Wednesday, 6 April 2016

Rahmat Wali Shaadiya

رحمت والی شادیاں

از: مبلغ اسلام مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی


بلاشبہ شادی مرد وعورت کے درمیان رشتہ استوار کرنے کا پاکیزہ ذریعہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری سنت ہے جو نہ صرف اجنبی مردوعورت کو ایک کردیتی ہے بلکہ دونوں فریق کے نصف ایمان کی سلامتی کی ضمانت دیتی ہے ۔ دولہا دلہن کے علاوہ دوخاندان ایک ہو جاتے ہیں اس طرح شادی رحمت و برکت کا ذریعہ بن جاتی ہے۔محسن انسانیت رہبر اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے امت مسلمہ کو رحمت وبرکت والی شادی کے بارے میں الگ الگ مواقع پر دو بنیادی نکتے بتائے ہیں:پہلا بنیادی نکتہ: یہ ہے کہ شادی دین دار گھرانے میں کی جائے ۔ حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم ملاحظہ فرمائیں :حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :عورت سے چار چیزوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے۔ اس کی مالداری کے سبب، اس کے حسب ونسب کے سبب، اس کی خوب صورتی کے سبب اور دین داری کے سبب، تو تم دین داری کو ترجیح دو ورنہ ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔ (صحیح مسلم، باب استجاب النکاح ذات الدین ، حدیث نمبر :۳۷۰۸)



دوسرا بنیادی نکتہ: آپ نے یہ بتایا کہ برکت والی شادی وہ ہوتی ہے جس میں کم سے کم خرچ ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث پاک ہے:ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سب سے برکت والی شادی وہ ہوتی ہے جو سادگی اور کم خرچ سے کی جاتی ہے۔ (مسند احمد ،حدیث سیدۃ عائشہ ، حدیث نمبر:۲۴۵۷۳)

مسلمان جب تک ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ بالاہدایتوں کے مطابق شادی بیاہ کرتے رہے تو نہ صرف شادی اور نکاح اُن کے لیے رحمت ہوا کرتی تھی بلکہ پورے خاندان کے لیے رحمت کا سبب بن جایا کرتی تھی۔ فی زمانہ لڑکی اور لڑکے کے لیے رشتہ تلاش کرنے والے دین داری کو طاق نسیاں پر چھوڑبیٹھے ہیں ۔ اکثرماں باپ رشتہ کرتے وقت مالداری ، خوب صورتی اور خاندانی عظمت ہی کو پیش نظر رکھا کرتے ہیں ۔ ابتداً یہ چیزیں اچھی لگتی ہیں لیکن شادی کے کچھ زمانہ کے بعد دین داری کو پس پشت ڈالنے کے سبب طرح طرح کے فتنے رونما ہونے لگتے ہیں ان فتنوں کے سبب نہ صرف یہ کہ میاں بیوی کی زندگی اجیرن ہوجاتی ہے بلکہ پورا خاندان سخت قسم کے اضطراب اور فتنوں میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ پھر میاں بیوی کے درمیان کہا سنی ، مارپیٹ ، نااتفاقی ، طلاق ، خود کشی اور دوسری مصیبتیں پے در پے پہ دستک دینے لگتی ہیں۔ یہ تو پہلی ہدایت کو اَن دیکھی کرنے کی سزا ہے جس سے اکثر گھراور خاندان دو چارہیں اور دوسری ہدایت جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی کہ: برکت والی شادی وہ ہوتی ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔

تاریخ گواہ ہے کہ فرمان رسول کی برکت یہ رہی کہ نکاح اور شادی کبھی بوجھ اور دشوار نہ بنی ،لڑکے اور لڑکیاں جیسے ہی سن شعورپہ قدم رکھتے تھے والدین انتہائی سادگی کے ساتھ گھر والوں کی موجودگی میں لڑکا یا لڑکی کا عقد کردیا کرتے تھے ۔ جس کے حسب ذیل فوائد تھے : لڑکیوں کو کبھی ماں باپ بوجھ نہیں سمجھتے تھے اور نہ لڑکی کے پیدا ہونے کے سبب انہیں کسی طرح کا غم ہوتا تھا،نہ لڑکیوں کا قتل ناحق ہوتاتھا، نہ شادی بیاہ کے وقت وہ زیر بار ہوتے تھے، نہ لڑکیوں کی جوانیاں ضائع ہوتی تھیں اور نہ ان کے غم میں بوڑھے ماں باپ خود کشی کرتے یا راہ فرار اختیار کرتے تھے اور نہ لڑکیوں کو بیچا جاتا تھا بلکہ فرمان رسول پہ عمل کی برکت سے کوئی لڑکی بن بیاہی نہیں رہتی تھی ۔لیکن جب سے مسلم معاشرہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سے انحراف اور اَن دیکھی کارجحان پیدا ہوا گھر ،خاندان اور معاشرہ متعدد برائیوں میں جکڑچکا ہے اب تو سادگی اور کم خرچ کی شادی کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا ہے ۔ فی زمانہ اوسطاً ایک شادی پر تین چار لاکھ روپے خرچ ہورہے ہیں اور امیر کبیر لوگوں میں تو کروڑوں خرچ ہوجاتے ہیں ۔ اب ظاہر ہے کہ جب شادی میں لاکھوں کروڑوں خرچ ہوں گے تو اتنی بڑی رقم کا بروقت سبھوں کے لیے انتظام ہوپانا کوئی آسان کام نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شادیوں کی مہنگی ہونے کے سبب معاشرہ میں طرح طرح کی خرابیاں پیدا ہورہی ہیں جن میں سے چند حسب ذیل ہیں : بڑی تعداد میں لڑکے اور لڑکیوں کی جوانیاں تباہ ہورہی ہیں ۔ وقت پہ شادی یا نکاح نہ ہوپانے کے سبب سماج اور معاشرے میں جنسی آوارگی اور بے راہ روی بڑھ رہی ہے ۔ بہتوں چھپ چھپا کر ناجائز تعلقات اور زنا وبدکاری جیسے گناہ کبیرہ میں مبتلا ہوکر اللہ ورسول کی ناراضگی ولعنت میں زندگی تباہ کررہے ہیں ۔ نوجوان لڑکیوں میں خود کشی کا رجحان پیدا ہورہا ہے ۔ بسا اوقات ناجائز پیار ومحبت کے جھانسے میں آکر گھر سے راہ فرار اختیار کرکے لڑکیاں اپنی دنیا وآخرت ، عفت وعصمت کا گوہر لٹاکر خود کو تباہ کررہی ہیں۔ایسے میں بوڑھے ماں باپ بھی خود کشی جیسے سنگین اقدام کر بیٹھتے ہیں ،اور کبھی حالات سے تنگ آکر اپنے ہی ہاتھوں لڑکی کو قتل کر دیتے ہیں۔ غرض یہ کہ مہنگی شادیاں سراسر زحمت اور لعنت بن کر پورے سماج اور معاشرے کو گناہ اور بدکرداریوں کی طرف لے جارہی ہیں ۔ جوانیاں تباہ اورآخرت برباد ہورہی ہیں مگر لوگ اپنی جھوٹی شان اور ناجائز رسومات کی خاطر خواب خرگوش میں مبتلاہیں عام لوگ تو عام لوگ ہیں، جو خواص اور اہل علم ہیں وہ بھی خاموش ہیں جب کہ ان کی مذہبی ودینی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ معاشرہ کی اصلاح اور ناجائز رسومات کے سد باب کے لیے ہمہ تن تیار ہوکر میدان عمل میں آئیں اور برائیوں کے خلاف سینہ سپر ہوجائیں ۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد مبارک ہے کہ جب برائیاں بڑھ رہی ہوں اور فتنے سر اٹھارہے ہوں ایسے وقت میں اگر عالم اپنے علم کا اظہار نہ کرے اور معاشرہ کی اصلاح کی کوشش نہ کرے تو اللہ تعالیٰ ایسے علما کی نہ تو کوئی فرض عبادت قبول فرماتا ہے اور نہ نفلی عبادت بلکہ ان پر اللہ کی، اس کے رسولوں کی ،فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت برستی ہے۔(کنز العمال)

لہٰذا علما کو اصلاح حال کے لیے فوراً سامنے آنا چاہیے اور حتی الامکان ومقدور کوشش کرنی چاہیے۔ ساتھ ہی اہل ثروت کو بھی اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینی چاہیے کیوں کہ اکثر دنیاوی معاملات اور رسومات کو اپنانے میں لوگ اپنے درمیان روپے پیسے والے بڑے لوگوں کی ہی پیروی کرتے ہیں اور خود رسول اعظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت کے دو گروہ جب تک راہ راست پر رہیں گے امت کا معاملہ ہمیشہ درست رہے گا اور جب وہ بگاڑ کا شکار ہوں تو امت بھی بے راہ روی کا شکار ہوجائے گی وہ دوگروہ علما اور اہل ثروت کی ہے۔(کنز العمال)
اب اگر ہر فریق نے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھے اور دیانت کے ساتھ انہیں ادا کرے تو امید ہے کہ معاشرہ میں پھیلی یہ برائی ضرور مٹ جائے گی یا قدرے کم ہو گی اور صحیح معنوں میں شادیاں رحمت بن کر فرد اور معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن جائیں گی،جس کے سبب انشاء اللہ تعالیٰ ہزاروں لاکھوں جوانیاں تباہ ہونے سے محفوظ رہیں گی ۔خدا را !اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اصلاح حال کے لیے تیار ہوجائیں۔

طریق مصطفےٰ کو چھوڑنا ہے وجہ بربادی                  اسی سے قوم دنیا میں ہوئی بے اقتدار اپنی 

ہمیں کرنی ہے شہنشاہ بطحا کی رضا جوئی                  وہ اپنے ہوگئے تو رحمت پروردگار اپنی

N.B. : This Artical is published in  Akhbar e Mashriq the leading Urdu Daily of Kolkata on 06-04-2016. http://akhbaremashriq.com/kolkata_epaper/page_8.html

No comments:

Post a Comment