حافظ ملت علامہ شاہ عبدالعزیز محدث مرادآبادی علیہ الرحمہ
از: مبلغ اسلام مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی

پیدائش: ۱۳۱۴ھ /۱۸۹۶ء پیرکے دن قصبہ بھوجپور ضلع مرادآباد میں پیدا ہوئے محلہ کی عورتوں نے ’’پیر‘‘ کی مناسبت سے کہا کہ پیر آیا ہے دادا ملّا عبدالرحیم نے فرمایا کہ نہیں! دلی میں حضرت مولانا شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نام کے ایک بہت بڑے مولانا گذرے ہیں انہیں کے نام پر اس کا نام رکھتا ہوں انشاء اللہ یہ میرا بیٹا بھی بلند پایہ عالم دین ہوگا۔
اساتذہ کرام: (۱) ابتدائی تعلیم مع حفظ قرآن اپنے والد ماجد حافظ غلام نور سے حاصل کی (۲) معلمین پرائمری اسکول بھوجپورسے پرائمری درجہ تک (۳) مولوی عبدالمجید صاحب مراد آباد سے ابتدائی فارسی (۴) حافظ نور بخش صاحب سے فارسی تا گلستاں(۵) حکیم مولوی مبارک اللہ صاحب سے گلستاں (۶) حکیم مولوی محمد شریف صاحب سے ابتدائی عربی (۷) معلمین جامعہ نعیمیہ مرادآبادسے عربی تا شرح جامی (۸) معلمین جامعہ معینیہ اجمیر شریف سے عربی تا دورۂ حدیث
فراغت: کے بعد قصبہ بھوجپور ضلع مرادآباد کے ’’مدرسہ حفظ القرآن‘‘ میں بحیثیت مدرس تقرری ہوگئی اور ساتھ میں جامع مسجد کے امام بھی بنادیئے گئے جہاں آپ کی صحت قرآن مجید کا چرچا جلد ہی پورے علاقے میں ہوگیا۔ پانچ سال کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا رجحان ہوا لہٰذا جامعہ نعیمیہ میں داخلہ لے لیا۔ یہاں تین سال میں شرح جامی تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ اور آپ کے ساتھیوں مثلاً محدث اعظم پاکستان علامہ سردار احمد متوفی ۱۳۸۲ھ/ ۱۹۶۲ء شیخ النحو علامہ غلام جیلانی میرٹھی متوفی ۱۳۹۸ھ/ ۱۹۷۸ء مجاہد ملت علامہ محمد حبیب الرحمن قادری اڑیسوی متوفی ۱۴۰۱ھ/ ۱۹۸۱ء کو نہایت ہی مشفق استاذ کی تلاش تھی اس لئے شوال ۱۳۴۲ھ/ ۱۹۲۲ء کو مدرسہ معینیہ اجمیر شریف میں داخل ہوگئے اپنے ہمراہیوں سمیت دورۂ حدیث تک صدرالشریعۃ حضرت علامہ مولانا امجد علی متوفی ۱۳۶۷ھ /۱۹۴۷ء کی خدمت میں رہے یہاں تک کہ ۱۳۵۰ھ /۱۹۳۱ء میں آپ کی فراغت ہوئی۔
مشاغل: فراغت کے بعد ایک سال بریلی شریف میں صدرالشریعہ کی خدمت میں رہے شعبان ۱۳۵۲ھ/ ۱۹۳۳ء میں حضرت صدرالافاضل حضرت مولانا نعیم الدین مرادآبادی متوفی ۱۳۶۷ھ/ ۱۹۴۸ء نے جامع مسجد آگرہ میں مولانا نثار احمد صاحب کانپوری کے وصال کے بعد دو سو روپئے مشاہرہ پر رکھنے کی پیش کش کی جہاں آپ کے ذمہ خطابت اور افتاء کی ذمہ داریاں تھیں تو انکار کردیا اور عرض کیا کہ میں ملازمت نہیں کروں گا حافظ ملت کا خیال تھا کہ تجارت کریں گے اور حتی الامکان دینی خدمات فی سبیل اللہ انجام دیں گے اسی سال ماہ شوال کے آخر میں حضرت صدر الشریعہ نے آپ کو خط لکھ کر بریلی شریف طلب کیا چنانچہ آپ حسب حکم بریلی پہنچے ملاقات کے بعد صدرالشریعہ نے فرمایا کہ چونکہ میں ابتدا سے باہر رہا اس لئے میرے ضلع میں کوئی اہم دینی کام نہ ہوسکا اب میں آپ کو خدمت دین کے لئے مبارکپور مدرسہ مصباح العلوم میں بھیجنا چاہتا ہوں حافظ ملت نے کہا میں نے ملازمت نہ کرنے کا تہیہ کرلیا ہے اس جواب پر صدر الشریعہ کو جلال آگیا فرمایا میں نے ملازمت کے لئے کب کہا ہے میں تو خدمت دین کے لئے کہہ رہا ہوں یہ مت خیال کیجئے کہ آپ کو کیا مل رہا ہے آخر کار صرف ۳۵ روپئے مشاہرہ پر خدمت دین کی غرض سے ۲۹؍ شوال ۱۳۵۲ھ بمطابق ۱۴؍ جنوری ۱۹۳۴ء کو مبارکپور آگئے اس وقت مدرسہ پرانی بستی میں تھا، باہری طلبہ بالکل نہ تھے معیار تعلیم فارسی اور نحو میرپنج گنج تک تھا مدرسہ کا سالانہ بجٹ کل ۲۷۵۷ روپئے ۱۴ آنے ۹ پائی تھا۔
حافظ ملت کی تشریف آوری ہوئی اور مشتاقان علم ہر چہار جانب سے آنے لگے۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے مدرسہ کی غیر آباد عمارت میں قال اللہ قال الرسول کی صدائیں گونجنے لگیں۔ طالبان شوق دور دراز مقامات سے مبارکپور آنے لگے تھوڑے ہی روز میں مہاراشٹر گجرات، بہار اور بنگال تک کے طلبہ حافظ ملت کے درس میں سمٹ آئے (اشرفیہ کا ماضی اور حال ص ۷)
ترک وطن کے خلاف حافظ ملت کی خدمت: تقسیم ہند کے فوراً ہی بعد بھارت کے مسلمان جس بحرانی دورسے گذرے اس کا فطری ردعمل ترک وطن کی شکل میں ظاہر ہوا اسی موقع پر حافظ ملت نے ’’ارشاد القرآن‘‘ نامی ایک کتابچہ کے ذریعہ ثابت قدمی، پامردی، استقلال اور صبر و ضبط کے قرآنی اصول واضح کئے اور اپنی تقریروں میں ارشاد فرمایا کہ ہمیں اسی ملک میں رہنا ہے اس عزم و حوصلے کے ساتھ کے ہمارے اسلامی شعائر کے تمام گوشے حسب سابق قائم ودائم رہیں ہندوستان ہمارا وطن ہے اس کے اندر ہونے والی ہر بدعنوانی کو ہمیں خود اپنی کمزوری تصور کرنا ہوگا الغرض حافظ ملت کی شبانہ روز کی کاوش سے موثر اور دیرپا اثرات ظاہر ہوئے مبارکپور کے مسلمانوں کے پراگندہ خیالات مجتمع ہوئے بندھے بستر کھل گئے اور اپنے وطن کی تعمیر میں ازسر نو لگ گئے۔
قید و بند اور رہائی: تقسیم ہند کے معاملے میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کے جذبات کو برانگیختہ کرکے مذہب اور سیاست کا معجون مرکب بنانا چاہا تو حافظ ملت نے اس کی ڈٹ کر مخالفت کی ۱۹۴۷ء میں ملک تقسیم ہوگیا بٹوارے کے بعد عالم نما سیاسی بازیگروں نے شہر شہر جاکر سیاست کی آڑ میں مذہب کا جنازہ نکالنے اور سنی اوقاف و مساجد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو حافظ ملت خاموش نہ رہ سکے حق گوئی اور سنّی مسلمانوں کی رہنمائی کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان معاندین نے حکومت وقت سے شکایت کردی کہ حافظ ملت مسجد میں جہاد کی تقریر کرتے ہیں اور آپ پاکستانی ہیں اس شکایت پر آپ کے نام وارنٹ جاری ہوا کانسٹبل پولس اسٹیشن لے گیا اور وہیں آپ کو گرفتار کرلیا گیا گرفتار ہونے والوں میں آپ کے علاوہ دو طالب علم اور حاجی محمد عمر صاحب ناظم مدرسہ تھے حافظ ملت کی گرفتاری کی خبر سن کر مبارکپور میں ہیجان پیدا ہوگیا پولس اسٹیشن پر ہزاروں آدمیوں کا مجمع ہوگیا اعظم گڑھ پہنچنے کے بعد وہاں بھی ہیجان برپا ہوگیا آخر کلکٹر نے معاملہ کی نزاکت کو سمجھا اور اس مرد درویش پر بہتان باندھنے کا یقین ہوگیا تو تین چار روز کے بعد ۱۱؍ ربیع الاوّل کو (۱۹۴۹ء میں) بغیر کسی درخواست کے ان چاروں حضرات کو چھوڑ دیا۔
سفر حج :حافظ ملت کی برسوں سے خواہش تھی کہ زیارت حرمین شریفین سے مشرف ہوں مگر فوٹو کا مسئلہ حائل تھا حج فریضۂ الٰہی ہے اور فوٹو کچھوانا شرعاً حرام ہے اس مجبوری کے تحت حج جیسے فریضہ سے ایک مدت تک محروم رہے آخر کار ۱۹۶۷ء میں احباب و متعلقین کی کوششوں کی بدولت سعودی گورنمنٹ اور حکومت ہند نے بغیر فوٹو کے فریضہ حج ادا کرنے کی منظوری دے دی مبارکپور سے بلرام پور، بمبئی ہوتے ہوئے ۱۶؍ مارچ ۱۹۶۷ء کو جدہ پہنچے مکہ مکرمہ کی حاضری کے دوران علماء و مشائخ نے آپ کی بے حد تعظیم و تکریم کی اور احادیث کریمہ کی اسناد بھی لیں حج و عمرہ کے بعد مدینہ منورہ تشریف لے گئے بارگاہ نبوی میں حاضری دی اور گیارہ دن تک مدینہ منورہ میں حاضری کا شرف حاصل رہا ۱۶؍ اپریل ۱۹۶۷ ء کو ہندوستان کے لئے واپس ہوئے دوران حج ہندوستانی سفارت خانہ برائے سعودیہ عربیہ کے مختلف پروگراموں میں دعوت ملی آپ نے شرکت فرمائی تقریریں کیں۔
الجامعۃ الاشرفیہ عربی یونیورسٹی: حافظ ملت نے تعلیمی پس ماندگی دور کرنے کے لئے ۳۳ ایکڑ سے زائد زمین پر ایک عظیم عربک یونیورسٹی کا منصوبہ لوگوں کے سامنے رکھا تو مسلم عوام نے آپ پر بھرپور اعتماد کرتے ہوئے الجامعۃ الاشرفیہ کا سربراہ اعلیٰ مقرر کردیا تاکہ ہر ممکن طور پر اس خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جاسکے اس مقصد کے حصول کے لئے ۵؍ ۶؍ ۷؍ مئی ۱۹۷۲ء کو ایک کل ہند دینی تعلیمی کانفرنس منعقد ہوئی ۶؍ مئی کی شب حضور مفتی اعظم ہند حضرت علامہ شاہ محمد مصطفےٰ رضا خاں بریلوی متوفی ۱۴۰۲ھ/ ۱۹۸۱ء اور دیگر علماء و مشائخ علیہم الرحمہ والرضوان نے الجامعۃ الاشرفیہ کا سنگ بنیاد رکھا۔
یہ کانفرنس حضور حافظ ملت کی چالیس سالہ دینی خدمات کا جشن اعتراف تھا جس میں پوری قوم نے اپنے اعتماد اور بھروسے کی کل پونجی اس مرد حق آگاہ کے قدموں پر نچھاور کرکے اپنی حق پسندی، احساس شناسی اور شکر گزاری کا ایسا ثبوت دیا۔ جس کی مثال ماضی قریب کی تاریخ میں نہیں ملتی۔
وصال: علم و فضل کا آفتاب دس ماہ علیل رہ کر یکم جمادی الآخرہ ۱۳۹۶ھ/ ۳۱؍ مئی ۱۹۷۶ء کو رات گیارہ بج کر پچاس منٹ پر غروب ہوگیا اناللہ وانا الیہ راجعون الجامعۃ الاشرفیہ کے عزیزی ہاسٹل کے مغربی اور جنوبی کونے کے بغل میں مزار پر انوار واقع ہے طلبہ ہر صبح و شام حاضری دے کر اکتساب فیض کرتے ہیں۔
اولاد و امجاد: حافظ ملت علیہ الرحمہ کی صلبی اولاد میں تین صاحبزادے اور تین صاحبزادیاں ہیں (۱) مولانا عبدالحفیظ صاحب خلف اکبر جانشین و سربراہ اعلیٰ الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور (۲) حافظ عبدالقادر صاحب خلف اصغر جو اپنے وطن قصبہ بھوج پور ضلع مراد آباد میں کپڑے کی تجارت کرتے ہیں زبیدہ خاتون و حمیدہ خاتون دو صاحبزادیاں ہیں جو شادی شدہ ہیں۔ صاحبزادہ حفیظ الدین اور صاحبزادی جمیلہ خاتون انتقال کرچکے ہیں۔
تدریسی خدمات: حافظ ملت کے تدریسی خدمات کی مبارکپور میں کل مدت ۴۳ سال ہیں۔ بعض ناگزیر وجوہات کی بنا پر ایک سال ناگپور میں بھی صدر مدرس رہے۔ ابتدائی زمانے میں ایک دن میں آپ تنہا۱۳ کتابوں کا سبق پڑھاتے تھے جن میں سب سے نیچی کتاب شرح جامی تھی آپ کی تدریسی خدمات کا ہی اثر و ثمرہ ہے کہ آج اشرفیہ ملک و بیرون ملک میں ایک مقام رکھتا ہے اور اس کے فارغ التحصیل علماء کو ہندو بیرون ہند کے مختلف گوشوں میں پایا جارہا ہے آج اگر آپ مدرسین مدارس اسلامیہ م،صنفین و اصحاب قلم، خطباء و مقررین، حفاظ و قراء اور عالمی سطح پر تبلیغ اسلام کرنے والوں کا جائزہ لیں تو سب سے زیادہ تعداد انہیں کے در سے فیضیاب شخصیتوں کی ملے گی اور وہی ہر جگہ نمایاں نظر آئیں گے۔ الغرض آپ کے تلامذہ متعدد شعبہائے زندگی میں مصروف عمل ہیں۔
شرف بیعت:آپ کو شرف بیعت شیخ المشائخ حضرت مولانا شاہ سیّد علی حسین صاحب اشرفی میاں کچھوچھوی علیہ الرحمہ سے حاصل ہے انہوں نے مرید کرکے خلافت سے سرفراز فرمایا حضرت صدرالشریعہ مولانا امجد علی صاحب علیہ الرحمہ والرضوان سے بھی آپ کو خلافت و اجازت حاصل ہے آپ کے ذریعہ سلسلہ قادریہ رضویہ کو جتنا فروغ ہوا سلسلۂ اشرفیہ کا اتنا نہ ہوسکا کیونکہ آپ کا فطری جھکاؤ سلسلۂ قادریہ کی طرف تھا۔
تصنیف و تالیف: حافظ ملت کی تین کتابیں اشاعت پذیر اور ایک کتاب غیر مطبوعہ ہے سینکڑوں مضامین رسائل و جرائد میں پھیلے ہوئے ہیں۔ (۱) فتاویٰ دارالعلوم اشرفیہ یہ ان فتاویٰ کا مجموعہ ہے جو اب تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوسکا ہے (۲) معارف حدیث ۱۴۴ صفحات پر مشتمل احادیث کریمہ کا مجموعہ ہے۔ (۳) المصباح الجدید۔ اب تک بیس سے زائد ایڈیشن شائع ہوچکے ہیں۔ (۴) ارشاد القرآن کے ذریعہ آپ نے ۱۹۴۷ء میں ہزاروں ہندوستانی مسلمانوں کو بے وطن ہونے سے بعض رہنے کی ترغیب دی۔
خصائص حافظ ملت: حافظ ملت کے اندر اخلاقی قدروں کیبے پناہ فراوانی تھی، سادہ زندگی گذاری، پوری زندگی راستہ چلتے ہوئے نظریں نیچی کئے رہے سلام میں پہل کرتے رات کو چاہے دو بجے تک جاگتے رہیں نہ نماز فجر قضا ہوتی اور نہ ہی نماز تہجد، فرض نمازوں کو نہایت پابندی کے ساتھ ادا فرماتے چاہے سفر ہو یا حضر، جھوٹ سے دشمنی کی حد تک بیر رکھتے، کسی مصلحت کو نظر میں نہ لاتے، قوت ارادی اتنی مضبوط کہ پوری احتیاط یا شرعی ہدایات کی روشنی میں رائے مشورہ کے بعد جو عزم کرلیا تو پھر کوئی طاقت یا وقت کی بڑی سے بڑی قوت فیصلہ سے نہیں پلٹا سکتی، ایلوپیتھک اور ہومیوپیتھک دواؤں جن میں الکوحل یا اسپرٹ کا جز ملا ہو سختی سے احتراز فرماتے بعض مرتبہ تو جان پر بن آئی مگر ایسی دواؤں کو ہاتھ تک نہ لگایا، کئے ہوئے وعدوں کا پابندی سے ایفا فرماتے کوئی ملاقاتی اگر بارگاہ میں حاضر ہوتا تو سلام دعا کے بعد اپنے نزدیک ہی بٹھانے کی کوشش فرماتے چاہے وہ شاگرد ہی کیوں نہ ہو عموماً ملاقاتیوں کو چائے ضرور پلاتے وہ بھی اس اہتمام کے ساتھ کہ خود چولہا جلاکر چائے بناتے ایسی صورت میں حاضر ہونے والے شرمندہ ہوکر ہاتھ بٹانے کی کوشش کرتے تو اسے بحیلۂ لطیف روک دیتے عموماً اپنا کام خود کرتے ہر شخص کے ساتھ اپنائیت سے ملتے سبھی کو یہ گمان ہوتا کہ حافظ ملت مجھ سے زیادہ کسی کو نہیں چاہتے مصافحہ کے وقت ہاتھ اس وقت تک نہ کھینچتے جب تک مصافحہ کرنے والا ہاتھ نہ ہٹالے۔ دُعا تعویذ کے لئے حاجت مندوں کا تانتا بندھا رہتا اس کام میں بہت سے ضروری کام ترک کردینے پڑتے مگر آپ جھڑکتے نہ تھے بلکہ ہر آنے والے کے مسائل کو ہمدردی کے ساتھ سنتے اور ضرورت کے مطابق دُعا تعویذ عطا فرماتے۔
لباس میں کرتہ، شلوار پائجامہ، شیروانی، عمامہ اور عصا ہر موسم میں استعمال فرماتے آپ کا کوئی وقت بیکار نہ گزرتا فجر کی نماز کے بعد تلاوت و مطالعہ میں مشغول رہتے پھر درس و تدریس کا سلسلہ جاری ہوتا دوپہر میں کھانے کے بعد قیلولہ فرماتے اور تعویذ لکھتے بعد عصر ملاقاتیوں سے ملاقات فرماتے رات میں سوتے کم اور عبادت و رِیاضت میں زیادہ مشغول رہتے سفر میں ہوں یا حضر میں موقع ملتے ہی تلاوت کلام مجید شروع فرمادیتے الغرض آپ کی خوبیوں اور خصائص کاتذکرہ کرنے کے لئے ایک دفتر درکار ہے۔
Visit Us : http://www.tableeghseerat.com/
Like Us : https://www.facebook.com/TableeghSeerat
Subscribe Us : https://www.youtube.com/user/Tableegh...
Join Us : https://www.facebook.com/groups/Table...
No comments:
Post a Comment