احادیث ر سول میں شب برأت کی فضیلتیں
از : مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی.
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پندرہویں شعبان کی رات یعنی شب برات کی بڑی فضیلتیں بیا ن فرمائی ہیں اور خود بیدار رہ کر اس رات عبادت کی اور صحابہ کو بھی اس عمل خیر کی ترغیب دی ہے۔ لہذا ہم مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ اس سنہرے موقع سے فائدہ اٹھائیں اور اس رات عبادت وبندگی کی کثرت کے ذریعہ اپنی دنیا و آخرت سنوارنے کی کوشش کریں۔آئیے اس رات کی برکتوں سے مالا مال ہونے کے لیے ذیل کی حدیثوں کو دیکھیں اور ان پر عمل کرکے دونوں جہا ں میں سر فراز ہونے کی کوشش کریں۔
پہلی حدیث: حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا :جب پندرہویں شعبان کی رات آئے تو رات عبادت میں گزارو اور دن کو روزہ رکھو ، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ آفتاب غروب ہونے کے بعد آسمان دنیا پر نازل ہوتا ہے ۔ (جیسا اس کی شان کے لائق ہے ) اور فرماتا ہے: ہے کوئی مغفرت اور بخشش کا طلب گار تاکہ میں اسے بخش دوں ؟ ہے کوئی روزی کا طلب گار تاکہ میں اسے روزی دوں ؟ ہے کوئی مبتلا ئے مصیبت تا کہ میں اسے چھٹکارا عطا کروں ؟ اس طرح سے برابر ندا دیتا رہتا ہے طلوع فجر تک ۔(سنن ابن ماجہ ، رقم الحدیث : ۱۴۵۱؍شعب الایمان ، رقم الحدیث : ۳۶۶۴)
دوسری حدیث: حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے کہ ایک رات میں نے رسول اللہ ﷺ کو بسترپہ نہ پایا، تو میں انہیں تلاش کرنے کے لیے نکلی ، میں نے دیکھا کہ آپ جنت البقیع میں ہیں ( یہ مدینہ شریف کے قبرستان کا نام ہے ) اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھا ئے ہوئے ہیں ، رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے ارشاد فرمایا: کیا تم اس بات سے ڈرتی ہو کہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ تم پر ظلم کریں گے ؟ حضرت عائشہ نے عرض کیا: ایسا کچھ نہیں،البتہ مجھے ایسا گمان ہواکہ شاید آپ دوسری ازواج کے پاس تشریف لے گئے ہوں ۔ اس پر اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات آسمان دنیا پر نزول فرماتا ہے اور قبیلہ بنو کلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ لوگوں کی مغفرت فرمادیتاہے ۔
( مسند امام احمد ، رقم الحدیث :۲۶۷۷۱؍جامع الترمذی ، رقم الحدیث : ۷۴۴؍ سنن ابن ماجہ ، رقم الحدیث : ۱۴۵۲۔شعب الایمان ، رقم الحدیث : ۳۶۶۷)
تیسری حدیث: حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :بے شک اللہ تعالیٰ پندرہویں شعبان کی رات بندوں کو بخش دیتا ہے ۔ سوائے مشرک اور کینہ پرور کے ۔(سنن ابن ماجہ ، رقم الحدیث : ۱۴۵۳؍شعب الایمان ، رقم الحدیث: ۳۶۷۴) یعنی مشرک اور بغض و عناد رکھنے والے کی مغفرت نہیں کی جاتی۔
چوتھی حدیث: حضرت عبداللہ بن عمر و رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کی طرف پندر ہویں شعبان کی رات طلوع ہوتا ہے اور اپنے تمام بندوں کو بخش دیتا ہے ، البتہ بغض وعناد رکھنے والے اور ناحق قتل کرنے والے کو نہیں بخشتا۔ (مسندامام احمد ، رقم الحدیث :۶۸۰۱)
پانچویں حدیث: شب برات کی فضیلت کے سلسلے میںایک طویل حدیث کا حصہ ملاحظہ فرمائیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میرے پاس جبرئیل آئے اور کہا یہ پندرہویں شعبان کی رات ہے ۔ اس رات اللہ تعالیٰ قبیلہ بنوکلب کی بکریوں کے بالوں سے بھی زیادہ تعداد میں اپنے بندوں کی مغفرت فرماتا ہے ۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس رات مشرک اور بغض وعناد رکھنے والے، رشتہ کاٹنے والے اور کپڑا ٹخنہ کے نیچے کرنے والے اور ماں باپ کے نافرمان پر نظرکرم نہیں فرماتا اور نہ شراب کے عادی پر ۔(شعب الایمان ، رقم الحدیث:۳۶۷۸)
چھٹیحدیث: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں کی جاتی (۱) جمعہ کی رات (۲) ماہ رجب کی پہلی رات (۳)پندرہویں شعبان کی رات (۴) عید الفطر کی رات (۵) عید الاضحی کی رات ۔(مصنف عبد الرزاق : رقم الحدیث : ۷۹۲۷)
ساتویں حدیث:حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتی ہیںکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ۱۵؍ویں شعبان کو نماز پرھنے لگے تو اتنا لمبا سجدہ کیا کہ مجھے خدشہ گزرا کہ آپ وصال فرماگئے ہیں۔(بیہقی شریف)
آٹھویں حدیث: حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عائشہ! کیا تو جانتی ہے کہ آج کون سی رات ہے ؟ میں نے عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول ہی بہتر جانتے ہیں ۔آپ نے فرمایا:یہ پندرہ پندرہویں شعبان کی رات ہے اور اللہ تعالیٰ آج کی رات اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے اور توبہ و استغفار کرنے والوں کو بخش دیتا ہے اور رحم کی درخواست کرنے والوں پر رحم فرماتا ہے اور بیٹھ رہنے والوں کو ان کے حال پر چھوڑ دیتا ہے۔(الترغیب والترہیب،المجلد الثانی ،رقم الحدیث:۱۵۲۰)
نویں حدیث:حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شعبان کی ۱۳؍ویں شب اپنی امت کی شفاعت کے لیے دعا کی تو آپ کو تہائی عطا ہوا پھر چودہویں شب دعا کی تو دوتہائی عطا ہوا پھر پندرہویں شب دعا کی تو سب کچھ عطا ہوا،سوائے اس آدمی کے جو اللہ تعالی سے بدکے ہوئے اونٹ کی طرح بھاگے یعنی نافرمانی کرنے والا۔(مکاشفۃالقلوب)
دسویں حدیث:حضرت ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم شعبان کی آمد پر فرماتے تھے اس مہینے میں اپنی جانوں کو پاک کرواور اپنی نیتوں کو درست کرو۔(مکاشفۃالقلوب)
مذکورہ حدیثوں سے معلوم ہواکہ پندرہویں شعبان کی رات نجات و مغفرت کی رات ہے ۔ اس رات اللہ تعالیٰ کا دریائے رحمت جوش میں ہوتا ہے ۔ لہٰذا اس رات کو عبادت وبندگی میں گزارنا چاہیے ۔ اللہ کے رسول ﷺنے پندرہویں شعبان کی رات عبادت کرنے اور دن میں روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ہے اور بذات خود شہداء و دیگر مرحومین کے ایصال ثواب کے لیے قبر ستان تشریف لے گئے ، لہٰذا ہم مسلمانوں کو بھی چاہیے کہ اس رات نوافل کی ادائیگی ،تلاوت ِ قرآن پاک ، ذکرواذکار ، درود سلام ، صدقہ وخیرات ،اورمرحومین کے لیے ایصال ثواب میں گزاریں تاکہ اس کا بیش بہا فائدہ ہمیں اور ہمارے مرحومین کو دنیا و آخرت میں نصیب ہو ۔
پندرہویں شعبان امام غزالی کی نظر میں
پندرہویں شعبان کی رات کو مختلف ناموں سے پہچانا جا تا ہے کیوں کہ یہ رات اپنے دامن میں مختلف طرح کے فضائل لیے ہوئے ہے حضرت امام غزالی نے مکاشفۃ القلوب میںتحریر فر مایا ہے یہاں اختصار کے ساتھ اس کا خلاصہ لکھا جا رہا ہے۔یہ کفارہ کی رات ہے : کیونکہ اس رات اللہ کی عبادت کر نا اور یا د الٰہی میں ساری رات جا گ کر گزار دینا گناہوں کے کفارے کا سبب ہو تا ہے۔یہ شفاعت کی رات ہے : اس لیے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے پند رہویں شعبان کی رات اللہ تعا لی سے اپنی پو ری امت کی بخشش کی دعا فر مائی جسے اللہ تعا لی نے قبول فر مالیا سوا ئے ا س کے جو اپنے اعمال بد کے ذریعہ خود کو اللہ کی رحمت سے دورکر لے۔یہ بخشش کی رات ہے: اس لیے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا : پندرہویں شعبان کی رات اللہ تعا لیٰ اپنے بندوں پر ظہور فر ماتا ہے اور دو شخص کے علا وہ تمام لو گوں کی بخشش فر مادیتا ہے ان دو میں سے ایک مشرک اور دوسرا کینہ پر ورہے۔یہ زندگی کی رات ہے: اس لیے کہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فر مایا جس نے پندرہویںشعبان کی رات جاگ کر (عبادت میں) گزار دی تو ایسے دن جب کہ تمام دل مر جا ئیں گے اس انسان کا دل نہیں مرے گا۔یعنی قیامت کے دن اس کا دل مطمئن ہوگا۔یہ قسمت اور تقدیر کی رات ہے:اس لیے کہ جب پندرہویں شعبان کی رات آتی ہے تو ملک الموت کو ہر اس شخص کا نام لکھوا دیا جا تا ہے جو اس شعبان سے آئندہ شعبان تک مرنے والا ہے۔ (مکاشفۃالقلوب)
ایک حیرت انگیز واقعہ :
شب برأت کی فضیلت کے سلسلے میں حضرت عبدالرحمن صفوری علیہ الر حمہ نے ایک حیرت انگیز واقعہ تحریر فرمایا ہے۔ چنانچہ تحریر فرماتے ہیں : حضرت عیسیٰ علیہ السلام ایک پہاڑ کے قریب سے گزر ے تواس پہاڑپر انہیں سفید رنگ کا گنبد نظر آیا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اسے چاروں طرف سے دیکھا اور اسکی خوبصورتی کو دیکھ کر حیرت میں پڑگئے اسی دوران ان پروحی نا زل ہو ئی کہ اگر تم اس گنبد کے راز سے واقف ہو نا چاہتے ہو تو ہم اسے کھول دیتے ہیںآپ نے ہاں میںجواب دیاتو اچانک اس گنبد سے ایک دروازہ ظاہر ہوا اور اس سے ایک شخص سبز رنگ کا عصا ہاتھ میں لیے ہو ئے باہر نکلا گنبد کے اندر انگور کا ایک پو دا تھا اور پا نی کا ایک چشمہ بھی جاری تھا حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے دریافت فرمایا: تم یہاں کب سے مصروف عبادت ہو اسنے عرض کیا چار سو سال سے عبادت میں مصروف ہوں!بھوک لگتی ہے تو انگور کھا کر پیٹ بھر لیتا ہوں پیاس لگتی ہے تو چشمہ کے پانی سے پیاس بجھا لیتا ہوں،حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میںعرض کیا :میرا گمان ہے الٰہی اس سے افضل تیرے نزدیک کوئی نہ ہو گا؟ار شاد ہوا کیوں نہیں :جو شخص امت محمدیہ میںسے پندرہویں شعبان کی رات دو رکعت نفل ادا کرے گا وہ اس شخص کی چار سو سال کی عبادت سے افضل شمار ہو گا۔ (نذہۃالمجالس)
گزارش: قارئین حضرات! مذکورہ بالا سطور پڑھ کر آپ اچھی طرح سمجھ چکے ہوں گے کہ شب برأت یعنی پندرہویں شعبان کی اللہ کی بارگاہ میں کیا قدر و منزلت ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر کس کس طرح اس رات کرم فرماتا ہے ۔اس لیے وقت ضائع کیے بغیررات نفل نمازوں میں ،تسبیح وتہلیل میں ،ذکر و درود اور تلاوت میں گزاریں، قبرستان جائیں ،مرحومین کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کریں ،صدقہ خیرات کریں ،رات عبادت میں اور دن روزہ رکھ کر گزاریں ،یاد رکھیںاللہ کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں فرماتا ہے۔
Visit Us : http://www.tableeghseerat.com/
Like Us : https://www.facebook.com/TableeghSeerat
Subscribe Us : https://www.youtube.com/user/Tableegh...
Join Us : https://www.facebook.com/groups/Table...
Join Us : https://twitter.com/tableeghseerat
No comments:
Post a Comment