تھی ترجمہ: پڑھئے اپنے رب کے نام سے جو سب کا پیداکرنے والا ہے۔پڑھنا اللہ کے نام سے ہی ہے، نفس کی خواہشوں اورکسی قسم کے غلط مقصد کے لئے نہیں۔ اس کامطلب یہ ہے کہ علم کو اسلام میں ایک خاص قسم کا تقدس حاصل ہے۔ کسی انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اسے کسی ایسے مقصد کے لئے استعمال کرے جو حق سے ٹکراتاہو۔اسلامی تعلیمات میں دینی ودنیوی تمام علوم پرعلم کا لفظ بولاجاتاہے جب کہ مغربی ممالک علم کومحض دنیوی کامیابی کاذریعہ اورزینہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اسلام اسے آخرت میں سرخروئی اوردنیا میں کامیابی دونوں کاذریعہ قرار دیتاہے۔مگرسخت افسوس کہ عرصہ درازسے مسلمان علم کو جتنا نظرانداز کرتے آرہے ہیں اتنا دنیا کی کسی اورقوم نے نہیں کیا۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم دنیوی علوم میں بھی پیچھے ہیں اوردینی علوم میں بھی جب کہ مسلمانوں پریہ ضروری ہے کہ اگروہ زمانے کی رفتار سے آگے نہیں توکم از کم ساتھ ساتھ چلنے کی صلاحیت اپنے اندر پیداکریں۔اس کے لئے عالمی حالات سے واقفیت بھی ضروری ہے اوربنیادی دینی علوم میں مہارت کے ساتھ دنیوی علوم بھی۔آج پورا عالم اسلام پسماندہ اورمجبور کیوں ہے؟شراب نوشی،جوا اورلاٹری کاچلن ہمارے معاشرے میں بڑھ رہا ہے۔ یوں ہی جنسی انارکی، حرام کاری ، وغیرہ کے رجحانات میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف جہالت کی وجہ سے ملت کے مستقبل کی تعمیر اوراس کے افراد کی ترقی کے ضروری کام سے لوگ غافل ہیں۔ہماری نئی نسل بہت حد تک مذہب بیزار ہوچکی ہے۔ انہیں مذہب کے قریب لانے کی کوشش نہ کے برابرہے۔ تعلیم نسواں پربھی خاطر خواہ توجہ نہیں ہوپارہی ہے۔ قوم وملت کے صدہامسائل ہیں جو تشنہ کام ہیں اگرحقیقی معنوں میں علم کی روشنی سے دل منور ہوجائے تو انشاء اللہ ان سارے مسائل کے حل کی راہیںآسان ہوسکتی ہیں۔

کتناعلم سیکھنا ضروری ہے
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے علم کے سیکھنے پربہت زور دیا اورہرممکن رغبت دلائی ۔ یہاں تک کہ ہرمسلمان کے لئے اسے اہم ترین فریضہ قرار دیا ہے۔چنانچہ ارشاد پاک ہے علم حاصل کرنا ہرمسلمان (مرد وعورت)پر فرض ہے۔ (ابن ماجہ)لیکن کتنا اور کون سا علم سیکھنا فرض ہے۔ اس سلسلے میں مختلف اقوال ہیں۔بے شمار معتبر ومستند کتابوں کے مطالعہ کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچاکہ اتنا علم جس سے مسلمان اپنے عقیدے کے بارے میں یقینی وحقیقی معرفت حاصل کرسکے۔ اپنے رب کی عبادت اورحضور کی اطاعت کرسکے۔ اپنے نفس اوردل کا تزکیہ کرسکے۔ نجات دلانے والی چیزوں کاعلم ہواور تباہ کن گناہوں کاعلم ہو تاکہ ان سے بچاجاسکے۔ اپنے ساتھ ، اپنے خاندان والوں اورپڑوسیوں کے ساتھ معاملات کو درست کیاجاسکے۔ حلال وحرام میں فرق ہوسکے اس قدر علم ہرمسلمان مردوعورت کے لئے لازم ہے ۔ جو درس گاہوں میں پڑھ کر ، مسجدوں میں سن کر اورمختلف ذرائع سے حاصل ہوسکتاہے۔

علم دین کی ضرورت کیوں ؟
یہ بہت ہی اہم سوال ہے۔صاحبان علم ودانش نے اس کے بہت سارے جوابات تحریر کیے ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ علم کی ضرورت اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے جیساکہ آیت کریمہ سے سمجھ میںآرہاہے ترجمہ: اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو اسی لیے پیدا کیا تاکہ وہ میری عبادت کریں۔(ذریت پارہ ۲۷آیت:۵۶) معلوم ہواکہ انسان کی تخلیق عبادت کے لیے کی گئی ہے اور علم کے بغیر عبادت کرناممکن نہیں اس لیے علم حاصل کرنا فرض ہوا۔ نیز قرآن پاک میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو اپنے محبوب ﷺ کی اطاعت کا حکم فرمایاہے جیساکہ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ترجمہ :’’جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو‘‘۔( حشر :پارہ ۲۸،آیت۷) سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب تک کسی آدمی کے پاس دینی علم نہیں ہوگا وہ اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو نہ تو اپنا سکتا ہے اور نہ ہی منع کی ہوئی باتوں سے خود کو روک سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہوا کہ علم حاصل کرے تاکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اتباع کرسکے۔

علم دین کی فرضیت میں حکمت کیاہے؟
ہر مسلمان مرد وعورت پر علم کے فرض کرنے میں حکمت کیا ہے۔ اسے مفسرقرآن حضرت امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ کی اس تحریر سے سمجھیں فرماتے ہیں۔ اول:۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرائض کی ادائیگی کاحکم فرمایا ہے اورمیں علم کے بغیر ان کی ادائیگی پرقادر نہیں ہوسکتا۔ دوم:۔خدائے تعالیٰ نے مجھے گناہوں سے دور رہنے کاحکم فرمایا ہے اورمیں علم کے بغیراس سے بچ نہیں سکتا۔ سوم:۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کاشکر مجھ پر لازم فرمایا ہے اورمیں علم کے بغیر ان کاشکر نہیں کرسکتا۔ چہارم:خدائے تعالیٰ نے مجھے مخلوق کے ساتھ انصاف کرنے کاحکم دیاہے اورمیں علم کے بغیر انصاف نہیں کرسکتا۔ پنجم:۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بلا پرصبر کرنے کاحکم فرمایا ہے اورمیں علم کے بغیر اس پر صبر نہیں کرسکتا۔ ششم:۔ خدائے تعالیٰ نے مجھے شیطان سے دشمنی کرنے کاحکم دیا ہے اور میں علم کے بغیر اس سے دشمنی نہیں کرسکتا۔ (علم اور علما۔بحوالہ تفسیر کبیرج۱ ،ص۲۷۸)

پھرسمجھنے کی بات یہ بھی کہ ہر آدمی پر خواہ وہ مرد ہویا عورت اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے حقوق عائد کیے ہیں۔ (۱)حقوق اللہ (۲)حقوق العباد ۔اور ان دونوں حقوق کی ادائیگی بغیرعلم ممکن نہیں اسی لئے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاترجمہ:علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ (مشکوٰۃ ص:۳۴) حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔شار حین حدیث نے فرمایا ہے کہ علم سے مراد وہ مذہبی علم ہے جس کاحاصل کرنا بندہ پر ضروری ہے۔ جیسے خدائے تعالیٰ کو پہچاننا ، اس کی وحدانیت ، اس کے رسول کی شناخت اورضروری مسائل کے ساتھ نماز پڑھنے کے طریقے کوجاننا۔ اس لئے کہ ان چیزوں کا علم فرض عین ہے۔(مرقات ج ۱،ص۲۳۳)اوراسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ علم سے مراد اس حدیث میں وہ علم ہے جو مسلمانوں کے لئے وقت پرضروری ہے ۔مثلاً جب اسلام میں داخل ہوا تواس پر خدائے تعالیٰ کی ذات وصفات کو پہچاننا اور رسول کی رسالت ونبوت کوجاننا واجب ہوگیا اورہر اس چیز کاعلم ضروری ہوگیا جس کے بغیرایمان صحیح نہیں۔ جب نماز کاوقت آگیا تو اس پرنماز کے احکام کاجاننا ضروری ہوگیا پھر جب ماہ رمضان آیا تو روزہ کے ا حکام کاسیکھنا ضروری ہوگیا، جب مالک نصاب ہوگیا تو زکوٰۃ کے مسائل کاجاننا واجب ہوگیا اوراگرمالک نصاب ہونے سے قبل مرگیا اورزکوٰۃ کے مسائل کو نہیں سیکھا تو گنہگار نہیں ہوا۔ جب عورت کو نکاح میں لایا تو حیض ونفاس وغیرہ جتنے مسائل کا میاں بیوی سے تعلق ہے جاننا واجب ہوگیا ۔ وعلی ھذا القیاس۔ (اشعۃ اللمعات)

حصول علم کے لیے سفر کرنا
علم دین کی تحصیل کی رغبت دلاتے ہوئے حضور آقا علیہ السلام نے فرمایاترجمہ : علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں ملک چین جاناپڑے۔(جامع صغیرص:۷۲) یعنی حصول علم کے لیے دشوار سفر بھی کرنا پڑے تو اس سے دریغ نہ کرو۔اسی حدیث کو پیش نظر رکھ کر صحابہ نے حصول علم کے لیے دور دراز ممالک کا سفر فرمایا اور علم میں کمال پیدا کیا ۔ایک صحابی حضور علیہ السلام کی صرف ایک حدیث سننے کے لئے مصر تشریف لے گئے۔ حدیث رسول سنا سواری پہ سوار ہوئے اورمدینہ طیبہ کی راہ چل پڑے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کے دلوں میں علم دین حاصل کرنے کا کیسا جذبہ تھا۔ بعد کے بزرگوں نے بھی صحابہ کے نقش قدم کی پوری پوری پیروی کی ۔

حضور سیدناامام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ تحصیل علم کے لئے متعدد دفعہ مکہ شریف، مدینہ شریف اوربصرہ تشریف لے گئے۔
حضورسیدنا غوث پاک رضی اللہ عنہ عین جوانی کے عالم میں تحصیل علم کے لئے جیلان سے بغداد تشریف لائے ۔ طرح طرح کی صعوبتوں کاسامنا کیا۔ فاقہ کی نوبت بھی آئی مگر تحصیل علم میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں فرمائی۔
حضور سیدنا خواجہ غریب نواز اپنے شیخ حضرت خواجہ عثمان ہارونی کی بارگاہ میں بیس برس رہے اورکسب علم کرتے رہے۔ یہ ہے ہمارے بزرگوں کی تعلیمی تڑپ اور ان کی نگاہ میں تعلیم کی اہمیت ہے مگر ہماراحال یہ ہے کہ ہم محض بزرگوں کی محبت کا کھوکھلادعویٰ کرتے ہیں ، دامن نہ چھوڑنے کے نعرے لگاتے ہیں۔ جب کہ بزرگوں کی اصل محبت یہ ہے کہ ان کی تعلیمات کو اپنائیں اوراس ڈگر کواپنائیں جس پر چل کر انہوں نے زندگی گزاری ہے۔

علمِ دین دولت سے بہتر ہے
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں علم سات وجوہات کی وجہ سے مال سے افضل ہے۔اول:۔علم انبیاء علیہم السلام کی میراث ہے اور مال فرعونوں کی میراث ہے۔ دوم:۔۔۔علم خرچ کرنے سے گھٹتا نہیں جب کہ مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے۔سوم:۔۔۔مال کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ علم صاحب علم کی حفاظت کرتا ہے۔چہارم:۔۔۔ جب آدمی مرجاتاہے اس کامال دنیا میں باقی رہتا ہے جب کہ علم آدمی کے ساتھ قبر میں جاتاہے۔پنجم:۔۔۔مال مومن اورکافر دونوں کوحاصل ہوتا ہے جب کہ علم دین صرف مومن کوحاصل ہوتاہے۔ششم: لوگ دینی معاملات میں صاحب علم کے محتاج ہوتے ہیں صاحب ثروت کے نہیں۔

جذبۂ تحصیل علم 
بیان کیاجاتا ہے کہ حضرت قاضی ابویوسف(شاگرد امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ ) کاپندرہ سال کا ایک نوجوان لڑکا تھا۔ حضرت کو اس سے غایت درجہ محبت تھی اسے بے پناہ چاہتے تھے۔ اچانک اس لڑکے کا انتقال ہوگیا۔(اسی دن قاضی ابو یوسف کو امام اعظم کے حلقہء درس میں جانا تھا) اس کشمکش میں قاضی ابویوسف نے اپنے خادموں سے کہا کہ میں اس کی تدفین کاکام تم لوگوں کے ذمہ کررہاہوں۔ مجھے اپنے استاذ کی مجلس میں جانا ہے ۔ہوسکتا ہے اس محفل میں علم کی کوئی ا یسی بات بیان ہو جو میں نہیں جانتا ایسی صورت میں میں اس سے محروم رہ جاؤں گا ۔جبکہ میری خواہش یہ ہے کہ میں کسی بھی دینی بات سے محروم نہ رہوں۔ عرصے بعد جب قاضی امام ابویوسف کا انتقال ہوا تو ایک بزرگ نے خواب میں ان کو دیکھا کہ وہ جنت کے ایک محل کے دروازے پرکھڑے ہیں اس محل کی بلندی عرش تک پہنچ رہی تھی۔ بزرگ نے پوچھا کہ یہ محل کس آدمی کا ہے؟ امام ابویوسف نے کہایہ میرا محل ہے۔بزرگ نے پھر پوچھا تم نے کس عمل کے ذریعہ اس محل کو حاصل کیا؟امام ابویوسف نے فرمایا کہ علم اور تعلیم پر حریص ہونے کی وجہ سے میں نے یہ مقام حاصل کیاہے۔ تم بھی علم حاصل کروتاکہ دونوں جہان میں محبوب اور عزیز تر ین بن جاؤ۔ (ریاض الناصحین ص:۳۵۷) مذکورہ بالاسطورپڑھ کرطلب علم کی اہمیت وفضیلت کابخوبی اندازہ ہوگیاہوگا۔

کس عالم کی صحبت اختیار کی جائے ؟
آٰیہ ایک اہم سوال ہے کہ کس عالم کی صحبت اختیار کی جائے ۔کیوں کہ بعض علما کی صحبت دین کی محبت پیدا کرنے کی جگہ دین سے دوری کا سبب ہوا کرتی ہے اس لیے اچھی طرح جانچ پڑتال کے بعد ہی کسی عالم کی صحبت ا ختیار کی جائے اور یہی ہمارے آقاعلیہ السلام کی تعلیم بھی ہے ۔ذیل کی حدیثوں سے آپ خود اس امر کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔
*حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک یہ علم ٗ دین ہے تو تم دیکھ لوکہ کس سے دین حاصل کررہے ہو۔ (مشکوٰۃ کتاب العلم ص:۳۷) * حضور اقدس ﷺ نے ارشادفرمایاہر عالم کے پا س نہ بیٹھو۔بلکہ اس عالم کے پاس بیٹھو جو پانچ چیزوں سے نکال کر دوسری پانچ چیزوں کی طرف بلائے (۱)شک سے یقین کی طرف (۲)نام و نمود سے اخلاص کی طرف (۳)دنیا سے آخرت کی طرف (۴)تکبر سے تواضع (خاکساری کی طرف) (۵)عداوت سے خیر خواہی کی طرف (بلائے اسی کے پاس بیٹھو) ۔ (احیاء العلوم، جلد اول مترجم ص:۱۴۶) * حضرت یحییٰ بن معاذ رازی نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی صحبت سے بچو، ایک غافل علما سے دوسرے مداہنت کرنے والے فقراسے اور تیسرے جاہل صوفیہ سے۔ (کشف المحجوب ص:۶۱) *فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔عالم اگردنیاکی طرف راغب اوراس کاحریص ہوجاتاہے تواس کی صحبت جاہل کی جہالت کواورفاسق کے فسق کوبڑھاتی اوران کے دلوں کوسخت کرتی ہے۔(تنبیہ الغافلین)یعنی دینی تعلیم دنیداروں سے ہی حاصل کرنی چاہیے کیوں کہ عالم باعمل سے تعلیم حاصل کریں گے تویقینی طورپرآپ کے دل میں دین کی محبت پیداہوگی۔جو آپ کو اچھائیوں کاپیکربنادے گی۔بدقسمتی سے اگرکسی کوعالم صالح کی صحبت میسرنہ آسکی بلکہ دنیادارعالم سے پالاپڑگیاتوبجائے دین کے قریب ہونے کے وہ اور دورہوجائے گا۔اس لیے ضروری ہے کہ علم دین دیندارعلماسے ہی حاصل کیاجائے۔ 

علمائے حق کی صفات
حضرت امام غزالی تحریر فرماتے ہیں کہ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ پانچ صفات ایسے ہیں جو علمائے آخرت کی علامت ہیں۔(۱)خوف (۲)خشوع (۳)عاجزی (۴)حسن اخلاق (۵)آخرت کو دنیا پر ترجیح دینا۔ (احیاء العلوم مترجم جلد اول ص:۱۷۹)
علمائے حق کے صفات سے متعلق حضرت فقیہ ابو اللیث سمر قندی تحریر فرماتے ہیں کہ عالم کے اندرحسب ذیل دس صفات ہونی چاہئے۔ ۱۔اخلاص:(کیونکہ جس عمل میں اخلاص نہیں اس پرثواب نہیں)۲۔خوف خدا:یہ اخلاص کی بنیادہے اوریہی بندے کوہرگناہ سے روکنے والاہے۔۳۔نصیحت: یہ علم کامقصدہے کہ آدمی علم پرخود عمل کرے اوردوسروں کو بھی اس کی نصیحت کرے۔۴۔شفقت:یہ وعظ ونصیحت میں ضروری ہے،شفقت ہی کی وجہ سے آدمی ہرایک کونیک بنانے کی کوشش کرتارہتاہے۔۵۔صبروبردباری:دعوت وتبلیغ کی راہ میں جوناگواراورتکلیف دہ باتیں پیش آتی ہی ہیں ان پرصبرضروری ہے ورنہ تبلیغ ممکن نہیں۔۶۔تواضع:یہ علم کی شان ہے،صحیح علم تواضع سکھاتاہے یہ اللہ کوبھی پسندہے،بندوں کوبھی۔۷۔عفت:(پاک دامنی)یہ ہرانسان کازیورہے خصوصاً عالم کے لیے نہایت ضروری ہے ورنہ وعظ ونصیحت بے اثرہوجائیں گے۔۸۔مطالعہ: اس سے علم بڑھتااورمحفوظ رہتاہے،یہ ہرعالم کے لیے بہت ضروری ہے۔۹۔افادہ:(فائدہ پہنچانا)عالم کے لیے جس طرح خودعمل کرناضروری ہے،اسی طرح دوسروں کونصیحت کرنااورمسائل بتانابھی ضروری ہے ،جانتے ہوئے کسی مسئلہ کوچھپانابہت بڑاجرم ہے اس پر سخت وعید یں آئی ہیں۔۱۰۔قلت حجاب: علم حاصل کرنے میں شرم جائز نہیں بلکہ محرومی کاسبب ہے،علم سوال سے بڑھتا ہے۔فَسْءَلُوْااَھْلَ الذِّکْرِاِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْن(انبیا:۲۱/۶۳) ترجمہ :اگرتم نہیں جانتے ہو توعلم والوں سے دریافت کرلو۔ (تنبیہ الغافلین)اب جب کہ علمائے حق کی صفات سے آگہی ہو گئی ہے تو لوگوں کو چاہئے کہ وہ ایسے علما کی صحبت اختیار کریں جو مذکورہ صفات سے متصف ہوں ۔

علم کااٹھنا دنیا کی تباہی کا پیش خیمہ ہے
بخاری شریف میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ علم اٹھالیاجائے گا اورجہالت کا دور دورہ ہو گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ علم کی کمی اورجہالت کی زیادتی ہوجائے گی اورشراب و زنا عام ہوجائیں گے۔یعنی علم کااٹھ جانادنیا کی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔آج کے حالات بھی یہ بتا رہے ہیں کہ ہماری قوم علم سے بڑی حد تک بے بہرہ ہو چکی ہے دین کاعلم لوگوں سے تقریباً رخصت ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں ہر طرح کے گناہ معاشرے میں کھلے طور پر انجام دیے جارہے ہیں۔ بے حیائی و بدکاری ، شراب نوشی و جوابازی بلکہ ہزاروں طرح کے گناہ انجام دئیے جارہے ہیں۔ ان گناہوں کے عام ہونے کاسبب بڑی حدتک علم وعمل کافقدان ہے۔ گویا قیامت بس دستک دے رہی ہے۔
قا رئین حضرات :گذشتہ سطورمیں درج احادیث کے مطالعہ کے ذریعہ آپ اچھی طرح اندازہ کر چکے ہو ں گے کہ ہمارے مذہب میں علم دین کی اہمیت اور قدر ومنزلت کیا ہے ۔اسی لیے تو حصول علم پراللہ اس کے رسول کی خوشنودی ،گناہوں کی بخشش نیز جنت کی بشارت دی گئی ہے ۔کاش لوگ سمجھیں اور اپنے بزرگوں کی طرح علم کا شوق اورولولہ اپنے اندر پیدا کریں اور اس راہ میں آنے والی رکاوٹوں کا مردانہ وار سامنا کریں تو کیا خوب ہو۔
اللھم وفق لھذابحرمۃحبیبک محمد صلی اللہ علیہ وسلم و علی الہ و صحبہ اجمعین برحمتک یاارحم الراحمین

Azmat e Rasool Quran e Hakim ke Ainey Main

عظمت رسو ل قر آن حکیم کے آئینے میں

از:۔۔  مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی

قرآن اللہ کی کتاب ہے اوراس خاک دان گیتی کے ہر فرد کے لئے باعث رشدو ہدایت ہے۔ اس کتاب عظیم میں جہاں اللہ کی ذات و صفات ، اس کی سلطنت وقدرت، فرماں برداروں کے لئے مغفرت و جنت ، نافرمانوں کے لئے عقوبت بدو دوزخ نیزملائکہ، کتب سماوی، قیامت، جنت و جہنم ، پچھلی امتوں کے احوال و کوائف ، امرونہی کے احکامات کا ذکرہے وہیں اللہ جل شانہٗ نے اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی وعزت و عظمت اورتعظیم و تکریم بجالانے کا ہم مسلمانوں سے خصوصی مطالبہ فرمایا اوررسول کی محبت کو عین ایمان قرار دیا ہے۔ ذیل کی سطروں کوپڑھیں اورقرآنی آیات کی روشنی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قدر ومنزلت کااندازہ لگائیں۔

رسول کی تعظیم و تکریم عبادات پر مقدم ہے:چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّ مُبَشِّراً وَّ نَذِیْرًا لِتُوْ مِنْوا بِاللّٰہِ وَ رَسُوْلِہٖ وَتُعَزِّرُوْہٗ وَ تُوَقِّرُوْہٗ وَ تُسَبِّحُوہُْ بُکْرَۃً وَّ اَصِْیًلا (سورہ فتح پارہ۲۶آیت۸،۹)ترجمہ: اے محبوب ہم نے آپ کو شاہد بناکر بھیجا اوربشارت دینے والا اورڈر سنانے والا بناکر بھیجا تاکہ اے لوگو! تم اللہ اوراس کے رسول پر ایمان لاؤ اوررسول کی تعظیم و توقیر کرو اورصبح و شام اللہ کی پاکی بولو۔اس آیت مبارکہ میں غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اللہ اوررسول پر ایمان لانے کے بعد فوراً ہی اس بات کامطالبہ کیاگیا ہے کہ رسول کی تعظیم و توقیر بجالاؤ۔ گویا کہ اللہ جل شانہ ٗ نے اپنے محبوب کو شاہد ،مبشر اورنذیر اسی لئے بناکر بھیجا ہے کہ لوگ ان کی تعظیم و توقیر بجالائیں۔تعظیم رسول کی بجاآوری کے بعدکہیں جاکر ایمان والوں سے تسبیح و تہلیل کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یعنی نبی کی تعظیم کے بغیر رب کی تسبیح قابل قبول نہیں۔ 


رسول اورقرآن کی پیروی نجات کا ذریعہ ہے: اللہ تبارک و تعالیٰ نبی کی تعظیم و توقیر بجالانے والوں کو یوں مژدہ سنارہاہے فَالَّذِیْنَ ٰامَنُوْا بِہٖ وَعَزَّرُوْہُ وَ نَصَرُوْہُ وَ اتَّبَعُوْ النُّوْرَ الَّذِیْ اُنْزِلَ معَہَٗ اُوْلٰءِکَ ھمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔ (سورہ اعراف پارہ ۹آیت ۹) ترجمہ: تووہ جو نبی پر ایمان لائے آپ کی تعظیم کی اورآپ کی مدد کی اوراس نور کی پیروی کی جوآپ اپنے ساتھ لے کرآئے تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔ معلوم ہوا کہ ایمان لانے کے بعد نبی کی تعظیم بجالانا۔ان کی حمایت کرنا اورقرآن کی پیروی کرنا ہی فلاح ونجات کی راہ ہے۔


رسول پرسبقت کرنے کی ممانعت: اللہ تبارک و تعالیٰ نے مسلمانوں کو اپنے نبی کی عظمتِ شان و رفعتِ مقام سے روشناس کراتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے یَاَ یُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُواْ لَا تُقَّدِّ مُوْا بَیْنَ یَدَیِ اللّٰہِ وَرَسُْوْلہِ وَ اتَّقُواْ اللّٰہَ اِنّٰ اللّٰہَ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ۔ (سورہ حجرات پارہ ۲۶ آیت ۱) ترجمہ:۔اے ایمان والو اللہ اوراس کے رسول سے آگے نہ بڑھو اوراللہ سے ڈرو بیشک و ہ سنتا اورجانتا ہے۔ 

اس آیت مبارکہ کا شان نزول یہ بتایاگیا ہے کہ بعض صحابہ نے حضورکی نماز عید قرباں اداکرنے سے پہلے ہی قربانی کرلی تھی۔ دوسری روایتوں میں ہے کہ بعض صحابہ نے رمضان کے روزوں سے پہلے ہی روزہ رکھنا شروع کرلیاتھا تو آیت مبارکہ میں یہ بات بتائی گئی کہ تم رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے بڑھنے کی کوشش نہ کرو۔ پھر رسول پر سبقت کرنے کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے خود پر سبقت کرنے سے تعبیر فرمایا۔ یہاں غور کرنے کی بات یہ بھی ہے کہ صحابہ نے جوسبقت کی تھی وہ عبادت الہٰی میں کی تھی ۔ مگراللہ تعالیٰ نے امت کو نبی کی تعظیم و تکریم کا پاس و لحاظ رکھنے کا حکم فرماتے ہوئے فرمایا کہ جو عبادت نبی پر کسی بھی طرح سبقت کے ذریعہ کی جائے گی وہ ہماری بارگاہ میں قابل قبول نہیں ۔

رسول کی بے حرمتی اعمال کی بربادی کاسبب ہے: اللہ رب العزت ہم کلمہ خوانوں کو بارگاہ نبی کی تعظیم بجالانے کی تعلیم و تربیت فرماتے ہوئے یوں فرمارہا ہے۔ یٰاَ یُھّاَلذِّینْ اَمَنُوْا لاَ تَرْفَعُوْا اَصْوْااَتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ الَّنبِّیْ وَلَا تَجَھَرُوْ الَہٗ بِالقْوْلِ کَجَھْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍْ اَنْ تَحْبَطَ اَعْمَالَکُمْ وَاَنتُمْ لَاتَشْعُرُوْنَ۔ (سورہ حجرات پارہ ۲۶آیت ۲) ترجمہ:۔ اے ایمان والو نبی کی آواز پر اپنی آواز بلند نہ کرو، اورانہیں اس طرح نہ پکارو جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو اوراگر تم نے ایسا کیا تو تمہارے سارے اعمال برباد کردئیے جائیں گے اورتمہیں اس کا شعور بھی نہ ہوگا۔مندرجہ بالا آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے یہ بات بتائی ہے کہ حضورکی بارگاہ عظمت میں بلندآواز سے بات کرنا اورانہیں ان کے نام سے پکارنا جس طرح لوگ آپس میں ایک دوسرے کو نام لے کر پکارتے ہیں حرام ہے۔پھر اللہ رب العزت نے ہمیں اس بات سے بھی آگاہ فرمایا کہ جو نبی کی بارگاہ میں اس طرح کی جسارت کرے گااوران کی آواز پر اپنی آواز کو بلند کرے گا یا انہیں ان کانام لے کرپکارے گا تو اللہ تعالیٰ ایسے آدمی کے اعمال کو ضائع فرمادے گااور اسے احساس بھی نہ ہو گا کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں معتوب ہوچکا ہے اوراس کی نیکیاں رائیگاں ہوچکی ہیں۔


جب یہ آیتِ نازل ہوئی تو حضرت ثابت بن قیس نے گوشہ نشینی اختیار کرلی ۔ ثابت بن قیس وہ صحابی ہیں جن کی قوت سماعت کچھ کمزور تھی اس وجہ سے وہ بلند آواز میں باتیں کرتے تھے۔ آیتِ مبارکہ میں چونکہ رسول کی بارگاہ میں آواز بلند کرنے والے کواعمال کی بربادی کی وعید سنائی گئی تھی بایں وجہ انہوں نے مسجد آناجانا بند کردیا۔ ایک روز حضور نے سعد سے جو ثابت بن قیس کے پڑوسی تھے ان کی خیریت دریافت کی اور پوچھا میں ثابت کونماز میں نہیں دیکھ رہاہوں کیا بات ہے۔ حضرت سعد نماز کے بعد ثابت کے گھران کی خیریت دریافت کرنے کے لئے گئے اور ان سے مسجد نہ جانے کا سبب دریافت کیا اس پر حضرت ثابت رونے لگے اورکہا کہ میری ہی آواز حضور کی بارگاہ میں بلند ہوجایا کرتی تھی اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ یہ آیت میری ہی مذمت میں نازل ہوئی ہے میں توجہنمی ہوگیا ہوں ۔ حضرت سعد نے ان کی زبانی جو باتیں سنیں انہیں حضور کی بارگاہ میں کہہ سنایا۔ اس پر حضور نے فرمایا ثابت سے کہہ دو کہ وہ جنتی ہیں۔ یہاں یہ بات سمجھنے کی ہے کہ حضرت ثابت کی قوت سماعت میں خلل واقع ہوچکا تھا ۔ اس وجہ سے وہ بلند آواز میں باتیں کیا کرتے تھے ۔ جسے اللہ تبارک و تعالیٰ نے ناپسند فرمایا۔ یہ اور بات ہے کہ جان ایمان مصطفےٰ جان رحمت صلی للہ علیہ وسلم نے انہیں معاف فرمادیا اوردلجوئی کرتے ہوئے جنت کی بشارت بھی عطافرمادی۔ بہرحال اس آیت مبارکہ سے معلوم ہوا کہ جو حضور کی بارگاہ میں بلند آواز سے باتیں کرے گا اس کے اعمال برباد کردئیے جائیں گے اوروہ اللہ رب العزت کے قہر و غضب کاحق دار ٹھہرے گا۔


نماز جیسی اہم عبادت بھی رسول پرقربان کرنے کاحکم:نبی کی ذات رب کی بارگاہ میں کیامقام و مرتبہ رکھتی ہے اسے قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ سے بھی بخوبی سمجھاجاسکتا ہے۔ اللہ رب العزت کاارشاد ہے ۔ یَاَیّھُااَلَّذِیْنَ امَنُواْ اسْتَجِیْبُوْاِ للّٰہِ وَ لِلرَّسُوْلِ اِذَادَعَاکُمْ۔ (سورہ انفال پارہ ۹ آیت ۲۴) ترجمہ:۔اے ایمان والو تم اللہ اوراس کے رسول کے بلانے پر فوراً حاضرہوجاؤ۔ 


ایک مرتبہ حضرت ابی بن کعب نماز پڑھ رہے تھے حضور نے انہیںآواز دی مگر چونکہ یہ نماز میں تھے اس لئے نماز پوری کرکے حضور کی بارگاہ میں حاضرہوئے حضور نے تاخیر کاسبب دریافت فرمایا ابی بن کعب نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نماز پڑھ رہا تھا نماز پوری کرکے آیا ہوں اس لئے آنے میں دیر ہوگئی ہے۔ توحضور نے فرمایا کیا تم نے یہ آیت نہیں سنی کہ جب تمہیں اللہ اوراس کے رسول بلائیں تو فوراً حاضر ہوجاؤ۔ یعنی نماز میں ہوتو بھی تمہارے لئے ضروری ہے کہ رسول کے بلاوے پرلبیک کہتے ہوئے نمازچھوڑ کر حاضرہوجاؤ۔ فقہا فرماتے ہیں کہ جوحضور کے بلانے کی وجہ سے نماز چھوڑ کرجائے گا وہ نماز میں ہی رہے گا جب تک حضور کی اطاعت میں ہے وہ نماز میں ہے۔ معاملات سے فراغت کے بعد جہاں تک پڑھ چکا تھا اس کے بعدسے نماز پڑھے۔ اللہ اللہ محبوب خدا کی عزت وعظمت کاکیاکہنا۔ سوچنے کی بات ہے کہ نماز جو تمام عبادتوں میں سب سے اہم عبادت ہے۔حالت نماز میں بھی اللہ رب العزت نے اپنے محبوب کی تعظیم و توقیر بجالانے اوران کی اطاعت وفرمانبرداری کاحکم فرمایا ہے جس سے سرکار دوجہاں کی عظمت شان بخوبی عیاں ہے۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت مجدد دین وملت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔


اللہ کی سرتا بقدم شان ہیں یہ

ان سانہیں انساں وہ انسان ہیں یہ

قرآن تو ایمان بتاتا ہے انہیں

ایمان یہ کہتا ہے مری جان ہیں یہ

رسول کاہاتھ اللہ کاہاتھ ہے: اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے محبوب سے کس قدر محبت فرماتا ہے اس کا اندازہ اس آیت مبارکہ سے لگایا جاسکتا ہے یہ آیت اس وقت نازل ہوئی جب حدیبیہ کے مقام پر صحابہ نے حضور کے ہاتھوں پر بیعت کی چنانچہ ارشاد ہوا۔اِنَّ الَّذِیْنَ یُبَایِعُوْنَکَ اِنَّمَاَ یُبَایِعُوْنَ اللَّٰہَ یَدُاللّٰہِ فَوْقَ اَیِْدِیْکُمْ (سورہ فتح پاری ۲۶آیت ۱۰)ترجمہ (اے رسول) بلاشبہ جو لوگ آپ کے ہاتھوں پر بیعت کررہے ہیں فی الحقیقت وہ اللہ سے بیعت کررہے ہیں گویا کہ اللہ کاہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ نے کمال محبت کااظہار فرماتے ہوئے رسول کے ہاتھ کو اپنا ہاتھ قراردیا ہے۔


رسول کا فعل اللہ کا فعل ہے:سورہ انفال میں اللہ رب العزت نے رسول کے فعل کو اپنا فعل قراردیا ہے جس سے بارگاہ قدوس میں محبوب کامقام کیا ہے بخوبی ظاہر ہورہا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے وَمَا رَمَیْتَ اِذْرَمَیْتَ وَلٰکِنَّ اللّٰہَ رَمٰی (سورہ انفال پارہ ۹آیت ۱۷) : ترجمہ:۔ اے محبوب جب آپ نے سنگریزے مارے تھے وہ آپ نے نہیں بلکہ اللہ نے مارے تھے۔یہ آیت کریمہ ہمیں اس واقعہ کی بھی یاد دہانی کرارہی ہے کہ جب کفارمکہ نے حضور کو شہید کرنے کے ارادے سے آپ کے گھر کامحاصرہ کرلیاتھا تو آپ نے ایک مٹھی خاک زمین سے اٹھائی اوراسے کفار کی طرف پھینک دیا۔ اللہ کی قدرت سے وہ خاک ان کی آنکھوں میں جاپڑی اورکچھ لمحات کے لئے وہ سب بصارت سے محروم ہوگئے ۔ حضور حجرہ مبارکہ سے نکل کر غار ثور کی طرف روانہ ہوئے پھر غارثور سے مدینہ طیبہ کو ہجرت فرمائی۔

رسول کی اطاعت اللہ کی اطاعت ہے:قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے بندوں کواپنی پیروی کے ساتھ رسول کی اطاعت وپیروی کابھی حکم فرمایا ہے اوریہ بھی فرمایا کہ رسول کی پیروی دراصل اللہ ہی کی اطاعت ہے چنا نچہ ارشاد ہوتا ہے مَنْ یُّطِیْع الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ، (سورہ نسا ء پارہ ۵ آیت ۸۰) ترجمہ:۔ جس نے رسول کی اطاعت کی تو اس نے اللہ کی اطاعت کی (سورہ نساء پارہ ۴)مذکورہ بالاسطور سے عظمت رسول روز و روشن کی طرح عیاں ہے اورقرآن حکیم کی آیات بینات سے یہ باتیں واضح طور پر سمجھ میں آتی ہیں کہ اللہ رب العزت کے بعد جس ذات گرامی کو فوقیت اوربزرگی حاصل ہے وہ حضور کی ذات بابرکت ہے۔ اسی بناپراعلیٰ حضرت مجد دین ملت امام احمدرضا فرماتے ہیں۔ 


وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو

جان ہیں وہ جہان کی جان ہے تو جہاں ہے






Imam Azam Abu Hanifa Aur Deen Fahmi

امام اعظم ابو حنیفہ اور دین فہم

از:مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی



حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہاں بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے وہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ایسی صفت سے نواز رکھا تھا کہ لمحہ بھر میں دقیق سے دقیق مسائل حل فرمادیاکرتے تھے۔ یہ وصفت آپ کے ساتھ ایسی خاص ہے کہ آپ کے معاصرین میں سے کسی کو بھی یہ سعادت حاصل نہ ہوسکی ۔جس پر بہت سے واقعات شاہد ہیں۔ ان میں سے چند ہدیہ قارئین ہیں۔ 

ایک عجیب و غریب مسئلے کا حل: آپ کے مخالفین میں سے کسی آدمی نے آپ سے دریافت کیا کہ ایسے آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو جنت کی خواہش نہ رکھتا ہو اور نہ ہی جہنم سے ڈرتا ہو اور نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتاہو، مردار کھاتا ہو ،بے رکوع اوربے سجدے کی نماز پڑھتا ہو، بن دیکھی چیز کی گواہی دیتا ہو،سچی بات سے نفرت کرتاہو، فتنہ سے محبت رکھتا ہو، رحمت سے بھاگتا ہو،یہود و نصاریٰ کی تصدیق کرتاہو۔ آپ نے اپنے شاگردوں سے دریافت فرمایا تم ایسے آدمی کے بارے میں کیارائے رکھتے ہو ؟طلبہ نے کہا ایسا آدمی توبہت برا ہے اوریہ صفت توکافروں کی ہے۔ اس پر آپ مسکرائے اورفرمایا نہیں ایسا آدمی تو اللہ کا دوست ہے پھر آپ اس آدمی کی طرف متوجہ ہوئے جس نے یہ سوال کیاتھااور فرمایا اگر تم مجھ سے یہ وعدہ کروکہ آئندہ میری بدگوئی نہ کروگے تومیں تمھیں جواب بتادیتا ہوں وہ اس پر آمادہ ہوگیا۔ آپ نے فرمایا اس کایہ کہنا کہ میں جنت کی خواہش نہیں رکھتا اورنہ ہی جہنم سے ڈرتاہوں بجاہے کیوں کہ وہ ربِّ جنت کی امید رکھتا ہے اور ربِّ جہنم سے ڈرتا ہے۔ اس کا یہ کہنا کہ اللہ سے نہیں ڈرتا یعنی وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت میں اس پر ظلم فرمائے گا۔ مردار کھاتاہے یعنی مچھلی کھاتا ہے۔ بے رکوع اور بے سجدے والی نماز پڑھتا ہے یعنی جنازہ کی نماز پڑھتا ہے۔ بن دیکھے چیز کی گواہی دیتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس نے نہیں دیکھا مگر اس کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے۔ سچی بات سے نفرت کرتاہے یعنی موت کو بُرا سمجھتا ہے جبکہ وہ حق ہے۔ فتنہ کو دوست رکھتا ہے یعنی مال و اولاد کو دوست رکھتا ہے جبکہ یہ دونوں چیزیں فتنہ یعنی آزمائش ہیں۔ رحمت سے بھاگتا ہے یعنی بارش سے بھاگتا ہے جو رحمت ہے ۔یہود کی اس بات میں تصدیق کرتا ہے لَیْسَتِ الْنَصَارٰی عَلی شَیْءٍ یعنی نصرانیت کوئی چیز نہیں اور نصارٰی کی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ لَیْسَتِ الْیَہُوْدُ عَلی شَیْیءٍ یعنی یہودیت کوئی چیز نہیں۔ ایسا آدمی کیوں کرکافرو زندیق ہوسکتا ہے آپ کا یہ جواب سن کر تمام حاضرین حیرت میں ڈوب گئے اور اس آدمی نے آپ کی عداوت سے سچی توبہ کرلی اور آپ کا گرویدا ہوگیا۔ (الخیرات الحسان،س: ۱۰۴)


دو سگے بھائیوں کی دولہنوں کے بدل جانے کا تصفیہ: ایک مرتبہ کسی رئیس کے گھر ولیمہ کی دعوت کے موقع پر اکابرائمہ موجود تھے لڑکیوں کا باپ نہایت ہی پریشانی کی حالت میں گھر سے باہر آیااور علما سے سوال کیا آپ لوگ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں کہ رات غلطی سے دلہنیں بدل گئیں اور بڑے بھائی کے پاس چھوٹے کی دلہن اور چھوٹے بھائی کے پاس بڑے کی دلہن چلی گئی اب بتائیے کہ کیا کیا جائے حضرت سفیان ثوری نے فرمایا کوئی مضائقہ نہیں ہر عورت اپنے اصلی شوہر کے پاس چلی جائے اور صحبت کی وجہ سے ہر دومردوں پر مہر اداکرنا واجب ہے اس جواب کو لوگوں نے پسند کیا امام اعظم خاموش رہے حضرت مسعر نے آپ کی طرف اشارہ کیا کہ آپ بھی کچھ فرمائیں حضرت سفیان ثوری نے کہا بھلا اس کے سوا اور کیا جواب ہوسکتا ہے اس پرامام اعظم نے فرمایا لڑکوں کوبلایاجائے جب لڑکے آئے تو آپ نے دریافت فرمایا تم جن عورتوں کے پاس رات گزار چکے ہو کیا وہ تمہیں پسند ہیں؟ لڑکوں نے ہاں میں جواب دیا۔ امام اعظم نے ارشاد فرمایا توپھر تم دونوں اپنی اپنی بیویوں کو طلاق دے دوجوکہ دوسرے کے پاس رات گزار چکی ہیں اور ہر ایک اس سے نکاح کرلے جس کے ساتھ رات گزاری ہے یہ جواب سن کر حضرت مسعر اٹھے اور امام اعظم کے پیشانی کو بوسہ دیا پھر اسی مجلس میں لڑکوں نے اپنی عورتوں کو طلاق دیا اور فوراً ہی ان عورتوں سے نکاح پڑھایاگیا جن کے پاس رات گزاری تھی۔ (مقامات امام اعظم،از: امام حافظ کردی،ص۳۰۵)



قسم توڑنے سے بچالیا: ایک آدمی آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری بیوی اور میرے درمیان جھگڑا ہورہا تھا کہ میں نے قسم کھالی کہ میں اس وقت تک تم سے بات نہیں کرو ں گا جب تک پہلے تم مجھ سے بات نہ کرو اس پر میری بیوی نے بھی قسم کھائی کہ اگر وہ پہلے مجھ سے بات کرے گی تو اس کا تمام مال صدقہ ہوگا۔ اب دونوں بہت پریشان ہوئے کہ بغیر بات کئے گزارہ نہیں ہوسکتا تھا چنانچہ حضرت سفیان ثوری سے مسئلہ دریافت کیا کہ ہمارے لئے اس معاملے میں کیا حکم ہے؟ حضرت سفیان ثوری نے فرمایا تم میں سے جوبھی پہلے بات کرے گا وہ حانث ہوگا اور اس کی قسم ٹوٹ جائے گی پھر وہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا اور ان سے اپنی پریشانی کا ذکر کیا آپ نے فرمایا جاؤ اپنی بیوی سے بات کروتم میں سے کوئی بھی حانث نہ ہوگا اورنہ کسی کی قسم ٹوٹے گی اس پر وہ سفیان ثوری کے پاس گیااور انہیں امام اعظم کی بتائی ہوئی بات سے آگاہ کیا حضرت سفیان ثوری برہم ہوگئے اور اسی وقت حضرت امام اعظم کے پاس پہنچے اور کہنے لگے اے ابوحنیفہ! تم لوگوں سے حرام کرواؤگے امام اعظم نے برہمی کا سبب دریافت کیا تو حضرت سفیان ثوری نے کہا آپ نے یہ جواب کہاں سے دیا ہے۔ اس پر امام ابوحنیفہ نے اس شخص سے جس نے آپ سے سوال کیا تھا سفیان ثوری کے سامنے سوال دہرانے کا حکم فرمایا جب اس نے سوال دہرایا تو آپ نے اپنا فتوی بھی دہرایا اور فرمایا کہ جب اس نے قسم کھائی فوراً ہی اسکی بیوی نے اس سے بات کی اور قسم کھائی تو اس کی قسم پوری ہوچکی ہے اب یہ جاکر بیوی سے بات کرے تاکہ اس کی قسم بھی پوری ہوجائے اور اس صورت میں دونوں حانث نہ ہوں گے حضرت سفیان ثوری نے جب یہ سنا تو فرمانے لگے امام ابوحنیفہ ایسے ایسے مسائل کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں جہاں تک پہنچنے سے ہم سب قاصر و عاجز رہتے ہیں۔ سبحان اللہ۔ (الخیرات الحسان)

دیوانی و پاگل عورت پر حد لگانا درست نہیں: ایک مرتبہ ایک دیوانی عورت جسے ام عمران کہا جاتا تھا اس کے پاس سے ایک آدمی کچھ کہتا ہوا گزرا اس پر عورت چونکہ دیوانی تھی اس نے سوچا کہ شاید اس نے مجھ کو گالی دی ہے اس لئے اس آدمی کو بُرا بھلا کہتے ہوئے عورت نے کہااے زانیوں کے بچے ۔ قاضی شہر ابن ابی لیلیٰ نے بذات خود عورت کی اس بدزبانی کو سنا پھر حکم دیا کہ اسے مسجد میں حاضر کیا جائے چنانچہ عورت مسجد میں حاضر کی گئی قاضی نے مسجد ہی میں اسے دو حدیں لگائیں ایک حد ماں کو گالی دینے کی وجہ سے اور ایک حد باپ کو گالی دینے کی وجہ سے۔ جب اس واقعہ کی خبر حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوہوئی تو آپ نے فرمایا اس معاملے میں ابن ابی لیلیٰ نے چھ غلطیاں کی ہیں۔ 


۱۔ دیوانی عورت کو حدلگائی جب کہ دیوانی پرکوئی حد نہیں۔ ۲۔حد مسجد میں لگائی جب کہ مسجد میں حدنہیں لگانی چاہئے تھی۔۳۔عورت کو کھڑا کرکے حدلگوائی جب کہ عورت کو بٹھاکر حدلگائی جاتی ہے۔ ۴۔عورت پر دوحدیں قائم کیں جب کہ اس پر ایک ہی حد قائم کرنی چاہئے تھی۔ ۵۔عورت نے جس شخص کو اے زانیوں کے بچے کہا تھا اس کے ماں باپ کو وہاں موجود رہنا چاہئے تھا جب کہ وہ دونوں غائب تھے۔ ۶۔دونوں حدیں ایک ساتھ جاری کیں جب کہ اس وقت تک دوسری حد جاری نہیں کرنی تھی جب تک کہ پہلی حد کے زخم ٹھیک نہ ہوجاتے۔(مقامات امام اعظم:از : امام حافظ الدین کردی،ص:۳۰۴)

اللہ اکبر! باوجود اس کے کہ قاضی ابن ابی لیلیٰ اپنے وقت کے جیّد عالم تھے مگر امام اعظم ابوحنیفہ کی نگاہ وہاں تک پہنچتی تھی جہاں کسی اور کی نگاہ کا پہنچنا اگرچہ محال نہیں تاہم دشوار ضرور تھا۔ 


طلاق سے بچا نے کے تین واقعات:ایک عورت سیڑھی پرتھی کہ اس کے شوہر نے کہا اگر تونیچے اتری تو تجھ پر طلاق ہے اور اگر تو اوپر جائے تو بھی تجھ پر طلاق ہے اب بڑی پریشانی لاحق ہوئی کہ کیا کیا جائے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس کے ارادہ کے بغیر کوئی شخص اسے نیچے اتارلے اس طرح طلاق سے بچ جائے گی۔ (الخیرات الحسان۔ص:۱۲۸)

دوسرا واقعہ :ایک مرتبہ سادات کے گھرانے میں کسی کا انتقال ہوگیا جنازے میں شرکت کے لئے اہل کوفہ کے جید علما پہنچے جنازہ راستہ سے جاہی رہا تھا کہ اچانک جنازہ ٹھہرا دیا گیا معلوم ہوا کہ مرنے والے کی والدہ بلا حجاب ننگے سر یہاں تک آگئیں ہیں جب یہ حالت اس ہاشمیہ کے شوہر نے دیکھا تو پکار کر کہا یہاں سے گھر لوٹ جاؤ ورنہ تم پر طلاق ہے ۔عورت نے بھی قسم کھائی کہ اگر میں جنازہ کی نماز سے پہلے لوٹی تو میرے تمام غلام وباندیاں آزاد ہیں۔ اسی وجہ سے جنازہ روک دیا گیا ہے پھر اس شخص نے امام اعظم کو پکارا کیونکہ آپ بھی جنازہ میں شریک تھے امام صاحب آگے بڑھے مسئلہ دریافت کیا گیا آپ نے جواب دیا کہ جنازہ رکھ دیا جائے اور یہیں نمازجنازہ پڑھ لی جائے چنانچہ وہیں نمازجنازہ ادا کی گئی پھر آپ نے میت کی والدہ سے فرمایا‘ اب گھر جاؤ کہ تمہاری قسم پوری ہوگئی اور شوہر کی قسم بھی پوری ہوئی کہ عورت یہیں سے لوٹی اس طرح ہر دو کی قسمیں پوری ہوگئیں۔ (الخیرات الحسان۔ص:۱۰۹)

تیسرا واقعہ : امام اعمش نے اپنی بیوی سے تکرار کے وقت یہ کہہ دیا کہ اگر تومجھے آٹا کے ختم ہونے کی خبر دے یا بتائے یا پیغام بھیجے یا کسی اور سے کہے تاکہ وہ مجھ سے بیان کرے یا اشارہ کے ذریعہ مجھے آٹا کے ختم ہونے کی خبر دے تو ان سب صورتوں میں طلاق ہے۔اس بات کی وجہ سے ان کی بیوی کافی پریشان ہوئیں اور اس سے نجات پانے کی راہ تلاش کرنے میں لگ گئیں ۔کسی نے ان کو امام اعظم سے ملنے کا مشورہ دیا چنانچہ وہ امام اعظم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اورواقعہ سنایا اور اس سے خلاصی کی صورت دریافت کی اس پر امام ابوحنیفہ نے فرمایا کوئی بات نہیں ہے جب آٹا ختم ہوجائے تو آٹے کا خالی جھولا اعمش کے سوتے وقت ان کے کپڑے سے باندھ دو جب وہ بیدار ہوں گے تو خالی جھولا دیکھ کر خود ہی آٹا کے ختم ہونے کو سمجھ جائیں گے۔ لہٰذا انہوں نے ایسا ہی کیا جب اعمش سورہے تھے تو خالی جھولا ان کے کپڑے سے باندھ دیا جب وہ بیدار ہوئے تو انہیں آٹا کے ختم ہونے کا علم بھی ہوگیا اور بیوی وقوع طلاق سے بھی محفوظ رہی۔ (مقامات امام اعظم:از : امام حافظ الدین کردی،ص:۳۱۸)

چور کی پہچان کر لی: ایک مرتبہ کسی کے گھر چوری ہوئی چوروں نے گھر کی قیمتی چیزیں نکال لیں اسی درمیان گھر والا بھی بیدارہوگیا چوروں نے اسے پکڑلیا اور ڈرا دھمکاکر اس کو یہ قسم دلائی کہ اگر میں نے یہ بتایا کہ فلاں فلاں نے گھر کا ساز و سامان چرایا ہے تو میری بیوی کو تین طلاق اب جب صبح ہوئی تو گھر والے نے چوروں کو دیکھا کہ وہ اس کی چیزیں بیچ رہے ہیں مگر یہ کرے توکیا کرے کہ اس سے ایسی قسم لے لی ہے۔ اسی پریشانی کے عالم میں وہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے پاس پہنچا اور اپنی سرگذشت سنائی آپ نے علاقے کے رؤسا و شرفاء کو جمع کیا اور انہیں پوری بات بتاکر اس آدمی کی مدد کیلئے کہا وہ اس طرح کہ ایک بڑے سے کمرے میں علاقے کے تمام اوباش و شرپسندوں کو جمع کیا جائے پھر ایک ایک آدمی کو نکالا جائے اور جس آدمی کے گھر چوری ہوئی اور چوروں نے اس سے بالجبر قسم لی کہ وہ کسی سے چوروں کے بارے کچھ نہ بتائے گا ورنہ اس کی بیوی کو طلاق پڑجائے گی وہ دروازے پر کھڑا رہے جب کوئی آدمی آئے تو اگر چورنہ ہو تو نفی میں جواب دے دے اور اگر اس کا چور ہوتو خاموش رہ جائے اس کی خاموشی سے سمجھ لیا جائے گا کہ یہی چور ہے چنانچہ اس تدبیر سے سارے چور پکڑ لئے گئے اور اس آدمی کو اس کا سارا ساز و سامان مل گیا ساتھ ہی اس کی بیوی کو طلاق بھی نہ پڑی۔ (الخیرات الحسان،ص:۱۲۰)


جھوٹے نبی سے معجزہ طلب کرنا کفر ہے: حضرت امام ابوحنیفہ کے زمانے میں ایک آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مجھے مہلت دوتاکہ میں اپنی نبوت پرکوئی معجزہ پیش کروں یہ سن کر حضرت امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ جوکوئی اس سے معجزہ طلب کرے گا وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ معجزہ طلب کرنا حضور اقدس ﷺ کے ارشاد لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ ترجمہ: میرے بعد کوئی نبی نہیں کو جھٹلانا ہے۔ (الخیرات الحسان،ص:۱۲۷)

اما م ابو حنیفہ کا دہریوں سے مناظرہ: ایک مرتبہ کچھ دہریو ں نے آپ کو پکڑلیا اور قتل کرنا چاہا آپ نے فرمایا پہلے میری بات سن لو پھر جو بات سمجھ میں آئے کر گزرنا (چونکہ دہریوں کا یہ نظریہ ہے کہ دنیا خود ہی قائم ہے اور بغیر کسی خالق و مالک کے خود ہی رات دن اور سردی گرمی وغیرہ میں بدلتی رہتی ہے) اس لئے آپ نے فرمایا اچھا اُس کشتی کے بارے میں تمہاراکیا خیال ہے جو طرح طرح کے سامانوں سے لدی ہوئی ہو اور بغیر کسی ملاح کے دریا میں طغیانی کے وقت موجوں کو چیرتے ہوئے اپنے سفرپہ رواں دواں رہے کیا ایساممکن ہے اس پر دہریوں نے کہا اے ابوحنیفہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بغیر ملاح کے کشتی خود ہی موجوں کو چیرتے ہوئے چلتی رہے اوربغیر کسی چلانے والے کے چلے اس پر آپ نے ارشاد فرمایا اے لوگو! ذرا سوچو تو‘ جب ایک چھوٹی سی کشتی بغیر چلانے والے کے نہیں چل سکتی تو بھلا یہ کیوں کر ممکن ہے کہ اتنی بڑی دنیا بغیر کسی مالک کے تغیر پذیر رہے اور خودبخود تمام معاملات انجام پائیں یقیناًاس کا بھی کوئی خالق ہے جو اسے چلا رہا ہے آپ کی زبان فیض ترجمان سے ان باتوں کو سنتے ہی دہریے دم بخود ہوگئے اور اپنے باطل نظریہ سے تائب ہوکر مسلمان ہوگئے۔ (الخیرات الحسان،ص:۱۳۴)


اما م ابو حنیفہ کی برکت سے ایک خارجی گروہ نے توبہ کی: خارجیوں کا ایک دستہ آپ کی مجلس میں پہنچا وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کو خبرملی کہ امام ابوحنیفہ کسی اہل قبلہ کو گناہ کبیرہ کی وجہ سے کافر نہیں کہتے ہیں جب وہ سب مجلس میں پہنچے تو چونکہ جگہ کی کمی تھی اس وجہ سے انہیں کھڑا رہنا پڑاپھر ان لوگوں میں سے کسی نے حضرت امام اعظم سے کہا کہ اے امام ابوحنیفہ چونکہ ہم سب ایک ہی ملت کے ہیں اس لئے ہمیں بھی مجلس میں بیٹھنے کی جگہ دی جائے چنانچہ آپ نے کشادگی کے لئے طلبہ سے کہاتو انہیں جگہ مل گئی لیکن وہ سب آگے بڑھے اور امام اعظم کے گرد پہنچ گئے اور اپنی اپنی تلواروں کو نیام سے باہر نکال لیا پھر ان میں سے کسی ایک نے کہا اے امت کے دشمن! اے شیطان !ہم میں سے ہر ایک کے لئے تمہارا قتل کرنا ستر سال کے جہاد سے بہتر ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ تمہارے ساتھ ظلم کریں اس پر آپ نے کہاکیا تم میرے ساتھ انصاف کرنا چاہتے ہو ان لوگوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا توپھر اپنی تلواروں کو نیام میں کرلو کہ دل خوف کھاتا ہے اس پر خارجیوں نے کہا کہ ہم تلواریں نیام میں کیسے ڈال سکتے ہیں جبکہ ہمارا ارادہ تو تمہیں قتل کرنے کا ہے اس بات چیت کے بعد حضرت امام ابوحنیفہ نے فرمایافَتَکَلِّمُوْا عَلَی اسْمِ اللّٰہِ ’’توپھر اللہ کے نام پر مجھ سے بات کرو‘‘ خارجیوں نے کہا مسجد کے دروازے پر دوجنازے ہیں ایک عورت کا ہے جس نے زنا کیا جب حمل ٹھہر گیا تو خودکشی کرلی اور دوسرا جنازہ ایسے مرد کا ہے جس نے پیٹ بھرکر شراب پی یہاں تک کہ شراب گلے تک پہنچ گیا پھر وہ شراب کے نشے ہی میں مرگیا اے ابوحنیفہ ان دونوں کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ آپ نے ان خارجیوں سے دریافت فرمایا ان دونوں کا تعلق کس مذہب سے ہے ؟کیا یہ یہودی ہیں؟ کہا‘ نہیں آپ نے فرمایا کیا یہ عیسائی ہیں؟کہا نہیں فرمایاکیا یہ مجوسی ہیں؟ کہا نہیںآپ نے فرمایا پھر مجھے یہ بتاؤ کہ آخر یہ کس ملت سے تعلق رکھتے ہیں خارجیوں نے کہا یہ دونوں اس ملت سے تعلق رکھتے ہیں جو اَشھَدُ اَنَّ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ شہادت و گواہی ایمان کا کتنا حصہ ہے؟ خارجیوں نے کہا یہ پورا ایمان ہے اس پر آپ نے فرمایا مجھ سے ایسے لوگوں کے بارے میں کیا پوچھتے ہو جن کے ایمان کی خودتم گواہی دے رہے ہو پھر ان لوگوں نے کہا اچھا یہ بتایئے کہ یہ دونوں جنتی ہیںیا جہنمی فرمایا میں ان دونوں کے سلسلے میں وہ بات کہوں گا جو اللہ کے رسول حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا تھا جن کا جرم ان دونوں کے جرم سے بڑھا ہوا تھا فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ ترجمہ:’’ جس نے میری پیروی کی تووہ میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو توبخشنے والا مہربان ہے‘‘ اور میں وہ بات کہوں گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایسی قوم کے بارے میں فرمایا جن کا جرم ان دونوں سے بڑھ کر تھا۔اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَعْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزیْزُالْحَکِیْمُ۔ ترجمہ: اے اللہ اگر تو انہیں عذاب دے تویہ تیرے بندے ہیں اور اگر توانہیں معاف فرمادے تو بیشک تو عزت اور حکمت والا ہے۔ اس کے بعد مزید آپ نے گفتگو فرمائی یہاں تک کہ ان خارجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور کہا ہم اس مسلک سے بیزار ہوتے ہیں جس پر ہم اب تک تھے اور اب اس مسلک کو اختیار کرتے ہیں جو اے ابوحنیفہ تمہارا ہے۔ (مقامات امام اعظم ،ص:۳۰۱)


امام ابو حنیفہ نے اسلام دشمن پادری کو لاجواب کردیا: اسی طرح ایک مرتبہ روم کا ایک بڑا عیسائی عالم بغداد آیا اور خلیفہ سے مل کراس نے کہا کہ میں علماسے مناظرہ کرنا چاہتا ہوں۔ میرے پاس تین ایسے سوالات ہیں جن کا جواب آپ لوگوں میں سے کسی کے پاس نہیں چنانچہ خلیفہ نے عیسائی عالم سے مقابلہ آرائی کے لئے بڑے بڑے علما وائمہ کو جمع کیا جب سب آچکے تو عیسائی پادری نے کہا اے بادشاہ میرے لئے اپنے دربار میں منبررکھو تاکہ میں اس پر بیٹھ کر علما سے باتیں کر سکوں خلیفہ نے اس کی بات مان لی اور منبر رکھ دیا گیا‘ پادری اس پر بیٹھا اور بصد کبر و نخوت (تکبر و غرورسے)کہنے لگا۔ یہ بتاؤ کہ اللہ سے پہلے کون تھا؟ یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کی توجہ کس جانب ہے؟ اور یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ ابھی کیا کررہا تھا اور اب کیا کررہا ہے؟ پادری کے ان سوالات کو سنتے ہی دربار میں ہرطرف سناٹا چھا گیا کسی کو جواب دینے کی جرأت نہ ہوئی مگر امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا میں تمہارا جواب دیتا ہوں مگر پہلے تم منبر سے نیچے آجاؤ کیوں کہ تم بمنزلہ سائل ہو اور سائل کے لئے زیب نہیں دیتا کہ وہ اس طرح منبر پر بیٹھ کر سوال کرے چنانچہ پادری منبر سے نیچے آگیا اور حضرت امام اعظم منبر پر تشریف لے گئے اب آپ نے پادری سے فرمایا گنتی گنو‘ وہ گنتی گننے لگا جب دس پر پہنچا تو آپ نے اسے روک دیا اور فرمایا اب الٹی گنتی گنو جب وہ ایک پر پہنچاتو خود ہی رک گیا اس پر آپ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ ایک سے پہلے کیا ہے؟ پادری نے کہا ایک سے پہلے کچھ نہیں وہی سب سے پہلا عددہے آپ نے فرمایا جب ایک واحد مجازی کا حال یہ ہے کہ اس سے پہلے کچھ نہیں تو اللہ واحد حقیقی سے پہلے بھلا کیسے کچھ ہوسکتا ہے وہی سب سے اول ہے اور ہمیشہ سے ہے۔ پھر آپ نے چراغ روشن کیا جب چراغ جل اٹھا تو پادری سے فرمایا یہ بتاؤکہ چراغ کی توجہ ہم میں سے کس کی طرف ہے؟ اس نے کہا لو کی توجہ تمام حاضرین کی طرف ہے۔ آپ نے فرمایا جب چراغ جو مخلوق ہے آپ جیسے دانشمند اس کے رخ کو متعین نہیں کرسکتے تو بھلا ہم بندۂ عاجز اپنے خالق حقیقی کے رخ اورجہت کو کیسے متعین کرسکتے ہیں‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی توجہ بھی ہر ایک کی طرف ہے کہ اس کی شان ہے۔ اللہ نور السمٰوٰتِ وَالْاَرْض۔ پھر تیسرے سوال کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا ابھی تک تو منبر پر بیٹھا ہوا تھا مگر اس وقت اللہ تعالیٰ نے تجھے منبر سے اتار کر مجھے اس پر بیٹھنے کی سعادت بخشی ہے۔ اس پر عیسائی پادری مبہوت ہوگیا اور راہ فرار اختیاکرلی۔(الخیرات الحسان)

ان کے علاوہ بھی بہت سے واقعات ہیں جن سے حضور سیدنا امام اعظم رضی اللہ عنہ کی دین فہمی اور حاضر جوابی کا پتہ چلتا ہے۔ جنہیں پڑھ کر قاری اس بات کے اقرار سے رہ نہیں سکتا کہ واقعی آپ امام لائمہ اور امام اعظم ہیں۔