Sunday, 6 March 2016

Mujahid e Millat Ek Azim Dai e Islam

مجاہد ملت ایک عظیم داعی اسلام
از: مبلغ اسلام مفتی محمد مجاہد حسین حبی

  ہمارے ملک ہندستان کو انگریزوں کی غلامی سے آزادی ملی تومسلمانوں کی بڑی تعدادنقل مکانی کرکے پاکستان چلی گئی،یہاں زیادہ ترپسماندہ قسم کے لوگ رہ گئے، مسلمانوں کی اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاکرانہیں ہرطرح سے دبایاجانے لگا،فرقہ ورانہ فسادات کاایک لامتناہی سلسلہ چل پڑابے گناہ مسلمان شہید ہوتے رہے اور ان کی عزت وآبرو نیلام ہوتی رہی ،ایک طرف جہاں جان ومال عزت وآبروخطرے میں تھی وہیں دوسری طرف بد عقیدگی کاطوفان برپا تھا ، ان حالات میں بندگان خداکوایک ایسے مرد مومن کی تلاش تھی جوباطل کی سینہ زوری اورریشہ دوانیوں سے قوم مسلم کوبچاسکے ان کے ایمان واعمال کی اصلاح کرسکے اورحکومت کی آنکھوں میںآنکھیں ڈال کراپنے حقوق منواسکے،اس عظیم امرکے لیے اللہ رب العزت نے مجاہد ملت علامہ شاہ محمد حبیب الر حمن عباسی ہاشمی قادری علیہ الرحمہ کومنتخب فرمایا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مجاہد ملت کون تھے ؟ تو سنئے مجاہد ملت اڑیسہ کے رئیس اعظم اور جاگیر دار تھے،جاہ و منصب ،دولت وثروت کا تقاضہ تو یہ تھا کہ شاہانہ کرو فر کے ساتھ اپنی زندگی ہر طرح کی عیش وعشرت آرام و راحت میں گزارتے لیکن نہیں آپ نے تو اپنا مقصود کچھ اورہی بنا رکھا تھا۔جیسا کہ اقبال نے کہا ہے۔



شہادت ہے مقصود و مطلوب مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی 

درس و تدریس:مجاہدملت جہاں دولت وثروت میں نمایاں مقام کے حامل تھے وہیں علم وفضل اورمختلف علوم وفنون میں بھی یکتائے روزگار تھے، جامعہ نعیمیہ مرادآباد، مدرسہ سبحانیہ الہ آباداورجامعہ حبیبیہ میں تدریسی خدمات آپ نے انجام دیں ،درس وتدریس کایہ سلسلہ خالصاًلوجہ اللہ الکریم تھا،تعلیم دینے کے عوض معاوضہ لیناتودرکنارمجاہدملت خودمدرسہ کوچندہ دیتے رہے ،بلکہ بیک وقت درجنوں غریب وناداربچوں کی کفالت فرماتے رہے ،یہ اور بات ہے کہ آپ درس و تدریس سے زیادہ دنوں تک جڑے نہ رہ سکے بایں سبب آپ کے تلامذہ کی تعداد زیادہ نہ ہوسکی تاہم جس نے بھی شرف تلمذحاصل کیا اپنی اپنی جگہ آفتاب ومہتاب بن کرچمکا۔کوئی شمس العلما کے خطاب سے نوازاگیا ،کوئی مفتی اعظم اڑیسہ بنا ،کوئی خطیب مشرق کے نام سے متعارف ہواتوکوئی وحیدزماں ماہرہشت لسان کے طورپرپہچانا گیا۔

جب شاگرد و تلامذہ کایہ حال ہے توخودمجاہدملت کے علم وفضل کابھلاکوئی کیاندازہ لگاسکتاہے۔
مجاہدانہ زندگی :ملک کے طول وعرض میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آپ نے بارہاصدائے احتجاج بلند فرمایا اور حکومت سے مطالبہ کیاکہ مسلمانوں کی جان ومال، عزت وآبروکی حفاظت کویقینی بنائے اورفسادی عناصرکے خلاف سخت سے سخت کاروائی کرے، آپ کے ان مجاہدانہ مطالبات نے حکومت کے کان کھڑے کردیے صدائے احتجاج بلندکرنے کی پاداش میں ہندوستان میں سات مرتبہ جب کہ سعودی عرب کی سرزمین پرایک مرتبہ قیدوبندکی صعوبتوں سے دوچارہوناپڑا لیکن آپ کے صبر واستقلال ، عزم وارادہ میں کسی طرح کی کوئی لغزش نہ آئی۔تاحیات آپ فرمان رسول علیہ السلام کے مطابق افضل الجہادکلمۃ الحق عند سلطان جائرکافریضہ ادافرماتے رہے۔

آئین جواں مرداں حق گوئی و بے بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی

آل انڈیاتبلیغ سیرت:مسلمانان ہندکوسیرت پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے سانچے میں ڈھالنے اور انہیں فرائض وواجبات اورسنن ومستحبات کاپابندبنانے کے لیے آپ نے۱۳۶۸ھ میں تبلیغ سیرت کی بنیادرکھی ،اس سلسلے میں شہروں قصبوں اور دور دراز کے دیہی علاقوں میں بھی تشریف لے گئے عشق مصطفی اورپیروی رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جوت جگائی، سینکڑوں ہزاروں گناہگاروں نے آپ کے دست حق پرست پرہرطرح کی آلائشوں سے تائب ہوکروابستگی اختیارکی مجاہدملت چاہتے تھے کہ اصلاح عقائدواعمال کے لیے ہرچھوٹے بڑے شہراورقصبے میں تبلیغ سیرت کی شاخیں قائم ہوں اورہرصوبے کی راجدھانی میں صدردفترہوتاکہ باہم مربوط ہوکر تبلیغ کاکام انجام دیاجاسکے ۔

تحریک خاکساران حق:مسلمانوں کوباوقارمذہبی زندگی دلانے کے لیے مجاہدملت نے آل انڈیاتبلیغ سیرت کے ساتھ ہی ۷۰؍کی دہائی میں تحریک خاکساران حق کی بنیادرکھی تھی،خاکساران حق تحریک کامقصدیہ تھاکہ مسلمانوں کی ایک ایسی جماعت تیاری کی جائے جوقدرتی آفات وحادثات کی صورت میں متاثرین تک امدادپہنچائے، انہیں محفوظ مقامات منتقل کرے، ان کے خوردونوش کاانتظام کرے،ساتھ ہی فرقہ وارانہ فسادات کے موقع پرفسادکوقابومیں کرنے کی سعی کرے،فسادکے شکارمظلوم افرادکی جان ومال عزت وآبروکی حفاظت کویقینی بنائے ،اس تحریک کوقوم نے بہ نظراستحسان دیکھااورتھوڑے ہی عرصے میں سینکڑوں افراد تحریک خاکساران حق کے پرچم تلے جمع ہوگئے، تحریک کادروازہ تمام مذاہب کے پیروکاروں کے لیے یکساں طورپرکھلاتھاتاکہ تحریک میں شامل ہوکر وہ بھی قومی،سماجی خدمات انجام دے سکیں چنانچہ اس تحریک کی کارکردگی کے بہترین نتائج بھی سامنے آئے فیروز آبادمیں تحریک خاکساران حق کے سپاہیوں نے بروقت فسادپہ قابوپالیاجس کااعتراف حکومت ہندنے بھی کیاتھا،مگر دوسرے انداز میں۔

مجاہدملت کی صدائیں اور کاوشیں صدابہ صحراثابت نہ ہوئیں بلکہ ایوان سلطنت تک آپ کی آوازپہنچی حکومت نے کمیشن مقررکیے اورآئندہ کے لیے مسلمانوں کی جان ومال کی حفاظت کی ضمانت لی یہ اوربات ہے کہ حسب سابق انہوں نے وعدہ وفا نہیں کیا،وی پی سنگھ،عبدالرحمن انتولے،اڑیسہ کے وزیراعلی اور میدان سیاست کے بڑے بڑے سورماؤں نے آپ سے ملاقاتیں کیں ، خود اندرا گاندھی آپ سے ملنے کی آرزومندتھی ایسے میںآپ چاہتے تواپنے لیے کسی بڑے منصب کا مطالبہ فرمالیتے تویقینی طورپرآپ کی خواہش کایہ حضرات احترام کرتے لیکن آپ نے تومقصد حیات کچھ اورہی منتخب فرمالیاتھا۔

شہادت ہے مقصود و مطلوب مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی

تعلیمی اداروں کا قیام:مجاہدملت نے جہاں ایک طرف آل انڈیاتبلیغ سیرت اورتحریک خاکساران حق کے ذریعہ مسلمانوں کو مذہب اسلام سے جوڑنے اورباوقارزندگی دلانے کی کوششیں فرمائی تھیں وہیں دوسری طرف ملک کے طول وعرض میں مدارس اسلامیہ کا جال بچھایاتاکہ آنے والی نسلیں مذہبی تعلیم وتربیت سے آراستہ ہوکرحقوق اللہ اورحقوق العبادکی بجاآوری کے ساتھ زندگی گزارسکیں، ایسے مدارس کی تعداد درجنوں میں ہے جن کی بنیاد آپ نے رکھی ہے لیکن وہ مدارس جن کے قیام میںآپ نے خوداپنی جیب خاص سے خطیررقم صرف فرمائی وہ جامعہ حبیبیہ الہ آباد،مدرسہ قادریہ پانسکوڑہ، مرکزاسلامی رانچی کے ادارے ہیں ۔والد بزرگوار خلیف�ۂحضور مجاہد ملت مفکر اسلام حضرت مولانا الحاج مدثر حسین حبیبی سر پرست اعلیٰ آل انڈیا تبلیغ سیرت مغربی بنگال کے قائم کردہ ادارہ مدرسہ عربیہ غوث اعظم کی بھی تاحیات آپ نے سرپرستی فرمائی ،جو ان دنوں چند ناعاقبت اندیش خود غرض عناصر کے مفاد پرستانہ سیاست کا شکار ہوکر اپنی حیثیت اور اہمیت کھو چکا ہے۔

دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ مجاہدملت عصری تعلیم کی اہمیت کے بھی معترف تھے یہی وجہ ہے کہ آپ نے دھام نگرہائی اسکول، دھام نگرکالج کے لیے آپ نے زمینیں وقف کیں، مجاہد ملت کا نظریہ تھاکہ جدیدعلوم میں مہارت اسلام اورمسلمانوں کی سربلندی کے لیے ہونی چاہیے نہ کہ دولت سے جھولی بھرنے کے لیے، یونہی مغربی زبانوں کاسیکھناجدیدعلوم کے حصول کے لیے ہوناچاہیے نہ کہ یہودونصاری کی تہذیب اپنانے کے لیے، یہاں اصل چیزنیت ہے، نیت اگردرست ہے توجدیدعلوم کاسیکھناکارثواب ہے یہ نظریہ مجاہدملت کاتھااسی سبب جب کالج یااسکول کے طلباآپ کی زیارت کے لیے آیاکرتے توآپ انہیں خوب دعائیں دیتے اورمحنت سے پڑھنے کی تاکیدفرماتے ساتھ ہی اسلامی احکامات پر عمل پیراہونے کی بھی ترغیب دیتے۔

سخاوت:خداوندقدوس نے دولت وثروت اورجاہ ومنزلت سے مجاہدملت کو نوازاتومجاہدملت نے بھی رب کی دی ہوئی دولت کوغربا و مساکین، بیوہ ویتیم اوردیگرضرورت مندوں میں بے دریغ لٹایا مساجد و مدارس کی تعمیرفرمائی، شادی بیاہ کے موقع پراکثر غریبوں کی امدادفرماتے، طلبہ کی مالی معاونت فرماتے، یہاں تک کہ بعض شاگردوں کے گھروالوں کی بھی کفالت فرماتے رہے، مسلمان تو مسلمان غیرمسلم سائل کوبھی محروم نہیں فرماتے تھے، روپے پیسے کے علاوہ کتنوں کوزمینیں بخش دیں، غرض یہ کہ پوری جاگیرآپ نے راہ خدامیں لٹادی یہاں تک کہ وقت آنے پراپنی شریک حیات کے زیورات تک فروخت فرماکراسے بھی راہ خدامیں قربان فرمادیاایسے ہی جانثاروں کے سلسلے میں خداوندقدوس کاارشادہے۔اِنَّمَاالْمُوْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰ مَنُوْابِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْ وَجَاھَدُوْابِاَمْوَالِھِمْ وَاَنْفُسِھِم فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ اُوْلٰءِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ(الحجرات۱۵)ترجمہ:۔ مومن وہی ہیں جواللہ پراوراس کے رسول پرایمان لائیں اورپھراس میں شک نہیں کریں اورپھراللہ کی راہ میں اپنی جانوں اورمالوں سے جہادکریںیہی لوگ سچے مومن ہیں۔

محبت رسول:مجاہد ملت کا سینہ محبت کا رسول کامدینہ تھا، آقا علیہ الصلوٰۃ و السلام کاذکر خیر سنتے تو اشک بار ہوجایاکرتے، گریہ کی کیفیت طاری ہوجاتی، محبت رسول ہی کی جلوہ گری تھی کہ جان کی پروا کئے بغیر پرخطر راہوں میں چل پڑے ، آقا علیہ الصلوٰۃ السلام نے بھی اپنے اس سچے عاشق کو محروم نہیں چھوڑا۔ ۱۹۷۹ء میں جب سعودی حکومت نے حج کی ادائیگی سے روک دیا، قیدمیں ڈالا،زدکوب کیاہرزاویے سے تصویریں لیں کہ یہ شخص اب کبھی حج کی ادائیگی کے لیے نہ آسکے، لیکن مجاہد ملت کی وارفتگی انھیں دوسرے ہی سال کشاں کشاں حج بیت اللہ اور زیارت روضہ رسول اللہ کے لیے لے گئی ۔کسی کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ان حالات میں مجاہد ملت کو حج اور بارگاہ رسول میں حاضری کی سعادت مل سکے گی ،لیکن آپ پر تو جذب کی کیفیت طاری تھی گویا اشارہ غیبی مل چکا تھا۔ 

مولانا عبدالتواب صدیقی ،حاجی اسمٰعیل برکاتی ، حاجی جمیل احمد بھدوہی اوردوسرے احباب آپ کے ساتھ تھے، ایک روز نماز کی ادائیگی کے بعد سیدھے مواجہہ شریف پہ حاضرہوئے ، دیر تک وارفتگی کے عالم میں سلام پیش کرتے رہے، اس درمیان چہرے پر اتار چڑھاؤ کااثر صاف جھلک رہاتھا یوں محسوس ہورہاتھا کہ آپ کسی کرم خاص کے منتظر ہیں،چنانچہ اسی وقت عالم بیداری میں مجاہد ملت نے آقا علیہ الصلوٰۃ و السلام کی زیارت فرمائی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجاہدملت کی پشت پہ دست

کرم پھیرا ،سینے سے لگایا اوربے پناہ نوازشات فرمائیں۔ ع یہ رتبۂ بلند ملا جس کو مل گیا ***


No comments:

Post a Comment