عصر حاضر میں علم دین کی اہمیت
از: مفتی محمد مجاہد حسین حبیبیانسانی تاریخ نے کسی اورمذہب کواسلام کی طرح علم کواہمیت دیتے نہیں دیکھا ۔ علم کی دعوت، اس کاشوق ، اس کی قدر ومنزلت ، اہل علم کی عزت افزائی ، علم کے آداب ، اس کے اثرات ونتائج واضح کرنے، نیزعلم کی نا قدری اوراہل علم کی مخالفت سے روکنے میں اسلام نے جو بھرپورا ورمکمل ہدایات پیش کی ہیں۔اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ جو مذاہب عالم کا مطالعہ کرے گا وہ اس سلسلے میں اسلام کی عظمت کا قائل ہوجائے گا۔علم کانام سامنے آتے ہی ایسا محسوس ہوتاہے۔ جیسے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں بجلی چمک اٹھی ہو یہ علم ہی ہے جوانسان کواس کے مقصدزندگی سے آگاہ کرتاہے۔ ہرنیک وبد اورمفید و مضر کی پہچان کراتاہے اوراسے حیوانوں کی سطح سے بلند کرکے انسانیت کی سطح تک پہنچاتا ہے۔ اسی علم سے افراد اورقومیں آگے بڑھتی ہیں۔ کیاعلم کی اہمیت کااس سے بڑھ کر کوئی اورثبوت چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی جو سب سے پہلی آیت اپنے رسول پرنازل فرمائی وہ یہ تھی ترجمہ: پڑھئے اپنے رب کے نام سے جو سب کا پیداکرنے والا ہے۔پڑھنا اللہ کے نام سے ہی ہے، نفس کی خواہشوں اورکسی قسم کے غلط مقصد کے لئے نہیں۔ اس کامطلب یہ ہے کہ علم کو اسلام میں ایک خاص قسم کا تقدس حاصل ہے۔ کسی انسان کو یہ حق نہیں کہ وہ اسے کسی ایسے مقصد کے لئے استعمال کرے جو حق سے ٹکراتاہو۔اسلامی تعلیمات میں دینی ودنیوی تمام علوم پرعلم کا لفظ بولاجاتاہے جب کہ مغربی ممالک علم کومحض دنیوی کامیابی کاذریعہ اورزینہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اسلام اسے آخرت میں سرخروئی اوردنیا میں کامیابی دونوں کاذریعہ قرار دیتاہے۔مگرسخت افسوس کہ عرصہ درازسے مسلمان علم کو جتنا نظرانداز کرتے آرہے ہیں اتنا دنیا کی کسی اورقوم نے نہیں کیا۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم دنیوی علوم میں بھی پیچھے ہیں اوردینی علوم میں بھی جب کہ مسلمانوں پریہ ضروری ہے کہ اگروہ زمانے کی رفتار سے آگے نہیں توکم از کم ساتھ ساتھ چلنے کی صلاحیت اپنے اندر پیداکریں۔اس کے لئے عالمی حالات سے واقفیت بھی ضروری ہے اوربنیادی دینی علوم میں مہارت کے ساتھ دنیوی علوم بھی۔آج پورا عالم اسلام پسماندہ اورمجبور کیوں ہے؟شراب نوشی،جوا اورلاٹری کاچلن ہمارے معاشرے میں بڑھ رہا ہے۔ یوں ہی جنسی انارکی، حرام کاری ، وغیرہ کے رجحانات میں بھی زبردست اضافہ ہوا ہے۔ دوسری طرف جہالت کی وجہ سے ملت کے مستقبل کی تعمیر اوراس کے افراد کی ترقی کے ضروری کام سے لوگ غافل ہیں۔ہماری نئی نسل بہت حد تک مذہب بیزار ہوچکی ہے۔ انہیں مذہب کے قریب لانے کی کوشش نہ کے برابرہے۔ تعلیم نسواں پربھی خاطر خواہ توجہ نہیں ہوپارہی ہے۔ قوم وملت کے صدہامسائل ہیں جو تشنہ کام ہیں اگرحقیقی معنوں میں علم کی روشنی سے دل منور ہوجائے تو انشاء اللہ ان سارے مسائل کے حل کی راہیںآسان ہوسکتی ہیں۔
کتناعلم سیکھنا ضروری ہے
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے علم کے سیکھنے پربہت زور دیا اورہرممکن رغبت دلائی ۔ یہاں تک کہ ہرمسلمان کے لئے اسے اہم ترین فریضہ قرار دیا ہے۔چنانچہ ارشاد پاک ہے علم حاصل کرنا ہرمسلمان (مرد وعورت)پر فرض ہے۔ (ابن ماجہ)لیکن کتنا اور کون سا علم سیکھنا فرض ہے۔ اس سلسلے میں مختلف اقوال ہیں۔بے شمار معتبر ومستند کتابوں کے مطالعہ کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچاکہ اتنا علم جس سے مسلمان اپنے عقیدے کے بارے میں یقینی وحقیقی معرفت حاصل کرسکے۔ اپنے رب کی عبادت اورحضور کی اطاعت کرسکے۔ اپنے نفس اوردل کا تزکیہ کرسکے۔ نجات دلانے والی چیزوں کاعلم ہواور تباہ کن گناہوں کاعلم ہو تاکہ ان سے بچاجاسکے۔ اپنے ساتھ ، اپنے خاندان والوں اورپڑوسیوں کے ساتھ معاملات کو درست کیاجاسکے۔ حلال وحرام میں فرق ہوسکے اس قدر علم ہرمسلمان مردوعورت کے لئے لازم ہے ۔ جو درس گاہوں میں پڑھ کر ، مسجدوں میں سن کر اورمختلف ذرائع سے حاصل ہوسکتاہے۔
علم دین کی ضرورت کیوں ؟
یہ بہت ہی اہم سوال ہے۔صاحبان علم ودانش نے اس کے بہت سارے جوابات تحریر کیے ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ علم کی ضرورت اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے جیساکہ آیت کریمہ سے سمجھ میںآرہاہے ترجمہ: اور ہم نے جنوں اور انسانوں کو اسی لیے پیدا کیا تاکہ وہ میری عبادت کریں۔(ذریت پارہ ۲۷آیت:۵۶) معلوم ہواکہ انسان کی تخلیق عبادت کے لیے کی گئی ہے اور علم کے بغیر عبادت کرناممکن نہیں اس لیے علم حاصل کرنا فرض ہوا۔ نیز قرآن پاک میں اللہ تعالی نے مسلمانوں کو اپنے محبوب ﷺ کی اطاعت کا حکم فرمایاہے جیساکہ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ترجمہ :’’جو کچھ تمہیں رسول عطا فرمائیں وہ لو اور جس سے منع فرمائیں باز رہو‘‘۔( حشر :پارہ ۲۸،آیت۷) سمجھنے کی بات یہ ہے کہ جب تک کسی آدمی کے پاس دینی علم نہیں ہوگا وہ اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو نہ تو اپنا سکتا ہے اور نہ ہی منع کی ہوئی باتوں سے خود کو روک سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہوا کہ علم حاصل کرے تاکہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اتباع کرسکے۔
علم دین کی فرضیت میں حکمت کیاہے؟
ہر مسلمان مرد وعورت پر علم کے فرض کرنے میں حکمت کیا ہے۔ اسے مفسرقرآن حضرت امام فخر الدین رازی علیہ الرحمہ کی اس تحریر سے سمجھیں فرماتے ہیں۔ اول:۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرائض کی ادائیگی کاحکم فرمایا ہے اورمیں علم کے بغیر ان کی ادائیگی پرقادر نہیں ہوسکتا۔ دوم:۔خدائے تعالیٰ نے مجھے گناہوں سے دور رہنے کاحکم فرمایا ہے اورمیں علم کے بغیراس سے بچ نہیں سکتا۔ سوم:۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی نعمتوں کاشکر مجھ پر لازم فرمایا ہے اورمیں علم کے بغیر ان کاشکر نہیں کرسکتا۔ چہارم:خدائے تعالیٰ نے مجھے مخلوق کے ساتھ انصاف کرنے کاحکم دیاہے اورمیں علم کے بغیر انصاف نہیں کرسکتا۔ پنجم:۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بلا پرصبر کرنے کاحکم فرمایا ہے اورمیں علم کے بغیر اس پر صبر نہیں کرسکتا۔ ششم:۔ خدائے تعالیٰ نے مجھے شیطان سے دشمنی کرنے کاحکم دیا ہے اور میں علم کے بغیر اس سے دشمنی نہیں کرسکتا۔ (علم اور علما۔بحوالہ تفسیر کبیرج۱ ،ص۲۷۸)
پھرسمجھنے کی بات یہ بھی کہ ہر آدمی پر خواہ وہ مرد ہویا عورت اللہ تعالیٰ نے دو طرح کے حقوق عائد کیے ہیں۔ (۱)حقوق اللہ (۲)حقوق العباد ۔اور ان دونوں حقوق کی ادائیگی بغیرعلم ممکن نہیں اسی لئے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایاترجمہ:علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ (مشکوٰۃ ص:۳۴) حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمہ اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔شار حین حدیث نے فرمایا ہے کہ علم سے مراد وہ مذہبی علم ہے جس کاحاصل کرنا بندہ پر ضروری ہے۔ جیسے خدائے تعالیٰ کو پہچاننا ، اس کی وحدانیت ، اس کے رسول کی شناخت اورضروری مسائل کے ساتھ نماز پڑھنے کے طریقے کوجاننا۔ اس لئے کہ ان چیزوں کا علم فرض عین ہے۔(مرقات ج ۱،ص۲۳۳)اوراسی حدیث کی شرح کرتے ہوئے حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں۔ علم سے مراد اس حدیث میں وہ علم ہے جو مسلمانوں کے لئے وقت پرضروری ہے ۔مثلاً جب اسلام میں داخل ہوا تواس پر خدائے تعالیٰ کی ذات وصفات کو پہچاننا اور رسول کی رسالت ونبوت کوجاننا واجب ہوگیا اورہر اس چیز کاعلم ضروری ہوگیا جس کے بغیرایمان صحیح نہیں۔ جب نماز کاوقت آگیا تو اس پرنماز کے احکام کاجاننا ضروری ہوگیا پھر جب ماہ رمضان آیا تو روزہ کے ا حکام کاسیکھنا ضروری ہوگیا، جب مالک نصاب ہوگیا تو زکوٰۃ کے مسائل کاجاننا واجب ہوگیا اوراگرمالک نصاب ہونے سے قبل مرگیا اورزکوٰۃ کے مسائل کو نہیں سیکھا تو گنہگار نہیں ہوا۔ جب عورت کو نکاح میں لایا تو حیض ونفاس وغیرہ جتنے مسائل کا میاں بیوی سے تعلق ہے جاننا واجب ہوگیا ۔ وعلی ھذا القیاس۔ (اشعۃ اللمعات)
حصول علم کے لیے سفر کرنا
علم دین کی تحصیل کی رغبت دلاتے ہوئے حضور آقا علیہ السلام نے فرمایاترجمہ : علم حاصل کرو اگرچہ تمہیں ملک چین جاناپڑے۔(جامع صغیرص:۷۲) یعنی حصول علم کے لیے دشوار سفر بھی کرنا پڑے تو اس سے دریغ نہ کرو۔اسی حدیث کو پیش نظر رکھ کر صحابہ نے حصول علم کے لیے دور دراز ممالک کا سفر فرمایا اور علم میں کمال پیدا کیا ۔ایک صحابی حضور علیہ السلام کی صرف ایک حدیث سننے کے لئے مصر تشریف لے گئے۔ حدیث رسول سنا سواری پہ سوار ہوئے اورمدینہ طیبہ کی راہ چل پڑے۔اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ صحابہ کے دلوں میں علم دین حاصل کرنے کا کیسا جذبہ تھا۔ بعد کے بزرگوں نے بھی صحابہ کے نقش قدم کی پوری پوری پیروی کی ۔
حضور سیدناامام اعظم ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ تحصیل علم کے لئے متعدد دفعہ مکہ شریف، مدینہ شریف اوربصرہ تشریف لے گئے۔
حضورسیدنا غوث پاک رضی اللہ عنہ عین جوانی کے عالم میں تحصیل علم کے لئے جیلان سے بغداد تشریف لائے ۔ طرح طرح کی صعوبتوں کاسامنا کیا۔ فاقہ کی نوبت بھی آئی مگر تحصیل علم میں کسی طرح کی کوتاہی نہیں فرمائی۔
حضور سیدنا خواجہ غریب نواز اپنے شیخ حضرت خواجہ عثمان ہارونی کی بارگاہ میں بیس برس رہے اورکسب علم کرتے رہے۔ یہ ہے ہمارے بزرگوں کی تعلیمی تڑپ اور ان کی نگاہ میں تعلیم کی اہمیت ہے مگر ہماراحال یہ ہے کہ ہم محض بزرگوں کی محبت کا کھوکھلادعویٰ کرتے ہیں ، دامن نہ چھوڑنے کے نعرے لگاتے ہیں۔ جب کہ بزرگوں کی اصل محبت یہ ہے کہ ان کی تعلیمات کو اپنائیں اوراس ڈگر کواپنائیں جس پر چل کر انہوں نے زندگی گزاری ہے۔
علمِ دین دولت سے بہتر ہے
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم فرماتے ہیں علم سات وجوہات کی وجہ سے مال سے افضل ہے۔اول:۔علم انبیاء علیہم السلام کی میراث ہے اور مال فرعونوں کی میراث ہے۔ دوم:۔۔۔علم خرچ کرنے سے گھٹتا نہیں جب کہ مال خرچ کرنے سے گھٹتا ہے۔سوم:۔۔۔مال کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جب کہ علم صاحب علم کی حفاظت کرتا ہے۔چہارم:۔۔۔ جب آدمی مرجاتاہے اس کامال دنیا میں باقی رہتا ہے جب کہ علم آدمی کے ساتھ قبر میں جاتاہے۔پنجم:۔۔۔مال مومن اورکافر دونوں کوحاصل ہوتا ہے جب کہ علم دین صرف مومن کوحاصل ہوتاہے۔ششم: لوگ دینی معاملات میں صاحب علم کے محتاج ہوتے ہیں صاحب ثروت کے نہیں۔
جذبۂ تحصیل علم
بیان کیاجاتا ہے کہ حضرت قاضی ابویوسف(شاگرد امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ ) کاپندرہ سال کا ایک نوجوان لڑکا تھا۔ حضرت کو اس سے غایت درجہ محبت تھی اسے بے پناہ چاہتے تھے۔ اچانک اس لڑکے کا انتقال ہوگیا۔(اسی دن قاضی ابو یوسف کو امام اعظم کے حلقہء درس میں جانا تھا) اس کشمکش میں قاضی ابویوسف نے اپنے خادموں سے کہا کہ میں اس کی تدفین کاکام تم لوگوں کے ذمہ کررہاہوں۔ مجھے اپنے استاذ کی مجلس میں جانا ہے ۔ہوسکتا ہے اس محفل میں علم کی کوئی ا یسی بات بیان ہو جو میں نہیں جانتا ایسی صورت میں میں اس سے محروم رہ جاؤں گا ۔جبکہ میری خواہش یہ ہے کہ میں کسی بھی دینی بات سے محروم نہ رہوں۔ عرصے بعد جب قاضی امام ابویوسف کا انتقال ہوا تو ایک بزرگ نے خواب میں ان کو دیکھا کہ وہ جنت کے ایک محل کے دروازے پرکھڑے ہیں اس محل کی بلندی عرش تک پہنچ رہی تھی۔ بزرگ نے پوچھا کہ یہ محل کس آدمی کا ہے؟ امام ابویوسف نے کہایہ میرا محل ہے۔بزرگ نے پھر پوچھا تم نے کس عمل کے ذریعہ اس محل کو حاصل کیا؟امام ابویوسف نے فرمایا کہ علم اور تعلیم پر حریص ہونے کی وجہ سے میں نے یہ مقام حاصل کیاہے۔ تم بھی علم حاصل کروتاکہ دونوں جہان میں محبوب اور عزیز تر ین بن جاؤ۔ (ریاض الناصحین ص:۳۵۷) مذکورہ بالاسطورپڑھ کرطلب علم کی اہمیت وفضیلت کابخوبی اندازہ ہوگیاہوگا۔
کس عالم کی صحبت اختیار کی جائے ؟
آٰیہ ایک اہم سوال ہے کہ کس عالم کی صحبت اختیار کی جائے ۔کیوں کہ بعض علما کی صحبت دین کی محبت پیدا کرنے کی جگہ دین سے دوری کا سبب ہوا کرتی ہے اس لیے اچھی طرح جانچ پڑتال کے بعد ہی کسی عالم کی صحبت ا ختیار کی جائے اور یہی ہمارے آقاعلیہ السلام کی تعلیم بھی ہے ۔ذیل کی حدیثوں سے آپ خود اس امر کا اندازہ لگا سکتے ہیں ۔
*حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا بیشک یہ علم ٗ دین ہے تو تم دیکھ لوکہ کس سے دین حاصل کررہے ہو۔ (مشکوٰۃ کتاب العلم ص:۳۷) * حضور اقدس ﷺ نے ارشادفرمایاہر عالم کے پا س نہ بیٹھو۔بلکہ اس عالم کے پاس بیٹھو جو پانچ چیزوں سے نکال کر دوسری پانچ چیزوں کی طرف بلائے (۱)شک سے یقین کی طرف (۲)نام و نمود سے اخلاص کی طرف (۳)دنیا سے آخرت کی طرف (۴)تکبر سے تواضع (خاکساری کی طرف) (۵)عداوت سے خیر خواہی کی طرف (بلائے اسی کے پاس بیٹھو) ۔ (احیاء العلوم، جلد اول مترجم ص:۱۴۶) * حضرت یحییٰ بن معاذ رازی نے فرمایا تین قسم کے لوگوں کی صحبت سے بچو، ایک غافل علما سے دوسرے مداہنت کرنے والے فقراسے اور تیسرے جاہل صوفیہ سے۔ (کشف المحجوب ص:۶۱) *فضیل بن عیاض رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔عالم اگردنیاکی طرف راغب اوراس کاحریص ہوجاتاہے تواس کی صحبت جاہل کی جہالت کواورفاسق کے فسق کوبڑھاتی اوران کے دلوں کوسخت کرتی ہے۔(تنبیہ الغافلین)یعنی دینی تعلیم دنیداروں سے ہی حاصل کرنی چاہیے کیوں کہ عالم باعمل سے تعلیم حاصل کریں گے تویقینی طورپرآپ کے دل میں دین کی محبت پیداہوگی۔جو آپ کو اچھائیوں کاپیکربنادے گی۔بدقسمتی سے اگرکسی کوعالم صالح کی صحبت میسرنہ آسکی بلکہ دنیادارعالم سے پالاپڑگیاتوبجائے دین کے قریب ہونے کے وہ اور دورہوجائے گا۔اس لیے ضروری ہے کہ علم دین دیندارعلماسے ہی حاصل کیاجائے۔
علمائے حق کی صفات
حضرت امام غزالی تحریر فرماتے ہیں کہ بعض بزرگوں نے فرمایا ہے کہ پانچ صفات ایسے ہیں جو علمائے آخرت کی علامت ہیں۔(۱)خوف (۲)خشوع (۳)عاجزی (۴)حسن اخلاق (۵)آخرت کو دنیا پر ترجیح دینا۔ (احیاء العلوم مترجم جلد اول ص:۱۷۹)
علمائے حق کے صفات سے متعلق حضرت فقیہ ابو اللیث سمر قندی تحریر فرماتے ہیں کہ عالم کے اندرحسب ذیل دس صفات ہونی چاہئے۔ ۱۔اخلاص:(کیونکہ جس عمل میں اخلاص نہیں اس پرثواب نہیں)۲۔خوف خدا:یہ اخلاص کی بنیادہے اوریہی بندے کوہرگناہ سے روکنے والاہے۔۳۔نصیحت: یہ علم کامقصدہے کہ آدمی علم پرخود عمل کرے اوردوسروں کو بھی اس کی نصیحت کرے۔۴۔شفقت:یہ وعظ ونصیحت میں ضروری ہے،شفقت ہی کی وجہ سے آدمی ہرایک کونیک بنانے کی کوشش کرتارہتاہے۔۵۔صبروبردباری:دعوت وتبلیغ کی راہ میں جوناگواراورتکلیف دہ باتیں پیش آتی ہی ہیں ان پرصبرضروری ہے ورنہ تبلیغ ممکن نہیں۔۶۔تواضع:یہ علم کی شان ہے،صحیح علم تواضع سکھاتاہے یہ اللہ کوبھی پسندہے،بندوں کوبھی۔۷۔عفت:(پاک دامنی)یہ ہرانسان کازیورہے خصوصاً عالم کے لیے نہایت ضروری ہے ورنہ وعظ ونصیحت بے اثرہوجائیں گے۔۸۔مطالعہ: اس سے علم بڑھتااورمحفوظ رہتاہے،یہ ہرعالم کے لیے بہت ضروری ہے۔۹۔افادہ:(فائدہ پہنچانا)عالم کے لیے جس طرح خودعمل کرناضروری ہے،اسی طرح دوسروں کونصیحت کرنااورمسائل بتانابھی ضروری ہے ،جانتے ہوئے کسی مسئلہ کوچھپانابہت بڑاجرم ہے اس پر سخت وعید یں آئی ہیں۔۱۰۔قلت حجاب: علم حاصل کرنے میں شرم جائز نہیں بلکہ محرومی کاسبب ہے،علم سوال سے بڑھتا ہے۔فَسْءَلُوْااَھْلَ الذِّکْرِاِنْ کُنْتُمْ لَاتَعْلَمُوْن(انبیا:۲۱/۶۳) ترجمہ :اگرتم نہیں جانتے ہو توعلم والوں سے دریافت کرلو۔ (تنبیہ الغافلین)اب جب کہ علمائے حق کی صفات سے آگہی ہو گئی ہے تو لوگوں کو چاہئے کہ وہ ایسے علما کی صحبت اختیار کریں جو مذکورہ صفات سے متصف ہوں ۔
علم کااٹھنا دنیا کی تباہی کا پیش خیمہ ہے
بخاری شریف میں حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا قیامت کی علامتوں میں سے ایک یہ ہے کہ علم اٹھالیاجائے گا اورجہالت کا دور دورہ ہو گا۔ ایک اور روایت میں ہے کہ علم کی کمی اورجہالت کی زیادتی ہوجائے گی اورشراب و زنا عام ہوجائیں گے۔یعنی علم کااٹھ جانادنیا کی تباہی کا پیش خیمہ ہے۔آج کے حالات بھی یہ بتا رہے ہیں کہ ہماری قوم علم سے بڑی حد تک بے بہرہ ہو چکی ہے دین کاعلم لوگوں سے تقریباً رخصت ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں ہر طرح کے گناہ معاشرے میں کھلے طور پر انجام دیے جارہے ہیں۔ بے حیائی و بدکاری ، شراب نوشی و جوابازی بلکہ ہزاروں طرح کے گناہ انجام دئیے جارہے ہیں۔ ان گناہوں کے عام ہونے کاسبب بڑی حدتک علم وعمل کافقدان ہے۔ گویا قیامت بس دستک دے رہی ہے۔
قا رئین حضرات :گذشتہ سطورمیں درج احادیث کے مطالعہ کے ذریعہ آپ اچھی طرح اندازہ کر چکے ہو ں گے کہ ہمارے مذہب میں علم دین کی اہمیت اور قدر ومنزلت کیا ہے ۔اسی لیے تو حصول علم پراللہ اس کے رسول کی خوشنودی ،گناہوں کی بخشش نیز جنت کی بشارت دی گئی ہے ۔کاش لوگ سمجھیں اور اپنے بزرگوں کی طرح علم کا شوق اورولولہ اپنے اندر پیدا کریں اور اس راہ میں آنے والی رکاوٹوں کا مردانہ وار سامنا کریں تو کیا خوب ہو۔
اللھم وفق لھذابحرمۃحبیبک محمد صلی اللہ علیہ وسلم و علی الہ و صحبہ اجمعین برحمتک یاارحم الراحمین
Visit Us : http://www.tableeghseerat.com/
Like Us : https://www.facebook.com/TableeghSeerat
Subscribe Us : https://www.youtube.com/user/Tableegh...
Join Us : https://www.facebook.com/groups/Table...
Join Us : https://twitter.com/tableeghseerat
No comments:
Post a Comment