Thursday, 19 May 2016

Ahadees e Rasool Main Shab e Barat Ki Fazilatyen

احادیث ر سول میں شب برأت کی فضیلتیں
از  :   مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی.

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہویں شعبان کی رات یعنی شب برات کی بڑی فضیلتیں بیا ن فرمائی ہیں اور خود بیدار رہ کر اس رات عبادت کی اور صحابہ کو بھی اس عمل خیر کی ترغیب دی ہے۔ لہذا ہم مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ اس سنہرے موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس رات عبادت وبندگی کی کثرت کے ذریعہ اپنی دنیا و آخرت  سنوارنے کی کوشش کریں۔آئیے اس رات کی برکتوں سے مالا مال ہونے کے لیے ذیل کی حدیثوں کو دیکھیں اور ان پر عمل کرکے دونوں جہا ں میں سر فراز ہونے کی کوشش کریں۔

پہلی حدیث:  حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا :جب پندرہویں شعبان کی رات آئے تو رات عبادت میں گزارو اور دن کو روزہ رکھو ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ آفتاب غروب ہونے کے بعد آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے ۔ (جیسا اس کی شان کے لائق ہے ) اور فرماتا ہے: ہے کوئی مغفرت اور بخشش کا طلب گار تاکہ میں اسے بخش دوں ؟ ہے کوئی روزی کا طلب گار تاکہ میں اسے روزی دوں ؟ ہے کوئی مبتلا ئے مصیبت تا کہ میں اسے چھٹکارا عطا کروں ؟ اس طرح سے برابر ندا دیتا رہتا ہے طلوع فجر تک ۔(سنن ابن ماجہ ، رقم الحدیث : ۱۴۵۱؍شعب الایمان ، رقم الحدیث : ۳۶۶۴) 

 دوسری حدیث:  حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو بسترپہ نہ پایا، تو میں انہیں تلاش کرنے کے لیے نکلی ، میں نے دیکھا کہ آپ جنت البقیع میں ہیں ( یہ مدینہ شریف کے قبرستان کا نام ہے ) اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا ئے ہوئے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: کیا تم اس بات سے ڈرتی ہو کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ تم پر ظلم کریں گے ؟ حضرت عائشہ نے عرض کیا: ایسا کچھ نہیں،البتہ مجھے ایسا گمان ہواکہ شاید آپ دوسری ازواج کے پاس تشریف لے گئے ہوں ۔ اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرمادیتاہے ۔
( مسند امام احمد ، رقم الحدیث :۲۶۷۷۱؍جامع الترمذی ، رقم الحدیث : ۷۴۴؍ سنن ابن ماجہ ، رقم الحدیث : ۱۴۵۲۔شعب الایمان ، رقم الحدیث : ۳۶۶۷) 

   تیسری حدیث:  حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :بے شک اللہ تعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات بندوں کو بخش دیتا ہے ۔ سوائے مشرک اور کینہ پرور کے ۔(سنن ابن ماجہ ، رقم الحدیث : ۱۴۵۳؍شعب الایمان ، رقم الحدیث: ۳۶۷۴)  یعنی مشرک اور بغض و عناد رکھنے والے کی مغفرت نہیں کی جاتی۔

   چوتھی حدیث:  حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف پندر ہویں شعبان کی رات طلوع ہوتا ہے اور اپنے تمام بندوں کو بخش دیتا ہے ، البتہ بغض وعناد رکھنے والے اور ناحق قتل کرنے والے کو نہیں بخشتا۔ (مسندامام احمد ، رقم الحدیث :۶۸۰۱)

   پانچویں حدیث:   شب برات کی فضیلت کے سلسلے میںایک طویل حدیث کا حصہ ملاحظہ فرمائیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے پاس جبرئیل آئے اور کہا یہ پندرہویں شعبان کی رات ہے ۔ اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ تعداد میں اپنے بندوں کی مغفرت فرماتا ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس رات مشرک اور بغض وعناد رکھنے والے، رشتہ کاٹنے والے اور کپڑا ٹخنہ کے نیچے کرنے والے اور ماں باپ کے نافرمان پر نظرکرم نہیں فرماتا اور نہ شراب کے عادی پر ۔(شعب الایمان ، رقم الحدیث:۳۶۷۸)

   چھٹیحدیث:  حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتی (۱) جمعہ کی رات (۲) ماہ رجب کی پہلی رات (۳)پندرہویں شعبان کی رات (۴) عید الفطر کی رات (۵) عید الاضحی کی رات ۔(مصنف عبد الرزاق : رقم الحدیث : ۷۹۲۷) 

ساتویں حدیث:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتی ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ۱۵؍ویں شعبان کو نماز پرھنے لگے تو اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے خدشہ گزرا کہ آپ وصال فرماگئے ہیں۔(بیہقی شریف)

آٹھویں حدیث: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! کیا تو جانتی ہے کہ آج کون سی رات ہے ؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔آپ نے فرمایا:یہ پندرہ پندرہویں شعبان کی رات ہے اور اللہ تعالیٰ آج کی رات اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور توبہ و استغفار کرنے والوں کو بخش دیتا ہے اور رحم کی درخواست کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے اور بیٹھ رہنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔(الترغیب والترہیب،المجلد الثانی ،رقم الحدیث:۱۵۲۰) 

نویں حدیث:حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کی ۱۳؍ویں شب اپنی امت کی شفاعت کے لیے دعا کی تو آپ کو تہائی عطا ہوا پھر چودہویں شب دعا کی تو دوتہائی عطا ہوا پھر پندرہویں شب دعا کی تو سب کچھ عطا ہوا،سوائے اس آدمی کے جو اللہ تعالی سے بدکے ہوئے اونٹ کی طرح بھاگے یعنی نافرمانی کرنے والا۔(مکاشفۃالقلوب)

دسویں حدیث:حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کی آمد پر فرماتے تھے اس مہینے میں اپنی جانوں کو پاک کرواور اپنی نیتوں کو درست کرو۔(مکاشفۃالقلوب)
  مذکورہ حدیثوں سے معلوم ہواکہ پندرہویں شعبان کی رات نجات و مغفرت کی رات ہے ۔ اس رات اللہ تعالیٰ کا دریائے رحمت جوش میں ہوتا ہے ۔ لہٰذا اس رات کو عبادت وبندگی میں گزارنا چاہیے ۔ اللہ کے رسول ﷺنے پندرہویں شعبان کی رات عبادت کرنے اور دن میں روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ہے اور بذات خود شہداء و دیگر مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے قبر ستان تشریف لے گئے ، لہٰذا ہم مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ اس رات نوافل کی ادائیگی ،تلاوت ِ قرآن پاک ، ذکرواذکار ، درود سلام ، صدقہ وخیرات ،اورمرحومین کے لیے ایصال ثواب میں گزاریں تاکہ اس کا بیش بہا فائدہ ہمیں اور ہمارے مرحومین کو دنیا و آخرت میں نصیب ہو ۔ 

پندرہویں شعبان امام غزالی کی نظر میں
پندرہویں شعبان کی رات کو مختلف ناموں سے پہچانا جا تا ہے کیوں کہ یہ رات اپنے دامن میں مختلف طرح کے فضائل لیے ہوئے ہے حضرت امام غزالی نے مکاشفۃ القلوب میںتحریر فر مایا ہے یہاں اختصار کے ساتھ اس کا خلاصہ لکھا جا رہا ہے۔یہ کفارہ کی رات ہے : کیونکہ اس رات اللہ کی عبادت کر نا اور یا د الٰہی میں ساری رات جا گ کر گزار دینا گناہوں کے کفارے کا سبب ہو تا ہے۔یہ شفاعت کی رات ہے : اس لیے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پند رہویں شعبان کی رات اللہ تعا لی سے اپنی پو ری امت کی بخشش کی دعا فر مائی جسے اللہ تعا لی نے قبول فر مالیا سوا ئے ا س کے جو اپنے اعمال بد کے ذریعہ خود کو اللہ کی رحمت سے دورکر لے۔یہ بخشش کی رات ہے:  اس لیے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : پندرہویں شعبان کی رات اللہ تعا لیٰ اپنے بندوں پر ظہور فر ماتا ہے اور دو شخص کے علا وہ تمام لو گوں کی بخشش فر مادیتا ہے ان دو میں سے ایک مشرک اور دوسرا کینہ پر ورہے۔یہ زندگی کی رات ہے: اس لیے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا جس نے پندرہویںشعبان کی رات جاگ کر (عبادت میں) گزار دی تو ایسے دن جب کہ تمام دل مر جا ئیں گے اس انسان کا دل نہیں مرے گا۔یعنی قیامت کے دن اس کا دل مطمئن ہوگا۔یہ قسمت اور تقدیر کی رات ہے:اس لیے کہ جب پندرہویں شعبان کی رات آتی ہے تو ملک الموت کو ہر اس شخص کا نام لکھوا دیا جا تا ہے جو اس شعبان سے آئندہ شعبان تک مرنے والا ہے۔ (مکاشفۃالقلوب)

ایک حیرت انگیز واقعہ :
شب برأت کی فضیلت کے سلسلے میں حضرت عبدالرحمن صفوری علیہ الر حمہ نے ایک حیرت انگیز واقعہ تحریر فرمایا ہے۔ چنانچہ تحریر فرماتے ہیں : حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک پہاڑ کے قریب سے گزر ے تواس پہاڑپر انہیں سفید رنگ کا گنبد نظر آیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسے چاروں طرف سے دیکھا اور اسکی خوبصورتی کو دیکھ کر حیرت میں پڑگئے اسی دوران ان پروحی نا زل ہو ئی کہ اگر تم اس گنبد کے راز سے واقف ہو نا چاہتے ہو تو ہم اسے کھول دیتے ہیںآپ نے ہاں میںجواب دیاتو اچانک اس گنبد سے ایک دروازہ ظاہر ہوا اور اس سے ایک شخص سبز رنگ کا عصا ہاتھ میں لیے ہو ئے باہر نکلا گنبد کے اندر انگور کا ایک پو دا تھا اور پا نی کا ایک چشمہ بھی جاری تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دریافت فرمایا: تم یہاں کب سے مصروف عبادت ہو اسنے عرض کیا چار سو سال سے عبادت میں مصروف ہوں!بھوک لگتی ہے تو انگور کھا کر پیٹ بھر لیتا ہوں پیاس لگتی ہے تو چشمہ کے پانی سے پیاس بجھا لیتا ہوں،حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میںعرض کیا :میرا گمان ہے الٰہی اس سے افضل تیرے نزدیک کوئی نہ ہو گا؟ار شاد ہوا کیوں نہیں :جو شخص امت محمدیہ میںسے پندرہویں شعبان کی رات دو رکعت نفل ادا کرے گا وہ اس شخص کی چار سو سال کی عبادت سے افضل شمار ہو گا۔ (نذہۃالمجالس)

گزارش: قارئین حضرات! مذکورہ بالا سطور پڑھ کر آپ اچھی طرح سمجھ چکے ہوں گے کہ شب برأت یعنی پندرہویں شعبان کی اللہ کی بارگاہ میں کیا قدر و منزلت ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کس کس طرح اس رات کرم فرماتا ہے ۔اس لیے وقت ضائع کیے بغیررات نفل نمازوں میں ،تسبیح وتہلیل میں ،ذکر و درود اور تلاوت میں گزاریں، قبرستان جائیں ،مرحومین کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کریں ،صدقہ خیرات کریں ،رات عبادت میں اور دن روزہ رکھ کر گزاریں ،یاد رکھیںاللہ کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں فرماتا ہے۔


Sunday, 15 May 2016

Sher e Khuda Hazrat Ali

 شیر خداحضرت علی کرم اللہ وجہہ

حالات زندگی اور فضائل ومناقب

از: مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی

حضرت علی خانوادۂ ہاشمیہ کے ایک لائق و ہونہار ، سعادت مند فرزند تھے اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں فضل و کمال کی وافر صلاحیتوں سے بہرہ مند فرمایا تھا ،آپ کی تربیت معلم کتاب و حکمت کے زیر سایہ ہوئی تھی، بچوں میں سب سے پہلے قبول اسلام کا شرف آپ کو حاصل تھا، ابتدائے بعثت سے لے کر رحلت رسول گرامی تک مکہ مدینہ ، سفر وحضر ، جلوت وخلوت ، جنگ و امن ہر حال میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت و مصاحبت مقدرمیں آئی تقرب رسول اور خدا داد ملکۂ علم و فضل نے علی مرتضیٰ کی ذات کو علم و فن کا بحر بے کراں بنا دیا تھا جملہ مکارم اخلاق اور محاسن و فضائل ایک ذات علی میں اس طرح جمع ہوگئے کہ کہیں اور نظر نہیں آتے ، علم و فضل ، زور بیان ، فصاحت بلاغت ، قوت واستنباط واجتہا،د شعر وادب ، تقریر و تحریر میں عدیم المثال تھے فکر رسا ، نگاہ دور رس اور فہم عالی کے مالک تھے ۔ آپ کے مختصر حالات حسب ذیل ہیں۔

نام و نسب :اسم گرامی علی ،کنیت ابو الحسن وابو تراب، لقب حیدر و مرتضیٰ ہے، والد کا نام ابو طالب، والدہ کا نام فاطمہ ہے ۔ پورا سلسلہ نسب اس طرح ہے علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ مدرکہ بن الیاس بن مضر بن مزار بن مسعد بن عدنان ہے ۔ جناب ابو طالب کی شادی ان کے چچا اسد بن ہاشم بن عبد مناف کی بیٹی فاطمہ سے ہوئی تھی جن کے بطن سے حضرت علی پیدا ہوئے تھے اس طرح آپ نجیب الطرفین ہاشمی اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہوئے ۔ 

حضرت علی کی ولادت اور پرورش :حضرت علی بن ابی طالب بعثت نبوی سے دس سال پہلے پیدا ہوئے عبد المطلب کے بعد آں حضور کے ایام طفولیت ابو طالب کی آغو ش تربیت میں بسر ہوئے سن رشد کو پہنچ کر جب آبائی پیشہ اختیار فرمایا اور آںحضرت مرفع حال ہوئے تو تنگ حال مشفق چچا ابو طالب کی اعانت کا موقع ملا حضرت علی کی فرخندہ فالی کا باب اس طرح کھلا کہ قحط سالی کی وجہ سے بالعموم قریش پریشان حال تھے انہیں میں ابو طالب بھی تھے جو اپنی کبر سنی اور پریشان حالی کی وجہ سے سخت معاشی دشواریوں سے دو چار تھے آں حضور نے اپنے چچا حضرت عباس سے مشورہ کیا اور دونوں نے دور عسرت میں ابو طالب کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے یہ تدبیر اختیار فرمائی کہ حضرت جعفر بن ابی طالب کو حضرت عباس نے اپنی کفالت میں لے لیا اور علی بن ابی طالب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ شفقت میں آگئے حضرت علی نے ہوش کی آنکھیں کھولیں تو اپنے آپ کو آغوش محمدی میں پایا یہ فخر صرف حضرت علی مرتضیٰ کے لیے مشیت ربانی نے مقدر کیا تھا ۔ (ابن ہشام ج ۱ ص۸۱) 

قبول اسلام :حضرت علی نے آغوش رسالت میں پرورش پائی تھی اس لیے مردوں میں سب سے پہلے ان کی نگاہیں اسلامی مناظر سے بہرہ مند ہوئیں چنانچہ بعثت کے ابتدائی ایام میں آپ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ کو مصروف عبادت دیکھا حیرت سے دریافت کیا آپ دونوں کیا کررہے تھے ؟ رسول گرامی نے ارشاد فرمایا یہ اللہ کا دین ہے جس کواللہ نے اپنے لیے پسند فرمایا ہے اور اسی کے لیے انبیا کو مبعوث کیا ہے میں تم کو بھی خدائے واحد کی طرف بلاتا ہوں جو تنہا معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ مصاحبت رسول کی برکتوں نے فطرت سلیم کو نکھار دیا تھا ایک شب توقف کے بعد بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر دولت اسلام سے بہرہ مند ہوگئے اسلام سے قبل آپ کا دامن عرب کی جاہلی رسوم اور اوثان پرستی سے کبھی بھی داغدار نہ ہو۔

حضرت فاطمہ سے عقد :۲ھ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب سے چہیتی لخت جگر خاتون جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا عقد اپنی آغوش شفقت و رحمت کے پروردہ علی مرتضیٰ کے ساتھ کردیا بعد نکاح اس مقدس جوڑے پر وضو کا پانی چھڑکا اور خیر و برکت کی دعا فرمائی نکاح کے گیارہ ماہ بعد جب رخصتی کا وقت آیا تو حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ حارث بن نعمان کا مکان کرایہ پر لیا اور اسی مکان میں رخصتی کرائی شہنشاہ کونین کے دربار سے خاتون جنت کو جہیز میں دو چکیاں ایک مشکیزہ ایک چادر ایک پلنگ اور ایک بستر ملا جو آخر وقت تک ساتھ رہا جس میں افلاس کے سبب حضرت علی کوئی اضافہ نہ کر سکے حضرت علی نے دعوت ولیمہ میں جو کی روٹی ، کجھور اور ایک خاص قسم کا شوربا پیش کیا۔حضرت علی مرتضیٰ کو قدرت نے جن امتیازی سعادتوں کے لیے مخصوص فرمایا تھا انہیں میں دامادیٔ رسول کا شرف آپ کی کلاہ افتخار کا طرۂ امتیاز ہے ۔ 

فتح خیبر :حضور اکرم صلے اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے مقدس لشکر کو لے کر خیبر کے یہودیوں کی سر کوبی کے لیے نکلے اور خیبر پہنچ کر یہودیوں کے  قلعوں کو محصور کر لیا یہودیوں نے جب اپنے آپ کو قلعوں میں محصور پایا تو مجبور ہو کر قلعوں ہی کے اندر بیٹھ کر مدافعت کر نے لگے یہودیوں کو اپنے ان قلعوں پر بڑا ناز تھا لیکن اسلامی شیروں نے ان کے تیروں اور پتھروں کی زد میں رہتے ہوئے آگے بڑھ کر قلعہ ناعم کے ساتھ اور بھی دو ایک قلعے فتح کر لیے پھر قلعہ قموص پر دھاوا کیا چنانچہ یہ قلعہ بھی دو تین دن میں فتح ہوگیا اور اسی طرح مصعب ، طلیح سلائم نام کے قلعے بھی فتح ہوگئے اب قلعہ خیبر کی باری تھی یہ قلعہ سب سے زیادہ مضبوط تھا اس کی فتح کے لیے بڑی کوشش کی گئی مگر یہ قلعہ فتح ہونے میں نہیں آیا جب کئی روز گذر گئے تو آپ نے فرمایا خدا کی قسم ! کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اپنی خدا داد قوت سے قلعہ کو فتح کر ے گا چنانچہ دوسرے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا اور فرمایا جاؤ تم اس قلعہ کو فتح کرو حضرت علی رضی اللہ عنہ جھنڈا اور لشکر لے کر خیبر کی طرف بڑھے تو قلعہ خیبر کا مالک مرحب حضرت علی کے مقابلے میں آیا اور یہ شعر پڑھنے لگا :۔؎

قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ اَنِّی مَرْحَبٌ شَاکِی السَلَاحِ بَطْلٌ مُجَرَّبٌ

مطلب ان شعروں کا یہ ہے کہ تمام خیبر کو معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں ، کون مرحب ؟ وہ جو مسلح اور تجربہ کار بہادر ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مرحب کا یہ شعر سنا تو آپ نے جواب میں یہ شعر پڑھا    ؎اَنَا الَّذِیْ سَمَتْنِیْ اُمِّیِ حَیْدَرَہٗ  کَلَیْثِ غَایَا تٍ کَرِیْہِ الْمَنْظَرَہْ یعنی سن اے مرحب ! ’’میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے شیر رکھا جو جنگل کے شیروں کی طرح مہیب ہے ۔‘‘اس کے بعد مرحب اور حضرت علی کا مقابلہ شروع ہوگیا آخر حضرت علی کی تلوار مرحب کی سپر کو کاٹتے ہوئے اس کے سر پر پہنچی اور سر کے دو ٹکڑے کر کے اس کے بدن کے بھی دو ٹکڑے کر دیئے ۔مرحب خاک پر لوٹنے لگا ، مرحب کو اس حالت میں دیکھ کر اس کے دوسرے ساتھیوں نے قلعہ سے نکل کر مسلمانوںپر حملہ کردیا لیکن بہادران اسلام نے جان پر کھیل کر ایسا دھاوا کیا کہ یہودی ہمت ہار کر بھاگنے لگے مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ قلعہ کے پھاٹک پر پہنچ گئے اور قلعہ کے دروازہ کو پکڑ کر اس زور سے کھینچا کہ پل بھر میں اسے اکھاڑ کر الگ پھینک دیا اس طرح سارے مسلمان قلعہ کے اندر داخل ہوگئے مسلمانوں کے اس یلغار سے یہودیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور قلعہ فتح ہوگیا ۔ (تاریخ اسلام ص۲۳۰ج۱)

یمن میں اشاعت اسلام :۱۰ھ میں تبلیغ دین کے لیے عرب کے مختلف خطوں میں جب وفود بھیجے گئے تو حضرت خالد بن ولید کو یمن بھیجا گیا چھ ماہ کی جد و جہد کے باوجود انہیں کامیابی حاصل نہ ہوئی تو حضور نے حضرت علی کو یمن کا قاضی بنا کر بھیجا آپ کے یمن پہنچتے ہی وہاں کے ماحول میں خوشگوار تبدیلی ظاہر ہوئی اور چند روزہ تعلیم وتلقین سے لوگ اسلام کے شیدائی ہوگئے اور یہاں کا ممتاز قبیلہ ہمدان مشرف باسلام ہوگیا جب سرکار نے حجۃ الوداع کیا تو حضرت علی یمن سے آکر شریک ہوئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مناسک حج ادا کیے ۔
شہادت :خلیفۂ بر حق ، مہر چرخ شجاعت ، تاجدار ولایت ، آفتاب علم و حکمت امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ۲۱ رمضان ۴۰ھ بروز جمعہ ۶۳ سال کی عمر میں جام شہادت نوش فرمایاحضرت حسن و حسین اور عبد اللہ بن جعفر نے غسل دیا کفن پہنایا حضرت حسن نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ 

حضرت علی کے فضائل وکمالات پر چند حدیثیں
(۱)حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے  انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو غزوۂ تبوک میں پیچھے چھوڑ دیا تو حضرت علی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ مجھ کو عورتوں اور بچوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اس بات سے راضی نہیں کہ میری جانب سے تمہارا مرتبہ وہی ہو جو حضرت موسیٰ کی جانب سے حضرت ہارون کا مرتبہ تھا مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ( مسلم شریف جلد ثانی صفحہ ۲۷۸) 

(۲)زید بن ارقم سے مروی ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آ پ نے فرمایا میں جس کا مولیٰ ہوں علی اس کے مولیٰ ہیں ۔( ترمذی شریف جلد ۲صفحہ ۲۱۳) 
(۳) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں ام سلمہ کے پاس آئی تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ منافق علی سے محبت نہیں کرے گا اور مومن ان سے بغض نہیں رکھے گا ( ترمذی شریف جلد ثانی صفحہ ۲۱۳)

(۴)حبشی بن جنادہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔ (ترمذی شریف جلد ثانی صفحہ ۲۱۳) 
(۵)ابن عمر سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام کے درمیان مواخاۃ فرمائی تو علی روتے ہوئے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے صحابۂ کرام کے درمیان مواخاۃ فرمائی اور مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم  دنیا میں اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔(ترمذی شریف جلد ثانی صفحہ ۲۱۳)

مذکورہ حدیثوں کے علاوہ آپ کے فضائل و محاسن پر درجنوں حدیثیں موجود ہیںجنکاتذکرہ اختصار کے سبب چھوڑا جارہا ہے ۔ اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کواہل بیت اطہار ،حسنین کریمین اور حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی سچی محبت اپنا کر زندگی گزارنے کی سعادتیں نصیب فرمائے۔آمین ثم آمین


Saturday, 14 May 2016

Elim e Deen Ki Ahmiyat wa Zaroorat

علم دین کی اہمیت و ضرورت 
از :مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی

انسان نے اپنی تاریخ میں کسی اورمذہب کواسلام کی طرح علم کواہمیت دیتے نہیں دیکھا ۔ علم کی دعوت دینے، اس کاشوق دلانے ، اس کی قدر ومنزلت بڑھانے ، اہل علم کی عزت افزائی کرنے، علم کے آداب بیان کرنے، اس کے اثرات ونتائج واضح کرنے، علم کی نا قدری اوراہل علم کی مخالفت و بے عزتی سے روکنے میںاسلام نے جو بھرپورا ورمکمل ہدایات پیش کیں ہیں۔اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ جو پچھلے مذاہب کا مطالعہ کرے گا وہ اس سلسلے میں اسلام کی عظمت کامزید قائل ہوجائے گا۔علم کانام سامنے آتے ہی ایسا محسوس ہوتاہے۔ جیسے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بجلی چمک اٹھی ہو یہ علم ہی ہے جوانسان کواس کے مقصدزندگی سے آگاہ کرتاہے۔ ہرنیک وبد اورمفید و مضر کی پہچان کراتاہے اوراسے حیوانوں کی سطح سے بلند کرکے انسانیت کی سطح تک پہنچاتا ہے۔ اسی علم سے افراد اورقومیں آگے بڑھتی ہیں۔ کیاعلم کی اہمیت کااس سے بڑھ کر کوئی اورثبوت چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی جو سب سے پہلی آیت اپنے رسول پرنازل فرمائی وہ یہ تھی ۔اِقْرَاء بِاسْمِ رَبِّکَ اَّلذِیْ خَلَق:  ترجمہ: پڑھئے اپنے رب کے نام سے جو سب کا پیداکرنے والا ہے۔

پڑھنا اللہ کے نام سے ہی ہے، نفس کی خواہشوں اورکسی قسم کے غلط مقصد کے لئے نہیں۔ اس کامطلب یہ ہے کہ علم کو اسلام میں ایک خاص قسم کا تقدس حاصل ہے۔ کسی انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اسے کسی ایسے مقصد کے لئے استعمال کرے جو حق سے ٹکراتاہو۔اسلامی تعلیمات میں دینی ودنیوی تمام علوم پرعلم کااطلاق ہوتاہے جب کہ مغربی ممالک علم کومحض دنیوی کامیابی کاذریعہ اورزینہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اسلام اسے آخرت میں سرخروئی اوردنیا میں کامیابی دونوں کاذریعہ قرار دیتاہے۔مگرسخت افسوس کہ عرصہ درازسے مسلمان علم کو جتنا نظرانداز کرتے آرہے ہیںاتنا دنیا کی کسی اورقوم نے نہیں کیا۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم دنیوی علوم میںبھی پیچھے ہیں اوردینی علوم میں بھی جب کہ مسلمانوں پریہ ضروری ہے کہ اگروہ زمانے کی رفتار سے آگے نہیں توکم از کم ساتھ ساتھ چلنے کی صلاحیت اپنے اندر پیداکریں۔اس کے لئے عالمی حالات سے واقفیت بھی ضروری ہے اوربنیادی دینی علوم میں مہارت کے ساتھ دنیوی علوم بھی۔آج پورا عالم اسلام پسماندہ اورمجبور کیوںہے؟شراب نوشی،جوا اورلاٹری کاچلن ہمارے معاشرے میں بڑھ رہا ہے۔ یوں ہی جنسی انارکی، حرام کاری ، وغیرہ کے رجحانات میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف جہالت کی وجہ سے ملت کے مستقبل کی تعمیر اوراس کے افراد کی ترقی کے ضروری کام سے لوگ غافل ہیں۔ہماری نئی نسل بہت حد تک مذہب بیزار ہوچکی ہے۔ انہیں مذہب کے قریب لانے کی کوشش نہ کے برابرہے۔ تعلیم نسواں پربھی خاطر خواہ توجہ نہیں ہوپارہی ہے۔ قوم وملت کے صدہامسائل ہیںجو تشنہ کام ہیں اگرحقیقی معنوں میںعلم کی روشنی سے دل منور ہوجائے تو انشاء اللہ ان سارے مسائل کے حل کی راہیںآسان ہوجائیں گی۔

    کتناعلم سیکھنا ضروری ہے
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے علم کے سیکھنے پربہت زور دیا ہے اورہرممکن رغبت دلائی ہے۔ یہاں تک کہ ہرمسلمان کے لئے اسے اہم ترین فریضہ قرار دیا ہے۔چنانچہ ارشاد پاک ہے علم حاصل کرنا ہرمسلمان (مرد وعورت)پر فرض ہے۔ (ابن ماجہ)لیکن کتنا اور کون سا علم سیکھنا فرض ہے۔ اس سلسلے میں مختلف اقوال ہیں۔بے شمار معتبر ومستند کتابوں کے مطالعہ کے بعداس نتیجے پر پہنچاہوںکہ اتنا علم جس سے مسلمان اپنے عقیدے کے بارے میں یقینی وحقیقی معرفت حاصل کرسکے۔ اپنے رب کی عبادت اورحضور کی اطاعت کرسکے۔ اپنے نفس اوردل کا تزکیہ کرسکے۔ نجات دلانے والی چیزوں کاعلم ہواور تباہ کن گناہوں کاعلم ہو تاکہ ان سے بچاجاسکے۔ اپنے ساتھ ، اپنے خاندان والوں اورپڑوسیوں کے ساتھ معاملات کو درست کیاجاسکے۔ حلال وحرام میں فرق ہوسکے اس قدر علم ہرمسلمان مردوعورت کے لئے لازم ہے ۔ جو درس گاہوں میں پڑھ کر ، مسجدوں میں سن کر اورمختلف ذرائع سے حاصل ہوسکتاہے۔

علم دین کی ضرورت کیوں ؟
یہ بہت ہی اہم سوال ہے۔صاحبان علم ودانش نے اس کے بہت سارے جوابات تحریر کیے ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ علم کی ضرورت اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے جیساکہ اس آیت کریمہ سے سمجھ میںآرہاہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْانْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ۔  ترجمہ: اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو اسی لیے پیدا کیا تاکہ وہ میری عبادت کریں۔(ذریت پارہ ۲۷آیت:۵۶)  معلوم ہواکہ انسان کی تخلیق عبادت کے لیے کی گئی ہے اور علم کے بغیر عبادت کرناممکن نہیںاس لیے علم حاصل کرنا فرض ہوا۔ نیز قرآن پاک میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو اپنے محبوب ﷺ کی اطاعت کا حکم فرمایاہے جیساکہ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا  مَااٰتَا کُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَانَھَاکُمْ  عَنْہُ فَانْتَھُوْاo ترجمہ :’’جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو‘‘۔( حشر :پارہ ۲۸،آیت۷)   سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب تک آدمی کے پاس دینی علم نہیںہوگا وہ اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو نہ اپنا سکتا ہے اور نہ ہی منع کی ہوئی باتوںسے خود کو روک سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہوا کہ علم حاصل کرے تاکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اتباع کرسکے۔

علم دین کی فرضیت میںحکمت کیاہے؟
          ہر مسلمان مرد وعورت پر علم کے فرض کرنے کی حکمت کیا ہے۔ اسے مفسرقرآن حضرت امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ کی اس تحریر سے سمجھیں فرماتے ہیں۔ 
اول:- اللہ تعالیٰ نے مجھے فرائض کی ادائیگی کاحکم فرمایا ہے اورمیں علم کے بغیر ان کی ادائیگی پرقادر نہیں ہوسکتا۔ دوم:-خدائے تعالیٰ نے مجھے گناہوں سے دور رہنے کاحکم فرمایا ہے اورمیں علم کے بغیراس سے بچ نہیں سکتا۔ سوم:- اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کاشکر مجھ پر لازم فرمایا ہے اورمیںعلم کے بغیر ان کاشکر نہیں کرسکتا۔ 
چہارم:خدائے تعالیٰ نے مجھے مخلوق کے ساتھ انصاف کرنے کاحکم دیاہے اورمیں علم کے بغیر انصاف نہیں کرسکتا۔ پنجم:-اللہ تعالیٰ نے مجھے بلا پہ صبر کرنے کاحکم فرمایا ہے اورمیںعلم کے بغیر اس پر صبر نہیں کرسکتا۔ ششم:- خدائے تعالیٰ نے مجھے شیطان سے دشمنی کرنے کاحکم دیا ہے اور میں علم کے بغیر اس سے دشمنی نہیں کرسکتا۔ (علم اور علما۔بحوالہ تفسیر کبیرج۱ ،ص۲۷۸) پھرسمجھنے کی بات یہ بھی کہ ہر آدمی پر خواہ وہ مرد ہویا عورت اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے حقوق عائد کیے ہیں۔ (۱)حقوق اللہ (۲)حقوق العباد ۔اور ان دونوںحقوق کی ادائیگی بے علم ممکن نہیں اسی لئے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ oترجمہ:علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔  (مشکوٰۃ ص:۳۴) حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔شار حین حدیث نے فرمایا ہے کہ علم سے مراد وہ مذہبی علم ہے جس کاحاصل کرنا بندہ پر ضروری ہے۔ جیسے خدائے تعالیٰ کو پہچاننا ، اس کی وحدانیت ، اس کے رسول کی شناخت اورضروری مسائل کے ساتھ نماز پڑھنے کے طریقے کوجاننا۔ اس لئے کہ ان چیزوں کا علم فرض عین ہے۔ (مرقات ج ۱،ص۲۳۳)

اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ علم سے مراد اس حدیث میںوہ علم ہے جو مسلمانوں کے لئے وقت پرضروری ہے ۔مثلاً جب اسلام میں داخل ہوا تواس پر خدائے تعالیٰ کی ذات وصفات کو پہچاننا اور رسول کی رسالت ونبوت کوجاننا واجب ہوگیا اورہر اس چیز کاعلم ضروری ہوگیا جس کے بغیرایمان صحیح نہیں۔ جب نماز کاوقت آگیا تو اس پرنماز کے احکام کاجاننا ضروری ہوگیا پھر جب ماہ رمضان آیا تو روزہ کے ا حکام کاسیکھنا ضروری ہوگیا، جب مالک نصاب ہوگیا تو زکوٰۃ کے مسائل کاجاننا واجب ہوگیا اوراگرمالک نصاب ہونے سے قبل مرگیا اورزکوٰۃ کے مسائل کو نہیں سیکھا تو گنہگار نہیں ہوا۔ جب عورت کو نکاح میں لایا تو حیض ونفاس وغیرہ جتنے مسائل کا میاں بیوی سے تعلق ہے جاننا واجب ہوگیا ۔ وعلی ھذا القیاس۔   (اشعۃ اللمعات)

حصول علم کے لیے سفر کرنا
    علم دین کی تحصیل کی رغبت دلاتے ہوئے حضور آقا علیہ السلام نے فرمایا اُطْلُبُوْا الْعِلْمَ وَلَوْبِالصِّیْن۔(جامع صغیرص:۷۲) ترجمہ : علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں ملک چین جاناپڑے۔یعنی حصول علم کے لیے دشوار سفر بھی کرنا پڑے تو اس سے دریغ نہ کرو۔ اسی حدیث کو پیش نظر رکھ کر صحابہ نے حصول علم کے لیے دور دراز ممالک کا سفر فرمایا اور علم میں کمال پیدا کیا ۔ایک صحابی حضور علیہ السلام کی صرف ایک حدیث سننے کے لئے مصر تشریف لے گئے۔ حدیث رسول سنا سواری پہ سوار ہوئے اورمدینہ طیبہ کی راہ چل پڑے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کے دلوں میں علم دین حاصل کرنے کا کیسا جذبہ موجزن تھا۔ بعد کے بزرگوں نے بھی صحابہ کے نقوش قدم کی پوری پوری پیروی کی ۔ حضور سیدناامام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ تحصیل علم کے لئے متعدد دفعہ مکہ شریف، مدینہ شریف اوربصرہ تشریف لے گئے۔حضورسیدنا غوث پاک رضی اللہ عنہ عین جوانی کے عالم میں تحصیل علم کے لئے جیلان سے بغداد تشریف لائے ۔ طرح طرح کی صعوبتوں کاسامنا کیا۔ فاقہ کی نوبت بھی آئی مگر تحصیل علم میںکسی طرح کی کوتاہی نہیں فرمائی۔حضور سیدنا خواجہ غریب نواز اپنے شیخ حضرت خواجہ عثمان ہارونی کی بارگاہ میں بیس برس رہے اورکسب علم کرتے رہے۔ یہ ہے ہمارے بزرگوں کی تعلیمی تڑپ اور ان کی نگاہ میں تعلیم کی اہمیت ہے مگر ہماراحال یہ ہے کہ ہم محض بزرگوں کی محبت کا کھوکھلادعویٰ کرتے ہیں ، دامن نہ چھوڑنے کے نعرے لگاتے ہیں۔ جب کہ بزرگوں کی اصل محبت یہ ہے کہ ان کی تعلیمات کو اپنائیں اوراس ڈگر کواپنائیں جس پر چل کر انہوں نے زندگی گزاری ہے۔
   
علم کی اہمیت پر صحابی رسول کی ولولہ انگیز تقریر
     ایک موقع پر صحابی رسول حضرت معاذ نے علم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ایمان افروز تقریر فرمائی جس کا ذکر فقیہ ابو اللیث سمر قندی علیہ الرحمہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب تنبیہ الغافلین میں اس طرح فرمایا ہے۔ لوگو!علم حاصل کرو،علم حاصل کرنا نیکی ، اس کی طلب عبادت،اس کاپڑھنا پڑھاناتسبیح اورجستجوجہاد ہے۔جاہل کوعلم سکھاناصدقہ ہے اوراہل علم کے سامنے علمی گفتگوقرب الٰہی کاسبب ہے۔علم جنت کاراستہ،وحشت کامونس، مسافرت کاساتھی،تنہائی میںباتیںکرنے والا، راحت وآرام کی راہ بتانے والا ،مصیبتوں میں کام آنے والا،دوستوںکی مجلس کی زینت اوردشمنوںکے مقابلہ میںہتھیارہے۔اسی کے ذریعہ علماقوم کے امام ا ور رہنمابنتے ہیں۔فرشتے ان سے دوستی کے خواہش مند ہوتے ہیں۔برکت کے لیے ان سے مصافحہ کرتے اوراستقبال کے لیے پیروںتلے بازوبچھاتے ہیں،ہرتروخشک چیزان کے لیے دعاکرتی ہے حتیٰ کہ پانی کی مچھلیاں،زمین کے کیڑے مکوڑے اورجنگلوںکے درندے بھی دعا کرتے ہیں ۔علم،جہالت کی موت سے نکال کردلوںکوزندگی بخشنے والا،تاریکیوںمیںچراغ اورکمزوریوں میں طاقت ہے،اس کے ذریعہ انسان دنیاوآخرت کے بلنددرجات حاصل کرتاہے،علم کامطالعہ نفلی روزوںاوراس کامذاکرہ تہجدکے قائم مقام ہے،اس سے انسان صلہ رحمی سیکھتااورحلال وحرام میںتمیزپیدا کرتاہے،علم امام ہے عمل مقتدی اورعلم نافع صرف نیک لوگوں کوہی حاصل ہوتاہے۔

علم کی اہمیت امام غزالی کی نظر میں 
      حضرت امام غزالی علم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں، علم کا نفع بہت زیادہ ہے کیونکہ بندہ عبادت کے معاملے میں علم کا سخت محتاج ہے اور عبادت کی دیوار علم ہی پر قائم ہوتی ہے۔  (منہاج العابدین مترجم ص: ۳۱)  پھر دو صفحے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ جو شخص علم حاصل نہ کرے وہ عبادات اور ان کے ارکان کو ٹھیک طریقہ سے ادانہیں کرسکتا۔ بالفرض اگرکوئی تمام آسمانوںکے فرشتوں جتنی عبادت کرلے مگر علم نہ ہوتو خسارے میںہی رہے گا۔اس لیے جس طرح بھی ہو علم ضرور حاصل کرو اور اس کے حاصل کرنے میں سست نہ بنو ورنہ گمرہی کے خطرات سے دوچارہوجائوگے۔  (منہاج العابدین ص:۳۳) 
اکثرایسادیکھنے میںبھی آتاہے کہ دینی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے بعض عبادت گذار حضرات کفریات تک بک جاتے ہیں۔

آدمی کہلانے کا حقدار کون؟
کسی نے حضرت عبداللہ بن مبارک سے پوچھا   من الناسآدمی کون ہے تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا ۔ آدمی کہلانے کے حق دار علما ہیں۔
حضر ت امام غزالی فرماتے ہیں جوعالم نہ ہو، امام عبداللہ بن مبارک نے اسے آدمی شمار نہیں کیا۔ اس لئے کہ انسان اورچوپائے میں فرق علم سے ہے اورعلم ہی کے سبب آدمی کاشرف ہے۔ اس کاشرف جسمانی طاقت سے نہیں کہ اونٹ اس سے زیادہ طاقت ور ہے ، نہ اس کا شرف جسم کے سبب ہے کہ ہاتھی انسان سے کہیں زیادہ بڑا جسم والا ہے۔ نہ اس کاشرف بہادری کے سبب ہے کہ شیر اس سے زیادہ بہادر ہے۔ نہ خوراک کی وجہ سے اس کاشرف ہے کہ بیل کا پیٹ اس سے کہیں بڑا ہے۔ آدمی تو صرف علم کے لئے بنایاگیا ہے اورعلم ہی اس کاشرف ہے ۔   (تنبیہ الغافلین)   
      
علم عمل کارہنما ہے
اسلام کی نگاہ میں علم جس طرح ایمان کا رہنما ہے اسی طرح عمل کا بھی رہنما ہے۔ امام بخاری نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف میں ایک باب ہی اس عنوا ن سے قائم کیا ہے کہ ’’قول وعمل سے پہلے علم‘‘ مطلب یہ ہے کہ علم شرط ہے قول وعمل کی درستی کا۔ علم کے بغیر نہ قول کا اعتبار کیاجاسکتاہے نہ فعل کا ۔ اس لئے علم کا مرتبہ ان دونوں سے پہلے ہے اوروہی عمل کی نیت درست کرتاہے۔حضرت معاذ بن جبل کی روایت میں پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ علم عمل کا رہنما ہے اور عمل اس کے تابع ہے کوئی عبادت اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتی جب تک عبادت کرنے والا یہ نہ جانے کہ اس عبادت کے ارکان اورضروری شرائط کیاہیں۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے ، جس نے نماز اچھی طرح ادانہیں کی تھی، فرمایاتھا کہ جائو دوبارہ نماز پڑھو کہ تم نے نماز نہیںپڑھی۔(متفق علیہ)
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اس شخص نے آپ ہی کے سامنے نماز پڑھی تھی لیکن چونکہ اس کے پاس علم نہیں تھا اس لئے ارکان ٹھیک ڈھنگ سے ادانہ کرسکا اس لئے حضور نے اس کی نماز کو باطل قراردیا۔اسی لیے قرآنی آیات اور احادیث رسول میں تحصیل علم کی سخت تاکیدفرمائی گئی ہے ساتھ ہی ساتھ علم ،صاحبان علم اور طلبہ کے فضائل بھی بیان کیے گئے ہیں۔ مگرافسوس آج مسلمان علم دین کی ناقدری میںمبتلا ہیں۔ جس کی وجہ سے پوری دنیا میںذلیل و خوار ہورہے ہیں۔ ایسے میں اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنے کھوئے ہوئے وقار کو حاصل کریں۔ رب کو راضی کریں ۔رسول خدا ﷺ کی خوشنودی حاصل کریں ۔توہمیں چاہیے کہ علم دین کی تلاش و جستجو میں لگ جائیں۔ یہی رب تک پہنچنے اور دنیاوی و اخروی آفات وبلیات سے نجات کا واحدراستہ ہے۔ 

علمِ دین دولت سے بہتر ہے
 حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں علم سات وجوہات کی وجہ سے مال سے  افضل ہے۔
اول:۔علم انبیاء علیہم السلام کی میراث ہے اور مال فرعونوں کی میراث ہے۔  دوم:…علم خرچ کرنے سے گھٹتا نہیںجب کہ مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے۔
سوم:…مال کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ علم صاحب علم کی حفاظت کرتا ہے۔
چہارم:… جب آدمی مرجاتاہے اس کامال دنیا میں باقی رہتا ہے جب کہ علم آدمی کے ساتھ قبر میں جاتاہے۔
پنجم:…مال مومن اورکافر دونوں کوحاصل ہوتا ہے جب کہ علم دین صرف مومن کوحاصل ہوتاہے۔
ششم: لوگ دینی معاملات میںصاحب علم کے  محتاج ہوتے ہیں صاحب ثروت کے نہیں۔
ہفتم:… علم کی برکت سے پل صراط سے گزرنے میںآسانی ہوگی اورمدد ملے گی جب کہ مال پل صراط سے گزرنے میں رکاوٹ بنے گا۔
                                 (علم اور علما،بحوالہ تفسیر کبیر ج،۱ ۔۲۷۷)

Tuesday, 3 May 2016

Meraj-un-Nabi (Salla Allahu alaihi wa sallam)

  معراج النبی


از: مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی





رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج کے لیے آسمانوں پرتشریف لے جاناآپ کے معجزات میں سے ایک اہم معجزہ ہے جوہماری مادی دنیاسے بالکل الگ اورعقل انسانی کی سرحدوں سے بہت بالاتر ہے۔ واقعہ معراج کواللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سبحٰن الذی اسریٰ بعبدہٖ لیلاً کے الفاظ سے بیان فرمایاہے اس لیے معراج کا ایک نام ’’اسراء‘‘ بھی ہے۔احادیث وسیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کو صحابہ کی ایک بڑی جماعت نے بیان کیا ہے۔ چنانچہ علامہ زرقانی نے ۴۵ ؍صحابیوں کو نام بنام شمار کیا ہے جنہوں نے حدیث معراج روایت کی ہے۔

معراج کب ہوئی؟امام رافعی وامام نووی تحریر فرماتے ہیں کہ واقعہ معراج رجب کے مہینے میں ہوا ہے۔محدث عبدالغنی مقدسی نے رجب کی ستائیسویں تاریخ متعین کی ہے اورعلامہ زرقانی نے تحریر فرمایا ہے کہ لوگوں کااسی پرعمل ہے اوربعض مؤرخین کی رائے ہے کہ یہی سب سے زیادہ قوی روایت ہے ۔ 

(زرقانی ج ۵،ص: ۳۵۸)


معراج کتنی بار اورکیسے ہوئی؟ معراج بیداری کی حالت میں جسم وروح کے ساتھ صرف ایک بار ہوئی( جب کہ روحانی معراج۳۳ مرتبہ ہوئی ہے) جمہور صحابہ وتابعین اورفقہا محدثین نیز صوفیہ کا بھی یہی مذہب ہے، چنانچہ علامہ ملا احمد جیون رحمتہ اللہ علیہ (اُستاذ) اورنگ زیب عالمگیر بادشاہ نے تحریر فرمایا والاصح انہ کان فی الیقظۃ بجسدہٖ مع روحہٖ وعلیہ اھل السنۃ والجماعۃ فمن قال انہ بروحٍٍ فقط اوفی النوم فقط مبتدعٌ ضال مضل فاسقٌ۔ترجمہ:اور سب سے زیادہ صحیح قول یہ کہ معراج بحالت بیداری میں جسم و روح کے ساتھ ہوئی ہے۔ یہی اہلسنت وجماعت کامذہب ہے۔(تفسیرات احمدیہ ۔سورہ بنی اسرائیل:۴۰۸)



دیدارخداوندی: صحابہ کرام اورتابعین رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت نے یہ فرمایاہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو دیکھاہے۔(شفا ء جلد۔۱، ص۱۲۰تا۱۲۱)حضرت عبداللہ بن الحارث نے روایت کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس اورحضرت کعب رضی اللہ عنہم ایک مجلس میں جمع ہوئے تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ کوئی کچھ کہتا رہے۔ لیکن ہم بنی ہاشم کے لوگ یہی کہتے ہیں کہ بلاشبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یقیناًاپنے رب کو معراج میں دومرتبہ دیکھا۔ یہ سن کرحضرت کعب نے اس زور سے نعرہ لگایاکہ پہاڑیاں گونج اٹھیں اورفرمایا کہ بے شک حضر ت موسیٰ علیہ السلام نے خداسے کلام کیااورحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خداکو دیکھا۔اسی طرح حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے ’’ماکذب الفوادمارایٰ ‘‘کی تفسیرمیں فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ۔ (مسلم)اسی طرح حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیاہے کہ رأیت ربی یعنی میں نے اپنے رب کو دیکھا۔محدث عبدالرزاق تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسن بصری اس بات پر حلف اُٹھاتے تھے کہ یقیناًحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا اوربعض متکلمین نے نقل کیاہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود صحابی رضی اللہ عنہ کابھی یہی مذہب تھا اورابن اسحٰق ناقل ہیں کہ حاکم مدینہ مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیاحضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھاتھا؟ توآپ نے جواب دیاکہ ’’جی ہاں‘‘۔اسی طرح نقاش نے حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں ذکر کیاہے کہ آپ نے یہ فرمایا کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مذہب کاقائل ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خداکو دیکھا۔ دیکھا۔ دیکھا۔ اتنی دیر تک وہ دیکھا۔ دیکھا کہتے رہے کہ ان کی سانس ٹوٹ گئی۔ (شفا جلد ا ص ۱۱۹تا۱۲۰)صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے شریک بن عبداللہ نے جومعراج کی روایت کی ہے کہ اس کے آخر میں ہے کہحتیٰ جاءَ سدرۃ المنتھیٰ ودنا الجبار رب العزت فتدلیٰ حتیٰ کان منہ قاب قوسین اوادنیٰ ۔ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہٰی پرتشریف لائے اورعزت والاجبار (اللہ تعالیٰ ) یہاں تک قریب ہوا اورنزدیک آیا کہ دوکمانوں یااس سے بھی کم کافاصلہ رہ گیا۔ (بخاری جلد۲ ص ۱۲۰ باب قول اللہ وکلم اللہ الخ)بہرحال علمائے اہل سنت کایہی عقیدہ و مسلک ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کادیدار کیا ہے۔



مختصر حالات معراج 

معراج کی رات آپ کے گھر کی چھت کھلی اورناگہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام چند فرشتوں کے ساتھ نازل ہوئے ۔آپ کوحرم کعبہ لے جاکر سینہ مبارک کوچاک کیا اورقلب انور کونکال کرآب زمزم سے دھویا پھرایمان وحکمت سے بھرے ہوئے ایک طشت کو آپ کے سینے میں انڈیل کرشکم کو برابر کردیا۔پھرآپ بُراق پرسوار ہوکربیت المقدس تشریف لائے۔ براق کی تیز رفتاری کایہ عالم تھا کہ اس کاقدم وہاں پڑتاتھاجہاں اس کی نگا ہ کی آخری حد ہوتی تھی۔ بیت المقدس پہنچ کر بُراق کوآپ نے اس حلقہ سے باندھ دیا جس سے انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے پھر آپ نے تمام انبیاء اوررسولوں کوجووہاں حاضر تھے ۔ دورکعت نماز نفل جماعت سے پڑھائی۔ (تفسیر روح البیان جلد ۵ ص ۱۱۲) پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ کو ساتھ لے کرآسمان پرچڑھے۔پہلے آسمان میں حضرت آدم علیہ السلام سے،دوسرے آسمان میں حضرت یحیٰ وحضرت عیسیٰ علیہما السلام سے جودونوں خالہ زاد بھائی تھے ملاقاتیں ہوئیں اورکچھ گفتگو بھی ہوئی ۔تیسرے آسمان پرحضرت یوسف علیہ السلام ، چوتھے آسمان میں حضرت ادریس علیہ السلام اورپانچویں آسمان میں حضرت ہارون علیہ السلام اورچھٹے آسمان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ملے اورساتویں آسمان پرپہنچے تو وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی وہ بیت المعمور سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے جس میں روزانہ سترہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں بوقت ملاقات ہرپیغمبر نے خوش آمدیدکہااورآپ کااستقبال کیا۔ پھر آپ کو جنت کی سیر کرائی گئی ۔ اس کے بعدآپ سدرۃ المنتہیٰ پہنچے۔ یہاں پہنچ کر حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ کہہ کرٹھہر گئے کہ اب اس سے آگے میں نہیں بڑھ سکتا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عرش بلکہ عرش کے اوپر جہاں تک اس نے چاہا بلاکر آپ کو باریاب فرمایا اوربارگاہ الٰہی سے بے شمار عطیات کے علاوہ تین خاص انعامات مرحمت ہوئے جن کی عظمتوں کو اللہ ورسول کے سوا اورکون جان سکتاہے۔ان کی تفصیل حسب ذیل ہیں۔(ا)سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں۔ (۲) یہ خوشخبری کہ آپ کی امت کاہروہ شخص جس نے شرک نہ کیا ہوبخش دیاجائے گا ۔(۳)امت پرپچاس وقت کی نماز۔



جب آپ ان عطیات کو لے کرواپس ہوئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے عرض کیا کہ آپ کی امت پچاس نمازوں کابار نہیں اُٹھاسکے گی۔ لہٰذا آپ واپس جائیے اوراللہ تعالیٰ سے کمی کی درخواست کیجئے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے چند بار آپ بارگاہ الٰہی میں آتے جاتے اور عرض گزار ہوتے رہے ۔ یہاں تک کہ صرف پانچ وقت کی نمازیں رہ گئیں اوراللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ میراقول بدل نہیں سکتا۔ اے محبوب! آپ کی امت کے لیے یہ پانچ نمازیں بھی پچاس ہوں گی ۔ نمازیں توپانچ ہوں گی مگرمیں آپ کی امت کو ان پانچ نمازوں پرپچاس نمازوں کاثواب عطاکروں گا۔پھر آپ عالم ملکوت کی اچھی طرح سیر فرماکر اوراللہ کی نشانیوں کامعائنہ ومشاہدہ فرماکر آسمان سے زمین پرتشریف لائے اوربیت المقدس میں داخل ہوئے پھربراق پرسوار ہوکر مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں آپ نے بیت المقدس سے مکہ تک کی تمام منزلوں اورقریش کے قافلہ کوبھی دیکھا ۔ ان تمام مراحل کے طے ہونے کے بعد آپ مسجد حرام میں پہنچ کر سوگئے صبح بیدار ہوکرجب رات کے واقعات کاآپ نے قریش کے سامنے تذکرہ فرمایا توکفار قریش کو سخت تعجب ہوا۔یہاں تک کہ بعض بد بختوں نے آپ کوجھوٹا کہااور بعض نے مختلف سوالات کیے چونکہ اکثر رؤسائے قریش نے بار بار بیت المقدس کاسفر کیاتھا اس لیے امتحان کے طور پر ان لوگوں نے آپ سے بیت المقدس کے درودیوار اوراس کی محرابوں کے بارے میں سوالوں کی بوچھار شروع کردی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فوراً ہی آپ کی نگاہ کے سامنے بیت المقدس کی پوری عمارت کانقشہ پیش فرمادیا۔ چنانچہ کفار قریش آپ سے سوالات کرتے جاتے تھے اورآپ عمارت دیکھ دیکھ کر ان کے سوالوں کاٹھیک ٹھیک جوا ب دیتے جاتے تھے۔ 

(بخاری کتاب الصلوٰۃ ، کتاب الانبیاء، کتاب التوحید، باب المعراج وغیرہ ۔مسلم باب المعراج۔شفا ،جلد۱ ص ۱۸۵ ۔ تفسیر روح المعانی جلد ۱۵: ص۴ تا ص ۱۰ وغیرہ کاخلاصہ)



جسمانی معراج پردلیلیں

اللہ کے رسول ﷺ کی معراج جسمانی تھی۔ جسمانی معراج پربکثرت دلائل ہیں۔ ان میں سے چندسپر د قلم کی جاتی ہیں۔۱۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسریٰ بعبدہ،غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عبد ، روح اورجسم کے مجموعہ کو کہتے ہیں، لہٰذا فقط عبد کا یہاں استعمال فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ معراج جسمانی تھی ۔ ۲۔ حدیث پاک میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے لئے براق کی سواری پیش کی گئی جس پرآپ سوار ہوکر تشریف لے گئے ۔براق کاسواری بننا دلیل ہے کہ معراج جسمانی تھی۔ اس لئے کہ براق جو چوپایہ ہے اس پرجسم سوار ہوتاہے نہ کہ روح کیوں کہ روح کو سواری کی حاجت نہیں ہوتی۔ ۳۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسریٰ رات کی سیر کوکہتے ہیں۔ اسراء کا اطلاق اس سیر پر نہیں ہوتا جو خواب میں ہو۔۴۔اللہ تعالیٰ نے قصہ معراج میں فرمایا۔ مازاغ البصروماطغیٰترجمہ: نہ ٹیڑھی ہوئی نگاہ اورنہ بہکی آنکھیں ، لفظ بصر جسمانی نگاہ کے لئے آتاہے۔ خواب میں دیکھنے کوبصر نہیں کہتے ۔ ثابت ہواکہ معراج جسمانی تھی نہ کہ روحانی۔ ۵۔معراج شریف حضوراکرم ﷺ کاایک اعظم معجزہ ہے۔ اگرروحانی معراج ہوتی تویہ معجزہ کیسے بن سکتاتھا معلوم ہوا کہ معراج جسمانی تھی۔ ۶۔اگرمعراج روحانی ہوتی توکفار مکہ اس کو بعید از عقل نہ سمجھتے اورآپ کو نہ جھٹلاتے کیوں کہ خواب میں ہرایک کی روح دور دور تک کم وقت میں سیر کرآتی ہے۔ کفار کا حضور کو جھٹلانا اس بات پرشاہد ہے کہ حضور سراپانور ﷺ کادعویٰ جسمانی معراج کاتھاجس کو کفار نے بعید از عقل سمجھا اور تکذیب کے درپے ہوگئے۔ ۷۔ جب آپ نے معراج کا دعویٰ کیاتو ایک جماعت جوکمزور ایمان والی تھی یہ دعویٰ سن کر مرتد ہوگئی(اسلام سے پھر گئی) اگرروحانی معراج کادعویٰ ہوتا تو ان کے ارتداد کی کوئی صورت نہ تھی لہٰذا ثابت ہواکہ معراج جسمانی تھی ۔ اس کے علاوہ مشاہیر علماء نے معراج جسمانی کی بہت سی دلیلیں پیش کی ہیں۔ جوتفسیر حدیث اور سیرت کی کتابوں میں مذکور ہیں۔



اس سفر میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں اللہ تعالیٰ کی زیارت کی وہیں آپ نے جنت اور جہنم کا مشاہدہ اور معائنہ بھی فرمایا ۔جنت میں جہاں نیکوکاروں کا آپ نے صلہ اور ثواب ملاحظہ فرمایا وہیں جہنم جانے والے اور عذاب میں گرفتار ہونے والے لوگوں کو بھی ملاحظہ فرمایا۔ذیل میں ہم کچھ ایسے گناہ گاروں کا تذکرہ کر رہے ہیں جواپنی کوتاہیوں کے سبب جہنم کے عذاب میں گرفتار تھے۔ملاحظہ فرمائیں۔



ِ نماز نہ پڑھنے کی سزا :آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کچھ لوگوں کے سر پتھر سے کچلے جارہے ہیں ، دریافت فرمایا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ جبرئیل امین نے عرض کیا یہ وہ لوگ ہیں جو فرض نمازوں کو ادانہ کرتے تھے ۔

زکوۃ ادا نہ کرنے کی سزا : سید عالم ﷺ نے کچھ ایسے لوگوں کو ملاحظہ فرمایا جن کی صرف شرم گاہیں چھپی ہوئی تھیں اور جانوروں کی طرح وہ چررہے تھے ، کانٹے اور جہنم کے گرم پتھر کھارہے تھے ، پوچھایہ کون ہیں ؟جبرئیل امین نے عرض کیا یہ وہ لوگ ہیں جو زکواۃ ادا نہیں کرتے تھے ۔



زنا کاری کی سزا : کچھ ایسے مرد اور عورت ملا حظہ فرمائے جن کے آگے دیگچوں میں عمدہ پکا ہوا گوشت موجود ہے اور کچا بد بودار گوشت بھی سامنے رکھا ہوا ہے ، لیکن وہ عمدہ کو چھوڑ کر کچے بد بودار گوشت کو کھا رہے ہیں ۔فرمایا یہ کون ہیں ؟ عرض کیا یہ وہ مرد ہیں جنہوں نے اپنی حلال بیویوں کو چھوڑ کر غیر عورتوں سے ناجائز تعلق پیدا کیا تھا اور یہ وہ عورتیں ہیں جنہوں نے اپنے شوہر کے سوا غیر مردوں سے ناجائز تعلق پیدا کرلیے تھے ۔



سود خور کی سزا : آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ایک خون کا دریاہے اس کے بیچ میں ایک آدمی ہے جب کنارے کے قریب آتا ہے تو کنارے والا شخص اس کے منہ پر پتھر مارتا ہے جس سے وہ بیچ نہر میں پہنچ جاتا ہے پھر یہی عمل اس کے ساتھ مسلسل ہورہا ہے ، فرمایا :یہ کون ہے ؟عرض کیا یہ وہ آدمی ہے جو دنیا میں سود لیتا تھا ۔

غیبت کی سزا : آپ نے کچھ ایسے لوگ بھی ملاحظہ فرمائے جن کے ناخن تانبے کے ہیں ان سے اپنے منہ اور سینوں کو کھسوٹ رہے ہیں ، فرمایا: یہ کون لوگ ہیں ؟ عرض کیا یہ غیبت کرنے والے ہیں ۔

بے عمل واعظین کی سزا : آپ نے کچھ ایسے لوگ بھی ملاحظہ فرمائے جن کی زبانیں اور ہونٹ لوہے کی قینچیوں سے کاٹے جارہے ہیں ، دریافت فرمایا: یہ کون لوگ ہیں ؟ جبریل امین نے عرض کی یہ آپ کی امت کے بے عمل واعظ ہیں۔ اللہ اکبر اور جوبد عمل ہوں ان کا کیا حشر ہوگا ۔ العیاذ باللہ العظیم ۔


مسلمانوں کو چاہیے کہ ان باتوں سے عبرت اور نصیحت حاصل کریں۔ جہنم میں عذاب پانیوالے مذکورہ لوگوں کا تذکرہ مشکوۃ شریف اور مکاشفۃالقلوب سے لیا گیا۔جنہیں تفصیل کی ضرورت ہو وہ ان کتابوں کو دیکھ سکتا ہے۔ما توفیقی الا باللہ العلی العظیم