Tuesday, 3 May 2016

Meraj-un-Nabi (Salla Allahu alaihi wa sallam)

  معراج النبی


از: مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی





رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معراج کے لیے آسمانوں پرتشریف لے جاناآپ کے معجزات میں سے ایک اہم معجزہ ہے جوہماری مادی دنیاسے بالکل الگ اورعقل انسانی کی سرحدوں سے بہت بالاتر ہے۔ واقعہ معراج کواللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں سبحٰن الذی اسریٰ بعبدہٖ لیلاً کے الفاظ سے بیان فرمایاہے اس لیے معراج کا ایک نام ’’اسراء‘‘ بھی ہے۔احادیث وسیرت کی کتابوں میں اس واقعہ کو صحابہ کی ایک بڑی جماعت نے بیان کیا ہے۔ چنانچہ علامہ زرقانی نے ۴۵ ؍صحابیوں کو نام بنام شمار کیا ہے جنہوں نے حدیث معراج روایت کی ہے۔

معراج کب ہوئی؟امام رافعی وامام نووی تحریر فرماتے ہیں کہ واقعہ معراج رجب کے مہینے میں ہوا ہے۔محدث عبدالغنی مقدسی نے رجب کی ستائیسویں تاریخ متعین کی ہے اورعلامہ زرقانی نے تحریر فرمایا ہے کہ لوگوں کااسی پرعمل ہے اوربعض مؤرخین کی رائے ہے کہ یہی سب سے زیادہ قوی روایت ہے ۔ 

(زرقانی ج ۵،ص: ۳۵۸)


معراج کتنی بار اورکیسے ہوئی؟ معراج بیداری کی حالت میں جسم وروح کے ساتھ صرف ایک بار ہوئی( جب کہ روحانی معراج۳۳ مرتبہ ہوئی ہے) جمہور صحابہ وتابعین اورفقہا محدثین نیز صوفیہ کا بھی یہی مذہب ہے، چنانچہ علامہ ملا احمد جیون رحمتہ اللہ علیہ (اُستاذ) اورنگ زیب عالمگیر بادشاہ نے تحریر فرمایا والاصح انہ کان فی الیقظۃ بجسدہٖ مع روحہٖ وعلیہ اھل السنۃ والجماعۃ فمن قال انہ بروحٍٍ فقط اوفی النوم فقط مبتدعٌ ضال مضل فاسقٌ۔ترجمہ:اور سب سے زیادہ صحیح قول یہ کہ معراج بحالت بیداری میں جسم و روح کے ساتھ ہوئی ہے۔ یہی اہلسنت وجماعت کامذہب ہے۔(تفسیرات احمدیہ ۔سورہ بنی اسرائیل:۴۰۸)



دیدارخداوندی: صحابہ کرام اورتابعین رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت نے یہ فرمایاہے کہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو دیکھاہے۔(شفا ء جلد۔۱، ص۱۲۰تا۱۲۱)حضرت عبداللہ بن الحارث نے روایت کی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس اورحضرت کعب رضی اللہ عنہم ایک مجلس میں جمع ہوئے تو حضرت عبداللہ بن عباس نے فرمایا کہ کوئی کچھ کہتا رہے۔ لیکن ہم بنی ہاشم کے لوگ یہی کہتے ہیں کہ بلاشبہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یقیناًاپنے رب کو معراج میں دومرتبہ دیکھا۔ یہ سن کرحضرت کعب نے اس زور سے نعرہ لگایاکہ پہاڑیاں گونج اٹھیں اورفرمایا کہ بے شک حضر ت موسیٰ علیہ السلام نے خداسے کلام کیااورحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے خداکو دیکھا۔اسی طرح حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے ’’ماکذب الفوادمارایٰ ‘‘کی تفسیرمیں فرمایا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ۔ (مسلم)اسی طرح حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیاہے کہ رأیت ربی یعنی میں نے اپنے رب کو دیکھا۔محدث عبدالرزاق تحریر فرماتے ہیں کہ حضرت امام حسن بصری اس بات پر حلف اُٹھاتے تھے کہ یقیناًحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا اوربعض متکلمین نے نقل کیاہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود صحابی رضی اللہ عنہ کابھی یہی مذہب تھا اورابن اسحٰق ناقل ہیں کہ حاکم مدینہ مروان نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سوال کیا کہ کیاحضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھاتھا؟ توآپ نے جواب دیاکہ ’’جی ہاں‘‘۔اسی طرح نقاش نے حضرت امام احمد بن حنبل رضی اللہ عنہ کے بارے میں ذکر کیاہے کہ آپ نے یہ فرمایا کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے مذہب کاقائل ہوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے خداکو دیکھا۔ دیکھا۔ دیکھا۔ اتنی دیر تک وہ دیکھا۔ دیکھا کہتے رہے کہ ان کی سانس ٹوٹ گئی۔ (شفا جلد ا ص ۱۱۹تا۱۲۰)صحیح بخاری میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے شریک بن عبداللہ نے جومعراج کی روایت کی ہے کہ اس کے آخر میں ہے کہحتیٰ جاءَ سدرۃ المنتھیٰ ودنا الجبار رب العزت فتدلیٰ حتیٰ کان منہ قاب قوسین اوادنیٰ ۔ترجمہ:حضور صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہٰی پرتشریف لائے اورعزت والاجبار (اللہ تعالیٰ ) یہاں تک قریب ہوا اورنزدیک آیا کہ دوکمانوں یااس سے بھی کم کافاصلہ رہ گیا۔ (بخاری جلد۲ ص ۱۲۰ باب قول اللہ وکلم اللہ الخ)بہرحال علمائے اہل سنت کایہی عقیدہ و مسلک ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کادیدار کیا ہے۔



مختصر حالات معراج 

معراج کی رات آپ کے گھر کی چھت کھلی اورناگہاں حضرت جبرئیل علیہ السلام چند فرشتوں کے ساتھ نازل ہوئے ۔آپ کوحرم کعبہ لے جاکر سینہ مبارک کوچاک کیا اورقلب انور کونکال کرآب زمزم سے دھویا پھرایمان وحکمت سے بھرے ہوئے ایک طشت کو آپ کے سینے میں انڈیل کرشکم کو برابر کردیا۔پھرآپ بُراق پرسوار ہوکربیت المقدس تشریف لائے۔ براق کی تیز رفتاری کایہ عالم تھا کہ اس کاقدم وہاں پڑتاتھاجہاں اس کی نگا ہ کی آخری حد ہوتی تھی۔ بیت المقدس پہنچ کر بُراق کوآپ نے اس حلقہ سے باندھ دیا جس سے انبیاء علیہم السلام اپنی اپنی سواریوں کو باندھا کرتے تھے پھر آپ نے تمام انبیاء اوررسولوں کوجووہاں حاضر تھے ۔ دورکعت نماز نفل جماعت سے پڑھائی۔ (تفسیر روح البیان جلد ۵ ص ۱۱۲) پھر حضرت جبرئیل علیہ السلام آپ کو ساتھ لے کرآسمان پرچڑھے۔پہلے آسمان میں حضرت آدم علیہ السلام سے،دوسرے آسمان میں حضرت یحیٰ وحضرت عیسیٰ علیہما السلام سے جودونوں خالہ زاد بھائی تھے ملاقاتیں ہوئیں اورکچھ گفتگو بھی ہوئی ۔تیسرے آسمان پرحضرت یوسف علیہ السلام ، چوتھے آسمان میں حضرت ادریس علیہ السلام اورپانچویں آسمان میں حضرت ہارون علیہ السلام اورچھٹے آسمان میں حضرت موسیٰ علیہ السلام ملے اورساتویں آسمان پرپہنچے تو وہاں حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملاقات ہوئی وہ بیت المعمور سے پیٹھ لگائے بیٹھے تھے جس میں روزانہ سترہزار فرشتے داخل ہوتے ہیں بوقت ملاقات ہرپیغمبر نے خوش آمدیدکہااورآپ کااستقبال کیا۔ پھر آپ کو جنت کی سیر کرائی گئی ۔ اس کے بعدآپ سدرۃ المنتہیٰ پہنچے۔ یہاں پہنچ کر حضرت جبرئیل علیہ السلام یہ کہہ کرٹھہر گئے کہ اب اس سے آگے میں نہیں بڑھ سکتا ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ کو عرش بلکہ عرش کے اوپر جہاں تک اس نے چاہا بلاکر آپ کو باریاب فرمایا اوربارگاہ الٰہی سے بے شمار عطیات کے علاوہ تین خاص انعامات مرحمت ہوئے جن کی عظمتوں کو اللہ ورسول کے سوا اورکون جان سکتاہے۔ان کی تفصیل حسب ذیل ہیں۔(ا)سورۂ بقرہ کی آخری آیتیں۔ (۲) یہ خوشخبری کہ آپ کی امت کاہروہ شخص جس نے شرک نہ کیا ہوبخش دیاجائے گا ۔(۳)امت پرپچاس وقت کی نماز۔



جب آپ ان عطیات کو لے کرواپس ہوئے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ سے عرض کیا کہ آپ کی امت پچاس نمازوں کابار نہیں اُٹھاسکے گی۔ لہٰذا آپ واپس جائیے اوراللہ تعالیٰ سے کمی کی درخواست کیجئے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشورہ سے چند بار آپ بارگاہ الٰہی میں آتے جاتے اور عرض گزار ہوتے رہے ۔ یہاں تک کہ صرف پانچ وقت کی نمازیں رہ گئیں اوراللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ میراقول بدل نہیں سکتا۔ اے محبوب! آپ کی امت کے لیے یہ پانچ نمازیں بھی پچاس ہوں گی ۔ نمازیں توپانچ ہوں گی مگرمیں آپ کی امت کو ان پانچ نمازوں پرپچاس نمازوں کاثواب عطاکروں گا۔پھر آپ عالم ملکوت کی اچھی طرح سیر فرماکر اوراللہ کی نشانیوں کامعائنہ ومشاہدہ فرماکر آسمان سے زمین پرتشریف لائے اوربیت المقدس میں داخل ہوئے پھربراق پرسوار ہوکر مکہ مکرمہ کے لیے روانہ ہوئے۔ راستہ میں آپ نے بیت المقدس سے مکہ تک کی تمام منزلوں اورقریش کے قافلہ کوبھی دیکھا ۔ ان تمام مراحل کے طے ہونے کے بعد آپ مسجد حرام میں پہنچ کر سوگئے صبح بیدار ہوکرجب رات کے واقعات کاآپ نے قریش کے سامنے تذکرہ فرمایا توکفار قریش کو سخت تعجب ہوا۔یہاں تک کہ بعض بد بختوں نے آپ کوجھوٹا کہااور بعض نے مختلف سوالات کیے چونکہ اکثر رؤسائے قریش نے بار بار بیت المقدس کاسفر کیاتھا اس لیے امتحان کے طور پر ان لوگوں نے آپ سے بیت المقدس کے درودیوار اوراس کی محرابوں کے بارے میں سوالوں کی بوچھار شروع کردی۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے فوراً ہی آپ کی نگاہ کے سامنے بیت المقدس کی پوری عمارت کانقشہ پیش فرمادیا۔ چنانچہ کفار قریش آپ سے سوالات کرتے جاتے تھے اورآپ عمارت دیکھ دیکھ کر ان کے سوالوں کاٹھیک ٹھیک جوا ب دیتے جاتے تھے۔ 

(بخاری کتاب الصلوٰۃ ، کتاب الانبیاء، کتاب التوحید، باب المعراج وغیرہ ۔مسلم باب المعراج۔شفا ،جلد۱ ص ۱۸۵ ۔ تفسیر روح المعانی جلد ۱۵: ص۴ تا ص ۱۰ وغیرہ کاخلاصہ)



جسمانی معراج پردلیلیں

اللہ کے رسول ﷺ کی معراج جسمانی تھی۔ جسمانی معراج پربکثرت دلائل ہیں۔ ان میں سے چندسپر د قلم کی جاتی ہیں۔۱۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسریٰ بعبدہ،غور کرنے کی بات یہ ہے کہ عبد ، روح اورجسم کے مجموعہ کو کہتے ہیں، لہٰذا فقط عبد کا یہاں استعمال فرمانا اس بات کی دلیل ہے کہ معراج جسمانی تھی ۔ ۲۔ حدیث پاک میں ہے کہ حضور اکرم ﷺ کے لئے براق کی سواری پیش کی گئی جس پرآپ سوار ہوکر تشریف لے گئے ۔براق کاسواری بننا دلیل ہے کہ معراج جسمانی تھی۔ اس لئے کہ براق جو چوپایہ ہے اس پرجسم سوار ہوتاہے نہ کہ روح کیوں کہ روح کو سواری کی حاجت نہیں ہوتی۔ ۳۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا اسریٰ رات کی سیر کوکہتے ہیں۔ اسراء کا اطلاق اس سیر پر نہیں ہوتا جو خواب میں ہو۔۴۔اللہ تعالیٰ نے قصہ معراج میں فرمایا۔ مازاغ البصروماطغیٰترجمہ: نہ ٹیڑھی ہوئی نگاہ اورنہ بہکی آنکھیں ، لفظ بصر جسمانی نگاہ کے لئے آتاہے۔ خواب میں دیکھنے کوبصر نہیں کہتے ۔ ثابت ہواکہ معراج جسمانی تھی نہ کہ روحانی۔ ۵۔معراج شریف حضوراکرم ﷺ کاایک اعظم معجزہ ہے۔ اگرروحانی معراج ہوتی تویہ معجزہ کیسے بن سکتاتھا معلوم ہوا کہ معراج جسمانی تھی۔ ۶۔اگرمعراج روحانی ہوتی توکفار مکہ اس کو بعید از عقل نہ سمجھتے اورآپ کو نہ جھٹلاتے کیوں کہ خواب میں ہرایک کی روح دور دور تک کم وقت میں سیر کرآتی ہے۔ کفار کا حضور کو جھٹلانا اس بات پرشاہد ہے کہ حضور سراپانور ﷺ کادعویٰ جسمانی معراج کاتھاجس کو کفار نے بعید از عقل سمجھا اور تکذیب کے درپے ہوگئے۔ ۷۔ جب آپ نے معراج کا دعویٰ کیاتو ایک جماعت جوکمزور ایمان والی تھی یہ دعویٰ سن کر مرتد ہوگئی(اسلام سے پھر گئی) اگرروحانی معراج کادعویٰ ہوتا تو ان کے ارتداد کی کوئی صورت نہ تھی لہٰذا ثابت ہواکہ معراج جسمانی تھی ۔ اس کے علاوہ مشاہیر علماء نے معراج جسمانی کی بہت سی دلیلیں پیش کی ہیں۔ جوتفسیر حدیث اور سیرت کی کتابوں میں مذکور ہیں۔



اس سفر میںآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں اللہ تعالیٰ کی زیارت کی وہیں آپ نے جنت اور جہنم کا مشاہدہ اور معائنہ بھی فرمایا ۔جنت میں جہاں نیکوکاروں کا آپ نے صلہ اور ثواب ملاحظہ فرمایا وہیں جہنم جانے والے اور عذاب میں گرفتار ہونے والے لوگوں کو بھی ملاحظہ فرمایا۔ذیل میں ہم کچھ ایسے گناہ گاروں کا تذکرہ کر رہے ہیں جواپنی کوتاہیوں کے سبب جہنم کے عذاب میں گرفتار تھے۔ملاحظہ فرمائیں۔



ِ نماز نہ پڑھنے کی سزا :آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ کچھ لوگوں کے سر پتھر سے کچلے جارہے ہیں ، دریافت فرمایا کہ یہ کون لوگ ہیں ؟ جبرئیل امین نے عرض کیا یہ وہ لوگ ہیں جو فرض نمازوں کو ادانہ کرتے تھے ۔

زکوۃ ادا نہ کرنے کی سزا : سید عالم ﷺ نے کچھ ایسے لوگوں کو ملاحظہ فرمایا جن کی صرف شرم گاہیں چھپی ہوئی تھیں اور جانوروں کی طرح وہ چررہے تھے ، کانٹے اور جہنم کے گرم پتھر کھارہے تھے ، پوچھایہ کون ہیں ؟جبرئیل امین نے عرض کیا یہ وہ لوگ ہیں جو زکواۃ ادا نہیں کرتے تھے ۔



زنا کاری کی سزا : کچھ ایسے مرد اور عورت ملا حظہ فرمائے جن کے آگے دیگچوں میں عمدہ پکا ہوا گوشت موجود ہے اور کچا بد بودار گوشت بھی سامنے رکھا ہوا ہے ، لیکن وہ عمدہ کو چھوڑ کر کچے بد بودار گوشت کو کھا رہے ہیں ۔فرمایا یہ کون ہیں ؟ عرض کیا یہ وہ مرد ہیں جنہوں نے اپنی حلال بیویوں کو چھوڑ کر غیر عورتوں سے ناجائز تعلق پیدا کیا تھا اور یہ وہ عورتیں ہیں جنہوں نے اپنے شوہر کے سوا غیر مردوں سے ناجائز تعلق پیدا کرلیے تھے ۔



سود خور کی سزا : آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ ایک خون کا دریاہے اس کے بیچ میں ایک آدمی ہے جب کنارے کے قریب آتا ہے تو کنارے والا شخص اس کے منہ پر پتھر مارتا ہے جس سے وہ بیچ نہر میں پہنچ جاتا ہے پھر یہی عمل اس کے ساتھ مسلسل ہورہا ہے ، فرمایا :یہ کون ہے ؟عرض کیا یہ وہ آدمی ہے جو دنیا میں سود لیتا تھا ۔

غیبت کی سزا : آپ نے کچھ ایسے لوگ بھی ملاحظہ فرمائے جن کے ناخن تانبے کے ہیں ان سے اپنے منہ اور سینوں کو کھسوٹ رہے ہیں ، فرمایا: یہ کون لوگ ہیں ؟ عرض کیا یہ غیبت کرنے والے ہیں ۔

بے عمل واعظین کی سزا : آپ نے کچھ ایسے لوگ بھی ملاحظہ فرمائے جن کی زبانیں اور ہونٹ لوہے کی قینچیوں سے کاٹے جارہے ہیں ، دریافت فرمایا: یہ کون لوگ ہیں ؟ جبریل امین نے عرض کی یہ آپ کی امت کے بے عمل واعظ ہیں۔ اللہ اکبر اور جوبد عمل ہوں ان کا کیا حشر ہوگا ۔ العیاذ باللہ العظیم ۔


مسلمانوں کو چاہیے کہ ان باتوں سے عبرت اور نصیحت حاصل کریں۔ جہنم میں عذاب پانیوالے مذکورہ لوگوں کا تذکرہ مشکوۃ شریف اور مکاشفۃالقلوب سے لیا گیا۔جنہیں تفصیل کی ضرورت ہو وہ ان کتابوں کو دیکھ سکتا ہے۔ما توفیقی الا باللہ العلی العظیم 

No comments:

Post a Comment