Wednesday, 9 March 2016

Imam Azam Abu Hanifa Aur Deen Fahmi

امام اعظم ابو حنیفہ اور دین فہم

از:مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی



حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ جہاں بہت ساری خوبیوں کے مالک تھے وہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں ایک ایسی صفت سے نواز رکھا تھا کہ لمحہ بھر میں دقیق سے دقیق مسائل حل فرمادیاکرتے تھے۔ یہ وصفت آپ کے ساتھ ایسی خاص ہے کہ آپ کے معاصرین میں سے کسی کو بھی یہ سعادت حاصل نہ ہوسکی ۔جس پر بہت سے واقعات شاہد ہیں۔ ان میں سے چند ہدیہ قارئین ہیں۔ 

ایک عجیب و غریب مسئلے کا حل: آپ کے مخالفین میں سے کسی آدمی نے آپ سے دریافت کیا کہ ایسے آدمی کے بارے میں کیا کہتے ہیں جو جنت کی خواہش نہ رکھتا ہو اور نہ ہی جہنم سے ڈرتا ہو اور نہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتاہو، مردار کھاتا ہو ،بے رکوع اوربے سجدے کی نماز پڑھتا ہو، بن دیکھی چیز کی گواہی دیتا ہو،سچی بات سے نفرت کرتاہو، فتنہ سے محبت رکھتا ہو، رحمت سے بھاگتا ہو،یہود و نصاریٰ کی تصدیق کرتاہو۔ آپ نے اپنے شاگردوں سے دریافت فرمایا تم ایسے آدمی کے بارے میں کیارائے رکھتے ہو ؟طلبہ نے کہا ایسا آدمی توبہت برا ہے اوریہ صفت توکافروں کی ہے۔ اس پر آپ مسکرائے اورفرمایا نہیں ایسا آدمی تو اللہ کا دوست ہے پھر آپ اس آدمی کی طرف متوجہ ہوئے جس نے یہ سوال کیاتھااور فرمایا اگر تم مجھ سے یہ وعدہ کروکہ آئندہ میری بدگوئی نہ کروگے تومیں تمھیں جواب بتادیتا ہوں وہ اس پر آمادہ ہوگیا۔ آپ نے فرمایا اس کایہ کہنا کہ میں جنت کی خواہش نہیں رکھتا اورنہ ہی جہنم سے ڈرتاہوں بجاہے کیوں کہ وہ ربِّ جنت کی امید رکھتا ہے اور ربِّ جہنم سے ڈرتا ہے۔ اس کا یہ کہنا کہ اللہ سے نہیں ڈرتا یعنی وہ اس بات سے نہیں ڈرتا کہ اللہ تعالیٰ اپنی بادشاہت میں اس پر ظلم فرمائے گا۔ مردار کھاتاہے یعنی مچھلی کھاتا ہے۔ بے رکوع اور بے سجدے والی نماز پڑھتا ہے یعنی جنازہ کی نماز پڑھتا ہے۔ بن دیکھے چیز کی گواہی دیتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اس نے نہیں دیکھا مگر اس کی وحدانیت کا اقرار کرتا ہے۔ سچی بات سے نفرت کرتاہے یعنی موت کو بُرا سمجھتا ہے جبکہ وہ حق ہے۔ فتنہ کو دوست رکھتا ہے یعنی مال و اولاد کو دوست رکھتا ہے جبکہ یہ دونوں چیزیں فتنہ یعنی آزمائش ہیں۔ رحمت سے بھاگتا ہے یعنی بارش سے بھاگتا ہے جو رحمت ہے ۔یہود کی اس بات میں تصدیق کرتا ہے لَیْسَتِ الْنَصَارٰی عَلی شَیْءٍ یعنی نصرانیت کوئی چیز نہیں اور نصارٰی کی اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ لَیْسَتِ الْیَہُوْدُ عَلی شَیْیءٍ یعنی یہودیت کوئی چیز نہیں۔ ایسا آدمی کیوں کرکافرو زندیق ہوسکتا ہے آپ کا یہ جواب سن کر تمام حاضرین حیرت میں ڈوب گئے اور اس آدمی نے آپ کی عداوت سے سچی توبہ کرلی اور آپ کا گرویدا ہوگیا۔ (الخیرات الحسان،س: ۱۰۴)


دو سگے بھائیوں کی دولہنوں کے بدل جانے کا تصفیہ: ایک مرتبہ کسی رئیس کے گھر ولیمہ کی دعوت کے موقع پر اکابرائمہ موجود تھے لڑکیوں کا باپ نہایت ہی پریشانی کی حالت میں گھر سے باہر آیااور علما سے سوال کیا آپ لوگ اس سلسلے میں کیا کہتے ہیں کہ رات غلطی سے دلہنیں بدل گئیں اور بڑے بھائی کے پاس چھوٹے کی دلہن اور چھوٹے بھائی کے پاس بڑے کی دلہن چلی گئی اب بتائیے کہ کیا کیا جائے حضرت سفیان ثوری نے فرمایا کوئی مضائقہ نہیں ہر عورت اپنے اصلی شوہر کے پاس چلی جائے اور صحبت کی وجہ سے ہر دومردوں پر مہر اداکرنا واجب ہے اس جواب کو لوگوں نے پسند کیا امام اعظم خاموش رہے حضرت مسعر نے آپ کی طرف اشارہ کیا کہ آپ بھی کچھ فرمائیں حضرت سفیان ثوری نے کہا بھلا اس کے سوا اور کیا جواب ہوسکتا ہے اس پرامام اعظم نے فرمایا لڑکوں کوبلایاجائے جب لڑکے آئے تو آپ نے دریافت فرمایا تم جن عورتوں کے پاس رات گزار چکے ہو کیا وہ تمہیں پسند ہیں؟ لڑکوں نے ہاں میں جواب دیا۔ امام اعظم نے ارشاد فرمایا توپھر تم دونوں اپنی اپنی بیویوں کو طلاق دے دوجوکہ دوسرے کے پاس رات گزار چکی ہیں اور ہر ایک اس سے نکاح کرلے جس کے ساتھ رات گزاری ہے یہ جواب سن کر حضرت مسعر اٹھے اور امام اعظم کے پیشانی کو بوسہ دیا پھر اسی مجلس میں لڑکوں نے اپنی عورتوں کو طلاق دیا اور فوراً ہی ان عورتوں سے نکاح پڑھایاگیا جن کے پاس رات گزاری تھی۔ (مقامات امام اعظم،از: امام حافظ کردی،ص۳۰۵)



قسم توڑنے سے بچالیا: ایک آدمی آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میری بیوی اور میرے درمیان جھگڑا ہورہا تھا کہ میں نے قسم کھالی کہ میں اس وقت تک تم سے بات نہیں کرو ں گا جب تک پہلے تم مجھ سے بات نہ کرو اس پر میری بیوی نے بھی قسم کھائی کہ اگر وہ پہلے مجھ سے بات کرے گی تو اس کا تمام مال صدقہ ہوگا۔ اب دونوں بہت پریشان ہوئے کہ بغیر بات کئے گزارہ نہیں ہوسکتا تھا چنانچہ حضرت سفیان ثوری سے مسئلہ دریافت کیا کہ ہمارے لئے اس معاملے میں کیا حکم ہے؟ حضرت سفیان ثوری نے فرمایا تم میں سے جوبھی پہلے بات کرے گا وہ حانث ہوگا اور اس کی قسم ٹوٹ جائے گی پھر وہ سیدنا امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس پہنچا اور ان سے اپنی پریشانی کا ذکر کیا آپ نے فرمایا جاؤ اپنی بیوی سے بات کروتم میں سے کوئی بھی حانث نہ ہوگا اورنہ کسی کی قسم ٹوٹے گی اس پر وہ سفیان ثوری کے پاس گیااور انہیں امام اعظم کی بتائی ہوئی بات سے آگاہ کیا حضرت سفیان ثوری برہم ہوگئے اور اسی وقت حضرت امام اعظم کے پاس پہنچے اور کہنے لگے اے ابوحنیفہ! تم لوگوں سے حرام کرواؤگے امام اعظم نے برہمی کا سبب دریافت کیا تو حضرت سفیان ثوری نے کہا آپ نے یہ جواب کہاں سے دیا ہے۔ اس پر امام ابوحنیفہ نے اس شخص سے جس نے آپ سے سوال کیا تھا سفیان ثوری کے سامنے سوال دہرانے کا حکم فرمایا جب اس نے سوال دہرایا تو آپ نے اپنا فتوی بھی دہرایا اور فرمایا کہ جب اس نے قسم کھائی فوراً ہی اسکی بیوی نے اس سے بات کی اور قسم کھائی تو اس کی قسم پوری ہوچکی ہے اب یہ جاکر بیوی سے بات کرے تاکہ اس کی قسم بھی پوری ہوجائے اور اس صورت میں دونوں حانث نہ ہوں گے حضرت سفیان ثوری نے جب یہ سنا تو فرمانے لگے امام ابوحنیفہ ایسے ایسے مسائل کی تہہ تک پہنچ جاتے ہیں جہاں تک پہنچنے سے ہم سب قاصر و عاجز رہتے ہیں۔ سبحان اللہ۔ (الخیرات الحسان)

دیوانی و پاگل عورت پر حد لگانا درست نہیں: ایک مرتبہ ایک دیوانی عورت جسے ام عمران کہا جاتا تھا اس کے پاس سے ایک آدمی کچھ کہتا ہوا گزرا اس پر عورت چونکہ دیوانی تھی اس نے سوچا کہ شاید اس نے مجھ کو گالی دی ہے اس لئے اس آدمی کو بُرا بھلا کہتے ہوئے عورت نے کہااے زانیوں کے بچے ۔ قاضی شہر ابن ابی لیلیٰ نے بذات خود عورت کی اس بدزبانی کو سنا پھر حکم دیا کہ اسے مسجد میں حاضر کیا جائے چنانچہ عورت مسجد میں حاضر کی گئی قاضی نے مسجد ہی میں اسے دو حدیں لگائیں ایک حد ماں کو گالی دینے کی وجہ سے اور ایک حد باپ کو گالی دینے کی وجہ سے۔ جب اس واقعہ کی خبر حضرت امام ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوہوئی تو آپ نے فرمایا اس معاملے میں ابن ابی لیلیٰ نے چھ غلطیاں کی ہیں۔ 


۱۔ دیوانی عورت کو حدلگائی جب کہ دیوانی پرکوئی حد نہیں۔ ۲۔حد مسجد میں لگائی جب کہ مسجد میں حدنہیں لگانی چاہئے تھی۔۳۔عورت کو کھڑا کرکے حدلگوائی جب کہ عورت کو بٹھاکر حدلگائی جاتی ہے۔ ۴۔عورت پر دوحدیں قائم کیں جب کہ اس پر ایک ہی حد قائم کرنی چاہئے تھی۔ ۵۔عورت نے جس شخص کو اے زانیوں کے بچے کہا تھا اس کے ماں باپ کو وہاں موجود رہنا چاہئے تھا جب کہ وہ دونوں غائب تھے۔ ۶۔دونوں حدیں ایک ساتھ جاری کیں جب کہ اس وقت تک دوسری حد جاری نہیں کرنی تھی جب تک کہ پہلی حد کے زخم ٹھیک نہ ہوجاتے۔(مقامات امام اعظم:از : امام حافظ الدین کردی،ص:۳۰۴)

اللہ اکبر! باوجود اس کے کہ قاضی ابن ابی لیلیٰ اپنے وقت کے جیّد عالم تھے مگر امام اعظم ابوحنیفہ کی نگاہ وہاں تک پہنچتی تھی جہاں کسی اور کی نگاہ کا پہنچنا اگرچہ محال نہیں تاہم دشوار ضرور تھا۔ 


طلاق سے بچا نے کے تین واقعات:ایک عورت سیڑھی پرتھی کہ اس کے شوہر نے کہا اگر تونیچے اتری تو تجھ پر طلاق ہے اور اگر تو اوپر جائے تو بھی تجھ پر طلاق ہے اب بڑی پریشانی لاحق ہوئی کہ کیا کیا جائے امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا اس کے ارادہ کے بغیر کوئی شخص اسے نیچے اتارلے اس طرح طلاق سے بچ جائے گی۔ (الخیرات الحسان۔ص:۱۲۸)

دوسرا واقعہ :ایک مرتبہ سادات کے گھرانے میں کسی کا انتقال ہوگیا جنازے میں شرکت کے لئے اہل کوفہ کے جید علما پہنچے جنازہ راستہ سے جاہی رہا تھا کہ اچانک جنازہ ٹھہرا دیا گیا معلوم ہوا کہ مرنے والے کی والدہ بلا حجاب ننگے سر یہاں تک آگئیں ہیں جب یہ حالت اس ہاشمیہ کے شوہر نے دیکھا تو پکار کر کہا یہاں سے گھر لوٹ جاؤ ورنہ تم پر طلاق ہے ۔عورت نے بھی قسم کھائی کہ اگر میں جنازہ کی نماز سے پہلے لوٹی تو میرے تمام غلام وباندیاں آزاد ہیں۔ اسی وجہ سے جنازہ روک دیا گیا ہے پھر اس شخص نے امام اعظم کو پکارا کیونکہ آپ بھی جنازہ میں شریک تھے امام صاحب آگے بڑھے مسئلہ دریافت کیا گیا آپ نے جواب دیا کہ جنازہ رکھ دیا جائے اور یہیں نمازجنازہ پڑھ لی جائے چنانچہ وہیں نمازجنازہ ادا کی گئی پھر آپ نے میت کی والدہ سے فرمایا‘ اب گھر جاؤ کہ تمہاری قسم پوری ہوگئی اور شوہر کی قسم بھی پوری ہوئی کہ عورت یہیں سے لوٹی اس طرح ہر دو کی قسمیں پوری ہوگئیں۔ (الخیرات الحسان۔ص:۱۰۹)

تیسرا واقعہ : امام اعمش نے اپنی بیوی سے تکرار کے وقت یہ کہہ دیا کہ اگر تومجھے آٹا کے ختم ہونے کی خبر دے یا بتائے یا پیغام بھیجے یا کسی اور سے کہے تاکہ وہ مجھ سے بیان کرے یا اشارہ کے ذریعہ مجھے آٹا کے ختم ہونے کی خبر دے تو ان سب صورتوں میں طلاق ہے۔اس بات کی وجہ سے ان کی بیوی کافی پریشان ہوئیں اور اس سے نجات پانے کی راہ تلاش کرنے میں لگ گئیں ۔کسی نے ان کو امام اعظم سے ملنے کا مشورہ دیا چنانچہ وہ امام اعظم کی بارگاہ میں حاضر ہوئیں اورواقعہ سنایا اور اس سے خلاصی کی صورت دریافت کی اس پر امام ابوحنیفہ نے فرمایا کوئی بات نہیں ہے جب آٹا ختم ہوجائے تو آٹے کا خالی جھولا اعمش کے سوتے وقت ان کے کپڑے سے باندھ دو جب وہ بیدار ہوں گے تو خالی جھولا دیکھ کر خود ہی آٹا کے ختم ہونے کو سمجھ جائیں گے۔ لہٰذا انہوں نے ایسا ہی کیا جب اعمش سورہے تھے تو خالی جھولا ان کے کپڑے سے باندھ دیا جب وہ بیدار ہوئے تو انہیں آٹا کے ختم ہونے کا علم بھی ہوگیا اور بیوی وقوع طلاق سے بھی محفوظ رہی۔ (مقامات امام اعظم:از : امام حافظ الدین کردی،ص:۳۱۸)

چور کی پہچان کر لی: ایک مرتبہ کسی کے گھر چوری ہوئی چوروں نے گھر کی قیمتی چیزیں نکال لیں اسی درمیان گھر والا بھی بیدارہوگیا چوروں نے اسے پکڑلیا اور ڈرا دھمکاکر اس کو یہ قسم دلائی کہ اگر میں نے یہ بتایا کہ فلاں فلاں نے گھر کا ساز و سامان چرایا ہے تو میری بیوی کو تین طلاق اب جب صبح ہوئی تو گھر والے نے چوروں کو دیکھا کہ وہ اس کی چیزیں بیچ رہے ہیں مگر یہ کرے توکیا کرے کہ اس سے ایسی قسم لے لی ہے۔ اسی پریشانی کے عالم میں وہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے پاس پہنچا اور اپنی سرگذشت سنائی آپ نے علاقے کے رؤسا و شرفاء کو جمع کیا اور انہیں پوری بات بتاکر اس آدمی کی مدد کیلئے کہا وہ اس طرح کہ ایک بڑے سے کمرے میں علاقے کے تمام اوباش و شرپسندوں کو جمع کیا جائے پھر ایک ایک آدمی کو نکالا جائے اور جس آدمی کے گھر چوری ہوئی اور چوروں نے اس سے بالجبر قسم لی کہ وہ کسی سے چوروں کے بارے کچھ نہ بتائے گا ورنہ اس کی بیوی کو طلاق پڑجائے گی وہ دروازے پر کھڑا رہے جب کوئی آدمی آئے تو اگر چورنہ ہو تو نفی میں جواب دے دے اور اگر اس کا چور ہوتو خاموش رہ جائے اس کی خاموشی سے سمجھ لیا جائے گا کہ یہی چور ہے چنانچہ اس تدبیر سے سارے چور پکڑ لئے گئے اور اس آدمی کو اس کا سارا ساز و سامان مل گیا ساتھ ہی اس کی بیوی کو طلاق بھی نہ پڑی۔ (الخیرات الحسان،ص:۱۲۰)


جھوٹے نبی سے معجزہ طلب کرنا کفر ہے: حضرت امام ابوحنیفہ کے زمانے میں ایک آدمی نے نبوت کا دعویٰ کیا اور کہا کہ مجھے مہلت دوتاکہ میں اپنی نبوت پرکوئی معجزہ پیش کروں یہ سن کر حضرت امام ابوحنیفہ نے فرمایا کہ جوکوئی اس سے معجزہ طلب کرے گا وہ کافر ہوجائے گا کیونکہ معجزہ طلب کرنا حضور اقدس ﷺ کے ارشاد لاَ نَبِیَّ بَعْدِیْ ترجمہ: میرے بعد کوئی نبی نہیں کو جھٹلانا ہے۔ (الخیرات الحسان،ص:۱۲۷)

اما م ابو حنیفہ کا دہریوں سے مناظرہ: ایک مرتبہ کچھ دہریو ں نے آپ کو پکڑلیا اور قتل کرنا چاہا آپ نے فرمایا پہلے میری بات سن لو پھر جو بات سمجھ میں آئے کر گزرنا (چونکہ دہریوں کا یہ نظریہ ہے کہ دنیا خود ہی قائم ہے اور بغیر کسی خالق و مالک کے خود ہی رات دن اور سردی گرمی وغیرہ میں بدلتی رہتی ہے) اس لئے آپ نے فرمایا اچھا اُس کشتی کے بارے میں تمہاراکیا خیال ہے جو طرح طرح کے سامانوں سے لدی ہوئی ہو اور بغیر کسی ملاح کے دریا میں طغیانی کے وقت موجوں کو چیرتے ہوئے اپنے سفرپہ رواں دواں رہے کیا ایساممکن ہے اس پر دہریوں نے کہا اے ابوحنیفہ یہ کیسے ممکن ہے کہ بغیر ملاح کے کشتی خود ہی موجوں کو چیرتے ہوئے چلتی رہے اوربغیر کسی چلانے والے کے چلے اس پر آپ نے ارشاد فرمایا اے لوگو! ذرا سوچو تو‘ جب ایک چھوٹی سی کشتی بغیر چلانے والے کے نہیں چل سکتی تو بھلا یہ کیوں کر ممکن ہے کہ اتنی بڑی دنیا بغیر کسی مالک کے تغیر پذیر رہے اور خودبخود تمام معاملات انجام پائیں یقیناًاس کا بھی کوئی خالق ہے جو اسے چلا رہا ہے آپ کی زبان فیض ترجمان سے ان باتوں کو سنتے ہی دہریے دم بخود ہوگئے اور اپنے باطل نظریہ سے تائب ہوکر مسلمان ہوگئے۔ (الخیرات الحسان،ص:۱۳۴)


اما م ابو حنیفہ کی برکت سے ایک خارجی گروہ نے توبہ کی: خارجیوں کا ایک دستہ آپ کی مجلس میں پہنچا وجہ یہ تھی کہ ان لوگوں کو خبرملی کہ امام ابوحنیفہ کسی اہل قبلہ کو گناہ کبیرہ کی وجہ سے کافر نہیں کہتے ہیں جب وہ سب مجلس میں پہنچے تو چونکہ جگہ کی کمی تھی اس وجہ سے انہیں کھڑا رہنا پڑاپھر ان لوگوں میں سے کسی نے حضرت امام اعظم سے کہا کہ اے امام ابوحنیفہ چونکہ ہم سب ایک ہی ملت کے ہیں اس لئے ہمیں بھی مجلس میں بیٹھنے کی جگہ دی جائے چنانچہ آپ نے کشادگی کے لئے طلبہ سے کہاتو انہیں جگہ مل گئی لیکن وہ سب آگے بڑھے اور امام اعظم کے گرد پہنچ گئے اور اپنی اپنی تلواروں کو نیام سے باہر نکال لیا پھر ان میں سے کسی ایک نے کہا اے امت کے دشمن! اے شیطان !ہم میں سے ہر ایک کے لئے تمہارا قتل کرنا ستر سال کے جہاد سے بہتر ہے اور ہم نہیں چاہتے کہ تمہارے ساتھ ظلم کریں اس پر آپ نے کہاکیا تم میرے ساتھ انصاف کرنا چاہتے ہو ان لوگوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا توپھر اپنی تلواروں کو نیام میں کرلو کہ دل خوف کھاتا ہے اس پر خارجیوں نے کہا کہ ہم تلواریں نیام میں کیسے ڈال سکتے ہیں جبکہ ہمارا ارادہ تو تمہیں قتل کرنے کا ہے اس بات چیت کے بعد حضرت امام ابوحنیفہ نے فرمایافَتَکَلِّمُوْا عَلَی اسْمِ اللّٰہِ ’’توپھر اللہ کے نام پر مجھ سے بات کرو‘‘ خارجیوں نے کہا مسجد کے دروازے پر دوجنازے ہیں ایک عورت کا ہے جس نے زنا کیا جب حمل ٹھہر گیا تو خودکشی کرلی اور دوسرا جنازہ ایسے مرد کا ہے جس نے پیٹ بھرکر شراب پی یہاں تک کہ شراب گلے تک پہنچ گیا پھر وہ شراب کے نشے ہی میں مرگیا اے ابوحنیفہ ان دونوں کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ آپ نے ان خارجیوں سے دریافت فرمایا ان دونوں کا تعلق کس مذہب سے ہے ؟کیا یہ یہودی ہیں؟ کہا‘ نہیں آپ نے فرمایا کیا یہ عیسائی ہیں؟کہا نہیں فرمایاکیا یہ مجوسی ہیں؟ کہا نہیںآپ نے فرمایا پھر مجھے یہ بتاؤ کہ آخر یہ کس ملت سے تعلق رکھتے ہیں خارجیوں نے کہا یہ دونوں اس ملت سے تعلق رکھتے ہیں جو اَشھَدُ اَنَّ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ کا کلمہ پڑھتے ہیں۔ آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ شہادت و گواہی ایمان کا کتنا حصہ ہے؟ خارجیوں نے کہا یہ پورا ایمان ہے اس پر آپ نے فرمایا مجھ سے ایسے لوگوں کے بارے میں کیا پوچھتے ہو جن کے ایمان کی خودتم گواہی دے رہے ہو پھر ان لوگوں نے کہا اچھا یہ بتایئے کہ یہ دونوں جنتی ہیںیا جہنمی فرمایا میں ان دونوں کے سلسلے میں وہ بات کہوں گا جو اللہ کے رسول حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا تھا جن کا جرم ان دونوں کے جرم سے بڑھا ہوا تھا فَمَنْ تَبِعَنِیْ فَاِنَّہٗ مِنِّیْ وَمَنْ عَصَانِیْ فَاِنَّکَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ ترجمہ:’’ جس نے میری پیروی کی تووہ میرا ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو توبخشنے والا مہربان ہے‘‘ اور میں وہ بات کہوں گا جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ایسی قوم کے بارے میں فرمایا جن کا جرم ان دونوں سے بڑھ کر تھا۔اِنْ تُعَذِّبْھُمْ فَاِنَّھُمْ عِبَادُکَ وَاِنْ تَعْفِرْلَھُمْ فَاِنَّکَ اَنْتَ الْعَزیْزُالْحَکِیْمُ۔ ترجمہ: اے اللہ اگر تو انہیں عذاب دے تویہ تیرے بندے ہیں اور اگر توانہیں معاف فرمادے تو بیشک تو عزت اور حکمت والا ہے۔ اس کے بعد مزید آپ نے گفتگو فرمائی یہاں تک کہ ان خارجیوں نے ہتھیار ڈال دیئے اور کہا ہم اس مسلک سے بیزار ہوتے ہیں جس پر ہم اب تک تھے اور اب اس مسلک کو اختیار کرتے ہیں جو اے ابوحنیفہ تمہارا ہے۔ (مقامات امام اعظم ،ص:۳۰۱)


امام ابو حنیفہ نے اسلام دشمن پادری کو لاجواب کردیا: اسی طرح ایک مرتبہ روم کا ایک بڑا عیسائی عالم بغداد آیا اور خلیفہ سے مل کراس نے کہا کہ میں علماسے مناظرہ کرنا چاہتا ہوں۔ میرے پاس تین ایسے سوالات ہیں جن کا جواب آپ لوگوں میں سے کسی کے پاس نہیں چنانچہ خلیفہ نے عیسائی عالم سے مقابلہ آرائی کے لئے بڑے بڑے علما وائمہ کو جمع کیا جب سب آچکے تو عیسائی پادری نے کہا اے بادشاہ میرے لئے اپنے دربار میں منبررکھو تاکہ میں اس پر بیٹھ کر علما سے باتیں کر سکوں خلیفہ نے اس کی بات مان لی اور منبر رکھ دیا گیا‘ پادری اس پر بیٹھا اور بصد کبر و نخوت (تکبر و غرورسے)کہنے لگا۔ یہ بتاؤ کہ اللہ سے پہلے کون تھا؟ یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ کی توجہ کس جانب ہے؟ اور یہ بتاؤ کہ اللہ تعالیٰ ابھی کیا کررہا تھا اور اب کیا کررہا ہے؟ پادری کے ان سوالات کو سنتے ہی دربار میں ہرطرف سناٹا چھا گیا کسی کو جواب دینے کی جرأت نہ ہوئی مگر امام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ آگے بڑھے اور فرمایا میں تمہارا جواب دیتا ہوں مگر پہلے تم منبر سے نیچے آجاؤ کیوں کہ تم بمنزلہ سائل ہو اور سائل کے لئے زیب نہیں دیتا کہ وہ اس طرح منبر پر بیٹھ کر سوال کرے چنانچہ پادری منبر سے نیچے آگیا اور حضرت امام اعظم منبر پر تشریف لے گئے اب آپ نے پادری سے فرمایا گنتی گنو‘ وہ گنتی گننے لگا جب دس پر پہنچا تو آپ نے اسے روک دیا اور فرمایا اب الٹی گنتی گنو جب وہ ایک پر پہنچاتو خود ہی رک گیا اس پر آپ نے فرمایا یہ بتاؤ کہ ایک سے پہلے کیا ہے؟ پادری نے کہا ایک سے پہلے کچھ نہیں وہی سب سے پہلا عددہے آپ نے فرمایا جب ایک واحد مجازی کا حال یہ ہے کہ اس سے پہلے کچھ نہیں تو اللہ واحد حقیقی سے پہلے بھلا کیسے کچھ ہوسکتا ہے وہی سب سے اول ہے اور ہمیشہ سے ہے۔ پھر آپ نے چراغ روشن کیا جب چراغ جل اٹھا تو پادری سے فرمایا یہ بتاؤکہ چراغ کی توجہ ہم میں سے کس کی طرف ہے؟ اس نے کہا لو کی توجہ تمام حاضرین کی طرف ہے۔ آپ نے فرمایا جب چراغ جو مخلوق ہے آپ جیسے دانشمند اس کے رخ کو متعین نہیں کرسکتے تو بھلا ہم بندۂ عاجز اپنے خالق حقیقی کے رخ اورجہت کو کیسے متعین کرسکتے ہیں‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی توجہ بھی ہر ایک کی طرف ہے کہ اس کی شان ہے۔ اللہ نور السمٰوٰتِ وَالْاَرْض۔ پھر تیسرے سوال کے جواب میں آپ نے ارشاد فرمایا ابھی تک تو منبر پر بیٹھا ہوا تھا مگر اس وقت اللہ تعالیٰ نے تجھے منبر سے اتار کر مجھے اس پر بیٹھنے کی سعادت بخشی ہے۔ اس پر عیسائی پادری مبہوت ہوگیا اور راہ فرار اختیاکرلی۔(الخیرات الحسان)

ان کے علاوہ بھی بہت سے واقعات ہیں جن سے حضور سیدنا امام اعظم رضی اللہ عنہ کی دین فہمی اور حاضر جوابی کا پتہ چلتا ہے۔ جنہیں پڑھ کر قاری اس بات کے اقرار سے رہ نہیں سکتا کہ واقعی آپ امام لائمہ اور امام اعظم ہیں۔






1 comment:

  1. آخری بات پادری والی تو الخیرات الحسان میں نہیں ہے. اگر ہے تو my contect no 03411418786

    ReplyDelete