Sunday, 15 May 2016

Sher e Khuda Hazrat Ali

 شیر خداحضرت علی کرم اللہ وجہہ

حالات زندگی اور فضائل ومناقب

از: مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی

حضرت علی خانوادۂ ہاشمیہ کے ایک لائق و ہونہار ، سعادت مند فرزند تھے اللہ تبارک وتعالیٰ نے انہیں فضل و کمال کی وافر صلاحیتوں سے بہرہ مند فرمایا تھا ،آپ کی تربیت معلم کتاب و حکمت کے زیر سایہ ہوئی تھی، بچوں میں سب سے پہلے قبول اسلام کا شرف آپ کو حاصل تھا، ابتدائے بعثت سے لے کر رحلت رسول گرامی تک مکہ مدینہ ، سفر وحضر ، جلوت وخلوت ، جنگ و امن ہر حال میں سرکار دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت و مصاحبت مقدرمیں آئی تقرب رسول اور خدا داد ملکۂ علم و فضل نے علی مرتضیٰ کی ذات کو علم و فن کا بحر بے کراں بنا دیا تھا جملہ مکارم اخلاق اور محاسن و فضائل ایک ذات علی میں اس طرح جمع ہوگئے کہ کہیں اور نظر نہیں آتے ، علم و فضل ، زور بیان ، فصاحت بلاغت ، قوت واستنباط واجتہا،د شعر وادب ، تقریر و تحریر میں عدیم المثال تھے فکر رسا ، نگاہ دور رس اور فہم عالی کے مالک تھے ۔ آپ کے مختصر حالات حسب ذیل ہیں۔

نام و نسب :اسم گرامی علی ،کنیت ابو الحسن وابو تراب، لقب حیدر و مرتضیٰ ہے، والد کا نام ابو طالب، والدہ کا نام فاطمہ ہے ۔ پورا سلسلہ نسب اس طرح ہے علی بن ابی طالب بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر بن کنانہ بن خزیمہ مدرکہ بن الیاس بن مضر بن مزار بن مسعد بن عدنان ہے ۔ جناب ابو طالب کی شادی ان کے چچا اسد بن ہاشم بن عبد مناف کی بیٹی فاطمہ سے ہوئی تھی جن کے بطن سے حضرت علی پیدا ہوئے تھے اس طرح آپ نجیب الطرفین ہاشمی اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی ہوئے ۔ 

حضرت علی کی ولادت اور پرورش :حضرت علی بن ابی طالب بعثت نبوی سے دس سال پہلے پیدا ہوئے عبد المطلب کے بعد آں حضور کے ایام طفولیت ابو طالب کی آغو ش تربیت میں بسر ہوئے سن رشد کو پہنچ کر جب آبائی پیشہ اختیار فرمایا اور آںحضرت مرفع حال ہوئے تو تنگ حال مشفق چچا ابو طالب کی اعانت کا موقع ملا حضرت علی کی فرخندہ فالی کا باب اس طرح کھلا کہ قحط سالی کی وجہ سے بالعموم قریش پریشان حال تھے انہیں میں ابو طالب بھی تھے جو اپنی کبر سنی اور پریشان حالی کی وجہ سے سخت معاشی دشواریوں سے دو چار تھے آں حضور نے اپنے چچا حضرت عباس سے مشورہ کیا اور دونوں نے دور عسرت میں ابو طالب کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے یہ تدبیر اختیار فرمائی کہ حضرت جعفر بن ابی طالب کو حضرت عباس نے اپنی کفالت میں لے لیا اور علی بن ابی طالب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے سایہ شفقت میں آگئے حضرت علی نے ہوش کی آنکھیں کھولیں تو اپنے آپ کو آغوش محمدی میں پایا یہ فخر صرف حضرت علی مرتضیٰ کے لیے مشیت ربانی نے مقدر کیا تھا ۔ (ابن ہشام ج ۱ ص۸۱) 

قبول اسلام :حضرت علی نے آغوش رسالت میں پرورش پائی تھی اس لیے مردوں میں سب سے پہلے ان کی نگاہیں اسلامی مناظر سے بہرہ مند ہوئیں چنانچہ بعثت کے ابتدائی ایام میں آپ نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجۃ الکبریٰ کو مصروف عبادت دیکھا حیرت سے دریافت کیا آپ دونوں کیا کررہے تھے ؟ رسول گرامی نے ارشاد فرمایا یہ اللہ کا دین ہے جس کواللہ نے اپنے لیے پسند فرمایا ہے اور اسی کے لیے انبیا کو مبعوث کیا ہے میں تم کو بھی خدائے واحد کی طرف بلاتا ہوں جو تنہا معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ مصاحبت رسول کی برکتوں نے فطرت سلیم کو نکھار دیا تھا ایک شب توقف کے بعد بارگاہ رسالت میں حاضر ہو کر دولت اسلام سے بہرہ مند ہوگئے اسلام سے قبل آپ کا دامن عرب کی جاہلی رسوم اور اوثان پرستی سے کبھی بھی داغدار نہ ہو۔

حضرت فاطمہ سے عقد :۲ھ میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سب سے چہیتی لخت جگر خاتون جنت حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا عقد اپنی آغوش شفقت و رحمت کے پروردہ علی مرتضیٰ کے ساتھ کردیا بعد نکاح اس مقدس جوڑے پر وضو کا پانی چھڑکا اور خیر و برکت کی دعا فرمائی نکاح کے گیارہ ماہ بعد جب رخصتی کا وقت آیا تو حضرت علی مرتضیٰ رضی اللہ عنہ حارث بن نعمان کا مکان کرایہ پر لیا اور اسی مکان میں رخصتی کرائی شہنشاہ کونین کے دربار سے خاتون جنت کو جہیز میں دو چکیاں ایک مشکیزہ ایک چادر ایک پلنگ اور ایک بستر ملا جو آخر وقت تک ساتھ رہا جس میں افلاس کے سبب حضرت علی کوئی اضافہ نہ کر سکے حضرت علی نے دعوت ولیمہ میں جو کی روٹی ، کجھور اور ایک خاص قسم کا شوربا پیش کیا۔حضرت علی مرتضیٰ کو قدرت نے جن امتیازی سعادتوں کے لیے مخصوص فرمایا تھا انہیں میں دامادیٔ رسول کا شرف آپ کی کلاہ افتخار کا طرۂ امتیاز ہے ۔ 

فتح خیبر :حضور اکرم صلے اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کے مقدس لشکر کو لے کر خیبر کے یہودیوں کی سر کوبی کے لیے نکلے اور خیبر پہنچ کر یہودیوں کے  قلعوں کو محصور کر لیا یہودیوں نے جب اپنے آپ کو قلعوں میں محصور پایا تو مجبور ہو کر قلعوں ہی کے اندر بیٹھ کر مدافعت کر نے لگے یہودیوں کو اپنے ان قلعوں پر بڑا ناز تھا لیکن اسلامی شیروں نے ان کے تیروں اور پتھروں کی زد میں رہتے ہوئے آگے بڑھ کر قلعہ ناعم کے ساتھ اور بھی دو ایک قلعے فتح کر لیے پھر قلعہ قموص پر دھاوا کیا چنانچہ یہ قلعہ بھی دو تین دن میں فتح ہوگیا اور اسی طرح مصعب ، طلیح سلائم نام کے قلعے بھی فتح ہوگئے اب قلعہ خیبر کی باری تھی یہ قلعہ سب سے زیادہ مضبوط تھا اس کی فتح کے لیے بڑی کوشش کی گئی مگر یہ قلعہ فتح ہونے میں نہیں آیا جب کئی روز گذر گئے تو آپ نے فرمایا خدا کی قسم ! کل میں جھنڈا ایسے شخص کو دوں گا جو اپنی خدا داد قوت سے قلعہ کو فتح کر ے گا چنانچہ دوسرے دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو جھنڈا دیا اور فرمایا جاؤ تم اس قلعہ کو فتح کرو حضرت علی رضی اللہ عنہ جھنڈا اور لشکر لے کر خیبر کی طرف بڑھے تو قلعہ خیبر کا مالک مرحب حضرت علی کے مقابلے میں آیا اور یہ شعر پڑھنے لگا :۔؎

قَدْ عَلِمَتْ خَیْبَرُ اَنِّی مَرْحَبٌ شَاکِی السَلَاحِ بَطْلٌ مُجَرَّبٌ

مطلب ان شعروں کا یہ ہے کہ تمام خیبر کو معلوم ہے کہ میں مرحب ہوں ، کون مرحب ؟ وہ جو مسلح اور تجربہ کار بہادر ہے ۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے مرحب کا یہ شعر سنا تو آپ نے جواب میں یہ شعر پڑھا    ؎اَنَا الَّذِیْ سَمَتْنِیْ اُمِّیِ حَیْدَرَہٗ  کَلَیْثِ غَایَا تٍ کَرِیْہِ الْمَنْظَرَہْ یعنی سن اے مرحب ! ’’میں وہ ہوں جس کا نام میری ماں نے شیر رکھا جو جنگل کے شیروں کی طرح مہیب ہے ۔‘‘اس کے بعد مرحب اور حضرت علی کا مقابلہ شروع ہوگیا آخر حضرت علی کی تلوار مرحب کی سپر کو کاٹتے ہوئے اس کے سر پر پہنچی اور سر کے دو ٹکڑے کر کے اس کے بدن کے بھی دو ٹکڑے کر دیئے ۔مرحب خاک پر لوٹنے لگا ، مرحب کو اس حالت میں دیکھ کر اس کے دوسرے ساتھیوں نے قلعہ سے نکل کر مسلمانوںپر حملہ کردیا لیکن بہادران اسلام نے جان پر کھیل کر ایسا دھاوا کیا کہ یہودی ہمت ہار کر بھاگنے لگے مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا حضرت علی رضی اللہ عنہ قلعہ کے پھاٹک پر پہنچ گئے اور قلعہ کے دروازہ کو پکڑ کر اس زور سے کھینچا کہ پل بھر میں اسے اکھاڑ کر الگ پھینک دیا اس طرح سارے مسلمان قلعہ کے اندر داخل ہوگئے مسلمانوں کے اس یلغار سے یہودیوں کے چھکے چھوٹ گئے اور قلعہ فتح ہوگیا ۔ (تاریخ اسلام ص۲۳۰ج۱)

یمن میں اشاعت اسلام :۱۰ھ میں تبلیغ دین کے لیے عرب کے مختلف خطوں میں جب وفود بھیجے گئے تو حضرت خالد بن ولید کو یمن بھیجا گیا چھ ماہ کی جد و جہد کے باوجود انہیں کامیابی حاصل نہ ہوئی تو حضور نے حضرت علی کو یمن کا قاضی بنا کر بھیجا آپ کے یمن پہنچتے ہی وہاں کے ماحول میں خوشگوار تبدیلی ظاہر ہوئی اور چند روزہ تعلیم وتلقین سے لوگ اسلام کے شیدائی ہوگئے اور یہاں کا ممتاز قبیلہ ہمدان مشرف باسلام ہوگیا جب سرکار نے حجۃ الوداع کیا تو حضرت علی یمن سے آکر شریک ہوئے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں مناسک حج ادا کیے ۔
شہادت :خلیفۂ بر حق ، مہر چرخ شجاعت ، تاجدار ولایت ، آفتاب علم و حکمت امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ۲۱ رمضان ۴۰ھ بروز جمعہ ۶۳ سال کی عمر میں جام شہادت نوش فرمایاحضرت حسن و حسین اور عبد اللہ بن جعفر نے غسل دیا کفن پہنایا حضرت حسن نے نماز جنازہ پڑھائی ۔ 

حضرت علی کے فضائل وکمالات پر چند حدیثیں
(۱)حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے  انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کو غزوۂ تبوک میں پیچھے چھوڑ دیا تو حضرت علی نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپ مجھ کو عورتوں اور بچوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ رہے ہیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تو اس بات سے راضی نہیں کہ میری جانب سے تمہارا مرتبہ وہی ہو جو حضرت موسیٰ کی جانب سے حضرت ہارون کا مرتبہ تھا مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں۔ ( مسلم شریف جلد ثانی صفحہ ۲۷۸) 

(۲)زید بن ارقم سے مروی ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آ پ نے فرمایا میں جس کا مولیٰ ہوں علی اس کے مولیٰ ہیں ۔( ترمذی شریف جلد ۲صفحہ ۲۱۳) 
(۳) حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے وہ فرماتی ہیں کہ میں ام سلمہ کے پاس آئی تو میں نے ان کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے کہ منافق علی سے محبت نہیں کرے گا اور مومن ان سے بغض نہیں رکھے گا ( ترمذی شریف جلد ثانی صفحہ ۲۱۳)

(۴)حبشی بن جنادہ سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔ (ترمذی شریف جلد ثانی صفحہ ۲۱۳) 
(۵)ابن عمر سے مروی ہے انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابۂ کرام کے درمیان مواخاۃ فرمائی تو علی روتے ہوئے آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے صحابۂ کرام کے درمیان مواخاۃ فرمائی اور مجھے کسی کا بھائی نہیں بنایا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم  دنیا میں اور آخرت میں میرے بھائی ہو۔(ترمذی شریف جلد ثانی صفحہ ۲۱۳)

مذکورہ حدیثوں کے علاوہ آپ کے فضائل و محاسن پر درجنوں حدیثیں موجود ہیںجنکاتذکرہ اختصار کے سبب چھوڑا جارہا ہے ۔ اللہ تعالی کی بارگاہ میں دعا ہے کہ وہ ہم مسلمانوں کواہل بیت اطہار ،حسنین کریمین اور حضرت علی اور حضرت فاطمہ کی سچی محبت اپنا کر زندگی گزارنے کی سعادتیں نصیب فرمائے۔آمین ثم آمین


No comments:

Post a Comment