Thursday, 14 April 2016

Hazrat Khawaja Gharib Nawaz Akhlaque O Irshadat


حضرت خواجہ غریب نواز اخلاق وارشادات

مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی


تیرے پائے کا کوئی ہم نے نہ پایا خواجہ                     تو زمیں والوں پہ اللہ کا سایہ خواجہ 



سر زمین ہند کے ایک محدود خطے میں اگر چہ اسلام پہلی صدی ہجری ہی میں پہنچ چکا تھا لیکن یہ افسوس ناک حقیقت ہے کہ چھٹی صدی ہجری تک ہندوستان میں بندگان خدا کی اکثریت کفر و شرک اور ضلالت و گمرہی میں مبتلا تھی ۔پھر مشیت ایزدی اور رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت حضرت خواجہ غریب نواز نے ہندوستان کا رخ فرمایا اور خدا بے زار ماحول میں دعوت و تبلیغ کا وہ عظیم فریضہ انجام دیا کہ دنیا اس کی مثال پیش نہیں کرسکتی۔ لاکھوں کروڑوں بندگان خدا آپ کی پاکیزہ تعلیمات سے مأاثر ہوکر دامن اسلام میں داخل ہوئے۔لہذا آیئے اس پاک طینت عظیم المرتبت بزرگ کے اخلاق و عادات کا مطالعہ کریں جن کی کوششوں کے نتیجے میں ہمیں اور آپ کو ایمان جیسی عظیم دولت نصیب ہوئی ہے۔ 



اخلاق و عادات
کثرت تلاوت قرآن : حضرت خواجہ غریب نواز قرآن پاک کے حافظ تھے ۔ روزانہ دو ختم قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے۔ ہر ختم کے بعد ہاتف غیبی آواز دیتا کہ ہم نے آپ کی تلاوت قرآن قبول کیا۔ (مونس الارواح ۔از: شہزادی جہاںآراء بیگم)
فکر و ریاضت: حضرت خواجہ غریب نواز کا معمول تھا کہ ہمیشہ باوضو رہتے۔ آپ کا وضو قضائے حاجت کے علاوہ کبھی فاسد نہ ہوتا۔ حضرت ہمیشہ آنکھیں بند کئے ہوئے مراقبہ میں رہتے جب آنکھیں کھولتے اور کسی فاسق پر آپ کی فیض اثر نگاہ پڑتی تو وہ گناہوں سے توبہ کرلیتا پھر گناہوں سے آلودہ نہ ہوتا۔ (مونس الارواح) 

بشارت بہشت: شہزادی جہاں آراء بنت مغل شہنشاہ شاہجہاں کہتی ہیں کہ میرے پیر دستگیر فرمایاکرتے تھے جو شخص معین اور معین الدین کے فرزندوں کا مرید ہوگا۔ معین الدین اس وقت تک جنت میں قدم نہیں رکھے گا جب تک ان مریدوں کو جنت میں نہ پہنچادے۔ لوگوں نے عرض کیا فرزندوں سے مراد کون لوگ ہیں؟ فرمایا فرزندوں سے مراد خلفا ہیں۔ قیامت تک جس شخص کا سلسلہ ارادت معین الدین تک پہنچے گا اسے نجات کی امید ہے۔ (مونس الارواح)

فیض صحبت: جو آدمی صدق دل کے ساتھ تین دن پیردستگیر خواجہ غریب نواز کی صحبت میں رہتا اللہ کا ولی اور صاحب کشف وکرامات ہوجاتا۔ (مونس الارواح) 
ہر شب زیارت کعبہ معظمہ: ہر رات حضرت خواجہ غریب نواز اجمیر سے خانہ کعبہ کے طواف کے لئے مکہ تشریف لے جاتے ۔ جولوگوں حج اداکرنے کیلئے مکہ میں موجود ہوتے حضرت کو طواف کرتے ہوئے دیکھتے ۔گھر والوں کو یہ گمان ہوتاکہ آپ حجرہ کے اندر عبادت میں مصروف ہیں۔ بالآخر یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ حضرت خواجہ غریب نوازہر رات مکہ مکرمہ تشریف لے جایاکرتے ہیں اور فجر کے وقت واپس آکر جماعت خانہ میں باجماعت نماز ادا فرماتے ہیں۔ (مونس الارواح) 

تعلیمات و ارشادات 
نماز بندہ اور خدا کے درمیان راز ہے: فرماتے ہیں نماز مومن کی معراج ہے جیساکہ حدیث شریف میں آیا کہ الصلوٰۃ معراج المومنین۔ بعدۂ آپ نے فرمایا کہ نماز ایک راز ہے جو بندہ اپنے پروردگار سے کہتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے۔ المصلی یناجی ربہ۔ نماز پڑھنے والا اپنے رب سے راز کہتا ہے۔ نماز بندوں کیلئے خدا کی امانت ہے پس بندوں کو چاہئے کہ اس کا حق اس طرح اداکریں کہ اس میں کوئی خیانت پیدا نہ ہو۔ (دلیل العارفین از خواجہ قطب الدین ) 

سب سے پہلے نماز کا حساب: فرماتے ہیں میں نے خواجہ عثمان ہارونی کی زبان سے سنا ہے کہ قیامت کے روز سب سے پہلے نماز کا حساب انبیاء اولیاء اور ہر مسلمان سے ہوگا جواس حساب سے عہدہ براء نہیں ہوسکے گاوہ عذاب دوزخ کا شکار ہوگا۔ (دلیل العارفین)
بھوکے کو کھاناکھلانا: فرماتے ہیں جو بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اور جہنم کے درمیان سات پردے حائل کردے گا۔
(دلیل العارفین) 

جھوٹی قسم کھانا: فرماتے ہیں۔ جس نے جھوٹی قسم کھائی گویا اس نے اپنے خاندان کو ویران کردیا ادھر سے برکت اٹھالی جاتی ہے۔ (دلیل العارفین) 
قبرستان میں کھانا پینا: فرماتے ہیں۔ قبرستان میں عمداً کھانایاپانی پینا گناہ کبیرہ ہے جو عمداً (جان بوجھ کر) کھائے وہ ملعون ومنافق ہے کیونکہ قبرستان مقام عبرت ہے نہ کہ جائے حرص وہوا (یعنی قبرستان لالچ اور خواہش کی جگہ نہیں) (دلیل العارفین)۔ 

مسلمان کو ذلیل کرنا سب سے بڑاگناہ: فرماتے ہیں اس سے بڑھ کر کوئی گناہ کبیرہ نہیں کہ مسلمان بھائی کو بلاوجہ ستایا جائے اس سے خداورسول دونوں ناراض ہوتے ہیں۔ (دلیل العارفین) 
پانچ چیزوں کو دیکھنا عبادت ہے: فرماتے ہیں پانچ چیزوں کا دیکھنا عبادت ہے۔ (۱)اپنے والدین کے چہرے کو دیکھنا۔ (۲)کلام مجید کا دیکھنا۔ (۳)کسی عالم بزرگ کا چہرہ عزت واحترام سے دیکھنا۔ (۴)خانہ کعبہ کے دروازے کی زیارت اور کعبہ شریف دیکھنا۔ (۵)اپنے پیرومرشد کے چہرے کی طرف دیکھنا اور خدمت میں مصروف رہنا۔ (دلیل العارفین) 

سورہ فاتحہ تمام بیماریوں کی دوا ہے: فرماتے ہیں۔ سورہ فاتحہ تمام دردوں اور بیماریوں کے لئے شفا ہے جو بیماری کسی علاج سے درست نہ ہووہ صبح کی نماز کے سنت اور فرض کے درمیان اکتایس مرتبہ بسم اللہ اور سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے سے دورہوجاتی ہے۔ حدیث میں ہے الفاتحہ شفاء من کل داء۔ سورہ فاتحہ ہر بیماری کی دوا ہے ۔ (دلیل العارفین) 

اللہ کے دوستوں کی پہچان: فرماتے ہیں۔ میں نے اپنے پیر ومرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی سے سناکہ اگر کسی میں تین خصلتیں پائی جائیں تو سمجھ لوکہ اللہ تعالیٰ اسے دوست رکھتا ہے۔ وہ تین چیزیں یہ ہیں۔ (۱) سخاوت، دریا جیسی۔ (۲)شفقت مانند آفتاب (یعنی سورج کی طرح) (۳)تواضع۔ زمین کی طرح۔(دلیل العارفین) 
تین بہترین آدمی: فرماتے ہیں دنیا میں سب سے بہترین آدمی تین ہیں۔ (۱)عالم جو اپنے علم سے بات کہے۔ (۲) جو حرص(یعنی لالچ) نہ رکھے۔ (۳)وہ عارف جو ہمیشہ دوست کی تعریف وتوصیف کرے۔ (دلیل العارفین) 
حضرت خواجہ کی زندگی اسلام کی آبیاری اور خدمت خلق و ملت کے لیے وقف تھی غریبوں، محتاجوں، بے سہاروں کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ فرماتے تھے۔ غریبوں کی دستگیری میں ہمہ تن سرگرم عمل رہتے تھے یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا آپ کو غریب نواز کے نام سے جانتی اور مانتی ہے۔ اس عظیم داعی اسلام اور پاسبان سنت و شریعت کا وصال ۶؍ رجب المرجب ۶۳۳ہجری میں ہوا اور اجمیر شریف میں سپرد خاک ہوئے۔ آپ کے وصال فرمانے کے بعد لو گوں نے دیکھا کہ دست قدرت سے آپ کی پیشانی مبارک پر یہ تحریر لکھی ہوئی تھی ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ

خدا کی رحمتیں ہوں اے امیر کارواں تجھ پر 
فنا کے بعد بھی باقی ہے شان رہبری تیری






No comments:

Post a Comment