Sunday, 6 March 2016

Milad un Nabi Quran wa Hadees ki Roshni Main

میلاد النبی  قرآن و حدیث کی روشنی میں

از: مبلغ اسلام مفتی محمد مجاہد حسین حبیبی


نثار تیری چہل پہل پر ہزاروں عیدیں ربیع الاول

سوائے ابلیس کے جہاں میں سبھی تو خوشیاں منا رہے ہیں


اسلامی سال کا تیسرا مہینہ ربیع الاول شریف کاہے، اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ جب اس کا نام رکھا گیا تو اس وقت ربیع یعنی موسم بہار کا آغاز تھا۔ یہ مہینہ فیوضات و برکات کے اعتبار سے نہایت ہی افضل ہے کیوں کہ رحمۃ للعالمین جناب احمد مجتبیٰ محمد مصطفی علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ولادت باسعادت اسی ماہ مبارکہ کی ۱۲؍تاریخ پیر کے دن، مکۃ المکرمہ کے محلہ بنی ہاشم میں صبح صادق کے وقت ہوئی، ۱۲ ربیع الاول ہی کے روز آپ ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے، اسی ماہ کی دس تاریخ کو محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے ام المؤمنین سیدہ حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے نکاح فرمایا تھا۔ 



مشائخ عظام اور علمائے کرام فرماتے ہیں کہ حضور پر نور صلی اللہ علیہ وسلم کا وقت ولادت باسعادت لیلۃ القدر سے بھی افضل ہے، کیوں کہ لیلۃ القدر میں فرشتے نازل ہوتے ہیں اور ولادت پاک کی رات خود رحمۃ للعالمین شفیع المذنبین صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ہیں۔ لیلۃ القدر میں صرف امتِ مسلمہ پر فضل و کرم ہوتا ہے جب کہ عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی رات اللہ تعالیٰ نے تمام مخلوقات پر فضل و کرم فرمایا ہے ۔ جیسا کہ ارشاد ربانی ہے کہ وَمَا اَرْ سَلْنَاکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعٰالَمِیْنَ ۔ترجمہ:اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجامگر سارے جہاں کے لیے رحمت بناکر۔



ربیع الاول کی۱۲؍ تاریخ کو یعنی ولادت پاک کے دن خوشی و مسرت کا اظہار کرنا،مساکین کو کھانا کھلانا، میلاد شریف کا جلوس نکالنا اور جلسے منعقد کرنا اور کثرت سے درود شریف پڑھنا بڑے ثواب کا کام ہے۔ اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ تمام سال امن و سکون عطا فرمائے گا اوربندے کے تمام جائز مقاصد پورا فرمائے گا۔ (ماثبت من السنۃ)



ولادت رسول پر خوشی کے اظہار کے سبب ابو لہب جیسا کافر صلہ سے محروم نہیں:ابو لہب جو مشہور کافر تھا اور سید عالم صلی اللہ علیہ وسلم کا رشتہ میں چچا تھا ۔ جب رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت مبارک ہوئی تو ابو لہب کی لونڈی ثویبہ نے آپ کی ولادت باسعادت کی خوش خبری اپنے مالک ابو لہب کو سنائی ، ابولہب نے حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ولاد ت کی خوشی میں اپنی لونڈی کو آزاد کردیاپھر جب ابو لہب مرگیا تو کسی نے خواب میں دیکھا اور حال دریافت کیا۔ تو اس نے کہا کہ کفر کی وجہ سے دوزخ کے عذاب میں گرفتار ہوں مگر اتنی بات ہے کہ ہر پیر کے دن عذاب میں تخفیف ہوجاتی ہے۔ اور جس انگلی کے اشارے سے میں نے اپنی لونڈی کو آزاد کیا تھا اس سے مجھے پانی ملتا ہے جب میں انگلی چوستا ہوں ۔ (صحیح بخاری۔رقم الحدیث:۵۱۰۱)



ابن جوزی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ جب ابو لہب کافر (جس کی مذمت میں سورہ لہب نازل ہوئی)اس کو یہ انعام ملا تو بتاؤ اس مسلمان کو کیا صلہ ملے گا جو اپنے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت کی خوشی منائے۔ اس کی جزا اللہ کریم سے یہی ہوگی کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل عمیم سے اسے جنات النعیم میں داخل فرمائے گا ۔ الحمدللہ ربّ العالمین ۔ 



میلاد پاک کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت اور ایمان کی علامت ہے اور ہاں میلاد پاک کا ثبوت قرآن مجید، احادیث رسول اور اقوال بزرگانِ دین سے ثابت ہے۔لہذا اس عمل خیر کو بدعت کہنا دین سے ناواقفیت پر مبنی ہے۔ 



انعقادِ میلاد، اللہ تعالیٰ کی سنّت ہے:محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کی میلاد شریف خود خالق اکبر جل شانہ، نے بیان کیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے :لَقَدْ جَآءَ کُمْ رَسُوْلٌ مِّنْ اَنْفُسِکُمْ عَزِیْزٌ عَلَیْہِ مَا عَنِتُّمْ حَرِیْصٌ عَلَیْکُمْ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَؤُوْفٌ الرَّحِیْم (پ ۱۱، سورۃ توبہ ۱۲۸)ترجمہ: بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول جن پر تمہارا مشقت میں پڑنا گراں ہے۔ تمہاری بھلائی کے بہت چاہنے والے ہیں اور مسلمانوں پر کمال مہربان (کنزالایمان)

اس آیت شریفہ میں پہلے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ''مسلمانوں تمہارے پاس عظمت والے رسول تشریف لائے'' یہاں تو اپنے حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت شریفہ بیان فرمائی پھر فرمایا کہ ’’وہ رسول تم میں سے ہیں‘‘ اس میں اپنے رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کا نسب شریف بیان فرمایا ہے پھر فرمایا ’’تمہاری بھلائی کے بہت چاہنے والے اور مسلمانوں پر کرم فرمانے والے مہربان ہیں‘‘یہاں اپنے محبوب پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی نعت بیان فرمائی۔ 



ِ مروجہ میلادمیں یہی تین باتیں بیان کی جاتی ہیں۔ لہذا ثابت ہوا کہ سرکار دوعالمﷺ کا میلاد شریف بیان کرنا سنت الٰہیہ ہے۔ 

عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی دوسری دلیل:ایک موقع پر حضرت عیسی علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں یوں دعا کی:اَللّٰہُمَّ رَبَّنَا اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَا ءِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا لِّاَ وَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَۃً مِّنْکَ ط (پ ۷، سورۃ المائدہ، ۱۱۴)ترجمہ: اے اللہ اے رب ہمارے، ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عید ہو ہمارے اگلوں پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی ۔(کنزالایمان)



مندرجہ بالا دعا حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک خوانِ نعمت، اللہ کی نشانی کے طور پر نازل ہونے کی دعا کی ، اور نزول آیت و خوانِ نعمت کو اپنے لیے اور بعد میں آنے والوں کے لیے یومِ عید قرار دیا، یہی وجہ ہے کہ خوانِ نعمت کے نزول کے دن ''اتوار'' کو دنیائے عیسائیت عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس دن روز مرّہ کے کام کاج چھوڑ کر تعطیل (چھٹی) مناتی ہے ۔ سمجھنے کی بات یہ ہے خوان نعمت کے نزول پر جب حضرت عیسی علیہ السلام عید منانے کا اعلان فرمارہے ہیں ۔قرآن کی آیت اس بات پر گواہ ہے ۔تو اس دن جس میں اللہ کی نعمتوں میں سے سب سے بڑی نعمت حضور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی دنیا میں تشریف آوری ہوئی اس دن عید منانا ،خوشی منانا کیسے غلط اور بدعت ہوسکتا ہے۔ 



عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری دلیل:اللہ تعالیٰ حکم فرما رہا ہے ، قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَ بِرَحْمَتِہ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا ہُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنترجمہتم فرماؤ اللہ کے فضل اور اس کی رحمت ملنے پرچاہیے کہ خوشی منائیں، وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے ۔َ 

(پ ۱۱، سورۃ یونس، ۵۸)



مفسرینِ کرام مثلاً علامہ ابن جوزی (م ۔۵۹۷ھ) ، امام جلال الدین سیوطی (م۔ ۹۱۱ھ) علامہ محمود آلوسی (م۔ ۱۲۷۰ھ) اور دیگر نے متذکرہ آیت مقدسہ کی تفسیر میں ''فضل اور رحمت'' سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مراد لیا ہے (حوالے کے لیے دیکھیں: زاد المسیر، جلد ۴، صفحہ ۴۰۔ تفسیر درِّ منثور ، جلد ۴، صفحہ ۳۶۸۔ تفسیر روح المعانی ، جلد ۶، صفحہ ۲۰۵) 



مفسرینِ کرام کی وضاحت و صراحت کے بعد یہ ثابت ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و رحمت کے عموم میں کائنات اور اس کے لوازمات بھی شمار ہوں گے لیکن فضل و رحمت سے مطلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات مراد ہوگی کہ جملہ کائنات کی نعمتیں اسی نعمتِ عظمیٰ کے طفیل ہیں اور اس ذات کی تشریف آوری کا دن بھی فضل و رحمت سے معمور ہے، اس سے ثابت ہوا کہ یومِ میلاد، آپ ہی کی ذاتِ با برکات کے سبب اس قابل ہوا کہ اس دن اللہ کے حکم کے مطابق خوشی منائی جائے۔



میلاد بیان کرنا سنت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے: بعض لوگ لا علمی کی بنیاد پر میلاد شریف کا انکار کردیتے ہیں ۔ حالانکہ محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنا میلاد بیان کیا ہے۔ سیدنا حضرت عباس رضی اللہ عنہ، فرماتے ہیں کہ سید العرب و العجم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اطلاع ملی کہ کسی گستاخ نے آپ کے نسب شریف کے بارے میں برا بھلا کہا ہے، فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم عَلَی الْمِنْبَرِ فَقَالَ مَنْ اَنَا فَقَا لُواْ اَنْتَ رَسُوْلُ اللّٰہِ۔۔ قَالَ اَنَا مُحَمَّدُ ابْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدُ الْمُطَّلِبْ اِنَّ اللّٰہَ خَلَقَ الْخَلْقَ فَجَعَلْنِیْ فِیْ خَیْرِ ہِمْ ثُمَّ جَعَلَہُمْ فِرْقَتَیْنِ فَجَعَلْنِیْ فِیْ خَیْرِ ہِمْ فِرْقَۃً ثُمَّ جَعَلَہُمْ قَبَاءِلَ فَجَعَلْنِیْ فِیْ خَیْرِ ہِمْ قَبِیْلَۃً ثُمَّ جَعَلَہُمْ بُیُوْتًا فَاَنَا خَیْرُ ہُمْ نَفْسًا وَخَیْرُہُمْ بَیْتًاترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ممبر پر تشریف لائے اور فرمایا: میں کون ہوں؟ صحابہ کرام علیہم الرضوان نے عرض کیا : آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ فرمایا: میں عبدالمطلب کے بیٹے کا بیٹا ہوں، اللہ تعالیٰ نے مخلوق پیدا کی تو ان میں سب سے بہتر مجھے بنایا پھر مخلوق کے دو گروہ کیے ان میں مجھے بہتر بنایا پھر ان کے قبیلے بنائے اور مجھے بہترین قبیلے میں بنایا پھر ان کے گھرانے بنائے مجھے ان میں بہتر بنایا تو میں ان سب میں اپنی ذات کے اعتبار اور گھرانے کے اعتبار سے بہتر ہوں۔ (رواہ الترمذی ،با ب الفضل النبی ۔رقم الحدیث :۳۹۶۷)

اس حدیث شریف سے ثابت ہو اکہ حضور پر نور شافع یوم النشور صلی اللہ علیہ وسلم نے بذاتِ خود محفلِ میلاد منعقد کی جس میں اپنا حسب و نسب بیان فرمایا : نیز یہ بھی ثابت ہوا کہ محفل میلاد کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس مجلس و محفل میں ان لوگوں کا رد کیا جائے جو آپ کی بدگوئی کرتے ہوں۔ اعلیٰ حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :



سارے اچھوں میں اچھا سمجھئے جسے                 ہے اس اچھے سے اچھا ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم 

سارے اونچوں سے اونچا سمجھئے جسے              ہے اس اونچے سے اونچا ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم 



تعیّن تاریخ پر قرآنی دلیل:وَذَکِّرْہُمْ بِاَ یَّامِ اللّٰہِ ط (پ ۱۳۔ سورۃ ابراہیم آیت :۵)اے موسیٰ ان کو یاد دلاؤ اللہ تعالیٰ کے دن۔



ہر عام و خاص جانتا ہے کہ ہر دن اور رات اللہ تعالیٰ ہی کے ہیں۔ پھر اللہ کے دنوں سے کیا مراد ہے؟ ۔۔۔۔۔۔ ان دنوں سے مراد خدا تعالیٰ کے وہ مخصوص دن ہیں جن میں اس کی نعمتیں بندوں پر نازل ہوئی ہیں۔ چنانچہ اس آیت کریمہ میں سیدنا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم ہوا کہ آپ اپنی قوم کو وہ دن یاد دلائیں جن میں اللہ تعالیٰ، نے بنی اسرائیل پر منّ و سلویٰ نازل فرمایا، سبق حاصل کرنے کی بات یہ ہے کہ اگر منّ و سلوٰی کے نزول کا دن بنی اسرائیل کو منانے کا حکم ہوتا ہے تو آقائے دوجہاں سید کون و مکاں صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادت پاک جو تمام نعمتوں میں اعلیٰ اور افضل ہے اس دن کو بطور عید منانا، اس کی خوشی میں جلوس نکالنا، جلسے منعقد کرنا ، مساکین و فقرا کے لیے کھانا تقسیم کرناکیوں کر بدعت و حرام ہوسکتا ہے؟حدیث شریف سے تعیّن یوم پر دلیل:عَنْ اَبِیْ قَتَا دَۃ قَالَ سُءِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم عَنْ صَوْمِ یَوْمِ الْاَثْنَیْنِ فَقَالَ فِیْہِ وُلِدْتُ وَفِیْہِ اُنْزِلَ عَلَیَّ (مشکوٰۃ صفحہ: ۱۷۹)ترجمہ: سیدنا حضرت ابو قتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ، فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پیر کے دن روزہ رکھنے کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں اسی دن پیدا ہوا۔ اور اسی روز مجھ پر قرآن نازل ہواہے۔



اس حدیث شریف نے واضح کردیا کہ کسی دن کا تعین و تقرر کرنا ناجائز نہیں ہے۔ سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے پیر کے دن دو نعمتیں نازل فرمائی گئی تھیں ایک ولادت مقدسہ اور دوسرے نزول قرآن، اسی لیے آپ نے پیر کے دن کو روزہ رکھنے کے لیے معیّن فرمایا تھا ۔ 



میلاد مبارک اکابرین امت کی نگاہ میں

حضرت شاہ عبد الحق محدث دہلوی بخاری شریف کی وہ حدیث جس میں حضور کی ولادت پر خوشی ظاہر کرنے پر ابو لہب کو فائدا پہنچنے کی بات ہے نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں اس واقعے میں میلاد شریف کرنے والوں کے لیے روشن دلیل ہے جو سرور عالم ﷺ کی شبِ ولادت میں خوشیاں مناتے ہیں اور مال خرچ کرتے ہیں یعنی ابو لہب کا فرتھا ، جب حضور ﷺ کی ولادت کی خوشی اور لونڈی کے دودھ پلانے کی وجہ سے انعام دیا گیا تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا جو حضور ﷺ کی ولادت کی خوشی میں محبت سے بھر پور ہوکر مال خرچ کرتا ہے اور میلاد شریف کرتاہے لیکن چاہیے کہ محفل میلاد شریف عوام کی بدعتوں مثلاً گانے اور حرام باجوں سے خالی ہو ۔ (مدارج النبوۃ ،) 

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں ، کہ میں مکہ معظمہ میں میلاد کے روز حضور ﷺ کے مولد مبارک میں تھا اس وقت لوگ آپ پر درود شریف پڑھتے تھے اور آپ کی ولادت کا ذکر کرتے اور وہ معجزات بیان کرتے تھے جو آپ کی ولادت کے وقت ظاہر ہوئے تھے میں نے اس مجلس میں انوار وبرکات دیکھے پس میں نے تامل کیا تو معلوم ہواکہ یہ انوار ان ملائکہ کے ہیں جو ایسی مجالس اور مشاہد پر موکل و مقرر ہوتے ہیں ، اور میں نے دیکھا کہ انوار ملائکہ اور انور رحمت آپس میں ملے ہوئے ہیں ۔ (فیوض الحرمین ، ص: ۲۷) یہی شاہ صاحب دوسری جگہ فرماتے ہیں:میرے والد ماجد نے مجھ کو بتایا کہ میں میلاد کے دنوں میں حضور ﷺ کی ولادت کی خوشی میں کھانا پکواتا تھا ایک سال سوائے بھنے ہوئے چنوں کے میرے پاس کچھ نہ تھا تو وہی لوگوں میں تقسیم کردیا تو حضور ﷺ کو خواب میں دیکھا کہ بھنے ہوئے چنے آپ کے رو برو پڑے ہیں اور آپ بہت مسرور و خوش ہیں ۔(در الثمین)



راس المحدثین حضرت مولانا شاہ عبد العزیز صاحب دہلوی فرماتے ہیں : فقیر کے مکان پر سال میں دو مجلسیں ، ایک ذکر وفات ، دوسری ذکر شہادت حسنین ہوتی ہیں ، سینکڑوں آدمی جمع ہوتے ہیں ، درود شریف و قرآن شریف پڑھا جاتاہے ۔ وعظ ہوتا ہے پھر سلام پڑھا جاتا ہے بعد ازآں کھانے پر ختم شریف پڑھ کر حاضرین کو کھلا یا جاتاہے ، اگر یہ سب باتیں فقیر کے نزدیک ناجائز ہوتیں تو فقیر کبھی نہ کرتا ۔ (فتاویٰ عزیزیہ جلد اول ) 



میلاد النبی ﷺ کے متعلق ابن تیمیہ لکھتے ہیں: فتعظیم المولد و اتخاذہ موسماً قد یفعلہ بعض الناس و یکون لہ فیہ اجر عظیم لحسن قصدہ و تعظیمہ لرسول اللہ ﷺ ۔ ترجمہ: میلاد کی تعظیم اور اسے شعار بنا لینا بعض لوگوں کاعمل ہے اور اس میں ان کے لیے اجر عظیم بھی ہے کیوں کہ ان کی نیت نیک ہے اور رسول اللہ ﷺ کی تعظیم بھی ہے۔(اقتضاء الصراط المستقیم لمخالفۃ اصحاب الجحیم،ص: ۲۹۷ )

حاجی امداد اللہ مہاجر مکی پیر و مرشد مولوی رشید احمد گنگوہی ، مولوی قاسم نانوتوی بانی دار العلوم دیوبند، مولوی خلیل احمد انبیٹھوی، مولوی اشرف علی تھانوی وغیرہ 

دوسری جگہ لکھتے ہیں: ’’مولود شریف تمامی اہل حرمین کرتے ہیں اسی قدر ہمارے واسطے حجت کافی ہے‘‘۔ (شمائم امدادیہ، از:حاجی امداد اللہ مہاجر مکی ۔ص:۴۷)



نوٹ : موجودہ سعودی حکومت سے پہلے ۱۹۲۵ء تک سر زمین عرب میں خلافت عثمانیہ کی حکومت تھی جو سنی مسلمان تھے اور ربیع الاول شریف بالخصوص۱۲؍تاریخ کو نہایت ہی ادب و احترام کے ساتھ میلاد النبی ﷺ منایا کرتے تھے۔



مولانا رشید احمد گنگو ہی کے استا دشاہ عبد الغنی صاحب دہلوی فرماتے ہیں : اور حق یہ ہے کہ حضور کی ولادت کے ذکر کرنے میں اور فاتحہ پڑھ کر آپ کی روح پُر فتوح کو ثواب پہنچانے میں اور میلاد شریف کی خوشی کرنے میں ہی انسان کی کامل سعادت ہے ۔ (شفاء السائل )



مندرجہ بالا دالائل سے ثابت ہوا کہ محفل میلاد النبی کا جواز قرآن و حدیث اور بزرگان دین کے اقوال سے ثابت ہے لہذا اس عمل خیر پر انگشت نمائی سے لوگوں کو بچنا چاہیے۔ 



صدائیں درودوں کی آتی رہیں گی جنہیں سن کے دل شاد ہوتا رہے گا

خدا اہل سنت کو آباد رکھے ، محمد کا میلاد ہوتا رہے گا



No comments:

Post a Comment