امام احمد رضا ایک عظیم عبقری شخصیت
از: مبلغ اسلام مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی
ماضی قریب کی عظیم عبقری شخصیت امام احمدرضا جنہیں دنیا مجدد دین وملت اعلیٰ حضرت کی حیثیت سے جانتی اور مانتی ہے۔ آپ۷۵؍سے زائد علوم وفنون پرکامل دسترس رکھتے تھے اور اپنے وقت کے عظیم محدث، مفسر، فقیہہ، مناظر،شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بے مثال قلمکار بھی تھے۔ تقریباًچودہ سو (۱۴۰۰)کتابیں آپ کے رشحات قلم سے منصہ شہود پرآئیں، جنہوں نے لاکھوں کروڑوں افراد کو گمراہی کی گھٹاٹوپ تاریکیوں سے نکال کرشاہراہ نورو ایمان پرلاکھڑاکیاہے۔اب آیے اس عظیم المرتبت بزرگ کے حالات زندگی کے کچھ
روشن پہلو ملاحظہ فرمالیں ۔
روشن پہلو ملاحظہ فرمالیں ۔

ولادت:آپ کی ولادت شہربریلی کے محلہ سوداگراں میں ۱۰؍شوال المکرم ۱۲۷۲ھ بمطابق جون ۱۸۸۶ء کوہوئی۔ پیدائشی نام محمد اورتاریخی نام المختار رکھا گیا۔ آپ کے دادا حضرت رضاعلی خاں پیار سے احمد رضا کے نام سے پکار تے تھے۔تکمیل علم کے بعدجب آپ فتویٰ نویسی فرمانے لگے تواحمدرضا کے ساتھ عبدالمصطفیٰ کااضافہ فرمایا ۔
تعلیم: آپ نے اپنے والد بزرگوار حضرت مولانا مفتی نقی علی خان سے تمام درسی کتابیں گھر ہی پر پڑھیں اور ۱۳؍سال ۱۰؍ماہ کی عمر میں درسیات سے فراغت حاصل کی اوراسی روز وراثت کاایک کٹھن مسئلہ تحریر فرمایا۔
تلامذہ:منظر اسلام کے نام سے آپ نے مدرسہ قائم فرمایا جہاں ملک و بیرون ملک کے طلبا نے آپ کی شاگردی کا شرف حاصل کیا اورعلم و حکمت کے آفتاب و مہتاب بن کر چمکے۔ جن علمانے آپ سے اکتساب فیض کیاان میں سے بعض کے نام یہ ہیں: صدر الشریعہ مولانا امجد علی علیہ الرحمہ مصنف بہار شریعت،محدث اعظم ہند حضرت سید محمد میاں اشرفی وحضرت سیداحمداشرف (فرزند حضرت علی حسین اشرفی میاں)حجتہ الاسلام حضرت حامد رضا خان (خلف اکبرامام احمد رضا خان) مفتی اعظم ہند حضرت مصطفی رضاخاں(خلف اصغر)مظہر اعلیٰ حضرت مولانا حشمت علی خاں، ملک العلماعلامہ محمدظفرالدین بہاری علیہم الرضوان۔
تبحر علمی:آپ ۵۴ ؍علوم وفنون میں مہارت رکھتے تھے مثلاً فقہ، اصول فقہ،حدیث، تفسیر، منطق، فلسفہ، ریاضی، ہیئت، تکسیر، مناظرہ، تجوید، تصوف، اخلاق ،اسماء رجال، سیر،تاریخ،ادب،نعت وغیرہ اور آپ نے ان میں سے ہر فن میں کتابیں بھی تصنیف فرمائی ہیں۔آپ کی تحریر کردہ کتابوں کی مجموعی تعدادچودہ سو (۱۴۰۰) سے زائد ہیں۔جن میں ترجمہ قرآن کنزلایمان ،فتاویٰ کا مجموعہ فتاویٰ رضویہ ،نعتیہ دیوان حدائق بخشش،سائنسدانوں کے نظریے حرکت زمین کا رد "فوزمبین دررد حرکت زمین‘‘ عورتوں کی مزارات اولیا پر حاضری‘‘ وغیرہ خاص طورپر قابل ذکر ہیں۔
بیعت وخلافت:امام احمد رضا فاضل بریلوی تاج الفحول حضرت علامہ عبد القادر بدایونی علیہ الرحمہ سے غایت درجہ عقیدت ومحبت رکھتے تھے اوراکثر ان کی زیارت کے لیے جایا کرتے تھے ۔ انہی کی ایما پر مارہرہ مقدس حاضر ہوکر خاتم الاکابر حضور سیدنا آل رسول احمدی مارہروی علیہ الرحمہ کے دست حق پر بیعت کی اورخلافت سے نوازے گئے۔
حج بیت اللہ: آپ نے حج بیت اللہ شریف اور روضہ رسول پاک ﷺ کی زیارت کی سعادت دومرتبہ حاصل کی۔
پہلی مرتبہ نوجوانی کے عالم میں والد ماجد کی رفاقت میں حج و زیارت کاشرف حاصل کیا اس موقع پرمفتی شافعیہ حضرت زین الدین سیداحمد دحلان مکی علیہ الرحمہ اورمفتی حنیفہ حضرت شیخ عبدالرحمن سراج علیہ الرحمہ نے آپ کو حدیث، تفسیر، اصول فقہ وغیرہ کی سندوں سے نوازا تھا۔
ایک اور بزرگ شیخ حسین بن صالح شافعی نے بلاکسی تعارف کے فرمایا:واللہ انی لاجدنور اللہ من ھذا الجبین۔ترجمہ: قسم خداکی میں ان کی پیشانی سے اللہ کا نور جھلکتا ہوا دیکھ رہاہوں پھر صحاح ستہ اور سلسلہ عالیہ قادریہ کی اجازت و خلافت سے نوازا۔ غرض یہ کہ حج بیت اللہ کے پہلے سفر میں بزرگان دین و اکابرین امت کی عنایتوں سے نوازے گئے۔
حج کا دوسرا سفر تیس سال بعد فرمایا اس وقت تک آپ سینکڑوں کتابیں تحریر فرماچکے تھے اورہزاروں فتاویٰ بھی لکھ چکے تھے۔ اس وجہ سے ہر چہار دانگ عالم آپ کو کافی شہرت ومقبولیت حاصل ہو چکی تھی۔ جب آپ حرم شریف پہنچے جوق درجوق عوام کا قافلہ آپ کے پاس آنے لگا علماے حرمین کی ایک بڑی تعداد نے بھی آپ سے اکتساب فیض کیااوراحادیث و تفاسیر اور اذکارواوراد کی اجازت طلب کی۔
خلفاء:آپ کے خلفاء کی تعداد کافی لمبی ہے تاہم ملک اور بیرون ملک کے مشاہیر خلفاء کے نام یہ ہیں:حضرت مولاناسید محمدعبدالحئی ادریسی محدث بلاد مغرب (افریقہ) مفتی حنفیہ حضرت مولانا شیخ محمدصالح کمال مکی، محافظ کتب حرم حضرت مولانا سید اسمٰعیل مکی،نمونہ سلف حضرت مولانا سیدمحمدسعیدمدنی،حضرت مولانا سید ضیاء الدین مدنی، صدر الشرعیہ حضرت مولانا امجدعلی اعظم گڑ ھ، صد الافاصل حضرت مولانا سید نعیم الدین مرادآبادی، مبلغ اسلا م حضرت مولانا عبدالعلیم میرٹھی، شیخ المحدثین حضرت مولانا سید دیداررعلی لاہوری، ملک العلماحضرت مولاناظفر الدین بہاری، حجۃالاسلام حضرت مولانا حامد رضاخاں و مفتی اعظم حضرت مولانا ہند مصطفی رضاخان صاحبزادگان اعلیٰ حضرت، برہان ملت حضرت مولانامفتی برہان الحق جبلپوری، ناشر سنیت حضرت حاجی لعل محمد مدراسی ثم کلکتوی علیھم الرضوان،
تعظیم سادات: ایک مرتبہ پالکی پر آپ کہیں تشریف لے جارہے تھے کہ اچانک پالکی اٹھانے والوں سے فرمایا پالکی رکھ دو پھر پالکی سے نیچے اترآئے اورپالکی برداروں سے کہا مجھے ایسا محسوس ہو رہاہے کہ تم میں سے کوئی اہل بیت نبوت کا چشم وچراغ ہے کیوں کہ مجھے ایسی خوشبو محسوس ہو رہی ہے۔ کافی دیر بعد ایک شخص نے اعتراف کیا کہ واقعی میں سید ہوں اورچونکہ غریب ہوں کوئی کام نہیں مل رہا ہے اس لیے مجبوراً پالکی برداری کررہاہوں۔ امام عشق ومحبت کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔کہنے لگے آقا و مولیٰ ﷺ کو کیامنہ دکھاؤں گا جب وہ قیامت کے دن مجھ سے دریافت کریں گے احمدرضا تو نے میری اولاد سے مزدوری کرائی اورٹھاٹ سے ڈولی پر سواررہا۔ پھر آپ نے سید صاحب سے گزارش کی کہ وہ ڈولی پر تشریف رکھیں کہ جس طرح لاعلمی میں میں نے آپ سے کام لیا ہے اب یہ جان لینے کے بعد کہ آپ سید ہیں آپ کی خدمت بجالاؤں۔ بدقت تمام سید زادے کوڈولی پربٹھایا اورخود پالکی برداری فرمانے لگے۔اس واقعہ سے جہاں اہل بیت سے ان کی محبت وعقیدت ظاہر ہوتی ہے وہیں امام احمدرضاخاں علیہ الرحمہ کی بزرگی و رفعت شان بھی نمایاں ہوتی ہے کہ وہ کس درجہ منکسر المزاج اورسادہ طبیعت تھے۔
تو نے باطل کو مٹایا اے امام احمد رضا
دین کا ڈنکا بجایا اے امام احمد رضا
ان کی تصنیفی، تجدیدی خدمات اور فتاوی کی اپنے پرائے ہم عصر علما،فضلااور دانشوران قوم نے کھل کر تعریف اور سراہنا کی ہے ۔آئیے ان ارباب علم کے کلمات کو ملاحظہ فرمائیں جو انھوں نے امام احمد رضا کے حق میں کہے ہیں۔
علامہ ڈاکٹر محمد اقبال ،امام احمد رضا کی علمیت و فقاہت اور قوت فیصلہ پر اظہار خیال فرماتے ہوئے کہتے ہیں:’’ہندوستان کے دور آخر میں ان جیسا طبّاع اور ذہین فقیہ پیدا نہیں ہوا...... میں نے ان کے فتاویٰ کے مطالعہ سے یہ رائے قائم کیا ہے اور ان کے فتاویٰ ان کی ذہانت، فطانت، اور جودت طبع، کمال فقاہت اور علوم دینیہ میں تبحر علمی کے شاہد عادل ہیں.....مولانا ایک دفعہ جو رائے قائم کر لیتے تھے اس پر مضبوطی سے قائم رہتے ہیں انھیں اپنے شرعی فیصلوں اور فتاوی میں کبھی کسی تبدیلی یا رجوع کی ضرورت نہیں پڑتی ،۔‘‘(ماہنامہ عرفات لاہور،اپریل۱۹۷۰ء ص: ۲۷،مقالات یوم رضا، مطبوعہ لاہور جلد۳ص:۸)
مولانا ابو الاعلیٰ مودودی لکھتے ہیں:مولانا احمد رضا خاں صاحب کے علم و فضل کا میرے دل میں بڑا احترام ہے۔فی الواقع وہ علومِ دینی پر بڑی وسیع نظر رکھتے تھے اور ان کی اس فضیلت کا اعتراف ان لوگوں کو بھی ہے جو ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔(مقالات یوم رضا،جلد ۲ص:۶۰،مکتوب محررہ ۲۸؍مئی ۱۹۶۸ء)
مولانا ابو الکلام آزاد: اعلیٰ حضرت کی بارگاہ میں ان الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ مولانااحمدرضا ایک سچے عاشق رسول گزرے ہیں‘‘ (بحوالہ تحقیقات ص ۱۲۴)
مولانا سید سلیمان ندوی:’’اس احقر نے جناب مولانا احمد رضا خان صاحب بریلوی کی چند کتابیں دیکھیں تو میری آنکھیں خیرہ کی خیرہ رہ گئیں۔ حیران تھا کہ واقعی مولانا بریلوی کی ہیں؟ جن کے متعلق کل تک یہ سنتا تھا کہ وہ صرف اہل بدعت کے ترجمان ہیں اورصرف چند فروعی مسائل تک محدود ہیں۔ مگر آج پتہ چلا کہ نہیں، یہ اہلِ بدعت کے نقیب نہیں، بلکہ یہ تو عالم اسلام کے اسکالر اور شاہکار نظر آتے ہیں۔جس قدر مولانا مرحوم کی تحریروں میں گہرائی پائی جاتی ہے اس قدر گہرائی تو میرے استاذ مکرم جناب مولانا شبلی صاحب اور حضرت مولانا اشرف علی صاحب تھانوی اور حضرت مولانا محمود الحسن دیوبندی اور حضرت علاّمہ شبّیر احمد عثمانی کی کتابوں کے اندر بھی نہیں‘‘۔(حوالہ: ماہنامہ ’’ندوہ‘‘ اگست ۱۹۱۳ء ص ۱۷ بحوالہ : القول السّدید ص: ۲۶۳)
ملک غلام علی نائب ابو الاعلیٰ مودودی : ’’حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خاں صاحب کے بارے میں اب تک ہم لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں۔ان کی بعض تصانیف اور فتاوے کے مطالعے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ جو علمی گہرائی میں نے ان کے یہاں پائی ہے وہ بہت کم علما میں پائی جاتی ہے اور عشق خدا اور رسول تو ان کی سطر بہ سطر سے پھوٹا پڑتا ہے‘‘۔(حوالہ:ارمغانِ حرم، مطبوعہ لکھنؤ ص ۱۴)
مولانا ابو الحسن علی ندوی،امام احمد رضا کے ہم خیال نہ ہوتے ہوئے بھی یہ اظہار خیال کرتے ہیں:’’جزئیات فقہ پر جو ان کو عبور حاصل تھا، ان کے زمانے میں اس کی نظیر نہیں ملتی‘‘۔(نزہۃ الخواطر،مطبوعہ حیدراآباد،ج ۸،ص:۴۱)
خانقاہ مجددیہ مظہریہ دہلی کے سجادہ نشین علامہ ابو الحسن زید فاروقی الازہری دسمبر۱۹۳۸ء میں پاکستان تشریف لے گئے۔کراچی میں ایک ملاقات کے دوران ڈاکٹر مسعود احمد مجددی سے فرمایا کہ وہ حیدرآباد دکن تشریف لے گئے تھے، وہاں رد المحتار پر امام احمد رضا کے عربی حاشیہ جد الممتار کے چند اوراق دیکھے تو حیران رہ گیا......جہاں صاحب رد المحتار ایک دو کتابوں کا ذکر کرتے ہیں وہاں امام احمد رضا آٹھ دس کتابوں کے حوالے دے ڈالتے ہیں۔
شہرت یافتہ علمی مجلہ ’’معارف‘‘ (اعظم گڑھ) فتاویٰ رضویہ اور امام احمد رضا پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتا ہے:’’دینی علوم خصوصاً فقہ و حدیث پر ان کی نظر وسیع اور گہری تھی۔ مولانا جس دقتِ نظر اور تحقیق کے ساتھ علما کے استفسارات کا جواب تحریر فرماتے ہیں اس سے ان کی جامعیت، علمی بصیرت، فقہی جز رسی، استحضار، ذہانت طبّاعی کا پورا پورا اندازہ ہوتا ہے.....ان کے عالمانہ اور محققانہ فتاویٰ مخالف و موافق ہر طبقے کے مطالعہ کے لائق ہیں۔‘‘(معارف،اعظم گڑھ ،یوپی ،شمارہ ستمبر۱۹۴۹ء ص:۴۳،۴۴)
جسٹس پیر محمد کرم شاہ ازہری (جج سپریم کورٹ آف پاکستان، شریعت بنچ) لکھتے ہیں:’’علوم دینیہ، فقہ، حدیث، تفسیر و غیرہ میں آپ کو عدیم النظیر مہارت حاصل تھی اس میں تو کسی کو کلام نہیں‘‘(مقالات یوم رضا، مطبوعہ لاہور جلد ۲ص:۲۹)
ڈاکٹر محی الدین الوائی جو پہلے جامعہ ازہر (قاہرہ، مصر) میں تھے اورپھر مدینہ یونیورسٹی میں پروفیسر ہوئے، مسلکاً اہل حدیث ہیں، لیکن حق گو ہیں،وہ امام احمد رضا کی خدمات کو سراہتے ہوئے لکھتے ہیں:’’جن علمائے ہند نے مروجہ علوم عربیہ و دینیہ کی خدمت میں اعلیٰ قسم کا حصہ لیا ہے ان میں مولانا احمد رضا خاں صاحب کا نام سر فہرست نظر آتا ہے ......علوم عربیہ اسلامیہ کو آراستہ کرنے میں آپ کا بہترین ریکارڈ ہے‘‘۔(صوت الشرق،قاہرہ،شمارہ فروری ۱۹۷۰ ء ص: ۱۶)
ان زعما ء اور دانشوروں کے علاوہ اور بھی سینکڑوں عالمی شہرت یافتہ اسکالرس نے امام احمد رضا کے خدمات کو سراہا ہے جن کا ذکر ان شاء اللہ کسی اور موقع پر کیا جائے گا ۔
ان کا سایہ ایک تجلی ان کانقشِ پا چراغ
وہ جدھر گزرے ادھر ہی روشنی ہوتی گئی
Visit Us : http://www.tableeghseerat.com/
Like Us : https://www.facebook.com/TableeghSeerat
Subscribe Us : https://www.youtube.com/user/Tableegh...
Join Us : https://www.facebook.com/groups/Table...
Join Us : https://twitter.com/tableeghseerat
No comments:
Post a Comment