Tuesday, 4 April 2017

سلطان الاولیائحضرت خواجہ غریب نوازحیات اور تعلیمات



سلطان الاولیائحضرت خواجہ غریب نوازحیات اور تعلیمات



مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی 

شیخ المشائخ ، قطب الاقطا ب خو اجہ غریب نواز حضرت معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمۃ الرضوان کی ذات گرامی محتاج تعارف نہیں۔ آج سرزمین ہندوپاک وبنگلہ دیش میں اسلام کی جو بہاریں نظر آرہی ہیں اور مساجد اورمدارس سے نعرہ تکبیر ورسالت کی جو صدائیں بلند ہورہی ہیں وہ سب حضرت خواجہ غریب نواز کی تبلیغی سرگرمیوں اور کاوشوں کا ثمرہ ہے۔ پروردگار عالم نے انہیں جو قبولیت عامہ عطا فرمائی سینکڑوں برس گزرجانے کے بعد بھی اس کے اثرات آج بھی باقی ہیں اور انشاء اللہ تاقیامت باقی رہیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ امتداد زمانہ کے باوجود آج بھی وہ ہزاروں،لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں دلوں کی دھڑکن بنے ہوئے ہیں۔ ان کے عقیدت کیش جہاں مسلمان ہیں وہیں دوسرے مذاہب کے پیروکار بھی ان کی محبت وعقیدت کو اپنے لئے سرمایہ افتخار سمجھتے ہیں۔ اپنے اس عظیم محسن اور داعی حق کی کے حالات زندگی اور دینی خدمات سے عوام الناس کو روشناش کرانے کے لئے ذیل میں ان کے حیات کے چند گوشوں پر روشنی ڈالی جارہی ہے۔ 
ولادت: خواجۂ خواجگاں سلطان الاولیا حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری علیہ الرحمہ ۱۴؍ رجب المرجب ۵۳۷ ہجری ملک سبحستان کے شہر چشت میں پیدا ہوئے۔
والدین: آپ کے والد بزرگوار کا نام نامی سیّد غیاث الدین ہے جو حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اولاد سے ہیں اور والدہ محترمہ کا نام بی بی ام الورع ہے اور آپ حضرت امام حسن کی اولادوں میں سے ہیں۔ 
یتیمی: حضرت خواجہ غریب نواز کی عمر جب چودہ برس کی ہوئی تو والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ والد کے وصال فرمانے کے کچھ ہی دنوں کے بعد والدہ بھی وصال فرما گئیں۔ 

وراثت: حضرت خواجہ غریب نواز کو اپنے والد سے وراثت میں ایک باغ اور پن چکی ملی تھی جس کی آمدنی سے آپ ذاتی ضروریات پوری کیا کرتے تھے۔ 

ابراہیم قندوزی سے ملاقات: ایک روز حضرت خواجہ غریب نواز باغ کی دیکھ ریکھ میں مصروف تھے کہ ایک مجذوب حضرت ابراہیم قندوزی باغ میں تشریف لائے۔ حضرت خواجہ نے ان کی بے پناہ تعظیم و تکریم کی اور خوب خاطر مدارت کی جس سے خوش ہوکر حضرت ابراہیم قندوزی نے آپ کو دعائیں دیں پھر جیب سے کھلی نما کوئی چیز نکالی اسے چبا کر حضرت خواجہ غریب نواز کے منہ میں ڈال دیا جس کے کھاتے ہی دل کی دنیا میں انقلاب برپا ہوگیا اور دنیا اور دنیاوی اشیاء سے نفرت ہوگئی۔ چنانچہ آپ نے باغ اور پن چکی بیچ کر پوری رقم راہ خدا میں صدقہ کردیا ۔اور طلب حق کے لئے سب کچھ چھوڑ کر راہ خدا میں نکل پڑے۔ 
علوم ظاہری کی تکمیل: حضرت خواجہ غریب نواز نے ترک وطن کے بعد سب سے پہلے سمر قند اور بخارا پہنچ کر علوم ظاہری کی تکمیل فرمائی۔ آپ نے قرآن پاک حفظ کیا ۔علم حدیث، تفسیر اور فقہ میں بھی کمال حاصل کیا۔ 

بیعت: علوم ظاہری کی تکمیل کے بعد مرشد برحق کی تلاش میں بغداد ہوتے ہوئے قصبہ ہارون پہنچے جہاں شیخ المشائخ حضرت خواجہ عثمان ہارونی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملاقات ہوئی ان کے جمال جہاں آراء پر نظر پڑتے ہی دل ان کی طرف بے ساختہ مائل ہوگیا اور ان کے دست حق پرست پر بیعت کرلی۔ مرید ہونے کے بعد کامل بیس سال شیخ کی خدمت میں حاضر رہے۔ شیخ نے بھی نوازش میں کوئی کمی نہ کی بلکہ اپنی نگاہ کیمیا اثر سے مرید صادق کو ولایت کے اعلیٰ و ارفع منصب پر پہنچا دیا۔ 

مرشد کی نصیحت: ایک مرتبہ حضرت خواجہ عثمان ہارونی علیہ الرحمہ نے پیردستگیر خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کو اپنی جگہ پر بٹھایا اور نصیحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا (معین الدین) تم نے درویشوں کا خرقہ پہن لیا اب درویشوں کا کام کرو، درویشوں کا کام فقروفاقہ، مصیبتیں جھیلنا اور رنج اٹھانا ہے، فقیروں کے نزدیک غم اور خوشی یکساں ہیں اور ان کے نزدیک راحت و جراحت دونوں برابر ہیں۔ درویش فقیروں اور غریبوں سے محبت کرتا ہے۔ اور فقیر دنیا داروں سے کنارہ کش رہتا ہے پس جو درویش ایساکرے حضرت حق ذوالجلال کا محب اور مقرب کمال ہوجائے۔ (مونس الارواح) 

حج و زیارت: مرشد طریقت کی رفاقت میں آپ نے حج اور روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضری کی بھی سعادت حاصل کی۔ چنانچہ روایتوں میں آتا ہے کہ مرشد برحق نے مرید صادق کے لئے غلاف کعبہ پکڑ کر دعا کی کہ اے مولیٰ عزوجل! معین الدین کو قبول فرمالے۔ اسی وقت غیب سے ندا آئی ہم نے قبول کیا۔ اس کے بعد مدینہ شریف حاضر ہوئے شیخ نے حکم دیا کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں سلام پیش کرو چنانچہ آپ نے عقیدت و محبت کے ساتھ سلام عرض کیا اس پر روضۂ اطہر سے جواب ملا وعلیک السلام یاقطب المشائخ۔ اس جواب سے بجا طور پر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ رسول پاک صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آپ کو کیا حیثیت حاصل ہے۔ 

ہندوستان آمد: ایک دن حضرت خواجہ غریب نواز سرکار دوجہاں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر تھے کہ حضور کی زیارت نصیب ہوئی اور حکم ہوا ۔اے معین الدین !تو میرے دین کا مددگار ہے۔ سرزمین ہند جو اب تک کفر و ظلمت کی تاریکیوں میں ڈوبی ہوئی ہے وہاں جاؤں اور نور حق لوگوں میں پھیلاؤ۔ اسلام کی لازوال دولت کی نشر و اشاعت میں ہمارے دین کے معین و مددگار بنو۔
حضور کا حکم پاتے ہی آپ ہندوستان کے لئے روانہ ہوگئے۔ بلخ، بدخشاں، ہرات، غزنی، سبزوار، لاہور ہوتے ہوئے دہلی پہنچے اور راجہ کے محل اور مندر کے درمیان قیام پذیر ہوگئے۔ 

دین کی راہ میں مصائب کا سامنا: دہلی میں سکونت کے زمانے میں آپ کو تکلیف پہنچانے میں راجہ اور اس کے کارندوں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ چونکہ آپ لوگوں کو ایک خدا کی بندگی کا اور رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی اختیار کرنے کا پیغام دے رہے تھے جو راجہ کھانڈے راؤ اور اس کے وزراء نیز پنڈتوں کو برا معلوم ہورہا تھا۔ اس لئے مسلسل وہ آپ کی اذیت رسانی میں لگے رہتے تھے۔ مگر آپ ثابت قدم رہے اور پورے خلوص کے ساتھ دین حق کی اشاعت میں سرگرم عمل رہے نتیجتاً کچھ ہی عرصے میں سینکڑوں ہزاروں افراد آپ کی تعلیمات سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔ پھرجب دہلی میں مسلمانوں کی تعداد خاصی ہوگئی تو آپ نے انہیں اسلامی تربیت دینے کے لئے اپنے مرید و خلیفہ حضرت خواجہ قطب الدین بختیار کا کی علیہ الرحمہ کو اپنا جانشیں مقرر فرمایا اور خود اجمیر کے لئے روانہ ہوگئے۔
کرامت: گرمی کا زمانہ تھا اجمیر کے قریب پہنچ کر آپ نے سایہ دار پیڑ کے نیچے قیام کیا کچھ ہی دیر میں راجہ کے ملازمین آگئے اور یہ کہہ کر آپ کو اٹھنے کو کہاکہ یہاں راجہ کے اونٹ بیٹھا کرتے ہیں۔ آپ یہ فرماتے ہوئے وہاں سے اٹھ گئے کہ ٹھیک ہے اب تمہارے اونٹ ہی یہاں بیٹھیں گے۔ وہاں سے رخصت ہوکر آپ نے اناساگر کے پاس تشریف لے گئے۔وہاں سے آپ کے لوٹنے کے بعد اونٹ وہاں بیٹھنے کو تو بیٹھ گئے مگرصبح ہزار کوشش کے باوجود وہ نہ اٹھائے جاسکے۔ملازمین نے سمجھ لیا کہ جس شخص کو ہم نے یہاں سے اٹھ جانے کے لئے کہا تھا وہ کوئی معمولی شخص نہیں ہوسکتا جبھی اس کی دل آزاری کی وجہ سے اس طرح کی پریشانی ہمیں درپیش ہوئی ہے۔ چنانچہ سب دست بستہ حاضر ہوئے اور اپنی غلطی پر ندامت کا اظہار کرتے ہوئے معافی کے طلب گار ہوئے۔ حضرت نے انہیں معاف کردیا اور فرمایا جاؤ اونٹ اٹھ گئے۔ ملازمین نے واپس آکر دیکھا تو واقعی اونٹ اٹھ چکے تھے۔ اس کرامت کو دیکھنے کے بعد ان کے دلوں میں حضرت خواجہ کی عظمت و بزرگی کا سکہ بیٹھ گیا۔
خواجہ غریب نواز کو اجمیر سے نکالنے کی کوشش: اناساگر کے گرد چونکہ سینکڑوں مندر تھے جہاں ہزار کے قریب بت تھے ایسی جگہ حضرت خواجہ کا قیام فرمانا اور ہندوؤں کے معبود ان باطل کی بیخ کنی کرناپھر لوگوں کو اسلام کی دعوت دینا۔ اذان پکارنا نمازیں پڑھنا۔ یہ سب چیزیں بہت سے ہندوؤں کو راس نہیں آرہی تھیں۔ پھر انہیں یہ فکر بھی کھائے جارہی تھی کہ مندروں میں آنے جانے والے ان کی باتوں کو سن کر متاثر ہوکر مسلمان ہورہے ہیں۔ اس لئے انہیں ان باتوں سے روکا جانا چاہئے۔ چنانچہ ایک جماعت نے راجہ کے پاس پہنچ کر شکایت کی کہ اگر انہیں اجمیر سے نہ نکالا گیا تو ہمارے دیوتا کہیں ہم سے ناراض ہوکر ہم پر کوئی آفت نہ بھیج دیں اس لئے کسی بھی طرح خواجہ کو اجمیر کی دھرتی سے نکال کر ہی دم لیا جائے۔ راجہ نے تمام باتوں کو سننے کے بعد فوراً انہیں ملک سے باہر کردینے کا حکم صادر کردیا۔ راجہ کا حکم پاتے ہی پولس کا دستہ اور پنڈتوں کی ایک جماعت حضرت خواجہ غریب نواز پر حملہ آور ہوئی ۔اس موقع پر حضرت غریب نواز نے ایک مٹھی خاک پر آیۃ الکرسی پڑھ کر ان حملہ آوروں پر پھینک دی جس شخص کے بھی جسم پر خاک کا ایک ذرہ بھی پڑا وہ حرکت نہ کرسکا یہ کرامت دیکھ کر تمام حملہ آور بھاگ کھڑے ہوئے۔ 
پجاریوں کا سردار مہنت رام دیو جو حملہ آوروں میں شامل تھا حضرت خواجہ کو دیکھتے ہی کانپنے لگا۔ حضرت خواجہ نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تواسے اپنے خادم کے ہاتھوں پینے کے لئے پانی دیا۔ پانی کے پیتے ہی دل سے کفر و ظلمت کی تاریکی دور ہوگئی اور رام دیو آپ کے قدموں پر گرپڑا ۔توبہ کی اور مسلمان ہوگیا۔ اسے مسلمان ہوتا دیکھ کر اس موقع پر بڑی تعداد میں ہندو مسلمان ہوئے۔ رام دیو کے مسلمان ہونے پر خواجہ غریب نواز نے اس کا نام بدل کر شادی دیو کر دیا۔

انا ساگر کے پانی پر پابندی: ہر طرح کے حربے جب ناکام ہوگئے تو راجہ اور اس کے درباریوں نے یہ چال چلی کہ انا ساگر کے پانی پر پہرہ بٹھا دیا جائے ۔ان کے اس سنگدلانہ کاروائی کا مقصد یہ تھاکہ جب انھیں پانی نہیں ملے گا تو خود ہی یہاں سے چلے جائیں گے۔ اورلوگوں کو ان سے نجات مل جائے گی۔ چنانچہ اناساگر پر پہرہ بٹھا دیا گیا۔ حضرت خواجہ نے اپنے ایک خادم کو کاسہ دے کر بھیجا کہ انا ساگر کے قریب جاکر اسے یہ کاسہ دکھاؤ اور اس سے کہو کہ حضرت خواجہ تمہیں بلارہے ہیں خواجہ کا پیغام سنتے ہی اناساگر کا تمام تر پانی سمٹ کر محض ایک ہی کاسے میں آگیا اور اناساگر کے ساتھ ساتھ اجمیر کے چھوٹے بڑے تمام تالاب اور اور کنویں بھی خشک ہوگئے۔ اس واقعہ نے اہل اجمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ خود راجہ اپنے کئے پرشرم شار ہوا اور معافی طلب کی حضرت خواجہ نے اسے معاف کردیا اور خادم کو حکم دیا کہ وہ کاسہ لے جاکر اناساگر کی خشک زمین پر ڈال دے۔ کاسہ کا پانی اناساگر میں انڈلیتے ہی اناساگر پھر سے جل تھل ہوگیا۔ اس واقعہ سے لوگوں پر اسلام کی حقانیت ظاہر ہوگئی اور بڑی تعداد میں لوگ حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ 

جوگی جے پال سے مقابلہ: حضرت خواجہ غریب نواز کی ان واضح کرامتوں کو دیکھ کر بھی اجمیر کے راجہ پرتھوی راج کی آنکھوں سے کفر و ضلالت کی پٹی نہیں اتری بلکہ دن بدن حضرت خواجہ سے متعلق اس کا غیض و غضب بڑھتا ہی گیا۔ حضرت خواجہ کو ان کے مشن میں ناکام بنانے کے لئے اس نے جوگی جے پال کو بلوایا جو اس وقت کا سب سے بڑا جادوگر تھا۔ فن جادوگری میں اسے جو کمال حاصل تھا اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس کے پاس سات سو خوفناک جادوئی اژدہے تھے ،پندرہ سو جادوئی چکر تھے اوروہ خود ہوا کے دوش پر پرواز کرتا تھا۔ اپنے جادو کے زور سے آگ، پانی، پتھر برساتا تھا۔ اس نے اپنی پوری قوت اور پندرہ سو چیلوں کے ساتھ حضرت خواجہ پر حملہ کیا۔ حضرت خواجہ نے فوراً وضو فرمایااور اپنے ہمراہیوں کے گرد عصائے مبارک سے حصار کھینچ دیا۔ جوگی جے پال نے طلسماتی چکر پھینکے مگر حصار کے گرد پہنچتے ہی چکر واپس ہوگئے جس کی زد میں آکر جے پال کے کئی چیلے مارے گئے۔پھر اس نے جادوئی اژدہوں کے ذریعہ حملہ کیا۔ مگر وہ سب کے سب بھاگ کھڑے ہوئے۔پھر اس نے آگ اور پتھر برسائے مگر خواجہ پاک پر ان چیزوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ اپنے تمام حربوں کو ناکام ہوتا دیکھ کر جوگی جے پال آپے سے باہر ہوگیا جست لگا کر ہوا کے دوش پر سوار ہوا اور لاف و غزاف ہانکنے لگا کہ میں آسمان پر جارہا ہوں تم پر آفات لاؤں گا یہاں تک کہ تم بھسم ہوجاؤ گے پھر نہایت ہی تیزی کے ساتھ آسمان کی بلندی میں پرواز کرنے لگا حضرت خواجہ نے کھڑاؤں اتار کر ہوا میں پھینکا اور اسے حکم دیا کہ جوگی جے پال کو میرے پاس حاضر کرو کھڑاؤں ہوا میں تیرنے لگی اور نہایت ہی سرعت کے ساتھ جے پال کے پاس پہنچی اور سر پر برسنے لگی کفر کا غرور خاک ہوا۔ جے پال آسمان کی بلندی سے بسرعت تمام زمین پر آیا سر حضرت خواجہ کے قدموں پر رکھ دیئے۔ حضرت خواجہ نے اسے زمین سے اٹھایا اور اسلام کی دعوت دی جے پال کے دل میں عظمت اسلام گھر کرچکی تھی لہذا کلمہ پڑھ کر داخل اسلام ہوگیا۔ جوگی جے پال کے مسلمان ہوتے ہی دنیائے کفر میں زلزلہ آگیا۔ اس موقع پر ہزاروں لوگوں نے کلمہ طیبہ پڑھ کر داخل اسلام ہونے کی سعادت حاصل کی اس طرح اسلام کا حلقہ اس سرزمین پر وسیع سے وسیع تر ہوتا گیا۔ 

کثرت تلاوت قرآن : حضرت خواجہ غریب نواز قرآن پاک کے حافظ تھے اور روزانہ دو ختم قرآن کریم کی تلاوت کرتے تھے۔ ایک ختم کے بعد ہاتف غیبی آواز دیتا کہ ہم نے آپ کی تلاوت قرآن قبول کیا۔ (مونس الارواح ۔از: شہزادی جہاںآراء بیگم) 

فکر و ریاضت: حضرت خواجہ غریب نواز کا معمول تھا کہ ہمیشہ باوضو رہتے۔ آپ کا وضو قضائے حاجت کے علاوہ کبھی فاسد نہ ہوتا۔ حضرت ہمیشہ آنکھیں بند کئے ہوئے مراقبہ میں رہتے جب آنکھیں کھولتے اور کسی فاسق پر آپ کی فیض اثر نگاہ پڑتی تو وہ گناہوں سے توبہ کرلیتا اور پھر گناہوں سے آلودہ نہ ہوتا۔ (مونس الارواح) 

بشارت بہشت: شہزادی جہاں آراء بنت مغل شہنشاہ شاہجہاں کہتی ہیں کہ میرے پیر دستگیر فرمایاکرتے تھے جو شخص معین اور معین الدین کے فرزندوں کا مرید ہوگا۔ معین الدین اس وقت تک جنت میں قدم نہیں رکھے گا جب تک ان مریدوں کو جنت میں نہ پہنچادے۔ لوگوں نے عرض کیا فرزندوں سے مراد کون لوگ ہیں؟ فرمایا فرزندوں سے مراد خلفا ہیں۔ قیامت تک جس شخص کا سلسلہ ارادت معین الدین تک پہنچے گا اسے نجات کی امید ہے۔ (مونس الارواح)

فیض صحبت: جو آدمی صدق دل کے ساتھ تین دن پیردستگیر کی صحبت میں رہتا اللہ کا ولی اور صاحب کشف وکرامات ہوجاتا۔ (مونس الارواح) 

ہر شب زیارت کعبہ معظمہ: ہر رات حضرت خواجہ غریب نواز اجمیر سے خانہ کعبہ کے طواف کے لئے مکہ تشریف لے جاتے اور جولوگوں حج اداکرنے کیلئے مکہ میں موجود ہوتے حضرت کو طواف کرتے ہوئے دیکھتے گھر والوں کو یہ گمان ہوتاکہ آپ حجرہ کے اندر عبادت میں مصروف ہیں۔ بالآخر یہ حقیقت ظاہر ہوئی کہ حضرت خواجہ غریب نوازہر رات مکہ مکرمہ تشریف لے جایاکرتے ہیں اور فجر کے وقت واپس آکر جماعت خانہ میں باجماعت نماز ادا فرماتے ہیں۔ (مونس الارواح) 

تعلیمات و ارشادات 
نماز بندہ اور خدا کے درمیان راز ہے: فرماتے ہیں نماز مومن کی معراج ہے جیساکہ حدیث شریف میں آیا کہ الصلوٰۃ معراج المومنین۔ بعدۂ آپ نے فرمایا کہ نماز ایک راز ہے جو بندہ اپنے پروردگار سے کہتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے۔ المصلی یناجی ربہ۔ نماز پڑھنے والا اپنے رب سے راز کہتا ہے۔ نماز بندوں کیلئے خدا کی امانت ہے پس بندوں کو چاہئے کہ اس کا حق اس طرح اداکریں کہ اس میں کوئی خیانت پیدا نہ ہو۔ (دلیل العارفین از خواجہ قطب الدین ) 

سب سے پہلے نماز کا حساب: فرماتے ہیں میں نے خواجہ عثمان ہارونی کی زبان سے سنا ہے کہ قیامت کے روز سب سے پہلے نماز کا حساب انبیاء اولیاء اور ہر مسلمان سے ہوگا جواس حساب سے عہدہ براء نہیں ہوسکے گاوہ عذاب دوزخ کا شکار ہوگا۔ (دلیل العارفین)
بھوکے کو کھاناکھلانا: فرماتے ہیں جو بھوکے کو کھانا کھلاتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اور جہنم کے درمیان سات پردے حائل کردے گا۔

(دلیل العارفین) 
جھوٹی قسم کھانا: فرماتے ہیں۔ جس نے جھوٹی قسم کھائی گویا اس نے اپنے خاندان کو ویران کردیا ادھر سے برکت اٹھالی جاتی ہے۔ (دلیل العارفین) 

قبرستان میں کھانا پینا: فرماتے ہیں۔ قبرستان میں عمداً کھانایاپانی پینا گناہ کبیرہ ہے جو عمداً (جان بوجھ کر) کھائے وہ ملعون ومنافق ہے کیونکہ قبرستان مقام عبرت ہے نہ کہ جائے حرص وہوا (یعنی قبرستان لالچ اور خواہش کی جگہ نہیں) (دلیل العارفین)۔ 

مسلمان کو ذلیل کرنا سب سے بڑاگناہ: فرماتے ہیں اس سے بڑھ کر کوئی گناہ کبیرہ نہیں کہ مسلمان بھائی کو بلاوجہ ستایا جائے اس سے خداورسول دونوں ناراض ہوتے ہیں۔ (دلیل العارفین) 
پانچ چیزوں کو دیکھنا عبادت ہے: فرماتے ہیں پانچ چیزوں کا دیکھنا عبادت ہے۔ (۱)اپنے والدین کے چہرے کو دیکھنا۔ (۲)کلام مجید کا دیکھنا۔ (۳)کسی عالم بزرگ کا چہرہ عزت واحترام سے دیکھنا۔ (۴)خانہ کعبہ کے دروازے کی زیارت اور کعبہ شریف دیکھنا۔ (۵)اپنے پیرومرشد کے چہرے کی طرف دیکھنا اور خدمت میں مصروف رہنا۔ (دلیل العارفین)
سورہ فاتحہ تمام بیماریوں کی دوا ہے: فرماتے ہیں۔ سورہ فاتحہ تمام دردوں اور بیماریوں کے لئے شفا ہے جو بیماری کسی علاج سے درست نہ ہووہ صبح کی نماز کے سنت اور فرض کے درمیان اکتایس مرتبہ بسم اللہ اور سورہ فاتحہ پڑھ کر دم کرنے سے دورہوجاتی ہے۔ حدیث میں ہے الفاتحہ شفاء من کل داء۔ سورہ فاتحہ ہر بیماری کی دوا ہے ۔ (دلیل العارفین) 

اللہ کے دوستوں کی پہچان: فرماتے ہیں۔ میں نے اپنے پیر ومرشد حضرت خواجہ عثمان ہارونی سے سناکہ اگر کسی میں تین خصلتیں پائی جائیں تو سمجھ لوکہ اللہ تعالیٰ تمہیں دوست رکھتا ہے۔ وہ تین چیزیں یہ ہیں۔ (۱) سخاوت، دریا جیسی۔ (۲)شفقت مانند آفتاب (یعنی سورج کی طرح) (۳)تواضع۔ زمین کی طرح۔(دلیل العارفین) 
تین بہترین آدمی: فرماتے ہیں دنیا میں سب سے بہترین آدمی ہیں۔ (۱)عالم جو اپنے علم سے بات کہے۔ (۲) جو حرص(یعنی لالچ) نہ رکھے۔ (۳)وہ عارف جو ہمیشہ دوست کی تعریف وتوصیف کرے۔ (دلیل العارفین) 
حضرت خواجہ کی زندگی پورے طور پر اسلام کی آبیاری اور خدمت خلق و ملت کے لئے وقف تھی غریبوں، محتاجوں، بے سہاروں کے ساتھ مشفقانہ برتاؤ فرماتے تھے۔ غریبوں کی دستگیری میں ہمہ تن سرگرم عمل رہتے تھے یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا آپ کو غریب نواز کے نام سے جانتی اور مانتی ہے۔ اس عظیم داعی اسلام اور پاسبان سنت و شریعت کا وصال ۶؍ رجب المرجب ۶۳۳ہجری میں ہوا اور اجمیر شریف میں سپرد خاک ہوئے۔ آپ کے وصال فرمانے کے بعد لو گوں نے دیکھا کہ دست قدرت سے آپ کی پیشانی مبارک پر یہ تحریر لکھی ہوئی تھی ھذا حبیب اللہ مات فی حب اللہ

حضرت خواجہ پاک نے اپنے ماننے والوں کو جینے کا صحیح شعور و سلیقہ سکھایا اور رب کی رضا حاصل کرنے کا طریقہ بتایا اب یہ ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم کہاں تک ان کی باتوں پر عمل پیرا ہوکر ان کے فیضان سے مستفیض ہونے کی کوشش کرتے ہیں

No comments:

Post a Comment