Saturday, 14 May 2016

Elim e Deen Ki Ahmiyat wa Zaroorat

علم دین کی اہمیت و ضرورت 
از :مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی

انسان نے اپنی تاریخ میں کسی اورمذہب کواسلام کی طرح علم کواہمیت دیتے نہیں دیکھا ۔ علم کی دعوت دینے، اس کاشوق دلانے ، اس کی قدر ومنزلت بڑھانے ، اہل علم کی عزت افزائی کرنے، علم کے آداب بیان کرنے، اس کے اثرات ونتائج واضح کرنے، علم کی نا قدری اوراہل علم کی مخالفت و بے عزتی سے روکنے میںاسلام نے جو بھرپورا ورمکمل ہدایات پیش کیں ہیں۔اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ جو پچھلے مذاہب کا مطالعہ کرے گا وہ اس سلسلے میں اسلام کی عظمت کامزید قائل ہوجائے گا۔علم کانام سامنے آتے ہی ایسا محسوس ہوتاہے۔ جیسے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بجلی چمک اٹھی ہو یہ علم ہی ہے جوانسان کواس کے مقصدزندگی سے آگاہ کرتاہے۔ ہرنیک وبد اورمفید و مضر کی پہچان کراتاہے اوراسے حیوانوں کی سطح سے بلند کرکے انسانیت کی سطح تک پہنچاتا ہے۔ اسی علم سے افراد اورقومیں آگے بڑھتی ہیں۔ کیاعلم کی اہمیت کااس سے بڑھ کر کوئی اورثبوت چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی جو سب سے پہلی آیت اپنے رسول پرنازل فرمائی وہ یہ تھی ۔اِقْرَاء بِاسْمِ رَبِّکَ اَّلذِیْ خَلَق:  ترجمہ: پڑھئے اپنے رب کے نام سے جو سب کا پیداکرنے والا ہے۔

پڑھنا اللہ کے نام سے ہی ہے، نفس کی خواہشوں اورکسی قسم کے غلط مقصد کے لئے نہیں۔ اس کامطلب یہ ہے کہ علم کو اسلام میں ایک خاص قسم کا تقدس حاصل ہے۔ کسی انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اسے کسی ایسے مقصد کے لئے استعمال کرے جو حق سے ٹکراتاہو۔اسلامی تعلیمات میں دینی ودنیوی تمام علوم پرعلم کااطلاق ہوتاہے جب کہ مغربی ممالک علم کومحض دنیوی کامیابی کاذریعہ اورزینہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اسلام اسے آخرت میں سرخروئی اوردنیا میں کامیابی دونوں کاذریعہ قرار دیتاہے۔مگرسخت افسوس کہ عرصہ درازسے مسلمان علم کو جتنا نظرانداز کرتے آرہے ہیںاتنا دنیا کی کسی اورقوم نے نہیں کیا۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم دنیوی علوم میںبھی پیچھے ہیں اوردینی علوم میں بھی جب کہ مسلمانوں پریہ ضروری ہے کہ اگروہ زمانے کی رفتار سے آگے نہیں توکم از کم ساتھ ساتھ چلنے کی صلاحیت اپنے اندر پیداکریں۔اس کے لئے عالمی حالات سے واقفیت بھی ضروری ہے اوربنیادی دینی علوم میں مہارت کے ساتھ دنیوی علوم بھی۔آج پورا عالم اسلام پسماندہ اورمجبور کیوںہے؟شراب نوشی،جوا اورلاٹری کاچلن ہمارے معاشرے میں بڑھ رہا ہے۔ یوں ہی جنسی انارکی، حرام کاری ، وغیرہ کے رجحانات میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف جہالت کی وجہ سے ملت کے مستقبل کی تعمیر اوراس کے افراد کی ترقی کے ضروری کام سے لوگ غافل ہیں۔ہماری نئی نسل بہت حد تک مذہب بیزار ہوچکی ہے۔ انہیں مذہب کے قریب لانے کی کوشش نہ کے برابرہے۔ تعلیم نسواں پربھی خاطر خواہ توجہ نہیں ہوپارہی ہے۔ قوم وملت کے صدہامسائل ہیںجو تشنہ کام ہیں اگرحقیقی معنوں میںعلم کی روشنی سے دل منور ہوجائے تو انشاء اللہ ان سارے مسائل کے حل کی راہیںآسان ہوجائیں گی۔

    کتناعلم سیکھنا ضروری ہے
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے علم کے سیکھنے پربہت زور دیا ہے اورہرممکن رغبت دلائی ہے۔ یہاں تک کہ ہرمسلمان کے لئے اسے اہم ترین فریضہ قرار دیا ہے۔چنانچہ ارشاد پاک ہے علم حاصل کرنا ہرمسلمان (مرد وعورت)پر فرض ہے۔ (ابن ماجہ)لیکن کتنا اور کون سا علم سیکھنا فرض ہے۔ اس سلسلے میں مختلف اقوال ہیں۔بے شمار معتبر ومستند کتابوں کے مطالعہ کے بعداس نتیجے پر پہنچاہوںکہ اتنا علم جس سے مسلمان اپنے عقیدے کے بارے میں یقینی وحقیقی معرفت حاصل کرسکے۔ اپنے رب کی عبادت اورحضور کی اطاعت کرسکے۔ اپنے نفس اوردل کا تزکیہ کرسکے۔ نجات دلانے والی چیزوں کاعلم ہواور تباہ کن گناہوں کاعلم ہو تاکہ ان سے بچاجاسکے۔ اپنے ساتھ ، اپنے خاندان والوں اورپڑوسیوں کے ساتھ معاملات کو درست کیاجاسکے۔ حلال وحرام میں فرق ہوسکے اس قدر علم ہرمسلمان مردوعورت کے لئے لازم ہے ۔ جو درس گاہوں میں پڑھ کر ، مسجدوں میں سن کر اورمختلف ذرائع سے حاصل ہوسکتاہے۔

علم دین کی ضرورت کیوں ؟
یہ بہت ہی اہم سوال ہے۔صاحبان علم ودانش نے اس کے بہت سارے جوابات تحریر کیے ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ علم کی ضرورت اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے جیساکہ اس آیت کریمہ سے سمجھ میںآرہاہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْانْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنَ۔  ترجمہ: اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو اسی لیے پیدا کیا تاکہ وہ میری عبادت کریں۔(ذریت پارہ ۲۷آیت:۵۶)  معلوم ہواکہ انسان کی تخلیق عبادت کے لیے کی گئی ہے اور علم کے بغیر عبادت کرناممکن نہیںاس لیے علم حاصل کرنا فرض ہوا۔ نیز قرآن پاک میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو اپنے محبوب ﷺ کی اطاعت کا حکم فرمایاہے جیساکہ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا  مَااٰتَا کُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَانَھَاکُمْ  عَنْہُ فَانْتَھُوْاo ترجمہ :’’جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو‘‘۔( حشر :پارہ ۲۸،آیت۷)   سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب تک آدمی کے پاس دینی علم نہیںہوگا وہ اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو نہ اپنا سکتا ہے اور نہ ہی منع کی ہوئی باتوںسے خود کو روک سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہوا کہ علم حاصل کرے تاکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اتباع کرسکے۔

علم دین کی فرضیت میںحکمت کیاہے؟
          ہر مسلمان مرد وعورت پر علم کے فرض کرنے کی حکمت کیا ہے۔ اسے مفسرقرآن حضرت امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ کی اس تحریر سے سمجھیں فرماتے ہیں۔ 
اول:- اللہ تعالیٰ نے مجھے فرائض کی ادائیگی کاحکم فرمایا ہے اورمیں علم کے بغیر ان کی ادائیگی پرقادر نہیں ہوسکتا۔ دوم:-خدائے تعالیٰ نے مجھے گناہوں سے دور رہنے کاحکم فرمایا ہے اورمیں علم کے بغیراس سے بچ نہیں سکتا۔ سوم:- اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کاشکر مجھ پر لازم فرمایا ہے اورمیںعلم کے بغیر ان کاشکر نہیں کرسکتا۔ 
چہارم:خدائے تعالیٰ نے مجھے مخلوق کے ساتھ انصاف کرنے کاحکم دیاہے اورمیں علم کے بغیر انصاف نہیں کرسکتا۔ پنجم:-اللہ تعالیٰ نے مجھے بلا پہ صبر کرنے کاحکم فرمایا ہے اورمیںعلم کے بغیر اس پر صبر نہیں کرسکتا۔ ششم:- خدائے تعالیٰ نے مجھے شیطان سے دشمنی کرنے کاحکم دیا ہے اور میں علم کے بغیر اس سے دشمنی نہیں کرسکتا۔ (علم اور علما۔بحوالہ تفسیر کبیرج۱ ،ص۲۷۸) پھرسمجھنے کی بات یہ بھی کہ ہر آدمی پر خواہ وہ مرد ہویا عورت اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے حقوق عائد کیے ہیں۔ (۱)حقوق اللہ (۲)حقوق العباد ۔اور ان دونوںحقوق کی ادائیگی بے علم ممکن نہیں اسی لئے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ oترجمہ:علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔  (مشکوٰۃ ص:۳۴) حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔شار حین حدیث نے فرمایا ہے کہ علم سے مراد وہ مذہبی علم ہے جس کاحاصل کرنا بندہ پر ضروری ہے۔ جیسے خدائے تعالیٰ کو پہچاننا ، اس کی وحدانیت ، اس کے رسول کی شناخت اورضروری مسائل کے ساتھ نماز پڑھنے کے طریقے کوجاننا۔ اس لئے کہ ان چیزوں کا علم فرض عین ہے۔ (مرقات ج ۱،ص۲۳۳)

اسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ علم سے مراد اس حدیث میںوہ علم ہے جو مسلمانوں کے لئے وقت پرضروری ہے ۔مثلاً جب اسلام میں داخل ہوا تواس پر خدائے تعالیٰ کی ذات وصفات کو پہچاننا اور رسول کی رسالت ونبوت کوجاننا واجب ہوگیا اورہر اس چیز کاعلم ضروری ہوگیا جس کے بغیرایمان صحیح نہیں۔ جب نماز کاوقت آگیا تو اس پرنماز کے احکام کاجاننا ضروری ہوگیا پھر جب ماہ رمضان آیا تو روزہ کے ا حکام کاسیکھنا ضروری ہوگیا، جب مالک نصاب ہوگیا تو زکوٰۃ کے مسائل کاجاننا واجب ہوگیا اوراگرمالک نصاب ہونے سے قبل مرگیا اورزکوٰۃ کے مسائل کو نہیں سیکھا تو گنہگار نہیں ہوا۔ جب عورت کو نکاح میں لایا تو حیض ونفاس وغیرہ جتنے مسائل کا میاں بیوی سے تعلق ہے جاننا واجب ہوگیا ۔ وعلی ھذا القیاس۔   (اشعۃ اللمعات)

حصول علم کے لیے سفر کرنا
    علم دین کی تحصیل کی رغبت دلاتے ہوئے حضور آقا علیہ السلام نے فرمایا اُطْلُبُوْا الْعِلْمَ وَلَوْبِالصِّیْن۔(جامع صغیرص:۷۲) ترجمہ : علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں ملک چین جاناپڑے۔یعنی حصول علم کے لیے دشوار سفر بھی کرنا پڑے تو اس سے دریغ نہ کرو۔ اسی حدیث کو پیش نظر رکھ کر صحابہ نے حصول علم کے لیے دور دراز ممالک کا سفر فرمایا اور علم میں کمال پیدا کیا ۔ایک صحابی حضور علیہ السلام کی صرف ایک حدیث سننے کے لئے مصر تشریف لے گئے۔ حدیث رسول سنا سواری پہ سوار ہوئے اورمدینہ طیبہ کی راہ چل پڑے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کے دلوں میں علم دین حاصل کرنے کا کیسا جذبہ موجزن تھا۔ بعد کے بزرگوں نے بھی صحابہ کے نقوش قدم کی پوری پوری پیروی کی ۔ حضور سیدناامام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ تحصیل علم کے لئے متعدد دفعہ مکہ شریف، مدینہ شریف اوربصرہ تشریف لے گئے۔حضورسیدنا غوث پاک رضی اللہ عنہ عین جوانی کے عالم میں تحصیل علم کے لئے جیلان سے بغداد تشریف لائے ۔ طرح طرح کی صعوبتوں کاسامنا کیا۔ فاقہ کی نوبت بھی آئی مگر تحصیل علم میںکسی طرح کی کوتاہی نہیں فرمائی۔حضور سیدنا خواجہ غریب نواز اپنے شیخ حضرت خواجہ عثمان ہارونی کی بارگاہ میں بیس برس رہے اورکسب علم کرتے رہے۔ یہ ہے ہمارے بزرگوں کی تعلیمی تڑپ اور ان کی نگاہ میں تعلیم کی اہمیت ہے مگر ہماراحال یہ ہے کہ ہم محض بزرگوں کی محبت کا کھوکھلادعویٰ کرتے ہیں ، دامن نہ چھوڑنے کے نعرے لگاتے ہیں۔ جب کہ بزرگوں کی اصل محبت یہ ہے کہ ان کی تعلیمات کو اپنائیں اوراس ڈگر کواپنائیں جس پر چل کر انہوں نے زندگی گزاری ہے۔
   
علم کی اہمیت پر صحابی رسول کی ولولہ انگیز تقریر
     ایک موقع پر صحابی رسول حضرت معاذ نے علم کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ایمان افروز تقریر فرمائی جس کا ذکر فقیہ ابو اللیث سمر قندی علیہ الرحمہ نے اپنی شہرہ آفاق کتاب تنبیہ الغافلین میں اس طرح فرمایا ہے۔ لوگو!علم حاصل کرو،علم حاصل کرنا نیکی ، اس کی طلب عبادت،اس کاپڑھنا پڑھاناتسبیح اورجستجوجہاد ہے۔جاہل کوعلم سکھاناصدقہ ہے اوراہل علم کے سامنے علمی گفتگوقرب الٰہی کاسبب ہے۔علم جنت کاراستہ،وحشت کامونس، مسافرت کاساتھی،تنہائی میںباتیںکرنے والا، راحت وآرام کی راہ بتانے والا ،مصیبتوں میں کام آنے والا،دوستوںکی مجلس کی زینت اوردشمنوںکے مقابلہ میںہتھیارہے۔اسی کے ذریعہ علماقوم کے امام ا ور رہنمابنتے ہیں۔فرشتے ان سے دوستی کے خواہش مند ہوتے ہیں۔برکت کے لیے ان سے مصافحہ کرتے اوراستقبال کے لیے پیروںتلے بازوبچھاتے ہیں،ہرتروخشک چیزان کے لیے دعاکرتی ہے حتیٰ کہ پانی کی مچھلیاں،زمین کے کیڑے مکوڑے اورجنگلوںکے درندے بھی دعا کرتے ہیں ۔علم،جہالت کی موت سے نکال کردلوںکوزندگی بخشنے والا،تاریکیوںمیںچراغ اورکمزوریوں میں طاقت ہے،اس کے ذریعہ انسان دنیاوآخرت کے بلنددرجات حاصل کرتاہے،علم کامطالعہ نفلی روزوںاوراس کامذاکرہ تہجدکے قائم مقام ہے،اس سے انسان صلہ رحمی سیکھتااورحلال وحرام میںتمیزپیدا کرتاہے،علم امام ہے عمل مقتدی اورعلم نافع صرف نیک لوگوں کوہی حاصل ہوتاہے۔

علم کی اہمیت امام غزالی کی نظر میں 
      حضرت امام غزالی علم کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں، علم کا نفع بہت زیادہ ہے کیونکہ بندہ عبادت کے معاملے میں علم کا سخت محتاج ہے اور عبادت کی دیوار علم ہی پر قائم ہوتی ہے۔  (منہاج العابدین مترجم ص: ۳۱)  پھر دو صفحے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ جو شخص علم حاصل نہ کرے وہ عبادات اور ان کے ارکان کو ٹھیک طریقہ سے ادانہیں کرسکتا۔ بالفرض اگرکوئی تمام آسمانوںکے فرشتوں جتنی عبادت کرلے مگر علم نہ ہوتو خسارے میںہی رہے گا۔اس لیے جس طرح بھی ہو علم ضرور حاصل کرو اور اس کے حاصل کرنے میں سست نہ بنو ورنہ گمرہی کے خطرات سے دوچارہوجائوگے۔  (منہاج العابدین ص:۳۳) 
اکثرایسادیکھنے میںبھی آتاہے کہ دینی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے بعض عبادت گذار حضرات کفریات تک بک جاتے ہیں۔

آدمی کہلانے کا حقدار کون؟
کسی نے حضرت عبداللہ بن مبارک سے پوچھا   من الناسآدمی کون ہے تو آپ نے جواباً ارشاد فرمایا ۔ آدمی کہلانے کے حق دار علما ہیں۔
حضر ت امام غزالی فرماتے ہیں جوعالم نہ ہو، امام عبداللہ بن مبارک نے اسے آدمی شمار نہیں کیا۔ اس لئے کہ انسان اورچوپائے میں فرق علم سے ہے اورعلم ہی کے سبب آدمی کاشرف ہے۔ اس کاشرف جسمانی طاقت سے نہیں کہ اونٹ اس سے زیادہ طاقت ور ہے ، نہ اس کا شرف جسم کے سبب ہے کہ ہاتھی انسان سے کہیں زیادہ بڑا جسم والا ہے۔ نہ اس کاشرف بہادری کے سبب ہے کہ شیر اس سے زیادہ بہادر ہے۔ نہ خوراک کی وجہ سے اس کاشرف ہے کہ بیل کا پیٹ اس سے کہیں بڑا ہے۔ آدمی تو صرف علم کے لئے بنایاگیا ہے اورعلم ہی اس کاشرف ہے ۔   (تنبیہ الغافلین)   
      
علم عمل کارہنما ہے
اسلام کی نگاہ میں علم جس طرح ایمان کا رہنما ہے اسی طرح عمل کا بھی رہنما ہے۔ امام بخاری نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف میں ایک باب ہی اس عنوا ن سے قائم کیا ہے کہ ’’قول وعمل سے پہلے علم‘‘ مطلب یہ ہے کہ علم شرط ہے قول وعمل کی درستی کا۔ علم کے بغیر نہ قول کا اعتبار کیاجاسکتاہے نہ فعل کا ۔ اس لئے علم کا مرتبہ ان دونوں سے پہلے ہے اوروہی عمل کی نیت درست کرتاہے۔حضرت معاذ بن جبل کی روایت میں پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ علم عمل کا رہنما ہے اور عمل اس کے تابع ہے کوئی عبادت اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتی جب تک عبادت کرنے والا یہ نہ جانے کہ اس عبادت کے ارکان اورضروری شرائط کیاہیں۔ اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے ، جس نے نماز اچھی طرح ادانہیں کی تھی، فرمایاتھا کہ جائو دوبارہ نماز پڑھو کہ تم نے نماز نہیںپڑھی۔(متفق علیہ)
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اس شخص نے آپ ہی کے سامنے نماز پڑھی تھی لیکن چونکہ اس کے پاس علم نہیں تھا اس لئے ارکان ٹھیک ڈھنگ سے ادانہ کرسکا اس لئے حضور نے اس کی نماز کو باطل قراردیا۔اسی لیے قرآنی آیات اور احادیث رسول میں تحصیل علم کی سخت تاکیدفرمائی گئی ہے ساتھ ہی ساتھ علم ،صاحبان علم اور طلبہ کے فضائل بھی بیان کیے گئے ہیں۔ مگرافسوس آج مسلمان علم دین کی ناقدری میںمبتلا ہیں۔ جس کی وجہ سے پوری دنیا میںذلیل و خوار ہورہے ہیں۔ ایسے میں اگر ہم چاہتے ہیں کہ اپنے کھوئے ہوئے وقار کو حاصل کریں۔ رب کو راضی کریں ۔رسول خدا ﷺ کی خوشنودی حاصل کریں ۔توہمیں چاہیے کہ علم دین کی تلاش و جستجو میں لگ جائیں۔ یہی رب تک پہنچنے اور دنیاوی و اخروی آفات وبلیات سے نجات کا واحدراستہ ہے۔ 

علمِ دین دولت سے بہتر ہے
 حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں علم سات وجوہات کی وجہ سے مال سے  افضل ہے۔
اول:۔علم انبیاء علیہم السلام کی میراث ہے اور مال فرعونوں کی میراث ہے۔  دوم:…علم خرچ کرنے سے گھٹتا نہیںجب کہ مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے۔
سوم:…مال کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ علم صاحب علم کی حفاظت کرتا ہے۔
چہارم:… جب آدمی مرجاتاہے اس کامال دنیا میں باقی رہتا ہے جب کہ علم آدمی کے ساتھ قبر میں جاتاہے۔
پنجم:…مال مومن اورکافر دونوں کوحاصل ہوتا ہے جب کہ علم دین صرف مومن کوحاصل ہوتاہے۔
ششم: لوگ دینی معاملات میںصاحب علم کے  محتاج ہوتے ہیں صاحب ثروت کے نہیں۔
ہفتم:… علم کی برکت سے پل صراط سے گزرنے میںآسانی ہوگی اورمدد ملے گی جب کہ مال پل صراط سے گزرنے میں رکاوٹ بنے گا۔
                                 (علم اور علما،بحوالہ تفسیر کبیر ج،۱ ۔۲۷۷)

No comments:

Post a Comment